لیبرڈے ;مشرقِ وسطیٰ بحران سے متاثرہ مزدوروں کے لیے حکومتی اقدامات..؟
(اصغر علی مبارک ) مزدور وہ محنت کش ہے جو اجرت کے عوض جسمانی محنت (تعمیراتی، صنعتی یا کھیتوں میں) کرتا ہے۔ یہ طبقہ معاشی ترقی کی بنیاد ہے، جو “عالمی یوم مزدور”، کے طور پر یکم مئی کو شکاگو کے شہدا کی جدوجہد کی یاد میں منایا جاتا ہے۔ مزدور کی عزت، منصفانہ اجرت اور حقوق کا تحفظ سماجی ذمہ داری ہے۔
مزدور کے بارے میں اہم تفصیلات:
تعریف اور کام: مزدور سے مراد ایسا شخص ہے جو غیر ہنرمند یا نیم ہنرمند دستی کام، جیسے تعمیراتی کام، بوجھ اٹھانا (قلی)، یا فیکٹری میں مزدوری کرتا ہے۔
عظمتِ محنت: تمام انسانی ترقی اور تعمیر و ترقی مزدور کی پسینہ بہاتی محنت کا نتیجہ ہے۔
عالمی یوم مزدور : یکم مئی کو دنیا بھر میں محنت کشوں کا عالمی دن منایا جاتا ہے، جو 1886ء میں شکاگو کے مزدوروں کی جدوجہد اور ان کی شہادتوں کی یاد دلاتا ہے، جنہوں نے 8 گھنٹے اوقات کار کے لیے قربانی دی۔سماجی حیثیت اور چیلنجز: مزدور اکثر سماج کے نچلے طبقے سے تعلق رکھتے ہیں۔ انہیں سرمایہ دارانہ نظام میں استحصال کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
پاکستان میں صورتحال: پاکستان میں بہت سے مزدور مقررہ کم از کم اجرت سے کم پر کام کرنے پر مجبور ہیں اور معاشی مشکلات کا شکار ہیں۔
ادبی اور ثقافتی پہلو:
اردو شاعری میں مزدور کی محنت، اس کے کرب اور سماجی حالت کو اجاگر کیا گیا ہے، جیسے علامہ اقبال نے کہا: “ہیں تلخ بہت بندۂ مزدور کے اوقات”۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے عالمی یومِ مزدور (یکم مئی 2026) کے موقع پر اسلام آباد میں منعقدہ ایک خصوصی تقریب سے خطاب کیا، جس کا مقصد ملکی ترقی میں محنت کشوں کے کلیدی کردار کا اعتراف کرنا اور ان کے حقوق کے تحفظ کے لیے حکومتی عزم کو دہرانا تھا۔وزیراعظم کے خطاب کے اہم نکات درج ذیل ہیں:اجرتوں میں اضافہ اور ریلیف: وزیراعظم نے اعلان کیا کہ حکومت آئندہ بجٹ میں مزدوروں کی کم از کم اجرت میں مزید اضافے اور انہیں مہنگائی کے اثرات سے بچانے کے لیے خصوصی ریلیف پیکج متعارف کروائے گی۔پیشہ ورانہ تحفظ اور صحت انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان میں پہلی بار مزدور “نیشنل آکیوپیشنل سیفٹی اینڈ ہیلتھ پروفائل” سے مستفید ہو رہے ہیں، جو کام کی جگہ پر ان کی حفاظت اور صحت کو یقینی بنانے کے لیے ایک اہم قدم ہے۔مزدوروں کی مہارت میں اضافہ : وزیراعظم نے نوجوانوں اور مزدوروں کو جدید دور کے تقاضوں کے مطابق ہنر سکھانے کے عزم کا اظہار کیا تاکہ وہ عالمی لیبر مارکیٹ میں بہتر مقام حاصل کر سکیں۔سماجی تحفظ اور اصلاحات: انہوں نے متعلقہ اداروں ( اور ورکرز ویلفیئر فنڈ) کو ہدایت کی کہ مزدوروں کے لیے ہاؤسنگ، تعلیم اور صحت کی سہولیات کی فراہمی میں شفافیت لائی جائے اور ان کی فلاح و بہبود کے عمل کو تیز کیا جائے۔