yes urdu logo
  • خبریں
    • اہم ترین
    • بین الاقوامی خبریں
    • شوبز
    • مقامی خبریں
    • کاروبار
    • کھیل
  • تارکین وطن
  • شاعری
    • شاعر
      • عاکف غنی
  • ویڈیوز - Videos
    • Animals
    • Child
    • Fail - Shock
    • Fun & Performance
    • Music & Movies
    • News Events & Travel
    • Religious
    • Sports
    • Technology
  • اشتھارات
  • دلچسپ اور عجیب
    • اچھی بات
    • صحت و تندرستی
  • کالم
  • کرائم
Dark Mode
Skip to content
Breaking News
پولیس کا گھر پر چھاپہ، خاتون اور مرد شرمناک حالت میں گرفتار ، مگر خاتون دراصل کون نکلی اور قصہ کیا تھا ؟ شرمناک حقیقت سامنے آگئی
مدرسوں کے بچوں کو مولویوں کی زیادتی سے بچانے کا ایک ہی طریقہ۔۔۔۔ بشریٰ انصاری کا ایک متنازع بیان سامنے آگیا
شوبز نگری سے گرما گرم خبر : دو خوبصورت ترین اداکارائیں جسم فروشی اور اعلیٰ شخصیات کو خوبصورت لڑکیاں فراہم کرنے کے الزام میں گرفتار ۔۔۔ ایک خبر نے پورے ملک میں ہلچل مچا دی
یااللہ خیر ۔۔۔ بھارتی خفیہ ایجنسی ’’ را ‘‘ کا چیف جسٹس آف پاکستان کے خلاف خوفناک منصوبہ بے نقاب، حکومت حرکت میں آگئی، بڑا حکم جاری کر دیا
نمرتا کیس میں نیا موڑ۔۔۔۔ میڈیکل کی طالبہ کے اکاؤنٹ میں لاکھوں روپے کہاں سے آئے اور کہاں گئے؟ نئی کہانی سامنے آگئی
yes urdu logo
  • خبریں
    اہم ترین
    • وائٹ ہاؤس پریس ڈنر میں فائرنگ، ٹرمپ اور میلانیا کو بحفاظت نکال لیا گیا،مشتبہ شوٹر کی شناخت 31 سالہ کول ٹامس ایلن کے طور پر ہوئی
    • نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی زیر صدارت خطے کی تازہ ترین صورتحال پر جائزہ اجلاس، ترجمان دفتر خارجہ 
    بین الاقوامی خبریں
    • ایران بات چیت کیلئے تیار، امریکی صدر کا ایک بار پھر ڈیل کیلئے اصرار
    • پاکستان کی امریکا اور ایران کے درمیان ثالثی، دونوں فریقین کی شرائط اور پاکستان کی تجاویز سامنے آ گئیں
    شوبز
    • From Eddie Murphy to Whoopi Goldberg: Top 10 Funniest 90s Actorsانیسویں دہائی کے دس عظیم مزاحیہ اداکار: جن کی ہنسی آج بھی تازہ ہے
    • بڑی عمر کی خواتین پسند ہیں،کہتا ہوں اپنی ماوں کو مجھ سے بچاو،بشری انصاری کے شوہر کےاس مزاح والے بیان پر سوشل میڈیا پر ہنگامہ 
    مقامی خبریں
    • نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی زیر صدارت خطے کی تازہ ترین صورتحال پر جائزہ اجلاس، ترجمان دفتر خارجہ 
    • عالمی بحران,وزیراعظم شہباز شریف کااعلان ,عوامی امنگوں کا ترجمان ….؟
    کاروبار
    • ماں کی ایجاد: ’سلیپی ہیٹ‘ نے بچوں کی نیند کا مسئلہ حل کر کے کاروبار میں کامیابی کی نئی داستان رقم کردی
    • حکومتی قرضہ 78.5 کھرب روپے تک پہنچ گیا، مالیاتی دباؤ میں اضافہ
    کھیل
    • بھارت اور افغانستان کے درمیان 2026 میں تاریخی ٹیسٹ اور ون ڈے سیریز کا اعلان
    • شیہان راجہ خالد محمود جنجوعہ امریکہ میں چوتھی بار ہال آف فیم ایوارڈ حاصل کرنے والے پہلے پاکستانی مارشل آرٹسٹ بن گئے
  • تارکین وطن
  • شاعری
    شاعر
    • کس کو ہے میں نے کھویا مجھ کو کیا ملا
    • best, tick tock, video, till, yet, for, Pak, Army, and, ISIپاک فوج پربنائی جانیوالی اب تک کی سب سے بہترین ٹک ٹاک، دلکش نغمے کے ساتھ
    • عاکف غنی
  • ویڈیوز - Videos
    Animals
    • Chairman Mao Zedong meets U.S. President Richard Nixonچیئرمین ماو زڈونگ نے امریکی صدر رچرڈ نکسن سے ملاقات کی
    • Grizzly Bearدیو قامت ریچھ اپنے بچوں کے ساتھ ، دلچسپ ویڈیو دیکھیں
    Child
    • My, 18 ,month, old, grandson, showing, off, his ,tricksاٹھارہ ماہ کا پوتا اپنے دادا کو اپنی چالیں دکھاتے ہوئے۔۔ حیران کن ویڈیو دیکھیں
    • بچے اور چڑیا جانور
    Fail - Shock
