جی ایچ کیو حملہ کیس میں عمر ایوب، زرتاج گل، مراد سعید، سمیت 47 ملزمان کو سزا، اصغر علی مبارک
انسدا دہشتگردی عدالت راولپنڈی نے 9 مئی کے جی ایچ کیو حملہ کیس میں بڑا فیصلہ سناتے ہوئے 47 اشتہاری ملزمان کو 10، 10 سال قید اور 5، 5 لاکھ روپے جرمانہ کی سزا سنا دی ہے۔نو مئی 2023 کو پی ٹی آئی کے بانی چیئرمین عمران خان کی نیب کے ہاتھوں مبینہ کرپشن کیسز میں گرفتاری کے بعد ملک بھر میں ہونے والے پرتشدد مظاہروں کے دوران آرمی تنصیبات پر حملوں کے ساتھ ساتھ دیگر قومی و نجی املاک کو بھی نقصان پہنچایا گیا تھا۔ان واقعات میں ملوث افراد کے خلاف مقدمات فوجی عدالتوں میں چلانے کا فیصلہ کیا گیا تھااور پاکستانی فوج نے اپنا موقف واضح کر رکھا ہے کہ ذمہ داران کو آئین کے مطابق سزا دینا پڑے گی۔عدالت نے انسداد دہشتگردی ایکٹ کی سیکشن 21 ایل کے تحت 47 اشتہاری ملزمان کا علیحدہ ٹرائل چلایا۔ اسی حوالے سے 18 نومبر کو راولپنڈی کی انسداد دہشت گردی عدالت نے جی ایچ کیو پر حملہ کیس میں نامزد ملزمان عمران خان، عمر ایوب، شبلی فراز، شہباز گل، مراد سعید، حماد اظہر، زلفی بخاری اور صداقت عباسی کے ملک سے باہر سفر پر پابندی عائد کر دی تھی۔
راولپنڈی کی انسداد دہشت گردی عدالت نے نو مئی 2023 کو جی ایچ کیو پر حملے کے کیس میں اشتہاری قرار دیے گئے پاکستان تحریک انصاف کے رہنماؤں عمر ایوب، مراد سعید اور ذلفی بخاری سمیت 47 دیگر ملزمان کو 10، 10 برس قید اور جرمانے کی سزا سنائی ہے۔نو مئی 2023 کو پی ٹی آئی کے بانی چیئرمین عمران خان کی قومی احتساب بیورو (نیب) کے ہاتھوں مبینہ کرپشن کیسز میں گرفتاری کے بعد ملک بھر میں ہونے والے پرتشدد مظاہروں کے دوران آرمی تنصیبات پر حملوں کے ساتھ ساتھ دیگر قومی و نجی املاک کو بھی نقصان پہنچایا گیا تھا۔ اسی سلسلے میں راولپنڈی میں جنرل ہیڈ کوارٹرز (جی ایچ کیو) پر ہونے والے حملے کا مقدمہ تھانہ آر اے بازار میں درج کیا گیا تھا۔
5 اگست 2024کوپاکستان فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے پریس کانفرنس میں نو مئی کے حوالے سے سوال کے جواب میں کہا تھاکہ پاکستان فوج کا سات مئی کی پریس کانفرنس میں جو موقف تھا، وہی ہے اور اس میں تبدیلی نہیں آئی۔ انہوں نے کہا تھاکہ نو مئی سے متعلق فوج کا مؤقف بڑا واضح ہے جس میں کوئی تبدیلی آئی ہے نہ آئے گی۔ ڈیجیٹل دہشت گردی کے خلاف پہلی دفاعی لائن قانون ہے۔ یہ قانون اس طرح کام نہیں کر رہا جیسے اسے کرنا چاہیے۔ کوئی افواج پاکستان کے خلاف پروپیگنڈا کرے گا تو فوج پوری کارروائی کرے گی۔ 6 جولائی 2024کو خصوصی عدالت کے جج خالد ارشد نے بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان کے نو مئی کے تین مقدمات، جن میں جناح ہاؤس، عسکری ٹاور اور تھانہ شادمان پر حملوں سے متعلق کیسز شامل ہیں، ان میں عبوری ضمانت کی درخواست پر سماعت کی تھی۔دوران سماعت عمران خان کے وکیل نے دلائل کا آغاز
