yes urdu logo
  • خبریں
    • اہم ترین
    • بین الاقوامی خبریں
    • شوبز
    • مقامی خبریں
    • کاروبار
    • کھیل
  • تارکین وطن
  • شاعری
    • شاعر
      • عاکف غنی
  • ویڈیوز - Videos
    • Animals
    • Child
    • Fail - Shock
    • Fun & Performance
    • Music & Movies
    • News Events & Travel
    • Religious
    • Sports
    • Technology
  • اشتھارات
  • دلچسپ اور عجیب
    • اچھی بات
    • صحت و تندرستی
  • کالم
  • کرائم
Dark Mode
Skip to content
Breaking News
پولیس کا گھر پر چھاپہ، خاتون اور مرد شرمناک حالت میں گرفتار ، مگر خاتون دراصل کون نکلی اور قصہ کیا تھا ؟ شرمناک حقیقت سامنے آگئی
مدرسوں کے بچوں کو مولویوں کی زیادتی سے بچانے کا ایک ہی طریقہ۔۔۔۔ بشریٰ انصاری کا ایک متنازع بیان سامنے آگیا
شوبز نگری سے گرما گرم خبر : دو خوبصورت ترین اداکارائیں جسم فروشی اور اعلیٰ شخصیات کو خوبصورت لڑکیاں فراہم کرنے کے الزام میں گرفتار ۔۔۔ ایک خبر نے پورے ملک میں ہلچل مچا دی
یااللہ خیر ۔۔۔ بھارتی خفیہ ایجنسی ’’ را ‘‘ کا چیف جسٹس آف پاکستان کے خلاف خوفناک منصوبہ بے نقاب، حکومت حرکت میں آگئی، بڑا حکم جاری کر دیا
نمرتا کیس میں نیا موڑ۔۔۔۔ میڈیکل کی طالبہ کے اکاؤنٹ میں لاکھوں روپے کہاں سے آئے اور کہاں گئے؟ نئی کہانی سامنے آگئی
yes urdu logo
  • خبریں
    اہم ترین
    • دنیا کا سب سے بڑا طیارہ بردار بحری جہاز ‘یو ایس ایس جیرالڈ آر فورڈ’ ریکارڈ تعیناتی کے بعد وطن واپس لوٹ گیا
    • وائٹ ہاؤس پریس ڈنر میں فائرنگ، ٹرمپ اور میلانیا کو بحفاظت نکال لیا گیا،مشتبہ شوٹر کی شناخت 31 سالہ کول ٹامس ایلن کے طور پر ہوئی
    بین الاقوامی خبریں
    • دنیا کا سب سے بڑا طیارہ بردار بحری جہاز ‘یو ایس ایس جیرالڈ آر فورڈ’ ریکارڈ تعیناتی کے بعد وطن واپس لوٹ گیا
    • ایران بات چیت کیلئے تیار، امریکی صدر کا ایک بار پھر ڈیل کیلئے اصرار
    شوبز
    • From Eddie Murphy to Whoopi Goldberg: Top 10 Funniest 90s Actorsانیسویں دہائی کے دس عظیم مزاحیہ اداکار: جن کی ہنسی آج بھی تازہ ہے
    • بڑی عمر کی خواتین پسند ہیں،کہتا ہوں اپنی ماوں کو مجھ سے بچاو،بشری انصاری کے شوہر کےاس مزاح والے بیان پر سوشل میڈیا پر ہنگامہ 
    مقامی خبریں
    • نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی زیر صدارت خطے کی تازہ ترین صورتحال پر جائزہ اجلاس، ترجمان دفتر خارجہ 
    • عالمی بحران,وزیراعظم شہباز شریف کااعلان ,عوامی امنگوں کا ترجمان ….؟
    کاروبار
    • ماں کی ایجاد: ’سلیپی ہیٹ‘ نے بچوں کی نیند کا مسئلہ حل کر کے کاروبار میں کامیابی کی نئی داستان رقم کردی
    • حکومتی قرضہ 78.5 کھرب روپے تک پہنچ گیا، مالیاتی دباؤ میں اضافہ
    کھیل
    • بھارت اور افغانستان کے درمیان 2026 میں تاریخی ٹیسٹ اور ون ڈے سیریز کا اعلان
    • شیہان راجہ خالد محمود جنجوعہ امریکہ میں چوتھی بار ہال آف فیم ایوارڈ حاصل کرنے والے پہلے پاکستانی مارشل آرٹسٹ بن گئے
  • تارکین وطن
  • شاعری
    شاعر
    • کس کو ہے میں نے کھویا مجھ کو کیا ملا
    • best, tick tock, video, till, yet, for, Pak, Army, and, ISIپاک فوج پربنائی جانیوالی اب تک کی سب سے بہترین ٹک ٹاک، دلکش نغمے کے ساتھ
    • عاکف غنی
  • ویڈیوز - Videos
    Animals
    • Chairman Mao Zedong meets U.S. President Richard Nixonچیئرمین ماو زڈونگ نے امریکی صدر رچرڈ نکسن سے ملاقات کی
    • Grizzly Bearدیو قامت ریچھ اپنے بچوں کے ساتھ ، دلچسپ ویڈیو دیکھیں
    Child
    • My, 18 ,month, old, grandson, showing, off, his ,tricksاٹھارہ ماہ کا پوتا اپنے دادا کو اپنی چالیں دکھاتے ہوئے۔۔ حیران کن ویڈیو دیکھیں
    • بچے اور چڑیا جانور
    Fail - Shock
