تحریر و تحقیق: اصغر علی مبارک، ایران بات چیت کیلئے تیارہے جبکہ امریکی صدر نے ایک بار پھر ڈیل کیلئے اصرارکیاہے
پاک امریکہ اور ایران کے درمیان حالیہ کشیدگی کے خاتمے اور امن کے قیام کے لیے اسلام آباد ایک بار پھر عالمی سفارت کاری کا مرکز بن چکا ہے۔ تازہ ترین صورتحال کے مطابق اہم پیش رفت درج ذیل ہے:
امریکی وفد کی آمد: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر مذاکرات کے نئے دور کے لیے اسلام آباد پہنچے ہیں۔ امریکی صدر نے امید ظاہر کی ہے کہ ایران ایک ایسی پیشکش کر رہا ہے جو امریکی مطالبات (بالخصوص جوہری پروگرام کے خاتمے) کو پورا کر سکتی ہے۔
ایرانی موقف: ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی جمعہ کو اسلام آباد پہنچے جہاں انہوں نے اعلیٰ پاکستانی حکام سے ملاقاتیں کیں۔ اگرچہ ایران نے فی الحال امریکہ کے ساتھ براہ راست مذاکرات کی تردید کی ہے، تاہم وہ پاکستان کے ذریعے اپنی تجاویز واشنگٹن تک پہنچانے کے لیے تیار ہے۔
پاکستان کا کردار: نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اعادہ کیا ہے کہ پاکستان خطے کے وسیع تر مفاد میں ایران اور امریکہ کے درمیان “سہولت کار” کا کردار ادا کرتا رہے گا۔ پاکستانی حکام کی درخواست پر ہی صدر ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جنگ بندی (Ceasefire) میں توسیع کی ہے تاکہ مذاکرات کو موقع دیا جا سکے۔
صدر ٹرمپ کا اصرار: امریکی صدر ایک ایسی نئی ڈیل پر اصرار کر رہے ہیں جو ان کے بقول 2015 کے معاہدے سے بہتر ہو اور جس میں ایران جوہری افزودگی مکمل طور پر ترک کر دے۔ اس صورتحال میں پاکستان ایک “پل” کا کردار ادا کر رہا ہے تاکہ خطے کو کسی بڑی جنگ سے بچایا جا سکے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کاکہنا ہےکہ ایران بات چیت کرنا چاہتا ہے،دیکھنا ہےایران کے ساتھ معاہدہ ہو سکتا ہے یا نہیں،دیکھتے ہیں ایران کس قسم کی پیش کش لاتا ہے۔برطانوی خبررساں ایجنسی سےگفتگو میں امریکی صدر نےکہاہے کہ ایران کسی معاہدے تک پہنچنے کیلئےبات چیت کرناچاہتاہے،تہران امریکی مطالبات کےمطابق پیش کش دینا چاہتاہے،ہم ایران میں ان لوگوں سےمذاکرات کررہے ہیں جو بااختیار ہیں,
امریکی وزیرخارجہ مارکو روبیو نےکہاہے کہ امریکا ایران پرمعاشی دباؤ بڑھا رہا ہے،امریکا ایران کی غیر قانونی تیل کی تجارت کو روکنےکیلئےفیصلہ کن اقدامات کررہا ہے،ایرانی تجارت کوسہارا دینے والے نیٹ ورک پردباؤ میں اضافہ کرینگے،ایران پر معاشی دباؤ بڑھانا آپریشن اکنامک فیوری کا حصہ ہے۔
امریکی محکمہ خزانہ کاکہنا ہےکہ ایران پر نئی پابندیاں عائد کردی ہیں،چین میں قائم آئل ریفائنری، 40 شپنگ کمپنیوں اورآئل ٹینکرپرپابندیاں لگائی گئی ہے،پابندیاں ان پر لگائی گئی ہیں جو ایران کے ساتھ کاروبار اورتیل منتقل کرنےمیں ملوث ہیں،امریکاایران کےساتھ تیل کاکاروبارکوروکنے مزید سخت اقدامات کر رہا ہے۔
امریکی سینٹ کام کی جانب سےجاری بیان میں کہاگیا ہےکہ امریکی فوج نے ایرانی پرچم والے ایک اور بحری جہاز کو روک دیا،ایرانی جہاز کو ناکہ بندی کی خلاف ورزی پر روکا گیا،بحری جہاز ایرانی بندرگاہ کی طرف جارہا تھا۔ایرانی پاسداران انقلاب نے براہ راست مذاکرات کی درخواست کا وائٹ ہاؤس کا دعویٰ مسترد کردیاہے, جاری بیان میں کہا کہ امریکا طرف سےبراہ راست مذاکرات کی باتیں جھوٹ ہیں،امریکی ناانصافیوں کے باعث مذاکرات کا کوئی فیصلہ نہیں ہواہے۔
ترجمان ایرانی وزارت دفاع رضاطلائی نیک نے اپنےبیان میں کہامیزائلوں کابڑا ذخیرہ اب بھی موجود ہے، جسےاستعمال نہیں کیا گیا،جنگ بندی شروع ہونے تک دشمن کے زیرِکنٹرول علاقوں کی فضائی حدود پر کنٹرول تھا۔
ایرانی رہبراعلیٰ کےمشیرمحسن رضائی نےاپنےبیان میں کہا ایران متحداورامریکا الجھاؤکاشکارہے،ایرانی عوام یکجا اورایک آوازہیں،امریکا الجھن اورمسلسل اسٹریٹجک غلطیوں میں مبتلاہے،ایران کےبہادرفرزند امریکی طاقت کے ٹوٹنےکی آواز دنیا تک پہنچائیں گے۔
امریکی صدرکی دھمکیوں پر ایرانی نیشنل سیکیورٹی کمیٹی کےچیئرمین ابراہیم عزیزی نےردعمل دیتے ہوئےکہا امریکی صدرکو ایران کےبارے میں بات کرنےکا کوئی حق نہیں،انکی اپنی مقبولیت اٹھارہ فیصد گرگئی ہے،کانگریس میں مواخذے کی باتیں ہورہی ہیں،یہ جارح مزاج اورمجرم شخص اپنےکیےپرشدید پچھتائےگا۔
ایرانی آرمی چیف میجرجنرل امیرحاتمی نےکہا ہم ایرانی قوم اور انقلابی مسلمان ہیں،ہمارا اتحاد فولادی ہے،رہبر اعلیٰ کی قیادت میں مجرم جارح کو اپنے اقدامات پر پچھتانے پر مجبور کریں گے۔
ایرانی پاسداران انقلاب نےایک غیرملکی جہاز کو قبضےمیں لینےکا اعلان کیا،کہاامریکی فوج کے ساتھ تعاون کے شبے میں جہازکو تحویل میں لیا گیا،غیرملکی جہاز نے متعدد وارننگز کو نظر انداز کیا۔
دوسری جانب برطانوی وزیراعظم کیئراسٹارمر نے کہابرطانیہ پاسداران انقلاب کو دہشت گرد قرار دینے کی قانون سازی کرے گا،ریاست کو نقصان پہنچانے والے گروہوں کے خلاف قانون سازی کی ضرورت ہے، چند ہفتوں میں پارلیمنٹ کے نئے اجلاس میں قانون پیش کریں گے۔