کرتے ہوئے کہا کہ ’نو مئی کو ہم القادرٹرسٹ کیس میں ضمانت کے لیے اسلام آباد میں ہائی کورٹ میں موجود تھے۔ وہاں سے عمران خان کو غلط طریقے سے گرفتار کیا گیاتھا اس غیر قانونی اقدام کا رد عمل آیاتھا۔‘ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کے حراست میں ہونے کی وجہ سے تین دن بعد علم ہوا کہ ریاست کے اداروں پر حملے ہوئے ہیں۔ اس کی بانی پی ٹی آئی نے مذمت کرتے ہوئے اظہار افسوس بھی کیا اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ بھی سامنے آیا۔ دلائل میں کہا کہ 11 مئی کو سپریم کورٹ نے بانی ہی ٹی آئی کی گرفتاری کو غیر قانونی قرار دیا۔ بانی پی ٹی آئی نے نو مئی کے واقعات سے لاعلمی کا اظہار کیا کیونکہ وہ اس وقت گرفتار تھے۔ سوال اٹھایا کہ ’نو مئی سے پہلے جس نے امن و امان خراب کیا اور عمران خان کو غیر قانونی حراست میں لیا۔ یہ کہا گیا کہ ہم عبرت کا نشان بنا دیں گے کیا وہ واقعے کا اصل ذمہ دار نہیں؟‘ سیاسی انتقام شروع ہونے سے پہلے ان کے خلاف کوئی مجرمانہ ریکارڈ نہیں لیکن کچھ عرصے میں بانی پی ٹی آئی پر جنسی جرائم سمیت ہزاروں جرائم کے الزامات لگائے دیے گئے۔ موجودہ ریکارڈ کو دیکھا جائے تو کوئی ایسا جرم نہیں جو بانی پی ٹی آئی نے نہیں کیا۔ سرکاری وکیل نے دلائل میں مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ ’سپیشل برانچ کی رپورٹ کے مطابق بانی پی ٹی آئی نے اپنی گرفتاری کی صورت میں سول و عسکری تنصیبات پر حملہ کرنے کی ہدایت دی تھی اس حوالے سے نو مئی سے قبل زمان پارک میں زوم میٹنگ ہوئی جس میں پورے پاکستان میں فوجی تنصیبات پر حملہ کرنے کی جو ہدایت کی گئی تھیں، یہ اس کا نتیجہ نکلا۔ ثبوتوں اورشواہد کا جائزہ ٹرائل کے وقت لیا جائے گا، ضمانت کی سطح پر نہیں۔‘ہماری ایف آئی آرز میں ریکارڈ شدہ بیانات ہیں کہ جو شازش کی منصوبہ بندی ہوئی، اس پر عمل درآمد بھی ہوا۔‘ سرکاری وکیل نے کہا کہ ’ہمارے پاس ثبوت موجود ہیں کہ منصوبہ بندی بانی پی ٹی آئی کی زوم میٹنگ میں نو مئی سے پہلے زمان پارک میں ہوئی۔ یاسمین راشد کی آڈیو میں بھی اس بارے تصدیق موجود ہے۔‘‘ سپیشل پراسیکیوٹر نے کہا کہ ’کسی جرم میں اگر ہجوم ملوث ہے تو ہجوم کا ہر فرد شریک جرم ہوتا ہے۔ عمران خان نے گرفتاری سے پہلے جو تقاریر کیں وہ جرم کا حصہ ہیں کیونکہ جو اسلام آباد میں بیٹھا ہے وہ فون پر گائیڈ کر رہا ہے وہ جرم میں شریک ہے۔ یہ جدید آلات سے کمیونیکیشن کا دور ہے۔ سوشل میڈیا پر بیٹھے لوگ بھی نو مئی کوجلاؤ گھیراؤ کے ذمہ دار ہیں۔
