
سندھ ہائیکورٹ میں دوسال سے لاپتہ شہریوں کی بازیابی سے متعلق درخواستوں کی سماعت ہوئی۔ عدالت عالیہ نے لاپتہ شہریوں کو بازیاب نہ کرانے پر شدید برہمی کا اظہار کیا۔ جسٹس سید محمد فاروق شاہ نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ ایسی پولیس پر لعنت ہو، کیا پولیس کا کام لوگوں کو صرف ڈرانا دھمکانا رہ گیا ہے، اس ملک میں تھانے ظلم خانے بن گئے ہیں، اگر تھانے بہتر ہوں تو ملک کی مسجدوں میں بھی رش ہوجائے، پولیس افسران نے جوئے اور شراب خانوں کے لیے بیٹر (کارندے) رکھے ہوئے ہیں لیکن شہریوں کی بازیابی کے لیے کچھ نہیں کرسکتے۔ جسٹس سید محمد فاروق شاہ نے کہا کہ لاپتہ افراد سے متعلق بنائی گئی جے آئی ٹی کی کارگردگی صفر ہے، جے آئی ٹی کا مقصد آمدن، گفتن، نشستن اور برخاستن رہ گیا ہے، جو تجزیہ جے آئی ٹی رپورٹ میں پیش کیا گیا وہ تو ہم بھی کرسکتے ہیں۔