    • White, Trash, Prank Now, this, is, what, a, true, joke/prank, should, be!, Something, innocent, they, everyone, laughs, at, the, end!, Not, this, crap, where, people, are, throwing, spiders, on, people, or, putting, oil, on, the, floor, and, making, them, fall, and, get, hurt, or, sticking, your, butt, in, sleeping, people’s, faces., This, was, awesome, thanks, for, a, laugh!وائٹ ردی کی ٹوکری پرسکون ویڈیو دیکھیں یہاں کلک کریں
    • This, isn't, going, to, go, well. CLICK, HERE, TO, WATCH, VIDEO The, last, time, he, tried, to, do, it, and, flipped, so, many, times, at, the, end,, it, made, me, laugh, more, thanناممکن چیز کرنے کی کوشش کریں جب آپ اس کے اہل ہوں ورنہ ایسا بھی ہوسکتا ہے!
    Fun & Performance
    • ایک بچہ اپنے والد کے بارے میں کیا سوچتا ہے؟ باپ کے پسینے کا حق ادا نہیں ہوسکتا یہ سمجھنے میں اتنی دیر کیوں لگ جاتی ہے؟ جانیے اس ویڈیو میں
    • best, tick tock, video, till, yet, for, Pak, Army, and, ISIپاک فوج پربنائی جانیوالی اب تک کی سب سے بہترین ٹک ٹاک، دلکش نغمے کے ساتھ
    Music & Movies
    • پاکستان اوربھارتی پنجاب کے فنکاروں سے سجی چل میرا پت کی کینیڈا میں سکریننگ، بہترین مناظر
    • best, tick tock, video, till, yet, for, Pak, Army, and, ISIپاک فوج پربنائی جانیوالی اب تک کی سب سے بہترین ٹک ٹاک، دلکش نغمے کے ساتھ
    News Events & Travel
    • خامنہ ای کی واپسی؛امریکی حملے اور اس کے بعد کے واقعات پر مبنی ایرانی ویڈیو نے سوشل میڈیا پر تہلکہ مچا دیا آیت اللہ خامنہ ای کی اسرائیلی حملے میں شہادت کے بعد ان کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای نے سپریم لیڈر کا عہدہ سنبھالا ہے
    • میری زندگی کی سب سے بڑی غلطی،شادی نہ کرنے کے علاوہ سب سے بڑا پچھتاوا، شیخ رشید کا حیرت انگیز انکشاف
    Religious
    • Map, of, the, world, reshaping, DG, ISPR, Asif Ghafoor, condemned, effort, to, burn, Quran, in,Norway, and, support, the, young, man, who, tried, to,stop, the, bad, effortدنیا کا نقشہ تبدیل ہونے کا وقت ۔۔۔!!!نارروے میں قران پاک جلانے کے واقعہ کے حوالے سے پاک فوج کے فخر ’ میجر جنرل آصف غفور کا بڑا اعلان‘ ۔۔۔۔ امت مسلمہ میں جوش کی لہر دوڑ گئی
    • The time when an unbelieving general refused to see the face of the Holy Prophet (peace be upon him).وہ وقت جب ایک کافر جرنیل نے رسول پاک ﷺ کا چہرہ دیکھنے سے انکار کر دیا۔اسلامی تاریخ کا ایمان کو جھنجوڑ دینے والا واقعہ
    Sports
    • ورلڈ کپ 1992 کے یادگار لمحات٫دارالحکومت میں پروقار تقریب اور راولپنڈی میں کھلاڑیوں کا تاریخی استقبال. یادگار مناظر
    • Great news: Australia vs Pakistan after Sri Lanka - The Australian team was also announcedبڑی خوشخبری : سری لنکا کے بعد آسٹریلیا بمقابلہ پاکستان ۔۔۔ آسٹریلوی ٹیم کا اعلان بھی کر دیا گیا
    Technology
    • Great news for iPhone giantsآئی فون کے دیوانو ں کے لیے بڑی خوشخبری
    • سام سنگ کا فولڈ ایبل فون نئی تبدیلیوں کے ساتھ دوبارہ مارکیٹ میں آ گیا ۔۔۔ سکرین سے فولڈ ہونے والے اس فون میں کیا خصوصیات ہیں ؟ جانیے
  • اشتھارات
  • دلچسپ اور عجیب
    اچھی بات
    • Hazrat MUHAMMAS SAWعشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم
    • بالآخرقرآن پوری دنیا پر غالب آ گیا۔۔۔کروناوائرس خدشات، کل جمعے کے روز پوری دنیا میں دوران نماز سورۃ فاتحہ اور مختصر آیات پڑھنےکا فیصلہ کر لیا گیا
    صحت و تندرستی
    • اس موسم گرما آڑو کھانا نہ بھولیں
    • پیازکا ایسا استعمال جو جسم کے تمام فاسد مادوں کے اخراج اورچہرے کی تروتازگی (کلینزنگ) وخوبصورتی میں مدد کرے اور اعصاب کو سکون پہنچائے
  • کالم
  • کرائم
اہم ترین