عالمی قوانین کی پاسداری: خطاب کے دوران انہوں نے اعادہ کیا کہ پاکستان انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کے کنونشنز کا پابند ہے اور مزدوروں کے بنیادی حقوق کا تحفظ آئینِ پاکستان کا حصہ ہے وزیراعظم شہباز شریف نے جمعرات کو ملک بھر میں کم آمدنی والے افراد کے لیے پانچ سالہ ’وزیرِاعظم اپنا گھر پروگرام‘ کا افتتاح کر دیا ہے، جس کے تحت 32 کھرب روپے کی لاگت سے 5 لاکھ گھروں کی تعمیر کی جائے گی۔ حکومت کا کہنا ہے کہ یہ منصوبہ نہ صرف رہائش کا مسئلہ حل کرے گا بلکہ معیشت میں روزگار اور صنعتی سرگرمیوں کو بھی فروغ دے گا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اس منصوبے کو حکومت کی ترجیحات میں سرفہرست قرار دیا۔ ان کے مطابق یہ پروگرام ایسے افراد کے لیے متعارف کرایا گیا ہے جو مالی وسائل کی کمی کے باعث اپنا گھر بنانے سے محروم رہے ہیں۔وزیراعظم نے اس اقدام کو ریاست کی ذمہ داری قرار دیتے ہوئے کہا کہ گھر کی ملکیت ہر شہری کا بنیادی حق ہے۔ انہوں نے بتایا کہ یہ پروگرام ملک کے تمام چاروں صوبوں، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں نافذ کیا جائے گا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس اسکیم کی تفصیلات کیا ہیں، یہ کب سے شروع ہوگی۔ اس کی اہلیت کی شرائط کیا ہیں اور اپنا گھر بنانے کے لیے قرض کیسے حاصل کیا جاسکتا ہے؟
پروگرام کا آغاز اور دورانیہ
اس منصوبے کا دورانیہ پانچ سال پر محیط ہے۔ اس کا باقاعدہ آغاز ہو چکا ہے اور درخواستیں وصول کرنے کا عمل 29 اپریل سے شروع کر دیا گیا ہے۔
اس پروگرام کے تحت حکومت اگلے پانچ سال میں 5 لاکھ گھروں کے لیے قرض فراہم کرے گی، جبکہ پہلے سال میں 50 ہزار گھروں کا ہدف رکھا گیا ہے اور اس قرض کی واپسی کے لیے 20 سال تک کا وقت دیا جائے گا۔
اس اسکیم کے تحت آپ زیادہ سے زیادہ 1 کروڑ روپے تک قرض حاصل کر سکتے ہیں۔ گھر کی کُل قیمت کا کم از کم 10 فیصد آپ کو خود ادا کرنا ہوگا، باقی رقم بینک قرض کی صورت میں دے گا۔
اس پروگرام کے تحت قرض کی رقم کو چار مختلف حصوں (سلیب) میں تقسیم کیا گیا ہے تاکہ ہر طبقہ اپنی ضرورت اور گنجائش کے مطابق فائدہ اٹھا سکے:
پہلا درجہ: 25 لاکھ روپے تک۔
دوسرا درجہ: 50 لاکھ روپے تک۔
تیسرا درجہ: 75 لاکھ روپے تک۔
چوتھا درجہ: ایک کروڑ روپے تک۔
یہ بات بھی یاد رکھنا ضروری ہے کہ بینک آپ کو گھر کی کُل قیمت کا 90 فیصد تک قرض دے گا، جبکہ 10 فیصد رقم آپ کو خود ادا کرنی ہوگی۔ مثلاً اگر آپ 50 لاکھ روپے کا گھر خریدنا چاہتے ہیں، تو بینک آپ کو 45 لاکھ روپے دے گا اور 5 لاکھ روپے آپ کی اپنی جیب سے ہوں گے۔
کس قسم کا گھر لیا جا سکتا ہے؟
اس اسکیم سے حاصل شدہ رقم کے ذریعے آپ بنا بنایا گھر، فلیٹ یا اپارٹمنٹ خرید سکتے ہیں۔ اس رقم سے آپ اپنے پلاٹ پر گھر کی تعمیر بھی کرسکتے ہیں یا پلاٹ خرید کر بھی اس پر اپنا گھر تعمیر کرسکتے ہیں۔
1. نیا گھر
