مراد سعید کی کتاب “دزد نیم شب کا رقیب” کے بارے میں تبصرے ہورہے ہیں کہ مراد سعید کو اس عنوان کا مطلب بھی آتا ہوگا کہ نہیں۔۔۔یہ کتاب کس نے لکھ کے دی ہے، وغیرہ وغیرہ

کتاب لکھنے میں مدد لینے یا اپنا مافی الضمیر کسی سے قلمبند کرانے کا سلسلہ بہت پرانا ہے۔ پاکستان میں کسی مشہور شخصیت کی پہلی کتاب ایوب خان کی “فرینڈز ناٹ ماسٹرز ” تھی ۔ اس کے بارے میں اتفاق ہے کہ یہ الطاف گوہر نے لکھی۔ اس کا اردو ترجمہ “جس رزق سے آتی ہو پرواز میں کوتاہی” کے نام سے شائع ہوا۔ ترجمہ ممتاز افسانہ نگار غلام عباس نے کیا ۔جنرل پرویز مشرف کی کتاب “سب سے پہلے پاکستان” انہی الطاف گوہر کے بیٹے ہمایوں گوہر نے لکھی ۔یوسف رضا گیلانی کی “چاہ یوسف سے صدا” لکھنے والے کے بارے میں قیاس آرائیاں ہوتی رہیں۔ چند دن پہلے حیدر جاوید سید صاحب نے اس سلسلے میں ایک صحافی دوست کا نام لکھا لیکن میں نے ایک اور صحافی دوست کا نام سنا تھا۔ پوچھا دونوں سے نہیں۔ ویسے جس کے نام سے چھپی ہو اسی کی ماننی چاہیے۔
ملالہ یوسف زئی کی آئی ایم ملالہ کرسٹینا لیمب نے لکھی۔

کھلاڑیوں کی آپ بیتیوں آٹو بائیو گرافیز پر تو یہ درج بھی ہوتا ہے کہ کس کے ساتھ مل کر لکھی ، یوں سمجھیں کہ کس سے لکھوائی۔
حنیف محمد کی پلیئنگ فار پاکستان پر قمر احمد اور عافیہ سلام کے نام درج ہیں۔ وقار حسن کی کرکٹ اینڈ کنٹری بھی قمراحمد نے لکھی۔
عمران خان کی آٹوبایو گرافی پیٹرک مرفی نے لکھی۔

ظہیر عباس کی زیڈ کرکٹ جرنلسٹ ڈیوڈ فٹ نے لکھی۔
جاوید میاں داد کی مائی کٹنگ ایج آٹو بائیو گرافی نیورولوجسٹ سعد شفقت نے لکھی۔
وسیم اکرم کی سلطان ۔ سے میموئیر آسٹریلوی صحافی بیسیوں ہیگ نے لکھی۔
شعیب اختر کی کنٹروورشلی یورش بھارتی صحافی انشو ڈوگرہ کی تحریر ہے۔
فضل محمود کو اپنی کتاب گرام ڈسک ٹو ڈان لکھنے میں آصف سہیل کی معاونت حاصل تھی۔
تہمینہ درانی اور ریحام خاں کی کتابوں کے بارے میں مختلف روایات ہیں۔
مغربی ملکوں میں آباد شاعری کی شوقین بعض خواتین کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ پاکستان میں ان کے” استاد” ان کے پورے دیوان لکھ اور چھپوا کر رکھتے ہیں ۔ وہ وطن آکر رونمائی کی تقریبات میں شریک ہوتی ہیں اور پوری ادائیگی کر دیتی ہیں۔