اس پر جج نے ریمارکس دیے کہ ’یہ تو حقیقت ہے کہ معاونت کرنے والا اکثر مواقع پر نہیں ہوتا۔‘ سپیشل پراسیکیوٹر نے کہا کہ ’امریکہ میں کیپیٹل ہل کیس میں معاونت کرنے والوں کو سزا ہوئی۔ جناح ہاؤس کیس میں بھی کیپیٹل ہل کی طرح معاونت جرم اور سازش کا پلان موجود ہے۔‘ جج نے بانی پی ٹی آئی کے وکیل سے استفسار کیا کہ کیا کیپٹل ہل کیس میں ڈونلڈ ٹرمپ کو سزا ہوئی؟انہوں نے جواب دیا: ’ہاں جی لیکن اس کیس میں پہلے پولیس چیف کو سزا ہوئی۔‘ انسداد دہشت گردی کی عدالت کے جج امجد علی شاہ نے ہفتے کو جاری کیے گئے تحریری فیصلے میں اس مقدمے کے 47 اشتہاری ملزمان کو 10، 10 سال قید اور پانچ، پانچ لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی۔ عدالت نے ملزمان کی جائیداد بھی ضبط کرنے کا حکم دیا ہے، جن میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما عمر ایوب، شہباز گل، زرتاج گل، مراد سعید، شبلی فراز، حماد اظہر، ذلفی بخاری اور کنول شوزب سمیت دیگر شامل ہیں۔ عدالت نے ملزمان کو اشتہاری قرار دے کر ان کی غیر موجودگی میں ٹرائل آگے بڑھایا۔ عدالت کا یہ فیصلہ غیر حاضر ملزمان کی حد تک سنایا گیا۔اسی کیس میں سابق وزیراعظم عمران خان اور دیگر ملزمان کے خلاف ٹرائل ابھی انسداد دہشت گردی راولپنڈی میں زیر التوا ہے۔عدالتی فیصلے، جس کی کاپی انڈپینڈنٹ اردو کے پاس موجود ہے، میں کہا گیا کہ ’سزا پانے والے ملزمان نو مئی 2023 کے واقعات کی سازش میں ملوث پائے گئے ہیں اور جے آئی ٹی رپورٹ نے ملزمان کو پرتشدد احتجاج کی منصوبہ بندی میں ملوث قرار دیا ہے۔مزید کہا گیا کہ ’سزا پانے والے ملزمان جی ایچ کیو گیٹ، حمزہ کیمپ، آرمی میوزیم اور سکستھ روڈ میٹرو سٹیشن پر حملوں میں ملوث پائے گئے ہیں، جے آئی ٹی نے سزا پانے والے ملزمان کو نو مئی کے واقعات کی منصوبہ بندی میں مرکزی ملزم قرار دیا ہے۔فیصلے کے مطابق ملزمان پر نو مئی کے واقعات میں جلاؤ گھیراؤ، توڑ پھوڑ، پولیس پر حملوں اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے کا الزام ہے۔سپیشل پراسیکیوٹر ظہیر شاہ نے سرکار کی طرف سے اس کیس کی پیروی کی۔نو مئی 2023 کو جی ایچ کیو پر حملے کا مقدمہ تھانہ آر اے بازار میں درج کیا گیا تھا۔فیصلے کے مطابق انسداد دہشت گردی ایکٹ کے سیکشن 21 ایل کے تحت 47 اشتہاری ملزمان کا علیحدہ ٹرائل چلایا گیا۔ نو مئی 2023 کو جی ایچ کیو پر حملے کا مقدمہ تھانہ آر اے بازار میں درج کیا گیا تھا۔ رواں برس6 جنوری کو اشتہاری ملزمان کے خلاف کاروائی کی درخواست دائر کی گئی تھی، جس کے بعد عدالت نے انکوائری تشکیل دی۔ اس عدالتی انکوائری میں 47 اشتہاری ملزمان کو ’دیدہ دانستہ مفرور قرار دیا گیا۔‘ انکوائری رپورٹ کی روشنی میں عدالت نے اخبار میں اشتہار جاری کروایا اور رواں برس آٹھ جنوری کو 47 مفرور ملزمان کا اشتہار جاری کیا گیا۔ فیصلے میں لکھا گیا ہے کہ ’عدالت نے اشتہاری قرار پانے والے ملزمان کو سات روز کے اندر عدالت کے سامنے سرنڈر کرنے کا موقع دیا،واضح رہے کہ انسداد دہشت گردی عدالت راولپنڈی نے 9مئی کے جی ایچ کیو حملہ کیس میں 47 اشتہاری ملزمان کو 10، 10سال قید اور 5، 5 لاکھ روپے جرمانہ کی سزا سنائی ہے جبکہ عدالت نے ملزمان کی منقولہ اور غیر منقولہ جائیدادیں ضبط کرنے کا بھی حکم دیا ہے۔ عدالت کے فیصلے کے مطابق ملزمان کو 9مئی کے واقعات کی سازش، پرتشدد احتجاج کی منصوبہ بندی، جلاؤ گھیراؤ، توڑ پھوڑ، پولیس پر حملوں اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے کے الزامات میں ملوث قرار دیا گیا تھا۔ یہ مقدمہ جی ایچ کیو گیٹ، حمزہ کیمپ، آرمی میوزیم اور سکستھ روڈ میٹرو اسٹیشن پر حملوں کے تناظر میں درج کیا گیا تھا اور اس کیس میں متعدد ملزمان کے خلاف فرد جرم عائد کی گئی تھی جبکہ مقدمہ تھانہ آر اے بازار میں درج کیا گیا تھا۔ فیصلے میں کہا گیا کہ ’مقدمے میں سابق وزیراعظم عمران خان اور شاہ محمود قریشی سمیت 118 ملزمان پر دسمبر 2024 میں فرد جرم عائد کی گئی جبکہ اب تک استغاثہ کے کل 44 گواہان کے بیانات قلمبند ہو چکے ہیں۔مزید کہا گیا کہ ’ان 118 ملزمان میں سے 18 دوران ٹرائل عدالت سے مسلسل غیر حاضر پائے گئے اور 29 ملزمان مقدمے کے اندراج کے بعد کبھی عدالت میں پیش ہی نہیں ہوئے۔فیصلے کے مطابق انسداد دہشت گردی ایکٹ کے سیکشن 21 ایل کے تحت 47 اشتہاری ملزمان کا علیحدہ ٹرائل چلایا گیاتاہم ان عدالتی احکامات اور اشتہار جاری ہونے کے باوجود کوئی ملزم عدالت پیش نہیں ہوا۔ (جس کے بعد) اشتہاری ملزمان کا سٹیٹ کونسل مقرر کر کے چارج فریم کیے اور پراسیکیوشن نے 19 گواہان کے بیانات عدالت میں ریکارڈ کروائے۔‘ استغاثہ کے گواہان پر جرح کرنے اور 47 اشتہاری ملزمان کا ٹرائل مکمل ہونے کے بعد عدالت نے فیصلہ جاری کیا، جس میں ملزمان کو دس، دس سال قید اور پانچ، پانچ لاکھ روپے جرمانہ اور جائیداد ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔دوسری طرف9مئی جی ایچ کیو حملہ کیس میں انسداد دہشت گردی عدالت نے سزا یافتہ ملزمان کو 60 دن کے اندر سرنڈر کرنے کا حکم دے دیا ہے۔ عدالت فیصلے میں ہدایت جاری کی گئی ہے کہ تمام سزا یافتہ ملزمان 7 مئی تک عدالت کے سامنے پیش ہو کر سرنڈر کریں۔ فیصلے کے مطابق جو سزا یافتہ ملزم مقررہ مدت میں سرنڈر کرے گا اس کی سزا خود بخود کالعدم ہو جائے گی اور اس کا مقدمہ میرٹ پر دوبارہ چلایا جائے گا۔ عدالت نے واضح کیا کہ سرنڈر کرنے والے ملزمان کے خلاف سزائیں ختم کر کے ان کا باقاعدہ ٹرائل کیا جائے گا۔ عدالت کی جانب سے جن ملزمان کو سرنڈر کی ہدایت جاری کی گئی ہے ان میں عمر ایوب، شبلی فراز، کنول شوزب، زرتاج گل، مراد سعید، حماد اظہر، ذلفی بخاری اور شیخ راشد شفیق سمیت دیگر سزا یافتہ ملزمان شامل ہیں۔ انسداد دہشت گردی عدالت کے جج نے سزا اور سرنڈر سے متعلق وارنٹ بھی جاری کر دیے ہیں۔ 