کراچی: مالی سال 2026 کے پہلے چھ ماہ کے دوران حکومتی قرضوں میں 641 ارب روپے کا اضافہ ہوا ہے جو ملک کی مالیاتی ضروریات اور مقامی ذرائع پر انحصار کی عکاسی کرتا ہے۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے تازہ اعدادوشمار کے مطابق دسمبر 2025 کے اختتام پر حکومت کا کل قرضہ 78.5 کھرب روپے تک پہنچ گیا ہے۔
مقامی قرضوں میں تیزی، بیرونی قرضوں میں کمی
اعدادوشمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ قرضوں میں اضافے کی بنیادی وجہ مقامی قرضے ہیں جو جون 2025 کے مقابلے میں 1.63 فیصد بڑھ کر 55.4 کھرب روپے ہو گئے ہیں۔ اس کے برعکس بیرونی قرضوں میں ایک فیصد کی کمی واقع ہوئی ہے جو 23.1 کھرب روپے رہ گئے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بیرونی مالیاتی حالات سخت ہونے کی وجہ سے حکومت مقامی بینکنگ سیالیت پر زیادہ انحصار کر رہی ہے۔
ماہرین کا تجزیہ
اسماعیل اقبال سیکیورٹیز کے ہیڈ آف ریسرچ صادق حنیف کے مطابق “قرضوں میں اضافہ بنیادی طور پر مقامی ذرائع سے ہوا ہے، خاص طور پر پاکستان انویسٹمنٹ بانڈز، اسلامی بانڈز اور ٹریژری بلز کے ذریعے۔ بیرونی قرضوں کی شرح نسبتاً قابو میں رہی ہے، جس سے ملکی کرنسی کے قرضوں پر مستحکم صورتحال کا اشارہ ملتا ہے، لیکن مقامی سود کی لاگت پر دباؤ برقرار ہے۔”
بجٹ سرپلس کے باوجود قرضوں میں اضافہ
قابل ذکر بات یہ ہے کہ قرضوں میں یہ اضافہ اس وقت ہوا ہے جب حکومت نے مالی سال 2026 کے پہلے چھ ماہ میں 542 ارب روپے کا بجٹ سرپلس حاصل کیا ہے، جو جی ڈی پی کا 0.4 فیصد بنتا ہے۔ گزشتہ سال اسی مدت میں 1.5 کھرب روپے کا خسارہ ریکارڈ کیا گیا تھا۔
قرضوں کی خدمت پر اخراجات
اگرچہ کل قرضہ اور ذمہ داریاں 95.5 کھرب روپے تک پہنچ گئی ہیں، لیکن قرضوں کی خدمت پر اخراجات میں کمی واقع ہوئی ہے۔ جولائی سے دسمبر 2026 کے دوران قرضوں کی خدمت پر 5.2 کھرب روپے خرچ ہوئے، جو گزشتہ سال کے 6.9 کھرب روپے سے کم ہیں۔ ان میں سود کی ادائیگیاں 3.7 کھرب روپے رہیں۔
ڈالر کے حساب سے بیرونی قرضے
ڈالر کے اعتبار سے پاکستان کے کل بیرونی قرضے اور ذمہ داریاں 31 دسمبر 2025 تک 138 ارب ڈالر ہو گئے ہیں، جو جون کے اختتام پر 136 ارب ڈالر تھے۔ مالی سال 2026 کے دوسرے سہ ماہی میں ملک نے بیرونی قرضوں کی خدمت کے لیے 4.1 ارب ڈالر کی ادائیگی کی، جس میں 1.3 ارب ڈالر سود کی مد میں ادا کیے گئے۔
آئینی حد سے تجاوز
رپورٹس کے مطابق مالی سال 2025 میں مجموعی عوامی قرضہ جی ڈی پی کے 70.7 فیصد تک پہنچ گیا تھا، جو مالیاتی ذمہ داری اور قرض کی حد بندی ایکٹ میں طے کردہ زیادہ سے زیادہ حد سے تجاوز کرتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ قرضوں کی یہ بلند اور ناقابل برداشت سطح سالانہ بجٹ کا نصف حصہ نگل لیتی ہے، جس سے ترقیاتی اور سماجی اخراجات کے لیے بہت کم گنجائش باقی رہ جاتی ہے۔