    • White, Trash, Prank Now, this, is, what, a, true, joke/prank, should, be!, Something, innocent, they, everyone, laughs, at, the, end!, Not, this, crap, where, people, are, throwing, spiders, on, people, or, putting, oil, on, the, floor, and, making, them, fall, and, get, hurt, or, sticking, your, butt, in, sleeping, people’s, faces., This, was, awesome, thanks, for, a, laugh!وائٹ ردی کی ٹوکری پرسکون ویڈیو دیکھیں یہاں کلک کریں
    • This, isn't, going, to, go, well. CLICK, HERE, TO, WATCH, VIDEO The, last, time, he, tried, to, do, it, and, flipped, so, many, times, at, the, end,, it, made, me, laugh, more, thanناممکن چیز کرنے کی کوشش کریں جب آپ اس کے اہل ہوں ورنہ ایسا بھی ہوسکتا ہے!
    Fun & Performance
    • ایک بچہ اپنے والد کے بارے میں کیا سوچتا ہے؟ باپ کے پسینے کا حق ادا نہیں ہوسکتا یہ سمجھنے میں اتنی دیر کیوں لگ جاتی ہے؟ جانیے اس ویڈیو میں
    • best, tick tock, video, till, yet, for, Pak, Army, and, ISIپاک فوج پربنائی جانیوالی اب تک کی سب سے بہترین ٹک ٹاک، دلکش نغمے کے ساتھ
    Music & Movies
    • پاکستان اوربھارتی پنجاب کے فنکاروں سے سجی چل میرا پت کی کینیڈا میں سکریننگ، بہترین مناظر
    • best, tick tock, video, till, yet, for, Pak, Army, and, ISIپاک فوج پربنائی جانیوالی اب تک کی سب سے بہترین ٹک ٹاک، دلکش نغمے کے ساتھ
    News Events & Travel
    • خامنہ ای کی واپسی؛امریکی حملے اور اس کے بعد کے واقعات پر مبنی ایرانی ویڈیو نے سوشل میڈیا پر تہلکہ مچا دیا آیت اللہ خامنہ ای کی اسرائیلی حملے میں شہادت کے بعد ان کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای نے سپریم لیڈر کا عہدہ سنبھالا ہے
    • میری زندگی کی سب سے بڑی غلطی،شادی نہ کرنے کے علاوہ سب سے بڑا پچھتاوا، شیخ رشید کا حیرت انگیز انکشاف
    Religious
    • Map, of, the, world, reshaping, DG, ISPR, Asif Ghafoor, condemned, effort, to, burn, Quran, in,Norway, and, support, the, young, man, who, tried, to,stop, the, bad, effortدنیا کا نقشہ تبدیل ہونے کا وقت ۔۔۔!!!نارروے میں قران پاک جلانے کے واقعہ کے حوالے سے پاک فوج کے فخر ’ میجر جنرل آصف غفور کا بڑا اعلان‘ ۔۔۔۔ امت مسلمہ میں جوش کی لہر دوڑ گئی
    • The time when an unbelieving general refused to see the face of the Holy Prophet (peace be upon him).وہ وقت جب ایک کافر جرنیل نے رسول پاک ﷺ کا چہرہ دیکھنے سے انکار کر دیا۔اسلامی تاریخ کا ایمان کو جھنجوڑ دینے والا واقعہ
    Sports
    • ورلڈ کپ 1992 کے یادگار لمحات٫دارالحکومت میں پروقار تقریب اور راولپنڈی میں کھلاڑیوں کا تاریخی استقبال. یادگار مناظر
    • Great news: Australia vs Pakistan after Sri Lanka - The Australian team was also announcedبڑی خوشخبری : سری لنکا کے بعد آسٹریلیا بمقابلہ پاکستان ۔۔۔ آسٹریلوی ٹیم کا اعلان بھی کر دیا گیا
    Technology
    • Great news for iPhone giantsآئی فون کے دیوانو ں کے لیے بڑی خوشخبری
    • سام سنگ کا فولڈ ایبل فون نئی تبدیلیوں کے ساتھ دوبارہ مارکیٹ میں آ گیا ۔۔۔ سکرین سے فولڈ ہونے والے اس فون میں کیا خصوصیات ہیں ؟ جانیے
  • اشتھارات
  • دلچسپ اور عجیب
    اچھی بات
    • Hazrat MUHAMMAS SAWعشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم
    • بالآخرقرآن پوری دنیا پر غالب آ گیا۔۔۔کروناوائرس خدشات، کل جمعے کے روز پوری دنیا میں دوران نماز سورۃ فاتحہ اور مختصر آیات پڑھنےکا فیصلہ کر لیا گیا
    صحت و تندرستی
    • اس موسم گرما آڑو کھانا نہ بھولیں
    • پیازکا ایسا استعمال جو جسم کے تمام فاسد مادوں کے اخراج اورچہرے کی تروتازگی (کلینزنگ) وخوبصورتی میں مدد کرے اور اعصاب کو سکون پہنچائے
  • کالم
  • کرائم
کالم

