ایران کیوں بحرین میں امریکی فوجی اڈے پر ہر دن حملے کررہاہے
امریکہ یہاں سے جوابی کارروائی کیوں نہیں کررہا؟
اور یہ اڈہ اسرائیل کی لائف لائن کیسے ہے؟
آئیے سمجھتے ہیں ۔

یہ اڈہ پاکستان سمیت تقریباً 21 ممالک کی سمندری حدود اور فضائی نگرانی کرتا ہے۔
ایران کے ڈاکٹر فواد ایزدی کے مطابق یہ اڈہ مشرق وسطی میں امریکی استعمار کا مرکز ہے یہاں سے ہونے والے فیصلے عرب ملکوں کے خودمختاری کو کچلتے ہیں ۔
امریکہ میں فلسطینی نژاد عبد الباری کے مطابق یہ اڈہ اسرائیل کا فرنٹ لائن ڈیفنس ہے ۔ اسکی موجودگی کا مقصد اسرائیل کا تحفظ ہے ۔
پانچواں بیڑا اسرائیل اور عرب ممالک کے درمیان فوجی تعاون کا پل ہے، جس کی وجہ سے ابراہیمی معاہدوں جیسے سیاسی فیصلے ممکن ہوئے۔
اس اڈے کے بغیر امریکہ مشرق وسطیٰ میں محض ایک تماشائی رہ جائے گا اور پھر یہاں کے فیصلے چین اور روس کریں گے ۔
جنگ کے پہلے دن ڈرونز سے انٹرسیپٹ میزائل کا ذخیرہ کم کروایا، دوسرے دن ڈیٹا سنٹر کو نقصان پہنچایا اور سب سے اہم کامیابی ریڈار سسٹم پر کامیاب حملہ کرکے امریکہ کو اندھا کردیا ، تیسرے دن تیل کے ڈیپو کو اڑایا گیا ، اور 1امریکی ڈسٹرائر جہاز کو نشانہ بنایا پھر چوتھے دن ائیر فیلڈ اور بندرگاہ، فوجیوں کے رہائشی عمارت پر کامیاب حملہ کیا گیا ۔
جب ایران کے قریب اتنا بڑا بحری اڈہ موجود ہے تو پھر امریکہ جوابی کارروائی یہاں سے کیوں نہیں کررہا؟
ایران کے پاس دنیا کا سب سے بڑا نیول مائن کا ذخیرہ ہے ۔
اگر امریکہ ایران کے ساحلوں یا بحری اثاثوں پر بڑا حملہ کرتا ہے، تو ایران آبنائے ہرمز میں ہزاروں سمارٹ بارودی سرنگیں بچھا دے گا۔
جس سے عربوں ڈالر کے امریکی جہاز ڈوبے گے ۔
اگر امریکہ جنگ جیت بھی جائے تو اسے مائنر کو کلیئر کرنے میں
کم سے کم سے کم 6 مہینے لگے گے یعنی آبنائے ہرمز جنگ میں بھی بند ہوگا اور اسکے بعد بھی مکمل بند ہوگا
جو عالمی معیشت یعنی امریکہ کی موت ہے ۔
ایک بھی ڈرون اگر یہاں موجود اربوں ڈالر کے طیارہ بردار جہاز کو ہٹ کر دے، تو یہ امریکہ کے لیے بہت بڑی سیاسی اور فوجی شکست ہوگی۔
ابرہام لنکن دور تھا اسکی تباہی دنیا سے چھپا سکتا ہے یہ نہیں چھپا سکتا یہ پوری دنیا دیکھی گی ۔
اور سب سے بڑا خوف ہے ایرانی ہائپر سونک میزائل جو دو سے تین منٹ میں یہاں پہنچتے ہیں انہیں روکنا امریکہ کیلئے ناممکن ہوگا جب ایک ساتھ حملہ ہوگا ۔
ایک تو عربوں ڈالر کا نقصان ، دوسرا فوجی اڈہ ختم تیسرا اگر یہاں سے حملہ ہوا یعنی بحرین کی سرزمین استعمال کی گئ تو بحرین کیلئے کتنے خرم شہر 4 کلسٹرز بموں والے میزائل کافی ہونگے جو صرف ایک میزائل 7 مربع کلومیٹر رقبے کیلئے کافی ہے ؟
اس سوال کا جواب آپ پر چھوڑ دیتے ہیں ۔
ایران نے یہ ثابت کر دیا کہ امریکہ کا ناقابلِ تسخیر پانچواں بیڑا خود محفوظ نہیں تو اب امریکہ عرب ملکوں کو تحفظ نہیں دے سکتا۔
یہاں کا ریڈار سسٹم ، جاسوسی کے ڈرونز ایران کے ہر ایک قدم پر نظر رکھتے ہیں ، ایران سے جو بھی میزائل اور ڈرونز اسرائیل کی طرف جاتا ہے یہ اڈہ انہیں فوراً اطلاع کرتاہے ، انٹلیجنس فراہم کرتاہے اسی لیے ایران نے اسکے ریڈار سسٹم پر کامیاب حملہ کیا ہے ۔
ایران بحرین کو یہ باور کرا رہا ہے کہ یہ بحری اڈہ آپکی حفاظت کیلئے نہیں اسرائیل کے تحفظ کیلئے ہے
جب پانچواں بیڑا اپنے دفاع میں مصروف ہوا، تو اسرائیل کو ملنے والی انٹیلیجنس اور میزائل ڈیفنس سپورٹ کمزور پڑ گئی، جس کا فائدہ اٹھا کر ایران نے اسرائیل کے اندر نیواتیم اڈہ ، موساد کے مرکز کو کامیابی سے ہٹ کیا۔
ایران کے حملوں سے ریڈار ، فیول ڈیپو ، دو ڈسٹرائر ایک کے ڈک کو اور دوسرے کو بحیرہ احمر میں ریڈار اور کمیونیکشن سنٹر کو ہٹ کیا گیا ہے تمام نقصان تقریبا 450 ملین ڈالر ہے۔
جہازوں کے ایندھن ، تنخواہیں اور گشت سے امریکہ کو 150ملین ڈالر کا خرچ ہوا ہے ۔
اور ایرانی سستے ڈرونز کو انٹرسیپٹ میزائلوں سے روکنے کیلئے 600 ملین ڈالر سے زائد کا خرچ آیا یے یعنی تقریبا 1.2 ارب ڈالر کا نقصان صرف 5 دنوں میں ۔
ایران کا مقصد امریکہ کو جنگ میں ہرا کر مکمل تباہ کرنا نہیں بلکہ اسے دیوالیہ کرنا ہے۔ وہ سستے ہتھیاروں سے امریکہ کے مہنگے ترین دفاعی نظام کو معاشی طور پر نچوڑ رہا ہے۔