مشتاق احمد یوسفی: اردو ادب کا عہدِ جاریہ

Web Editor July 17, 2018 1 min read
Mushtaq Ahmad Yusufi: Pledge of urdu literature
Share this:

اردو جہانِ ادب کے نثری حصے کو مختلف اصنافِ سخن سے موسوم کیا جاتا ہے۔ ان اصناف کو کہانی، افسانہ، ناول اور دیگر نام دیے گئے ہیں، تاہم ہمارا خیال ہے کہ تحریر کے دو رخ انتہائی واضح ہوتے ہیں، ایک سنجیدہ اور ایک پُر مزاح۔

سنجیدہ ادب لکھنے والوں کی ایک طویل فہرست ہے، جبکہ مزاح نگاروں کے نام انگلیوں پر گنتی کیے جاسکتے ہیں۔ بعض مزاح نگار تو ایسے بھی ہیں، جنہیں مرحوم ہوجانے یا پھر نصابی ماہرین کی عدم معلومات کے سبب نصاب کا حصہ بنادیا گیا ہے۔ بعض مزاح نگار ایسے بھی ہیں، جنہیں ان کے جینے کی سزا مل رہی ہے اور شاید ان کی عظمتِ کار کا اعتراف اس وقت کیا جائے گا، جب وہ ہم میں موجود نہیں ہوں گے۔