میں نے پاکستان بنتے دیکھا

F A Farooqi August 9, 2016 1 min read
14 August 1947
Share this:
14 August 1947
14 August 1947

تحریر : محمد عتیق الرحمن
قیام پاکستان بیسویں صدی کے بڑے واقعات میں سے ایک ہے ۔ جس نے دنیا پر باور کروایا کہ اسلام کے متوالے اپنا علیحدہ تشخص برقرار کھنا چاہتے ہیں اور اس کی خاطر قربانیاں دینے کو بھی تیارہیں۔دوقومی نظریہ کی بنیادپربننے والے اس ملک کی انگریزوں ،ہندوئوں اور سکھوں نے مخالفت کی۔انہیں منظور ہی نہ تھاکہ مسلمان پھر سے برصغیر میں سراٹھاسکیں ۔ہندوانگریز کے بعد حکومت کے خواب دیکھ رہے تھے بلکہ اس کی تکمیل میں بھی سرکردہ تھے مسلمانوں نے ان کے اس خواب کو دیکھتے ہوئے اور ان کی ہندوچانکیہ سوچ کوسامنے رکھتے ہوئے علیحدہ وطن کا مطالبہ کیا جس کی اس وقت سکھوں نے مخالفت کی لیکن قیام پاکستا ن کے بعد جب ہندوانتہاپسندی کی افتاد ان پرپڑی توتاریخ نے ثابت کیا کہ مسلمانوں کافیصلہ بروقت تھا ۔قیام پاکستان سے پہلے کی جدوجہد میں مسلمانان برصغیر کی لاتعدادقربانیاں ہیں جو اب تاریخ کا حصہ بن چکی ہیں اور شاید ان پر گرد بھی پڑچکی ہے ۔قیام پاکستان کے وقت جو پاکستان کی طرف ہجرت کرنے والوں کے ساتھ بیتی اور جو کچھ ان کے ساتھ ہندوئوں اور سکھوں نے کیا ۔آج بھی وہ مہاجرین پاکستان یادکرتے ہیں تو راتوں کی نیندیں اُڑ جاتی ہیں ۔اپنے گھر سے پوراخاندان لے کر نکلنے والا مسلمان پاکستانی زمین پرخون کا دریاعبورکرکے اکیلا پہنچے تو اس پرکیا بیتتی ہے،یہ وہ ہی جانتاہے ۔ لیکن یہ سب ہوا اور مسلمانان برصغیر نے خون کادریاعبور کیا اور پاکستانی سرزمین پر پہنچ کرثابت کیا کہ ہم اسلام کی خاطر ایک ایسے ملک میں جمع ہورہے ہیں جو کل کو اسلامی دنیا کا سرداربن کرابھر یگا۔

