yes urdu logo
  • خبریں
    • اہم ترین
    • بین الاقوامی خبریں
    • شوبز
    • مقامی خبریں
    • کاروبار
    • کھیل
  • تارکین وطن
  • شاعری
    • شاعر
      • عاکف غنی
  • ویڈیوز - Videos
    • Animals
    • Child
    • Fail - Shock
    • Fun & Performance
    • Music & Movies
    • News Events & Travel
    • Religious
    • Sports
    • Technology
  • اشتھارات
  • دلچسپ اور عجیب
    • اچھی بات
    • صحت و تندرستی
  • کالم
  • کرائم
Dark Mode
Skip to content
Breaking News
پولیس کا گھر پر چھاپہ، خاتون اور مرد شرمناک حالت میں گرفتار ، مگر خاتون دراصل کون نکلی اور قصہ کیا تھا ؟ شرمناک حقیقت سامنے آگئی
مدرسوں کے بچوں کو مولویوں کی زیادتی سے بچانے کا ایک ہی طریقہ۔۔۔۔ بشریٰ انصاری کا ایک متنازع بیان سامنے آگیا
شوبز نگری سے گرما گرم خبر : دو خوبصورت ترین اداکارائیں جسم فروشی اور اعلیٰ شخصیات کو خوبصورت لڑکیاں فراہم کرنے کے الزام میں گرفتار ۔۔۔ ایک خبر نے پورے ملک میں ہلچل مچا دی
یااللہ خیر ۔۔۔ بھارتی خفیہ ایجنسی ’’ را ‘‘ کا چیف جسٹس آف پاکستان کے خلاف خوفناک منصوبہ بے نقاب، حکومت حرکت میں آگئی، بڑا حکم جاری کر دیا
نمرتا کیس میں نیا موڑ۔۔۔۔ میڈیکل کی طالبہ کے اکاؤنٹ میں لاکھوں روپے کہاں سے آئے اور کہاں گئے؟ نئی کہانی سامنے آگئی
yes urdu logo
  • خبریں
    اہم ترین
    • دنیا کا سب سے بڑا طیارہ بردار بحری جہاز ‘یو ایس ایس جیرالڈ آر فورڈ’ ریکارڈ تعیناتی کے بعد وطن واپس لوٹ گیا
    • وائٹ ہاؤس پریس ڈنر میں فائرنگ، ٹرمپ اور میلانیا کو بحفاظت نکال لیا گیا،مشتبہ شوٹر کی شناخت 31 سالہ کول ٹامس ایلن کے طور پر ہوئی
    بین الاقوامی خبریں
    • دنیا کا سب سے بڑا طیارہ بردار بحری جہاز ‘یو ایس ایس جیرالڈ آر فورڈ’ ریکارڈ تعیناتی کے بعد وطن واپس لوٹ گیا
    • ایران بات چیت کیلئے تیار، امریکی صدر کا ایک بار پھر ڈیل کیلئے اصرار
    شوبز
    • From Eddie Murphy to Whoopi Goldberg: Top 10 Funniest 90s Actorsانیسویں دہائی کے دس عظیم مزاحیہ اداکار: جن کی ہنسی آج بھی تازہ ہے
    • بڑی عمر کی خواتین پسند ہیں،کہتا ہوں اپنی ماوں کو مجھ سے بچاو،بشری انصاری کے شوہر کےاس مزاح والے بیان پر سوشل میڈیا پر ہنگامہ 
    مقامی خبریں
    • نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی زیر صدارت خطے کی تازہ ترین صورتحال پر جائزہ اجلاس، ترجمان دفتر خارجہ 
    • عالمی بحران,وزیراعظم شہباز شریف کااعلان ,عوامی امنگوں کا ترجمان ….؟
    کاروبار
    • ماں کی ایجاد: ’سلیپی ہیٹ‘ نے بچوں کی نیند کا مسئلہ حل کر کے کاروبار میں کامیابی کی نئی داستان رقم کردی
    • حکومتی قرضہ 78.5 کھرب روپے تک پہنچ گیا، مالیاتی دباؤ میں اضافہ
    کھیل
    • بھارت اور افغانستان کے درمیان 2026 میں تاریخی ٹیسٹ اور ون ڈے سیریز کا اعلان
    • شیہان راجہ خالد محمود جنجوعہ امریکہ میں چوتھی بار ہال آف فیم ایوارڈ حاصل کرنے والے پہلے پاکستانی مارشل آرٹسٹ بن گئے
  • تارکین وطن
  • شاعری
    شاعر
    • کس کو ہے میں نے کھویا مجھ کو کیا ملا
    • best, tick tock, video, till, yet, for, Pak, Army, and, ISIپاک فوج پربنائی جانیوالی اب تک کی سب سے بہترین ٹک ٹاک، دلکش نغمے کے ساتھ
    • عاکف غنی
  • ویڈیوز - Videos
    Animals
    • Chairman Mao Zedong meets U.S. President Richard Nixonچیئرمین ماو زڈونگ نے امریکی صدر رچرڈ نکسن سے ملاقات کی
    • Grizzly Bearدیو قامت ریچھ اپنے بچوں کے ساتھ ، دلچسپ ویڈیو دیکھیں
    Child
    • My, 18 ,month, old, grandson, showing, off, his ,tricksاٹھارہ ماہ کا پوتا اپنے دادا کو اپنی چالیں دکھاتے ہوئے۔۔ حیران کن ویڈیو دیکھیں
    • بچے اور چڑیا جانور
    Fail - Shock