آپ کسی بھی ہاؤسنگ اسکیم یا شہر میں بنا بنایا نیا گھر خرید سکتے ہیں۔ شرط یہ ہے کہ گھر کا کُل رقبہ 10 مرلہ (2720 مربع فٹ) سے زیادہ نہ ہو۔
2. اپارٹمنٹ یا فلیٹ
آپ کسی بھی عمارت میں فلیٹ خرید سکتے ہیں۔ اس کے لیے رقبے کی حد 1500 مربع فٹ تک رکھی گئی ہے۔
3. پلاٹ کی تعمیر
اگر آپ کے پاس پہلے سے اپنا پلاٹ موجود ہے تو اس پر گھر بنانے کے لیے آپ تعمیراتی لاگت کا قرض لے سکتے ہیں۔
4. پلاٹ کی خریداری اور تعمیر
آپ پلاٹ خریدنے اور اس پر گھر بنانے، دونوں کاموں کے لیے ایک ساتھ قرض حاصل کر سکتے ہیں۔
تاہم ان تمام قرضہ جات کے لیے بھی کچھ مخصوص شرائط رکھی گئی ہیں اس پروگرام کے لیے اہلیت کا معیار سادہ رکھا گیا ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ فائدہ اٹھا سکیں۔
اہلیت کی شرائط
اس پروگرام سے فائدہ اٹھانے کے لیے درخواست دہندہ کا پاکستانی شہری ہونا اور قومی شناختی کارڈ کا حامل ہونا ضروری ہے۔ یہ سہولت صرف ان افراد کے لیے ہے جو پہلی بار گھر خرید رہے ہیں۔
درخواست گزار کی کم از کم عمر 20 سال اور زیادہ سے زیادہ 65 سال (یا ریٹائرمنٹ عمر) مقرر کی گئی ہے، جبکہ کم از کم ماہانہ آمدنی 40 ہزار روپے ہونی چاہیے۔
ملازمت پیشہ افراد کے لیے کم از کم 6 ماہ کا مستقل تجربہ اور کاروباری افراد کے لیے کم از کم 2 سال کا کاروباری تجربہ ضروری قرار دیا گیا ہے۔
مزید یہ کہ قریبی رشتہ داروں کو شریک درخواست گزار کے طور پر شامل کیا جا سکتا ہے، جس سے مجموعی آمدنی کو یکجا کر کے قرض حاصل کرنے میں آسانی ہوگی۔
بینک آپ کی ماہانہ آمدنی اور اخراجات کا جائزہ لے گا تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ آپ ماہانہ قسط آسانی سے ادا کر سکیں گے۔
گھر کی ملکیت کس کے نام ہوگی؟
اس اسکیم میں شامل ہونے کے بعد گھر کی ملکیت آپ ہی کے نام ہوگی۔ بینک آپ کے نام پر پراپرٹی خریدنے یا تعمیر کرنے کے لیے رقم فراہم کرے گا، اس لیے رجسٹری یا الاٹمنٹ لیٹر پر نام آپ کا ہی درج ہوگا۔
اگرچہ گھر آپ کے نام ہوگا، لیکن قرض کی مکمل واپسی تک اس کا قانونی طریقہ کار کچھ یوں ہوگا:
بینک گھر کے اصل کاغذات اپنے پاس بطور ضمانت محفوظ رکھے گا۔ اسے قانونی زبان میں ’گرہن رکھنا‘کہتے ہیں۔ پراپرٹی کے کاغذات پر بینک کا حقِ انتفاع ) درج ہوگا، جس کا مطلب ہے کہ جب تک آپ قرض کی تمام اقساط ادا نہیں کر دیتے، آپ اس گھر کو کسی اور کو فروخت نہیں کر سکتے۔
جیسے ہی آپ 20 سال (یا اس سے پہلے) میں قرض کی تمام رقم اور مارک اپ ادا کر دیں گے، بینک آپ کو ایک ’نو ابجیکشن سرٹیفکیٹ’ (این او سی) جاری کرے گا اور آپ کے اصل کاغذات آپ کے حوالے کر دیے جائیں گے۔ اس کے بعد بینک کا حق ختم ہو جائے گا اور گھر مکمل طور پر آپ کی آزادانہ ملکیت میں آ جائے گا۔
وزیراعظم شہبازشریف کے مطابق یہ اسکیم صرف گھر فراہم کرنے کے لیے نہیں بلکہ اس سے ملک میں روزگار بڑھے گا، تعمیراتی کام تیز ہوگا اور معیشت کو بھی فائدہ ہوگا۔