مشتاق احمد یوسفی برِصغیر کا وہ نام ہے، جس نے اردو ادب میں اپنے نپے تلے الفاظ اور کہیں ملفوف اور کہیں روشن معونیت کے ساتھ بھرپور طنز اور مزاح لکھ کر نہ صرف اردو ادب کو بالا مقام عطا کیا بلکہ عام قاری کے ذوقِ مطالعہ اور حسِ مزاح میں بے پناہ اضافہ کیا ہے۔

مشتاق احمد یوسفی کی شخصیت کا دلچسپ پہلو یہ ہے کہ ان کی تعلیم فلسفے اور قانون کے گرد گھومتی رہی اور عملی میدان میں وہ بینکنگ کے شہسوار بنے۔ اس شہسواری کے دوران اسپِ اسپِ اردو کو ایسے قابو کیا اور اس میدان میں وہ کارنامے دکھائے کہ دیکھنے اور پڑھنے والوں کا وہی حال ہوا جو حسنِ یوسف دیکھ کر زلیخا کا ہوا تھا۔

ہر قاری ان کا مداح سے بڑھ کر دیوانہ ہوچلا اور یوں ان کے پُرمزاح ادبی سفر کا نہ رکنے والا سلسلہ شروع ہوا۔ ہم تو یہی کہہ سکتے ہیں کہ دو اور دو چار کرنے والا ایک بینکر اگر لفظ گری پر آئے اور آٹھ آٹھ آنسو رونے والوں کے غموں کو نو دو گیارہ کردے تو الفاظ کے اس جادوگر کا نام صرف اور صرف مشتاق احمد یوسفی ہوسکتا ہے۔

طنز و مزاح سے بھرپور 5 کتابوں کے اس مصنف نے زندگی میں کبھی لفظی بخیلی سے کام نہیں لیا، بلکہ جہاں جس لفظ کی ضرورت پڑی، اسے بلادریغ اپنی معنوی مالا میں ایسے پرویا کہ معترض قاری بھی داد دینے پر مجبور ہوگیا۔ 4 ستمبر 1921ء کو پہلی سانس لینے والے مشتاق احمد یوسفی 1961ء میں 40 برس کی عمر میں اپنی پہلی کتاب ’چراغ تلے‘ کے ساتھ اردو ادب کے سنگھاسن پر براجمان ہوئے تو زبان و بیان نے ان کے مزاح کے سامنے اس طرح سر جھکایا کہ ان کی آخری سانس تک اردو دنیا میں دور دور تک کوئی ان کے مقابلے پر نہ اتر سکا اور انہوں نے اگلی 6 دہائیوں میں’خاکم بدہن‘، ’زرگزشت‘ اور ’آبِ گُم‘ جیسی 3 مزید کتابیں لکھیں جو اردو دنیا کو آنے والے وقت میں بھی اعتبار بخشتی رہیں گی۔

2014ء میں کراچی آرٹس کونسل کی جانب سے شائع کی جانے والی ان کی کتاب ’شامِ شعرِ یاراں‘ اس معیار پر پوری نہ اترسکی، جس کی ان سے توقع کی جارہی تھی، تاہم اس کتاب کی مایوسی ان کے مداحوں کی محبت میں کمی کا باعث نہ بن سکی اور لوگ ان سے اسی طرح محبت کرتے رہے۔ پاکستان اور دنیا بھر میں ان کی پذیرائی ہوئی اور ’ستارہ امتیاز‘ اور ’ہلالِ امتیاز‘ جیسے اعزازات رکھنے والے مشتاق احمد یوسفی نے ہر اس ملک اور ہر اس بڑے شہر میں اردو مزاح کی نمائندگی کی اور عالمی سطح پر داد وصول کی۔