    • White, Trash, Prank Now, this, is, what, a, true, joke/prank, should, be!, Something, innocent, they, everyone, laughs, at, the, end!, Not, this, crap, where, people, are, throwing, spiders, on, people, or, putting, oil, on, the, floor, and, making, them, fall, and, get, hurt, or, sticking, your, butt, in, sleeping, people’s, faces., This, was, awesome, thanks, for, a, laugh!وائٹ ردی کی ٹوکری پرسکون ویڈیو دیکھیں یہاں کلک کریں
    • This, isn't, going, to, go, well. CLICK, HERE, TO, WATCH, VIDEO The, last, time, he, tried, to, do, it, and, flipped, so, many, times, at, the, end,, it, made, me, laugh, more, thanناممکن چیز کرنے کی کوشش کریں جب آپ اس کے اہل ہوں ورنہ ایسا بھی ہوسکتا ہے!
    Fun & Performance
    • ایک بچہ اپنے والد کے بارے میں کیا سوچتا ہے؟ باپ کے پسینے کا حق ادا نہیں ہوسکتا یہ سمجھنے میں اتنی دیر کیوں لگ جاتی ہے؟ جانیے اس ویڈیو میں
    • best, tick tock, video, till, yet, for, Pak, Army, and, ISIپاک فوج پربنائی جانیوالی اب تک کی سب سے بہترین ٹک ٹاک، دلکش نغمے کے ساتھ
    Music & Movies
    • پاکستان اوربھارتی پنجاب کے فنکاروں سے سجی چل میرا پت کی کینیڈا میں سکریننگ، بہترین مناظر
    • best, tick tock, video, till, yet, for, Pak, Army, and, ISIپاک فوج پربنائی جانیوالی اب تک کی سب سے بہترین ٹک ٹاک، دلکش نغمے کے ساتھ
    News Events & Travel
    • خامنہ ای کی واپسی؛امریکی حملے اور اس کے بعد کے واقعات پر مبنی ایرانی ویڈیو نے سوشل میڈیا پر تہلکہ مچا دیا آیت اللہ خامنہ ای کی اسرائیلی حملے میں شہادت کے بعد ان کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای نے سپریم لیڈر کا عہدہ سنبھالا ہے
    • میری زندگی کی سب سے بڑی غلطی،شادی نہ کرنے کے علاوہ سب سے بڑا پچھتاوا، شیخ رشید کا حیرت انگیز انکشاف
    Religious
    • Map, of, the, world, reshaping, DG, ISPR, Asif Ghafoor, condemned, effort, to, burn, Quran, in,Norway, and, support, the, young, man, who, tried, to,stop, the, bad, effortدنیا کا نقشہ تبدیل ہونے کا وقت ۔۔۔!!!نارروے میں قران پاک جلانے کے واقعہ کے حوالے سے پاک فوج کے فخر ’ میجر جنرل آصف غفور کا بڑا اعلان‘ ۔۔۔۔ امت مسلمہ میں جوش کی لہر دوڑ گئی
    • The time when an unbelieving general refused to see the face of the Holy Prophet (peace be upon him).وہ وقت جب ایک کافر جرنیل نے رسول پاک ﷺ کا چہرہ دیکھنے سے انکار کر دیا۔اسلامی تاریخ کا ایمان کو جھنجوڑ دینے والا واقعہ
    Sports
    • ورلڈ کپ 1992 کے یادگار لمحات٫دارالحکومت میں پروقار تقریب اور راولپنڈی میں کھلاڑیوں کا تاریخی استقبال. یادگار مناظر
    • Great news: Australia vs Pakistan after Sri Lanka - The Australian team was also announcedبڑی خوشخبری : سری لنکا کے بعد آسٹریلیا بمقابلہ پاکستان ۔۔۔ آسٹریلوی ٹیم کا اعلان بھی کر دیا گیا
    Technology
    • Great news for iPhone giantsآئی فون کے دیوانو ں کے لیے بڑی خوشخبری
    • سام سنگ کا فولڈ ایبل فون نئی تبدیلیوں کے ساتھ دوبارہ مارکیٹ میں آ گیا ۔۔۔ سکرین سے فولڈ ہونے والے اس فون میں کیا خصوصیات ہیں ؟ جانیے
  • اشتھارات
  • دلچسپ اور عجیب
    اچھی بات
    • Hazrat MUHAMMAS SAWعشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم
    • بالآخرقرآن پوری دنیا پر غالب آ گیا۔۔۔کروناوائرس خدشات، کل جمعے کے روز پوری دنیا میں دوران نماز سورۃ فاتحہ اور مختصر آیات پڑھنےکا فیصلہ کر لیا گیا
    صحت و تندرستی
    • اس موسم گرما آڑو کھانا نہ بھولیں
    • پیازکا ایسا استعمال جو جسم کے تمام فاسد مادوں کے اخراج اورچہرے کی تروتازگی (کلینزنگ) وخوبصورتی میں مدد کرے اور اعصاب کو سکون پہنچائے
  • کالم
  • کرائم
اہم ترین