حکومت کا کہنا ہے کہ یہ پروگرام پورے پاکستان، بشمول چاروں صوبوں، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں دستیاب ہوگا، تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ اس سہولت سے فائدہ اٹھا سکیں۔
انہوں نے بینکوں کے لیے پیغام دیتے ہوئے کہا کہ جو بینک اس پروگرام میں عوام کی خدمت میں آگے بڑھیں گے، انہیں قومی اعزازات سے نوازا جائے گا جب کہ غفلت برتنے والوں کے خلاف سخت رویہ اختیار کیا جائے گا۔
کیسے اپلائی کیا جاسکتا ہے؟
’اپنا گھر اسکیم‘ کے لیے اپلائی کرنے کے لیے مخصوص سرکاری ویب پورٹل کو جلد فعال کر دیا جائے گا، جس کے ذریعے آن لائن درخواستیں جمع کرائی جاسکتی ہیں۔
بینک سے رجوع
آپ اپنی قریبی کمرشل بینک، اسلامک بینک یا ہاؤس بلڈنگ فنانس کمپنی کی برانچ میں جا کر بھی فارم حاصل کر سکتے ہیں۔
ضروری دستاویزات
درخواست کے وقت آپ کے پاس اصل شناختی کارڈ، آمدنی کا ثبوت (سیلری سلپ یا کاروبار کی تفصیل) اور اگر جگہ موجود ہے تو اس کے کاغذات ہونا ضروری ہیں۔
پراسیسنگ ٹائم
حکومت کے مطابق درخواست جمع ہونے کے بعد بینک ایک ماہ کے اندر منظوری دینے کا پابند ہوگا۔
اس اسکیم کی کوئی پروسیسنگ فیس نہیں ہے۔ اکثر بینکوں نے اس پروگرام کے لیے خصوصی ہیلپ لائن نمبرز جاری کیے ہیں۔ آپ اپنے پسندیدہ بینک کی ہیلپ لائن پر کال کر کے نمائندے سے براہِ راست بات کر سکتے ہیں کہ آپ کی آمدنی کے حساب سے آپ کو کتنا قرض مل سکتا ہے۔
پروگرام کی نمایاں خصوصیات
اس اسکیم کے تحت زیادہ سے زیادہ ایک کروڑ روپے تک فنانسنگ حاصل کی جا سکتی ہے جبکہ درخواست دہندہ کو جائیداد کی قیمت کا کم از کم 10 فیصد خود ادا کرنا ہوگا۔
قرض کی مدت زیادہ سے زیادہ 20 سال ہوگی، جبکہ پہلے 10 سال کے لیے 5 فیصد شرح منافع مقرر کی گئی ہے جب کہ اگلے 10 سال کے لیے شرح سود مارکیٹ ریٹ (کائیبور اور بینک کا معمولی منافع) کے حساب سے ہوگی۔
گھر کے سائز کے لیے حد مقرر کی گئی ہے، جس کے مطابق 10 مرلہ تک کا مکان یا 1500 مربع فٹ تک کا فلیٹ اس اسکیم میں شامل ہوگا، جبکہ جائیداد کی قیمت کی کوئی حد مقرر نہیں کی گئی۔
حکومت کا کہنا ہے کہ یہ منصوبہ نہ صرف لاکھوں افراد کو چھت فراہم کرے گا بلکہ ملک میں تعمیراتی شعبے کو متحرک کر کے وسیع پیمانے پر معاشی سرگرمیوں کو بھی فروغ دے گا۔ ۔وزیراعظم نے اپنے خطاب کے آخر میں تمام محنت کشوں کو خراجِ تحسین پیش کیا اور انہیں ملک کی معاشی ترقی کا “اصل محرک” قرار دیا۔
پاکستان سمیت دنیا بھر میں لیبر ڈے (یومِ مزدور) ہر سال یکم مئی کو منایا جاتا ہے۔ سال 2026 میں یہ دن جمعہ کو آ رہا ہے، جس کی وجہ سے ملک بھر میں تین روزہ طویل ویک اینڈ جمعہ، ہفتہ، اتوار منایا جا رہا ہے۔وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے یکم مئی کو ملک بھر میں عام تعطیل کا اعلان کیا ہے۔ اس موقع پر تمام سرکاری و نجی ادارے، تعلیمی مراکز اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان سمیت تمام بینک بند رہیں گے۔