بھارتی علاقوں سے کئی خاندان ہجرت کرکے پاکستان کو نکلے جن میں سے کئی کو پاکستان نصیب ہوا،کئی کو شہادت نصیب ہوئی اور کئی کو ہندوئوں اورسکھوں نے غلام بنالیااور کئی مسلمان مائوں بہنوں کی عصمتیں لوٹ لی گئیں ۔ جن میں سے کچھ لٹی پٹی پاکستان پہنچ گئیں ،کچھ نے عزت وناموس بچانے کے لئے اپنے آپ کوختم کرلیا اور کچھ کو اب تک ہندوئوں اور سکھوں سے آزادی نصیب نہ ہوسکی ۔ایساہی ایک سفر نامہ پروفیسر متین الرحمن مرتضیٰ صاحب کا ہے جسے انہو ں نے ”میں نے پاکستان بنتے دیکھا” کے عنوان سے کتابی شکل میں لکھا ہے ۔اگست کے حوالے سے ان کا سفر نامے کا کچھ حصہ میں قارئین کے سامنے رکھ رہاہوں ۔پٹیالہ کے تاریخی مقام بٹھنڈہ کے محلہ کھٹیکاں میں یکم دسمبر 1940ء کو پیداہونے والے متین الرحمن کی عمر قیام پاکستان کے وقت ساتھ سال تھی ۔ان کے والد میونسپلٹی میں سینٹری انسپکٹر تھے ۔ محلہ کھٹیکاںمیں چندگھر سکھوں کے ،دوچار ہندوئوں کے اور باقی مسلمانوں کے تھے ، اسی وجہ سے اس محلہ کو مسلمانوں کا محلہ سمجھا جاتاتھا۔

اگست 1947ء کا مہینہ گرم تو تھا لیکن گرمی کی شدت میں کمی آگئی تھی ۔ بچوں کو عید کابے صبری سے انتظار تھا لیکن اس بار عید کا موسم ذراعجیب ساتھا جیسے جیسے عید کادن قریب آرہاتھا گلی میں نعروں کا مقابلہ بڑھ رہاتھا ۔جے ہند ،پاکستان زندہ باد،ست سری اکال اور اللہ اکبر جیسے نعرے متین الرحمٰن نے ان ہی دنوں سنے اور سیکھے ۔فسادت کے بعد قرب وجوار جے مسلمان بھی ان ہی کے محلے میں آگئے ۔ان کے محلے کامحاصرہ کیا گیا جس کی وجہ سے انہیں محاصرہ توڑ کر قافلے کی صورت میں نکلنا پڑا ۔47ء کی عید الفطر کے ڈیڑھ ہفتے بعد ایک رات دوسرے پہر فساد زدہ شہرکی غیرمحفوظ گلیوں سے ان کا قافلہ اسٹیشن تک پہنچا۔قافلے کے شہری حدود سے نکلنے اور ویرانے میں پہنچنے کے تھوڑی دیر بعد ہی کسی حادثے یا واقعے کے سبب بھگڈر مچی اور قافلہ دوحصوں میں بٹ گیا ۔ایک میں والدین ،تیسرے چھوٹے بھائی اور بہن اور دوسرے حصے میںمتین الرحمن اوران کا بھائی معین تھے جس نے قریبی گائوں کی جانب سفر شروع کردیا۔