مرسی، مصر اور تاریخ۔۔۔ حقائق سے بھر پور ایک تفصیلی رپورٹ ملاحظہ کریں

MH Kazmi August 19, 2019 1 min read
Morsi, Egypt and History - See a detailed report full of facts
Share this:

Morsi, Egypt and History - See a detailed report full of facts

لاہور(ویب ڈیسک) سابق وزیر اعظم میاں نوازشریف کی بیٹی مریم نواز نے حالیہ پریس کانفرنس میں حکومت، سیاست اور معیشت کے حوالے سے جو باتیں کیں وہ اپنی جگہ۔ انھوں نے جس طرح اپنے والد کا دفاع کیا، وہ بھی بے شک ان کا حق ہے، تاہم اسی رو میں انھوں نے ایک فقرہ ایسا بھی کہا ہے جو ایک الگ تناظر میں قابل غور ہے۔ انھوں نے کہا، نہ یہ مصر ہے اور نہ ہی نواز شریف کو مرسی بننے دیا جائے گا۔مریم نواز نے یہ بات ان معنوں میں کہی ہے کہ مصر کے پہلے اور اب تک واحد جمہوری صدر محمد مرسی کو بے رحمی مگر غیرمحسوس انداز میں جس طرح بے وقت موت کے گھاٹ اتار دیا گیا، ایسا نوازشریف کے ساتھ نہیں کیا جا سکتا۔ ان کی یہ بات درست ہے۔ یقیناً ایسا نہیں ہو گا اور ہونا بھی نہیں چاہیے۔ ویسے اس معاملے میں پاکستان اور مصر کا موازنہ تو خیر نہیں کیا جانا چاہیے۔ خدا نہ کرے کہ جو کچھ مصر میں ہوا اور آگے ہوتا نظر آتا ہے وہ پاکستان میں ہو، لیکن ویسے ہمیں کسی خاص خوش فہمی میں بھی یہیں رہنا چاہیے۔اس ملک میں طالع آزما اور غیرجمہوری قوتیں اس سے پہلے کئی بار اپنا کھیل کھیلتی آئی ہیں اور آئندہ کے لیے بھی ان پر دروازے بند تو نہیں ہیں۔ سو، یہاں بھی مصر جیسے حالات کا پیدا ہو جانا، کوئی ان ہونی ہرگز نہیں۔ البتہ یہ بات ضرور کہی جا سکتی ہے کہ نوازشریف اور محمد مرسی کے مزاج، حالات اور سیاسی اہداف میں یقیناً بہت فرق ہے۔ اس لیے نواز شریف کو اس تقدیر کا سامنا ہو، جس سے محمد مرسی دوچار ہوئے، یہ آسان نہیں ہے۔اب دیکھنے کی بات یہ ہے کہ ہم میں سے کتنے لوگ آج کے مصر اور محمد مرسی کے بارے میں وہ جانتے ہیں جو اصولاً ہمیں جاننا چاہیے؟ شاید چند فی صد بھی مشکل سے یہی نہیں، بلکہ جو لوگ کچھ جانتے ہیں وہ بھی گمان غالب ہے کہ محض سرسری اور ضمنی باتیں ہوں گی۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ ہم تو ایک زمانے سے من حیث المجموع خود اپنی افتاد میں ایسے الجھے ہوئے ہیں کہ اپنے سے باہر کسی طرف ہمارا دھیان ہی نہیں جاتا۔ یہ صورت حال ابھی کی نہیں ہے اور نہ ہی صرف ہم پاکستانی اس سے دوچار ہیں۔ یہ پوری اسلامی دنیا کا حال ہے اور ہم سب لگ بھگ نصف صدی میں رفتہ رفتہ اور باری باری ان حالات سے دوچار ہوئے ہیں، بلکہ ہم میں سے اکثر اب تک ان حالات کے زیر اثر چلے آتے ہیں۔ خیر، یہ ایک الگ موضوع ہے جس کو ذرا تفصیل میں دیکھا جا نا چاہیے۔ سو اس پر کسی اور وقت بات کرنا مناسب ہوگا۔محمد مرسی کون تھے؟محمد مرسی عیسی العیاط 8 اگست’ 1951 کو مصر کے صوبہ شرقیہ میں پیدا ہوئے قاہرہ یونیورسٹی سے انجنیئرنگ کی ڈگری حاصل کی۔ بعدازاں اسی یونیورسٹی سے میٹالرجی کے شعبے میں اعلٰی تعلیم کے مدارج طے کیے۔ ان کی ذہانت اور استعداد کو دیکھتے ہوئے انھیں وظیفہ دیا گیا اور وہ امریکا چلے گئے اور ساؤتھ کیلی فورنیا یونیورسٹی سے میٹالرجی کے شعبے میں ہی پی ایچ ڈی کیا- اس کے بعد اسی یونیورسٹی میں وہ اسسٹنٹ پروفیسر کی حیثیت میں خدمات سرانجام دینے لگے۔ ان کا شعبہ امریکی خلائی ادارے ناسا کے اسپیس شٹل انجن کے ڈویلپمنٹ پروگرام میں تعاون کر رہا تھا۔ 1985میں مرسی مصر واپس آگئے اور زقازق یونیورسٹی میں بطور پروفیسر 2010 تک خدمات سرانجام دیں-اس عرصے میں انھیں عالمی تناظر میں سیاسی منظرنامے کو دیکھنے اور اپنے ملک، عوام اور سیاسی حالات کو سمجھنے کا جو موقع ملا اس نے انھیں عملی سیاست کی طرف مائل کیا۔ وہ اس حقیقت کو واضح طور پر محسوس کر چکے تھے کہ اپنا قومی کردار وہ سیاست کے مرکزی دھارے میں آئے بغیر ہرگز ادا نہیں کر سکتے۔ ان کی شخصیت کی تعمیر میں مذہبی شعور نے بھی ایک اہم عامل کے طور پر حصہ لیا تھا۔ ملکی اور عالمی منظرنامہ بیک وقت حالات کا جو رخ پیش کر رہا تھا، اس نے بھی ان کو یہ بات سمجھا دی کہ اس وقت خاموشی اور لاتعلقی کا رویہ ملک و قوم کی طرف سے بے حسی اختیار کرنے کے مترادف ہو گا۔چناںچہ وہ عملی سیاست کی طرف آئے اور پہلی بار سن 2000 میں مصری پارلیمنٹ میں پہنچے۔ وہ آزاد امیدوار کی حیثیت سے منتخب ہوئے تھے۔ اس کا سبب یہ تھا کہ اپنے مذہبی شعور کی بنا پر وہ کسی ایسی جماعت کے پلیٹ فارم سے سیاسی سفر کا آغاز کرنا چاہتے تھے جو دینی اقدار کے ساتھ سیاسی میدان میں ہو۔ وہ ذہنی اور فکری لحاظ سے اخوان المسلمون کے قریب تھے، لیکن مسئلہ یہ تھا کہ اس وقت اخوان پر سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لینے پر پابندی تھی- سیاست کے مرکزی دھارے میں آنے کے بعد جو حالات و حقائق ان پر کھلے، ان کی وجہ سے سیاست میں رہنا ان کے لیے ناگزیر ٹھرا۔ 2011 میں اخوان نے مرکزی سیاست میں شمولیت کی راہ نکالنے کے لیے “جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی”