عالمی تھیم:
سال 2026 کے لیے بین الاقوامی لیبر آرگنائزیشن (ILO) کا منتخب کردہ تھیم “کام کے جگہ پر صحت مند نفسیاتی ماحول کی یقینی دہانی” ہے۔
اس کا مقصد کام کے دوران ذہنی دباؤ اور دماغی صحت کے تحفظ پر توجہ دینا ہے۔تقریبات اور ریلیاں: ملک کے بڑے شہروں میں مزدور یونینز اور تنظیمیں سیمینارز اور ریلیاں نکال رہی ہیں تاکہ شکاگو کے شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کیا جا سکے اور مزدوروں کے حقوق، منصفانہ اجرت اور کام کے محفوظ حالات کا مطالبہ کیا جا سکے۔
تاریخی پس منظرآغاز:
یہ دن 1886 میں امریکہ کے شہر شکاگو میں مزدوروں کی اس جدوجہد کی یاد میں منایا جاتا ہے جہاں انہوں نے روزانہ 16 گھنٹے کام کے بجائے 8 گھنٹے کے اوقاتِ کار کے لیے جانوں کا نذرانہ پیش کیا تھا۔پاکستان میں پہلی لیبر پالیسی کے تحت 1972 میں یکم مئی کو پہلی بار سرکاری طور پر عام تعطیل قرار دیا گیا تھا۔
حکومتِ پاکستان اور صوبائی حکومتوں نے سال 2026 میں مزدوروں کی فلاح و بہبود اور معاشی ریلیف کے لیے متعدد اقدامات کیے ہیں، جن کی تفصیل درج ذیل ہے:
1. اجرت اور پنشن میں اضافہ:
وفاقی حکومت نے کم از کم اجرت بڑھا کر 37,000 روپے کر دی ہے۔ پنجاب میں مریم نواز کی حکومت نے اسے 40,000 روپے تک بڑھانے کے نوٹیفیکیشن جاری کیے ہیں۔
ای او بی آئی پنشن: ریٹائرڈ مزدوروں کے لیے کم از کم پنشن 10,000 سے بڑھا کر 11,500 روپے کر دی گئی ہے۔ فارمولا پر مبنی پنشن میں بھی 15 فیصد اضافہ کیا گیا ہے، جس سے طویل عرصہ کام کرنے والے مزدور 30,000 روپے تک پنشن حاصل کر سکیں گے۔ پنجاب مزدور کارڈ ایک سمارٹ کارڈ ہے جو بنک آف پنجاب اور سوشل سیکیورٹی ادارے (پی ای ایس ایس آئی) کے اشتراک سے جاری کیا گیا ہے۔ اس کے تحت درج ذیل مراعات دی جاتی ہیں:کیش گرانٹس: شادی، زچگی اور وفات کی صورت میں مالی امداد۔صحت: پنجاب بھر کے مختص کردہ پی ای ایس ایس آئی ہسپتالوں میں مفت علاج۔تعلیم: مزدوروں کے بچوں کے لیے سالانہ وظائف اور مفت تعلیمی سہولیات۔ڈسکاؤنٹس: یوٹیلیٹی سٹورز اور مخصوص گروسری آؤٹ لیٹس پر 5% سے 30% تک رعایت۔3. بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کفالت وظیفہ: رجسٹرڈ مستحق خاندانوں کے لیے سہ ماہی وظیفہ بڑھا کر 13,500 روپے سے 14,500 روپے تک کر دیا گیا ہے تاکہ مہنگائی کا اثر کم کیا جا سکے۔
مزدوروں کے بچوں کے لیے ‘بے نظیر تعلیمی وظائف’ کے تحت مالی امداد دی جا رہی ہے۔ حاملہ خواتین اور بچوں کی خوراک کے لیے فی سہ ماہی 2,500 روپے تک کی اضافی امداد۔ کم آمدنی والے 12.5 لاکھ خاندانوں کے لیے 3,000 روپے ماہانہ مالی امداد اور آٹا، چینی، گھی وغیرہ پر رعایت۔شیلٹر ہومز: خیبرپختونخوا اور پنجاب میں مزدوروں کے لیے احساس مزدور شیلٹر اور مفت دسترخوان کی سہولت برقرار ہے حکومت نے اب ای او بی آئی اور سوشل سیکیورٹی کے دائرہ کار کو زراعت، گھریلو ملازمین اور غیر رسمی شعبوں (انفارمل سیکٹر) تک پھیلانے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ ان شعبوں کے مزدور بھی پنشن اور علاج کی سہولت حاصل کر سکیں۔حکومتِ پاکستان اور صوبائی حکومتوں نے 2026 میں مزدوروں کی فلاح و بہبود کے لیے کئی مزدور دوست (لیبر فرینڈلی) پالیسیاں متعارف کرائی ہیں۔ ان اقدامات کا مقصد مہنگائی کے اثرات کو کم کرنا اور محنت کش طبقے کو سماجی تحفظ فراہم کرنا ہے۔