5 دسمبر 2024کو انسداد دہشت گردی کی عدالت نے اڈیالہ جیل میں سماعت کے دوران جی ایچ کیو حملہ کیس میں پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان سمیت متعدد رہنماؤں پر فرد جرم عائد کی ہے۔ اڈیالہ جیل راولپنڈی میں انسداد دہشت گردی عدالت کے جج امجد علی شاہ نے جی ایچ کیو گیٹ حملہ کیس کی سماعت کی تھی۔ پاکستان تحریک انصاف کے مطابق عمران خان کے علاوہ عمر ایوب اور راجہ بشارت سمیت متعدد رہنماؤں پر فرد جرم عائد کی گئی تھی جس کے بعد قائد حزب اختلاف عمر ایوب سمیت دیگر رہنماؤں کو اڈیالہ جیل کے باہر سے حراست میں لے لیا گیا تھا
پی ٹی آئی کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ ’اب جب کہ فرد جرم عائد کر دی گئی ہے تو لیگل ٹیم اسے متعلقہ عدالتوں میں چیلنج کرے گی اور امید ہے کہ انصاف ملے گا دوسری جانب پانچ دسمبر کو اسلام آباد ہائی کورٹ کو بتایا گیا تھا کہ پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین عمران خان کے خلاف وفاقی دارالحکومت میں درج مقدمات کی تعداد 76 ہے اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس ارباب محمد طاہر نے عمران خان کی ہمشیرہ نورین نیازی کی بانی پی ٹی آئی پر ملک بھر میں درج مقدمات کی تفصیلات کی درخواست پر سماعت کی تھی، سماعت کے دوران وفاقی محتسب ادارے (نیب)، فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) اور سیکرٹری داخلہ کی جانب سے عدالت میں رپورٹس جمع کروائی گئیں، جن میں ملک بھر میں عمران خان پر درج مقدمات کی تفصیلات پیش کی گئیں۔2 جولائی 2024 کو وفاقی وزیر قانون سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے اپنے ایک بیان میں اقوام متحدہ کے ورکنگ گروپ کی ایک حالیہ رپورٹ پر ردعمل دیتے ہوئے سابق وزیراعظم عمران خان کی گرفتاری اور زیر التوا مقدمات کو پاکستان کا ’داخلی معاملہ‘ قرار دیا تھا اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے ورکنگ گروپ برائے آربٹریری ڈیٹینشن نے پیر کو ’عمران خان کی گرفتاری کو صوابدیدی اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی‘ قرار دیتے ہوئے انہیں ’فوری رہا کرنے‘ اور بین الاقوامی قانون کے مطابق انہیں اس ’حراست کے باعث معاوضے اور دیگر ازالے کا قابلِ عمل حق دینے‘ کا مطالبہ کیا تھا۔اقوام متحدہ کے ورکنگ گروپ کی رپورٹ پر حکومتی ردعمل دیتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا تھا کہ ’خودمختار ریاست کے طور پر پاکستان میں عدالتوں کے ذریعے آئین اور مروجہ قوانین پر عمل ہوتا ہے ’بانی پی ٹی آئی کو ملکی آئین و قانون اور عالمی اصولوں کے مطابق تمام حقوق حاصل ہیں، وہ ایک سزا یافتہ قیدی کے طور پر جیل میں ہیں ساتھ ہی انہوں نے کہا تھاکہ ’کئی مقدمات میں بانی پی ٹی آئی کو ریلیف ملنا شفاف اور منصفانہ ٹرائل اور عدالتی نظام کا مظہر ہے۔ ’آئین، قانون اور عالمی اصولوں سے ماورا کوئی بھی مطالبہ امتیازی، جانبدارانہ اور عدل کے منافی کہلائے گا۔