قائم کی تو مرسی اس کے صدر منتخب ہوئے۔2011 میں جب انتخابات ہوئے تو اس جماعت نے شان دار کام یابی حاصل کی۔ اس کے نتیجے میں مرسی اپنے ملک کی تاریخ میں پہلے جمہوری صدر منتخب ہوئے اور اقتداری طاقت کے مرکز تک پہنچ گئے – یہ مصر کی تاریخ کا نیا موڑ قرار دیا گیا، صرف ملک کے مذہب پسند عوام اور سیاسی جماعتوں کی طرف سے ہی نہیں، بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی۔مرسی کو اپنی سیاسی، مذہبی، تاریخی اور قومی ذمہ داریوں کا بخوبی احساس تھا، لہٰذا صدر کی حیثیت سے انھوں نے مصر کے معاشی حالات کی درستی، کرنسی کے استحکام، نظام تعلیم کی جدید تقاضوں سے ہم آہنگی، بے روزگاری کے خاتمے اور عالمی برادری میں مصر کے قومی وقار کے لیے تیزی سے اقدامات کیے- اس کے ساتھ انھوں نے مصرکے اندرونی حالات پر بھی توجہ دی۔ یہاں بھی انتشار اور بے یقینی کی فضا تھی۔ حالات کی درستی کا کام سخت اور فوری اقدامات کا متقاضی تھا۔ مرسی کی توجہ ان سب معاملات پر تھی۔ انھوں نے مختلف جہتوں میں بیک وقت کام شروع کیا۔ ملک میں نئی آئین سازی کا کام بھی ہوا، تاکہ ادارے اپنا اپنا کام اپنے دائرۂ کار میں رہتے ہوئے پوری ذمہ داری سے انجام دیں اور ملک کو آگے بڑھانے میں اپنا کردار ادا کریں-تاہم محمد مرسی اپنے ملک اور عوام کے لیے جو کرنا چاہتے تھے اس کے لیے وقت تو درکار تھا ہی، لیکن اس کے ساتھ ساتھ کچھ بے حد سخت اقدامات کی بھی ضرورت تھی۔ دوسری طرف غیرجمہوری قوتیں بھی
یہ اندازہ لگا چکی تھیں کہ وہ ملک کو کس طرف لے جا رہے ہیں اور آگے چل کر ان کو کن حالات کا سامنا ہو گا۔ ان کی کارروائیوں میں بھی تیزی آگئی۔ ملک میں انتشار اور خانہ جنگی کا ماحول پیدا ہونے لگا۔ مرسی کا سیاسی شعور اور قومی و بین الاقوامی اہداف بالکل واضح تھے۔ اس کا اظہار پوری قطعیت کے ساتھ ان کی زندگی کی اس لازوال تقریر میں ہوا جو انھوں نے اقوام متحدہ میں ساری دنیا کی لیڈرشپ کے سامنے کی اور کہا:“عزت اسی کی کی جائے گی جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت کرے گا- اور جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت نہیں کریں گے ان کی کوئی عزت نہیں کی جائے گی۔”اب ایک طرف مرسی تھے اور دوسری طرف متحارب قوتیں۔ ان کی ساری کوششوں کے باوجود ملک میں پیدا کیے گئے حالات نے خرابی کا نقشہ تیزی سے ابھارنا شروع کیا۔ متحارب قوتوں نے ایک طرف عالمی سطح پر اور دوسری طرف ملک کے اندر سیاست اور بیوروکریسی کے کرپٹ عناصر کی مدد حاصل کرنی شروع کی۔ جلد ہی ان کو مطلوبہ نتائج حاصل ہونے لگے۔ ملک میں پیٹرول کی قلت پیدا کی گئی، معیشت کی تباہی کے اقدامات پر خاص طور سے توجہ دی گئی، مختلف سماجی، مذہبی، ثقافتی اور سیاسی گروہوں کے ذریعے احتجاج کا آغاز ہوا جسے بڑھاوا دیا گیا۔ اس کے ساتھ ساتھ دوسری طرف عوام میں فوج کا امیج بہتر کرنے کے لیے باقاعدہ منظم طریقے سے بھرپور کوششیں شروع کی گئیں، مثلاً اگر ملک کے طول و عرض کہیں کوئی حادثہ ہو جاتا تو قریب ترین فوجی یونٹوں کو ہدایات دی گئی تھی کہ سول ایڈمنسٹریشن سے بھی پہلے وہاں پہنچیں اور ہر ممکن طریقے سے عوامی ہم دردیاں سمیٹیں۔ادھر یہ کہ ملک کے سرحدی علاقے میں مختلف نوع کے دھماکے شروع ہو گئے جن کی ذمہ داری ان جان قسم کے گروہوں نے لینا شروع کر دی، اپوزیشن کے مختلف دھڑے متحد ہو کر حکومت کے خلاف بہت سرگرم ہو گئے۔ کھلے لفظوں میں اور بار بار حکومت کی ناکامی کا اعلان ہونے لگا۔ ظاہر ہے یہ سب ایک خاص مقصد کے حصول کے لیے تھا اور پھر اس کا وقت طے کر لیا گیا۔ اٹھارہ جون کو ایک خفیہ خط کے ذریعے کورکمانڈرز کو کسی بھی ایمرجینسی کے لیے تیار رہنے کا حکم دیا گیا، فوجی جوانوں سے وفاداری کا حلف لیا گیا۔ اور پھر تین جولائی کو صدر مرسی کی حکومت کا تختہ الٹ دیا گیا۔جرنل السیسی اور اس کے ساتھی جرنیلوں نے ملک کا نظام اپنے ہاتھ میں لے لیا، آئین کو ایک بار پھر ردی کی ٹوکری میں اٹھا کر ڈال دیا گیا، ریاست کے ٹیلی وڑن نیٹ ورک سے خطاب شروع ہو گیا۔ تین مہینے میں الیکشن کا اعلان، بیرکوں میں واپس جانے کا وعدہ، وہی گھسی پٹی تقریر جو اس سے پہلے کتنے ہی ملکوں میں ڈکٹیٹر ہمیشہ کرتے آئے ہیں اور بھولے بھالے لوگ اپنی ازلی ابدی سادگی کے ہاتھوں جس پر ہمیشہ یقین کرلیتے ہیں۔ عدالتوں سے بھی چڑھتے سورج کی طرف رخ کر لیا۔ مظاہرین اپنے گھروں کو چلے گئے، اپوزیشن کی قیادت تو جیسے کبھی
تھی ہی نہیں۔ صدر مرسی اور اس کے ساتھیوں کو جیل میں ڈال دیا گیا، غداری، قتل، بدعنوانی سمیت تعزیرات مصر میں جو بھی کبیرہ گناہ تھے انھیں بہت سے مقدمات میں ملوث کر لیا گیا۔ ایسا صرف ان کے ساتھ نہیں ہوا، بلکہ اخوان کی اعلٰی قیادت سے لے کر گلی محلے کے اراکین تک بڑے پیمانے پر گرفتاریاں ہوئیں۔ لوگ بغیر وارنٹ کے گھر سے اٹھائے گئے، کچھ جیلوں تک پہنچے اور کچھ تاریک اور گم نام راہوں میں مارے گئے۔ وہ سب کچھ ہوا جو اس طرح کی صورت حال میں ہمیشہ ہوتا آیا ہے۔وقت گزرنے پر آتا ہے تو گزرتا ہی چلا جاتا ہے۔ یہاں بھی دیکھتے ہی دیکھتے چھے برس گزر گئے، نہ معیشت سنبھلی، نہ ہی لوگوں کے روزگار میں کوئی بہتری آئی، نہ انصاف ہوا، نہ الیکشن کرائے گئے اور نہ ہی ملک کی تقدیر بدلی۔ ان چھے برسوں میں مرسی قیدوبند کی صعوبتیں اٹھاتے رہے۔ ان کو بنیادی انسانی سہولتیں بھی فراہم نہ کی گئیں۔ علاج معالجے کی ضرورت تک کی نفی کی گئی، حق و انصاف تک رسائی مفقود۔ گھر والوں سے ملاقات پر پابندی لگائی گئی۔ قیدتنہائی میں رکھا گیا، مشقت سے گزارا گیا۔ مذاق اڑایا گیا۔ تذلیل کی گئی۔ اذیت رسانی کے ایسے طریقے اختیار کیے گئے کہ جن کو بتانا اور ثابت کرنا ممکن نہ ہو۔ اس کے علاوہ ملک میں ہی نہیں عالمی سطح پر بھی مرسی کی ساکھ خراب کرنے کے سارے حربے استعمال کیے گئے۔صرف یہی نہیں، ان چھے برسوں میں مصری افواج نے سابق صدر مرسی کو غدار ثابت کرنے کے لیے کوئی