بڑے بڑے اداروں اور ثقافتی و ادبی مراکز نے اپنی ادبی کانفرنسوں اور دیگر تقاریب میں ان کی جس طرح پذیرائی کی اور جس طرح ہر ملک اور ہر شہر میں بسنے والے اردو داں طبقے نے ان کے لیے اپنے بازوئے محبت وا کیے، اس کی نظیر کہیں نہیں مل سکتی۔

آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی نے 10 برس قبل عالمی اردو کانفرنس کا آغاز کیا۔ اس کانفرنس میں پُرمغز مقالے پڑھے اور سنے جاتے اور مختلف سیشنز ہوتے، ان تمام سیشنز میں عوام کی تعداد اتنی ضرور ہوتی کہ ہال کی سیٹیں بھر جایا کرتیں، لیکن مشتاق احمد یوسفی کو سننے کے لیے عوام ایسے امڈتے کہ ہال کی سیٹیں تو سیٹیں، سیڑھیاں اور راستے تک مداحوں سے بھرجایا کرتے اور ہال کے دروازے بند ہونے کے بعد وسیع جگہ پر عوام کا ٹھٹھ انہیں سننے کو موجود ہوتا۔ پانچ فٹ چھ انچ قد کے مشتاق احمد یوسفی بذلہ سنجی میں اپنی مثال آپ تھے اور نقاہت کے باوجود اپنے الفاظ سے مزاح کی وہ پھلجھڑیاں چھوڑتے کہ عقلمند سامعین ان کو تکتے رہ جاتے اور بے عقل سکتے میں رہ جاتے۔

اگرچہ مشتاق احمد یوسفی مطلقاً مجلسی شخصیت نہیں تھے، لیکن اگر وہ کسی کے ساتھ بیٹھ جائیں تو مجال ہے کہ سامنے والا اٹھنے کے بارے میں سوچ بھی سکے: ایک تو ان کی سحر انگیز اور انتہائی پُروقار شخصیت کا اثر اور دوسرے ان کی گفتگو کا سحر۔ اپنی زندگی کی بے شمار باتیں اس آسانی سے بیان کر جاتے جتنا لوگ کسی اور کے بارے میں بات کرنے میں بھی سہولت محسوس نہیں کرتے۔

90 برس کی عمر تک ہم نے انہیں جب دیکھا، سوٹ میں ملبوس اور انتہائی چاق و چوبند پایا، لیکن 9 دہائیاں پار کرلینے کے بعد ان کی جسمانی حالت وہ نہ رہی جو کبھی تھی، لیکن ان کی گفتگو میں کبھی کسی نے کمزوری محسوس نہ کی۔ ان کا وجود سست ہورہا تھا، لیکن ان کے جملے بلا کے چست تھے۔ ان کے بدن سے طاقت دن بدن کم ہورہی تھی، لیکن ان کے لفظ، ان کا لہجہ اور ان کی زندہ دلی کسی طور ہار ماننے کو تیار نہ تھی۔

کئی مرتبہ ان سے ملاقات کا شرف بھی حاصل ہوا۔ اگرچہ مختلف مواقع پر مختلف شخصیات نے ان سے ملاقات کو مختلف پلیٹ فارمز پر بڑی تفصیل سے پیش کیا، تاہم راقم کو ابھی اس بات کا خیال نہ آیا کہ ان ملاقاتوں کو اپنی فیس بک کے اسٹیٹس پر ہی اپ ڈیٹ کرسکے۔ آج وہ گزرے پل تیزی سے ذہن کے پردے پر کسی فلم کی طرح چل رہے ہیں۔ آرٹس کونسل کراچی کا لان ہے ایک گھیرے کی صورت رکھی کرسیوں پر افتحار عارف، ڈاکٹر پیرزادہ قاسم صدیقی اور مشتاق احمد یوسفی جیسی نابغہ روزگار شخصیات براجمان ہیں۔ سنجیدہ گفتگو چل رہی ہے، لیکن افتخار عارف اور ڈاکٹر پیرزادہ قاسم جیسی سنجیدہ شخصیات بھی صرف اس لیے خاموشی اختیار کرلیتی ہیں کہ یوسفی صاحب اب کوئی پھلجھڑی چھوڑیں۔