‘اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے ایک گروپ نے پیر کو کہا تھا کہ پاکستان کے سابق وزیراعظم اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی چیئرمین عمران خان کی گرفتاری صوابدیدی اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے اور انہیں فوری رہا کیا جانا چاہیے۔ جینیوا میں قائم اقوام متحدہ کے ورکنگ گروپ برائے آربٹریری ڈیٹینشن نے کہا کہ ’مناسب مداوا یہ ہوگا کہ عمران خان کو فوری طور پر رہا کیا جائے اور بین الاقوامی قانون کے مطابق انہیں اس حراست کے باعث معاوضے اور دیگر ازالے کا قابلِ عمل حق دیا جائے۔‘ اقوام متحدہ کے ورکنگ گروپ کا کہنا تھا کہ عمران خان کی قانونی مشکلات ان کے اور ان کی پارٹی کے خلاف ’جبر کی بہت بڑی مہم‘ کا حصہ ہیں۔ گروپ کی جانب سے مزید کہا گیا تھا کہ 2024 کے انتخابات سے قبل عمران خان کی پارٹی کے ارکان کو گرفتار اور تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھااور ان کی ریلیوں میں رکاوٹ ڈالی گئی۔ یہ بھی الزام لگایا گیاتھا کہ ’انتخابات کے دن بڑے پیمانے پر دھوکہ دہی کی گئی اور درجنوں پارلیمانی نشستیں چوری کی گئیں۔واشنگٹن میں پاکستانی سفارت خانے نے فوری طور پر اس حوالے سے کوئی تبصرہ نہیں کیاتھا، تاہم پاکستان کا الیکشن کمیشن انتخابات میں دھاندلی کی تردید کرتا ہے۔عمران خان جیل میں ہیں اور فروری میں ہونے والے قومی انتخابات سے قبل انہیں کچھ مقدمات میں سزا سنائی گئی تھی۔ وہ درجنوں دیگر مقدمات بھی لڑ رہے ہیں جو کہ جاری ہیںان کی پارٹی کا کہنا تھا کہ یہ الزامات ان کی اقتدار میں واپسی کو روکنے کے لیے سیاسی محرکات پر مبنی ہیں۔ پاکستانی عدالتوں نے سرکاری تحائف کے غیر قانونی حصول اور فروخت (توشہ خانہ) سے متعلق مقدمے میں عمران خان کی قید کی سزا معطل کی ہے اور ریاستی راز افشا کرنے (سائفر) کے الزام میں ان کی سزا کو بھی منسوخ کر دیا تھا۔تاہم وہ ایک اور کیس میں سزا کی وجہ سے جیل میں ہیں جس میں ٹرائل کورٹ نے فیصلہ سنایا تھا کہ 2018 میں ان کی بشریٰ بی بی سے شادی غیر قانونی تھی۔ عمران خان کو گذشتہ سال نو مئی میں پر تشدد واقعات کے سلسلے میں انسداد دہشت گردی کے الزامات کے تحت مقدمے کا بھی سامنا ہے۔عمران خان 2018 میں اقتدار میں آئے تھے اور 2022 میں انہیں تحریک عدم اعتماد کے نتیجے میں اقتدار سے ہٹا دیا گیا تھا۔ وہ اور ان کی پارٹی یہ الزام عائد کرتی ہے کہ امریکہ اور پاکستانی فوج نے پارلیمنٹ میں عدم اعتماد کے ووٹ کے ذریعے انہیں اقتدار سے ہٹانے میں کردار ادا کیا، تاہم دونوں ان الزامات کی تردید کرتے ہیں۔ عمران خان کو عہدے سے ہٹائے جانے کے بعد ان کے خلاف متعدد مقدمات دائر کیے گئے تھے جس کے باعث وہ فروری کے انتخابات میں حصہ لینے کے لیے نااہل قرار دے دیے گئے۔