دقیقہ فروگزاشت نہ کیا، اس کام کے لیے ادارے استعمال کیے گئے، پروپیگنڈا کیا گیا، پریس ریلیزیں جاری ہوئیں، صحافی قتل کیے گئے، اخبار خریدے گئے، غرض ہر ممکن طریقہ اور حربہ اختیار کیا گیا۔ لیکن قدرت کا اپنا انتظام ہوتا ہے۔ عدالتی کارروائی تو ابھی چل ہی رہی تھی۔ عدالت کو ابھی فیصلہ نہیں سنانا تھا۔ ابھی کچھ اور اقدامات باقی تھے۔ لیکن یہ کیا ہوا؟محمد مرسی 17 جون 2019 کو عدالت میں پیش ہوئے۔ انھوں نے عدالت سے کہا کہ ان کے سینے میں کچھ راز ہیں، کچھ حقائق ہیں جن تک وہ پہنچ گئے ہیں، اب وہ عدالت تک اور مصر کے عوام تک یہ سب کچھ پہنچانا چاہتے ہیں۔ انھوں نے عدالت سے شکایت بھی کی کہ ان کے ساتھ جیل حکام کا رویہ بہت برا ہے۔ وہ ان کی جان کے درپے ہیں۔ ان کو خاموشی سے اور غیرمحسوس انداز میں قتل کیا جا رہا ہے۔ یہ بیان ابھی جاری تھا کہ وہ عدالت کے کمرے میں گر پڑے۔ معائنہ کیا گیا اور ان کو بے ہوش بتایا گیا۔ اس کے بعد ہوش مندوں کی اس دنیا میں وہ لوٹ کر نہیں آئے۔ بے ہوشی کے عالم میں ہی داعی اجل کو لبیک کہا اور سب سے بڑی عدالت میں جا پہنچے۔مرسی نے عدالت سے رہائی نہیں مانگی، کسی رعایت کی درخواست نہیں کی، رحم کی اپیل نہیں کی، کسی این آر او کا سوال نہیں کیا۔ حکم رانوں اور اقتدار کی طاقت کے آگے جھکنے سے انکار کیا۔ وہ جن اصولوں اور اقدار کی بات کرتے تھے، ان پر قائم رہے۔ قدرت مہربان ہوئی اور ان کی آزمائش کو سمیٹ کر سرخ روئی کا سامان کردیا۔ آدمی کی مٹی کم زور ہوتی ہے جلد ڈھے سکتی ہے، لیکن قدرت آدمی کو نوازنے پر آ جائے تو ساری طاقتیں ایک طرف دھری کی دھری رہ جاتی ہیں۔تاریخ بڑی سفاکی سے عمل کرتی ہے۔ بعض اوقات بس ایک منٹ میں فیصلہ دے دیتی ہے، جیسے مرسی کا دے دیا۔ اب برس گزریں یا کہ صدیاں بیت جائیں، جرنل السیسی کا اقتدار ہزار برس قائم رہے، لیکن یہ طے ہے کہ تاریخ اسے فرعون کے طور ہی نہ صرف یاد رکھے گی بلکہ اس یاد کے ساتھ ہزیمت کے حوالے بھی جوڑ دے گی۔اب سوچیے کہ تاریخ محمد مرسی کی موت کو کس عنوان سے یاد رکھے گی؟ کیا اسے کمرہ عدالت میں ماورائے عدالت قتل کہا جائے گا؟ اسے کام یاب سازش سمجھا جائے گا؟ یا پھر اقتدار کی راہ داریوں میں ایک آئیڈیالسٹ کی ناگزیر تقدیر؟ اسے کچھ بھی کہا جائے، لیکن یہ طے ہے کہ مرسی عزم، ارادے، اخلاص اور اصول پسندی کی مثال کے طور پر اپنے قومی حافظے میں دمکتے رہیں گے۔