Immigrants
Immigrants

اب دوسرے قافلے کی کوئی ترتیب اورحفاظتی اقدامات نہ تھے ۔مردوں کی تعدادکم ہونے کے ساتھ ساتھ نہتی بھی تھی ۔رات کی تاریکی بڑھ رہی تھی ۔غیر ہموار سا میدانی راستہ ،جگہ جگہ جھاڑیاں کٹی ہوئی تھیںاور کٹے ہوئے سرکنڈوں کے گٹھے تھے ۔سرکنڈوں کے درمیان سے گذرنا دشوار تھا کیونکہ ہاتھوں اور چہروں پرخراشیں آرہی تھیں ۔اچانک ایک موٹر کی آواز سنی جس سے قافلے میں پھر بھگڈر مچ گئی لوگ افراتفری میں جھاڑیوں کے اندرکود کر چھپنے لگے ۔سلطان چاچا (محلے دار) نے لڑکوں(متین ،معین اورچچاکابیٹا امین اللہ) کو زمین پرلٹا کر سرکنڈوں کے گٹھے بکھیردئیے ۔جب موٹر کی آواز غائب ہوئی ، لڑکوںکو نکالاگیا تو سرکنڈوں کی چھال کی پھانسوں سے جسم کے کھلے حصوں پر خراشیں آچکی تھیں اور کہیں کہیں سے خون رس رہا تھا۔سحر کے قریب کا واقعہ بیان کرتے ہوئے متین الرحمن لکھتے ہیں کہ اب ہمارا سفر نہر کے کنارے کسی سڑک پرہورہاتھا کہ اچانک پیچھے سے ایک دلدوز چیخ ابھری ۔پیچھے مڑ کردیکھا تو چچی (محلے دار کی بیوی)چار،پانچ سکھوں کے نرغے میں تھی ۔چچی نے نہر میں چھلانگ لگادی تھی اورایک سکھ بالوں سے پکڑ کر باہر کھینچ رہاتھا۔چچاتیزی سے واپس بھاگے اور ایک سکھ کا گنڈاسہ چھین کر بالوں سیکھینچنے والے سکھ پر حملہ کردیا۔

باقی سکھوں نے چچاپر حملہ کردیا ۔قافلے کے کچھ مرد چچاکی مدد کے لئے آگے بڑھے اور دوبدولڑائی ہوئی ،قافلے میں بھگڈر کی کیفیت پیداہوچکی تھی ۔صبح کا اجالا پھیلنے پرقافلے کاسفر ازسرنو شروع ہوا لیکن اس میں مجھے نہ چچا دکھائی دئیے اور نہ چچی ۔سورج چڑھ آیا توغالباََوہ گائوں دکھائی دیا جو منزل تھی ۔گائوں میں داخل ہونے والی گلی کے قریب پہنچے تو ”جائے ماندن نہ پائے رفتن ”والی کیفیت سے دوچارہوئے ۔گلی سے ننگی پنڈلیوں تک پیلے رنگ کے چغوں میں ملبوس اکالی سکھوں کا جتھا برآمد ہوا جن کے ہاتھوں میں خون آلود تلواریں اور بگلوسوںمیں ننگی کرپانیں لٹک رہی تھیں ۔کپڑوں اورہاتھوں پر خون کے دھبے لئے وہ ست سری اکال اور دوسرے نعرے لگارہے تھے ۔ڈرے سہمے بچے کھچے قافلے کو گھیرے میں لے کر گائوں سے کچھ دورہٹا یاگیا۔اکالیوں میں ایک سکھ ڈول پیٹ رہاتھا ،کبھی کبھی سنکھ بجایاجاتا ۔قافلہ پریشان سامضطرب سوچ رہاتھا کہ سکھ اب انتظار کس کا کررہے ہیں۔ تھوڑی ہی دیر بعد گائوں سے دھواں اٹھنا شروع ہوا اورپھر اس سے شعلے لپکنے لگے ۔فضا میں ناگوار سے بوپھیلنا شروع ہوئی جو لاشوں کے جلنے کی بو تھی۔