اہم اقدامات کی تفصیل درج ذیل ہے:
اجرت اور مالی امداد میں اضافہ : مہنگائی کے پیشِ نظر کم از کم اجرت کو بڑھا کر 37,000 سے 40,000 روپے (صوبوں کے لحاظ سے) تک کر دیا گیا ہے۔
بینظیر کفالت پروگرام:
مزدور خاندانوں کے لیے سہ ماہی وظیفہ بڑھا کر 13,500 روپے سے زائد کر دیا گیا ہے، تاکہ غریب ترین طبقے کی مالی معاونت ہو سکے۔ حکومت نے 12.5 ملین خاندانوں کے لیے راشن کارڈ کے ذریعے آٹا، گھی اور چینی پر بڑی رعایتیں فراہم کی ہیں۔ یہ ایک انقلابی قدم ہے جس کے ذریعے مزدوروں کو بینکوں سے منسلک کیا گیا ہے۔ اس کارڈ کے ذریعے:سوشل سیکیورٹی ہسپتالوں میں مفت علاج۔نجی ہسپتالوں اور اسٹورز پر خصوصی ڈسکاؤنٹ۔شادی گرانٹ اور ڈیتھ گرانٹ کی فوری ادائیگی۔
پنشن میں اضافہ: نجی شعبے کے ریٹائرڈ مزدوروں کی پنشن میں 15 فیصد سے 20 فیصد تک اضافہ کیا گیا ہے تاکہ بوڑھے محنت کشوں کا گزر بسر بہتر ہو سکے۔
تعلیم لیبر کالونیاں: صنعتی مزدوروں کے لیے کراچی، لاہور اور پشاور جیسے شہروں میں کم لاگت کے فلیٹس اور گھروں کی تعمیر اور الاٹمنٹ کا عمل تیز کر دیا گیا ہے۔مزدوروں کے بچوں کے لیے وظائف: ورکرز ویلفیئر فنڈ (ڈبلیو ڈبلیو ایف) کے تحت مزدوروں کے بچوں کے لیے ہائر ایجوکیشن اور ٹیکنیکل تعلیم کے مکمل اخراجات اور وظائف حکومت ادا کر رہی ہے
۔4. قانونی اصلاحات اور تحفظسیفٹی انسپکشن: کارخانوں اور فیکٹریوں میں کام کے محفوظ ماحول کو یقینی بنانے کے لیے ‘ہیلتھ اینڈ سیفٹی’ قوانین کو مزید سخت کیا گیا ہے۔ پہلی بار گھریلو ملازمین اور زراعت سے وابستہ مزدوروں کو بھی سوشل سیکیورٹی کے دائرے میں لانے کے لیے رجسٹریشن کا آغاز کیا گیا ہے بیرون ملک جانے والے مزدوروں کے لیے لائف انشورنس اور قانونی امداد کے پیکیجز متعارف کرائے گئے ہیں۔سمندر پار پاکستانیوں کے بچوں کے لیے کوٹہ: پیشہ ورانہ تعلیمی اداروں میں اوورسیز پاکستانیوں کے بچوں کے لیے نشستیں مختص کی گئی ہیں۔
حکومتِ پاکستان نے یکم مئی “لیبر ڈے” کے موقع پر مشرقِ وسطیٰ میں جاری حالیہ بحران (فروری-اپریل 2026) کے پیشِ نظر،متاثرہ مزدوروں، بالخصوص بیرونِ ملک مقیم اور واپس آنے والے محنت کشوں کے لیے درج ذیل اہم اقدامات اور حکمتِ عملی کا اعلان کیا ہے:
1. سمندر پار پاکستانیوں کے لیے نئی لیبر پالیسی (2026);
حکومت نے خلیجی ممالک میں جنگی صورتحال اور پروازوں کی معطلی سے پیدا ہونے والے مسائل کے حل کے لیے نئی حکمتِ عملی تیار کی ہے:
برآمدات میں اضافہ:
مشرقِ وسطیٰ کے لیے لیبر ایکسپورٹ کا ہدف بڑھا کر 8 لاکھ کرردیا گیا ہے تاکہ بحران کے باوجود روزگار کے مواقع برقرار رہیں۔متبادل شعبے:
تعمیرات اور صحت کے شعبوں میں نئے مواقع تلاش کرنے پر توجہ دی جا رہی ہے۔خواتین کے لیے رعایت: بیرونِ ملک ملازمت کے لیے خواتین کی کم از کم عمر 35 سے کم کر کے 25 سال کر دی گئی ہے۔
2. معاشی ریلیف اور کفایت شعاری اقدامات ;
تیل کے عالمی بحران (آبنائے ہرمز کی بندش) کے باعث پیدا ہونے والی مہنگائی سے مزدوروں کو بچانے کے لیے حکومت نے غیر معمولی فیصلے کیے ہیں:
ریلیف پیکیج 2026:
حکومت نے 38 ارب روپے کا پیکیج جاری کیا ہے جس کے تحت 1 کروڑ 21 لاکھ مستحق خاندانوں کو 13,000 روپے فی خاندان نقد امداد دی جا رہی ہے۔سرکاری دفاتر میں رعایت: ایندھن بچانے اور مزدوروں پر بوجھ کم کرنے کے لیے سرکاری ملازمین کے لیے 4 روزہ ہفتہ (فور ڈے ورک ویک) اور ‘ورک فروم ہوم’ (50% اسٹاف کے لیے) کی پالیسی اپنائی گئی ہے۔تنخواہوں میں کٹوتی: وزراء اور اراکینِ پارلیمنٹ کی تنخواہوں میں 25 فیصد کٹوتی کی گئی ہے تاکہ یہ فنڈز عوامی ریلیف کے لیے استعمال ہو سکیں۔
3. پیشہ ورانہ تربیت اور سماجی تحفظ :
کوریا اور جاپان کے تعاون سے مزدوروں کو ‘سافٹ سکلز’ کی تربیت دینے کے پروگرام شروع کیے گئے ہیں تاکہ وہ بین الاقوامی مارکیٹ میں بہتر مقابلہ کر سکیں۔سوشل سیکیورٹی: لیبر ڈے کے موقع پر غیر رسمی شعبے (انفارمل سیکٹر) کے مزدوروں کو رجسٹر کرنے اور انہیں سوشل سیکیورٹی کے دائرے میں لانے پر زور دیا گیا ہے۔
4. سفارتی تحفظ;..
حکومت مشرقِ وسطیٰ میں جنگ بندی کے لیے ایران اور امریکہ کے درمیان ثالث کا کردار ادا کر رہی ہے تاکہ وہاں موجود لاکھوں پاکستانی مزدوروں کا روزگار اور زندگی محفوظ رہ سکے۔یومِ مزدور (یکم مئی 2026) کے موقع پر وزیراعظم نے اعلان کیا ہے کہ ایران-امریکہ حالیہ کشیدگی کی وجہ سے وطن واپس لوٹنے والے مزدوروں کو اوورسیز پاکستانیز فاؤنڈیشن (او پی ایف) کے ذریعے فوری مالی امداد فراہم کی جائے گی۔بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی): وہ مزدور جو مشرقِ وسطیٰ میں روزگار ختم ہونے کی وجہ سے خطِ غربت سے نیچے چلے گئے ہیں، انہیں ہنگامی بنیادوں پر بی آئی ایس پی کے سماجی تحفظ کے نیٹ ورک میں شامل کیا جا رہا ہے۔ حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ خلیجی ممالک سے واپس آنے والے ہنر مند افراد (جیسے ٹیکنیشنز، انجینئرز اور آپریٹرز) کو خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل (ایس آئی ایف سی) کے تحت جاری بڑے منصوبوں (زراعت اور کان کنی) میں ملازمتوں کے لیے پہلی ترجیح دی جائے گی۔ واپس آنے والے مزدوروں کے لیے اپنا چھوٹا کاروبار شروع کرنے کے لیے بغیر سود یا آسان شرائط پر قرضوں کا کوٹہ مختص کر دیا گیا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں حالیہ حملوں کے دوران جاں بحق ہونے والے پاکستانی مزدوروں کے لواحقین کے لیے حکومت نے ملین روپے فی کس امداد اور خاندان کے ایک فرد کو سرکاری ملازمت دینے کا اعلان کیا ہے۔ وزارتِ خارجہ کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ غیر ملکی کمپنیوں سے رابطہ کر کے ان پاکستانیوں کی رکی ہوئی تنخواہیں اور دیگر واجبات وصول کرنے میں مدد کرے جنہیں اچانک فارغ کر دیا گیا ہے۔ جن مزدوروں کا پروٹیکٹر انشورنس نافذ العمل ہے، انہیں سٹیٹ لائف کے ذریعے کلیمز کی فوری ادائیگی کے لیے ون ونڈو آپریشن شروع کر دیا گیا ہے۔ سمندر پار پاکستانیوں کے لیے نئی لیبر پالیسی (2026) حکومتِ پاکستان کے اس وژن کا حصہ ہے جس کے تحت محنت کشوں کے تحفظ، ان کی مہارت میں اضافے اور عالمی منڈیوں میں پاکستانی افرادی قوت کی رسائی کو وسیع کرنا مقصود ہے۔
اس پالیسی کے کلیدی نکات درج ذیل ہیں:
1. روزگار کے اہداف اور نئی منڈیاں ہدف:
حکومت نے سال 2026 کے لیے 8 لاکھ پاکستانیوں کو بیرونِ ملک روزگار فراہم کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں تقریباً 60 ہزار زیادہ ہے۔
نئے معاہدے:
اٹلی، بیلاروس اور عراق جیسے ممالک کے ساتھ لیبر موبلٹی معاہدوں پر دستخط کیے گئے ہیں۔ اٹلی نے پاکستان کے لیے تین سال کے دوران 10,500 کارکنوں کا کوٹہ مختص کیا ہے، خاص طور پر ہیلتھ کیئر، زراعت اور شپ بریکنگ کے شعبوں میں۔
2. خواتین اور نوجوانوں کے لیے آسانیاں :
بیرونِ ملک ملازمت کے لیے خواتین کی کم از کم عمر 35 سے کم کر کے 25 سال کر دی گئی ہے تاکہ زیادہ خواتین عالمی مارکیٹ کا حصہ بن سکیں۔
ہنر مندی کی تربیت:
جنوبی کوریا اور جاپان کے تعاون سے سافٹ سکلز اور پیشہ ورانہ تربیت کے پروگرام شروع کیے گئے ہیں تاکہ پاکستانی مزدوروں کی مسابقت بڑھے۔
3. قانونی تحفظ :
اوورسیز پاکستانیوں کے جائیداد اور دیگر قانونی مسائل کے حل کے لیے ہر ضلع میں خصوصی عدالتیں اور ایئرپورٹس پر ‘فسیلیٹیشن ڈیسک’ قائم کیے جا رہے ہیں۔
ڈیجیٹلائزیشن: بیورو آف امیگریشن اور ای او بی آئی کو جدید خطوط پر استوار کیا جا رہا ہے تاکہ رجسٹریشن اور شکایات کا ازالہ شفاف اور تیز تر ہو سکے۔
لازمی رکنیت کی تجویز:
او پی ایف نے سمندر پار پاکستانیوں کے لیے 10,000 روپے کی فیس کے ساتھ لازمی رکنیت کی تجویز دی ہے تاکہ فلاحی خدمات کے دائرہ کار کو 1.2 کروڑ پاکستانیوں تک بڑھایا جا سکے۔
4. تعلیمی وظائف اور ریلیف :
سمندر پار پاکستانیوں کے بچوں اور شریکِ حیات کے لیے اوورسیز پاکستانیز ایجوکیشن فنڈ کے تحت وظائف کا اعلان کیا گیا ہے۔ اس کے لیے درخواست دینے کی آخری تاریخ 30 اپریل 2026 مقرر کی گئی ہے۔
ای-پروٹیکٹر سسٹم:
غیر قانونی امیگریشن اور دھوکہ دہی سے بچنے کے لیے نگرانی کے نظام کو مضبوط بنایا گیا ہے۔حکومتِ پاکستان مشرقِ وسطیٰ کے حالیہ بحران کے دوران ان محنت کشوں کے تحفظ اور ملکی معیشت میں ان کے کلیدی کردار جس کے تحت مارچ 2026 میں ریکارڈ 3.8 ارب ڈالر کی ترسیلات موصول ہوئیں کو برقرار رکھنے کے لیے پرعزم ہے