ایک واقعہ یوسفی صاحب بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں، ’ایک مرتبہ ہماری ملاقات ایک شوخ چنچل لڑکی سے ہوگئی۔ کافی دیر گفتگو کے بعد بولی، یوسفی صاحب، آپ بات چیت میں تو بالکل ٹھیک ٹھاک ہیں، لیکن تحریر میں بالکل لچے لگتے ہیں۔‘ پھر ایک قہقہہ لگا کر کہنے لگے، ’ویسے وہ کہتی ٹھیک تھی!‘ ان کے اس جملے پر سب کھلکھلا کر ہنس دیے۔

یوسفی صاحب کی شخصیت کا سحر یہ ہے کہ جہاں وہ خود اپنی گفتگو سے محفل کو زعفران زار بنانا جانتے ہیں، وہیں انہوں نے اپنی کتابوں میں اتنے مضبوط و مقبول جملے تحریر کیے ہیں کہ یوسفی صاحب کی غیر موجودگی میں بھی دہرائے جاتے ہیں اور ایسا لگتا ہے کہ یوسفی صاحب ہمارے درمیان ہی کہیں موجود یہ بات کر رہے ہیں۔مشتاق احمد یوسفی صاحب کا ذوق محض نثر نگاری یا مزاح ہی کی جانب مائل نہیں تھا۔ وہ معروف اشعار میں معمولی تحریف سے شعر میں وہ مزاح پیدا کردیتے کہ سننے والا خوشگوار حیرت کا شکار ہوجاتا۔ غالبؔ کے ایک مصرع ’قیدِ حیات و بندِ غم اصل میں دونوں ایک ہیں‘ کو معمولی تحریف کے ساتھ انہوں نے اس طرح باندھا ہے، ’قیدِ حیات و بنتِ عم اصل میں دونوں ایک ہیں‘۔

اگر کوئی اردو کے ذائقے سے آشنا ہے اور وہ یوسفی صاحب کے جملے اور تحریفات پڑھ لے تو مسکرانا تو کجا، ہنسے بغیر نہیں رہ سکتا، یہی یوسفی صاحب کی کامیابی ہے کہ انہوں نے اپنے قلم کی آنکھ سے چھلکنے والے آنسو سے دل زدوں کے لبوں پر ہنسی بکھیری ہے۔ 92 سال کی عمر سے انہیں جسمانی کمزوری کا سامنا رہا۔ کمزور جسم لیکن طاقتور جملے ایک جانب پڑھنے والوں کے لیے تریاق بنے رہے اور دوسری جانب خود انہیں بھی اکساتے رہے کہ ابھی اور بہت کچھ لکھنا ہے۔ وہ لکھتے رہے، لکھتے رہے، لوگ پڑھتے رہے، پڑھتے رہے، اب بھی پڑھ رہے ہیں اور آئندہ بھی پڑھتے رہیں گے۔

ایک طویل عرصے سے بسترِ علالت پر پڑے اردو کے اس بے بدل مزاح نگار نے آخری ہچکی لی اور راہی ملکِ عدم ہوا۔ زندگی بھر لوگوں کے لبوں پر مسکراہٹوں کے پھول کھلانے اور چہروں پر ہنسی کی دمک لانے والے مشتاق احمد یوسفی کی موت کی خبر نے آن کی آن میں پوری اردو دنیا کو اشکبار کردیا ہے۔ ان کے مداح انہیں مسلسل خراجِ عقیدت پیش کررہے ہیں۔ اردو ادب کی دنیا میں ایک جملہ بڑی کثرت سے بولا اور لکھا جاتا ہے کہ ہم عہدِ یوسفی میں جی رہے ہیں۔ میں اس جملے سے اختلاف کرتے ہوئے کہتا ہوں کہ نصف صدی قبل ہماری دو پشتیں بھی عہدِ یوسفی میں جی رہی تھیں، ہم بھی عہدِ یوسفی میں جی رہے ہیں، اور عہدِ یوسفی صرف ابھی موجود نہیں ہے، بلکہ آنے والا ہر وقت عہدِ یوسفی ہوگا کہ ایسا نگینہ نہ تو اردو ادب نے اس سے قبل کبھی دیکھا تھا اور نہ مستقبل قریب یا بعید میں اس کی کوئی امید نظر آتی ہے۔

