جولیا ہولڈن اپنے نوزائیدہ بچے کو سلانے کی جدوجہد سے بخوبی واقف ہیں۔ فروری 2024 میں، انہوں نے اور ان کے شوہر نے محسوس کیا کہ ان کا بیٹا میکسائم اس وقت جلدی سو جاتا ہے جب اس کی آنکھیں کسی کپڑے سے ڈھانپ دی جاتی ہیں۔ ایک نئی ماں ہونے کے ناطے، ہولڈن نے بازار میں آرام دہ آنکھوں کا ڈھکن تلاش کیا لیکن انہیں کوئی مناسب مصنوعات نہیں ملی۔
خواب کو حقیقت بنانے کا سفر
ہولڈن نے کاروباری بننے کا خواب دیکھا تھا، اس لیے انہوں نے فوری طور پر یہ مصنوعات خود بنانے اور فروخت کرنے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے بچوں کی ایک ایسی ٹوپی ڈیزائن کی جس میں آنکھوں کا ڈھکن لگا ہوا تھا اور اس کا نام ’سلیپی ہیٹ‘ رکھا۔ اگلے ایک سال میں، انہوں نے اپنی ذاتی بچت سے تقریباً 16,000 ڈالر خرچ کر کے اس کاروبار کی بنیاد رکھی۔
ماہانہ پانچ ہندسوں کی آمدنی
جون 2025 سے، یہ کاروبار ہر مہینے پانچ ہندسوں کی آمدنی حاصل کر رہا ہے، جس میں دسمبر میں 90,000 ڈالر اور جنوری میں 69,000 ڈالر سے زیادہ کی رقم شامل ہے۔ کمپنی منافع بخش ہے۔ ہولڈن نے ابتدائی طور پر اس کاروبار کا آغاز اس وقت کیا جب وہ ایک ایڈورٹائزنگ کمپنی میں سینئر ریلیشنشپ مینیجر کے طور پر فل ٹائم کام کر رہی تھیں اور اپنے بچے کی دیکھ بھال بھی کر رہی تھیں۔
وقت کی قلت کے باوجود کامیابی
ہولڈن نے نیو جرسی کے لارنس ٹاؤن شپ میں اپنے گھر پر بچے کو دودھ پلانے کے 20 منٹ کے وقفوں میں ’سلیپی ہیٹ‘ کے لیے وقت نکالا۔ انہوں نے کہا، ’’میرے پاس کوئی بیرونی فنڈنگ نہیں تھی، نہ کوئی ٹیم تھی اور نہ ہی خاندانی مدد کے علاوہ کوئی چائلڈ کیئر تھا۔‘‘
فل ٹائم کاروباری بننے کا فیصلہ
ہولڈن نے اکتوبر میں اپنی 95,000 ڈالر سالانہ کی نوکری چھوڑ دی تاکہ وہ ’سلیپی ہیٹ‘ پر مکمل توجہ مرکوز کر سکیں۔ زیادہ تر منافع دوبارہ کاروبار میں لگایا گیا ہے، جس میں دو پارٹ ٹائم کنٹریکٹرز کی تنخواہیں اور گوگل اور ایمیزون پر اشتہارات چلانا شامل ہیں۔
پہلی غیر ملکی فروخت نے زندگی بدل دی
ہولڈن کے مطابق، جب انہوں نے ’سلیپی ہیٹ‘ لانچ کرنے کا فیصلہ کیا تو ان کے پاس مارکیٹ کی تصدیق نہیں تھی۔ انہوں نے یہ آئیڈیا اپنے حلقے کی دیگر ماؤں کے سامنے پیش کیا، جنہوں نے اسے ’باصلاحیت‘ قرار دیا۔
انہوں نے کاروبار شروع کرنے کے لیے تقریباً 10,000 ڈالر خرچ کرنے کا ارادہ کیا تھا، لیکن مصنوعات کی ترقی، نمونوں کی تیاری اور دیگر چھوٹے چھوٹے اخراجات نے بجٹ سے تجاوز کر لیا۔
ٹک ٹاک نے فروخت میں تیزی لائی
ہولڈن نے ستمبر 2024 میں ویب سائٹ لانچ کی، لیکن اس وقت تک زیادہ فروخت نہیں ہوئی جب تک کہ انہوں نے اپنی مصنوعات کو آن لائن مارکیٹ پلیس ’گرومیٹ‘ پر پوسٹ نہیں کیا۔ ’سلیپی ہیٹ‘ نے سال کا اختتام کل فروخت میں 2,000 ڈالر سے کم کے ساتھ کیا۔
ہولڈن نے اگست 2025 میں ایمیز پر تھرڈ پارٹی سیلر کے طور پر شمولیت اختیار کی۔ تقریباً اسی وقت، ’سلیپی ہیٹ‘ کے ٹک ٹاک اکاؤنٹ پر ان کی پوسٹس نے مقبولیت حاصل کرنا شروع کی، جس میں سے کچھ کو لاکھوں ویوز اور ہزاروں لائکس ملے۔ ماؤں نے تبصروں میں اپنے بچوں کی نیند کے مسائل پر بات چیت کی اور کہا کہ انہیں اپنے بچوں کے لیے یہ ٹوپی درکار ہے۔
چھ ہندسوں کی تنخواہ کا ہدف
ہولڈن کا کہنا ہے کہ ان کی زیادہ تر فروخت اب آن لائن اشتہارات سے آتی ہے۔ وہ نئے ڈیزائن اور مواد کے ساتھ ’سلیپی ہیٹ‘ تیار کر رہی ہیں، اپنی سوشل میڈیا حکمت عملی کو بہتر بنا رہی ہیں اور اپنی پیکجنگ کو اپ ڈیٹ کر رہی ہیں۔
انہوں نے کہا، ’’اس سال کا ہدف اپنی تنخواہ کو سہ ماہی بنیادوں پر بڑھانا ہے۔ مجھے امید ہے کہ اپریل میں دوسرے سہ ماہی میں میں اپنی تنخواہ دگنی کروں گی۔ مجھے اگلے سال اپنی فل ٹائم نوکری سے زیادہ تنخواہ ادا کرنے کی امید ہے، یعنی چھ ہندسوں سے زیادہ۔‘‘
اپنے دل کی سننے کی اہمیت
ہولڈن نے اپنے جذبات پر بھروسہ کرنے کی اہمیت بھی سیکھی ہے۔ انہیں ایک لمحہ یاد ہے جب ان کی بہن، جو ایک پاورپوائنٹ ٹیوٹوریل کاروبار چلاتی ہیں، نے انہیں نئی ماں ہونے کے ناطے اسٹارٹ اپ شروع کرنے سے منع کیا تھا۔
ہولڈن کہتی ہیں، ’’وہ کہہ رہی تھیں، ’میں اب کاروبار شروع نہیں کروں گی۔ تم ابھی ابھی ماں بنی ہو۔‘ اور میں نے کہا، ’ٹھیک ہے، میں تمہاری بات سنتی ہوں۔ لیکن میں یہ کام کر کے رہوں گی۔‘‘‘