Share this:

MH Kazmi

25,237 Articles

Journalism is not something we are earning, it is the treasure that we have to save for our generations. Strong believer of constructive role of Journalism in future world.for comments and News yesurdu@gmail.com 03128594276

View All Posts
The wonderful benefit of eating red sour cherries came out
Previous Post سرخ کھٹی چیری کھانے کا شاندار فائدہ سامنے آگیا
Next Post ریپ کیسز کی ایکسپرٹ پنجاب پولیس کی آفیسر کلثوم فاطمہ کی زندگی کی انوکھی کہانی
The story of the life of Expat Punjab police officer Kulsoom Fatima in rap cases

Related Posts

دنیا کا سب سے بڑا طیارہ بردار بحری جہاز ‘یو ایس ایس جیرالڈ آر فورڈ’ ریکارڈ تعیناتی کے بعد وطن واپس لوٹ گیا

May 1, 2026

لیبرڈے ;مشرقِ وسطیٰ بحران سے متاثرہ مزدوروں کے لیے حکومتی اقدامات..؟

April 30, 2026

مستقبل کی معیشت اسلام آباد مذاکرات کے تناظر میں

April 26, 2026

وائٹ ہاؤس پریس ڈنر میں فائرنگ، ٹرمپ اور میلانیا کو بحفاظت نکال لیا گیا،مشتبہ شوٹر کی شناخت 31 سالہ کول ٹامس ایلن کے طور پر ہوئی

April 26, 2026
© 2026 Yes Urdu. All rights reserved.
  • خبریں
  • تارکین وطن
  • شاعری
  • ویڈیوز – Videos
  • اشتھارات
  • دلچسپ اور عجیب
  • کالم
  • کرائم

We use cookies to ensure you get the best experience on our website.

We use cookies to ensure you get the best experience on our website.