اللہ یوسفی صاحب کو ان کی تحریروں اور ان کے مزاح کو ابدی زندگی دے اور انہیں اس انسانی خدمت کے عوض اپنی بے پناہ رحمتوں کے سائے میں رکھے۔ آمین

اقتباس بعنوان ’بندۂ مزدور کے/ کی اوقات، از ’زرگزشت‘ 1976ء

بینکوں میں ان دنوں صبح ساڑھے آٹھ بجے سے رات کے دس گیارہ بجے تک لگاتار کام ہوتا تھا، جبکہ گورنمنٹ دفاتر کے اوقاتِ بے کاری 9 سے ساڑھے چار تک تھے۔ اول تو رات گئے تک کام کرنے کی کوئی شکایت نہیں کرتا تھا اور اگر کوئی سرپھرا آواز اٹھاتا تو اس کا تبادلہ بارش میں چٹاگانگ، گرمی میں سکھر اور سردی ہو تو کوئٹہ کردیا جاتا تھا، جو اس زمانے میں شورہ پشت بینکروں کے لیے کالے پانی کی حیثیت رکھتے تھے۔ لیکن جو گردن زنی ہوتے، ان کو لائن حاضر کردیا جاتا تھا۔ یہاں ان کے طرۂ پُر پیچ و خم کے سارے پیچ و خم ایک ایک کرکے نکالے جاتے۔ ہمیں یاد نہیں کہ دو ڈھائی سال تک ہم نے اور ہمارے ساتھیوں نے کبھی 14 گھنٹے سے کم کام کیا ہو۔ دن اور رات کا فرق مٹ چکا تھا اور اگر تھا تو حضرت امیر مینائی کے الفاظ میں صرف تذکیر و تانیث کی الٹ پھیر تک:

دن مِرا روتا ہے میری رات کو

رات روتی ہے مِری دن کے لیے

Share this:

Web Editor

19,171 Articles
View All Posts
Increasing political intolerance in the public
Previous Post عوام میں بڑھتی ہوئی سیاسی عدم برداشت
Next Post اسرائیل کو ‘صہیونی ریاست’ قرار دینے کیلئے بل تیار
Bill prepared to declare Israel as a "Saint state"

Related Posts

دنیا کا سب سے بڑا طیارہ بردار بحری جہاز ‘یو ایس ایس جیرالڈ آر فورڈ’ ریکارڈ تعیناتی کے بعد وطن واپس لوٹ گیا

May 1, 2026

لیبرڈے ;مشرقِ وسطیٰ بحران سے متاثرہ مزدوروں کے لیے حکومتی اقدامات..؟

April 30, 2026

مستقبل کی معیشت اسلام آباد مذاکرات کے تناظر میں

April 26, 2026

وائٹ ہاؤس پریس ڈنر میں فائرنگ، ٹرمپ اور میلانیا کو بحفاظت نکال لیا گیا،مشتبہ شوٹر کی شناخت 31 سالہ کول ٹامس ایلن کے طور پر ہوئی

April 26, 2026
© 2026 Yes Urdu. All rights reserved.
  • خبریں
  • تارکین وطن
  • شاعری
  • ویڈیوز – Videos
  • اشتھارات
  • دلچسپ اور عجیب
  • کالم
  • کرائم

We use cookies to ensure you get the best experience on our website.

We use cookies to ensure you get the best experience on our website.