پاکستان کی آزادی کی قیمت اداکرنے والے ان گمنام جانثاروں کے خون اورگوشت کے بھننے کی بو جو محض مسلمان ہونے اور پاکستان کے تصورسے ہمدردی کے جرم میں جل رہے تھے ۔فضادہشت ناک ترین اور مجنونانہ انداز میں پیٹے جانے والے ڈول کی لرزہ خیز آواز،دھوئیں ،آگ ،جلتی لاشوں کی بو،برستی راکھ ،بھوک سے بلکتے بچوں کی آوازیں اوراکالیوں کے نعروں سے معمورتھی ۔سنکھ کی کریہہ آواز میں اضافہ ہوا اور ایک سکھ نے نوعمرماں کی گودمیںشیرخوار بچے کے پیٹ میں تلوار کی نوک بھونکی اور بچے کو نوک شمشیر پر فضامیں بلند کردیا ۔ننھی سی جان سے خون کا فوارہ ابلا ۔ممتاتلوار کی نوک پرلٹکے بچے کو چھیننے کے لئے جھپٹی تو دوسری تلوار نے اس کا سرتن سے جداکردیا ۔اس کے بعد خوفناک رقص شروع ہوا ۔ہرطرف تلواریں اور ان سے کٹتے ہوئے جسم دکھائی دے رہے تھے اور ایک دوسرے پر گر رہے تھے ۔ہم دوونوں بھائی دوسروں کے خون میں نہاچکے تھے لیکن مجھ میں ایک دومنٹ سے زیادہ اس کیفیت کو دیکھنے کی ہمت نہ تھی ۔مجھ پر کوئی گرااور پھر مجھے کوئی ہوش نہ رہا ۔جب ہوش آیا تو ایک لاش کے نیچے میراسر دباہواتھا۔

Dead Bodies
Dead Bodies

بڑی مشکل سے اپنا سر اورریت میں دبا ہوا اپناچہرہ نکالا ،گرم ریت سے منہ ،ناک اورآنکھوں میںاذیت ناک جھلن ہورہی تھی ۔طبیعت کچھ سنبھلی تو معین کی تلاش شروع کی جو کہ قریب ہی لاش کے نیچے نیم بے ہوشی میں دبا ہواتھا۔منظر دیکھاتو ہرطرف لاشیں ہی لاشیں تھیں ،کچھ زخمی تھے لیکن چلنے پھرنے سے معذور اور بری طرح زخمی تھے ۔ہمیں دیکھ کر زخمیوں نے پانی مانگا ۔قریبی کھیت کوپانی دینے والانالہ تھا جس میں قمیض ڈبوڈبو ان زخمیوں کے منہ میں نچوڑتے رہے ۔کئی زخمیوں نے پانی پی کر ہمارے سامنے آخری ہچکی لی ۔متین الرحمن لکھتے ہیں کہ ”آخری ہچکی لے کر زندگی کا سفر ختم کردینے کا غم انگیز منظر ذہن کو کیسا مائوف کردینے والا ہوتا ہے ،اس تاثر کو میں آج تک فراموش نہیں کرسکا ۔”اس کے بعد متین الرحمن اور ان کے بھائی زندہ دفن ہونے سے بچے اور اک کھیت میںکچھ عرصہ اذیت ناک چھپ کرگذارا ،سکھوں کے ہاتھوں زخم کھائے ،پھر ایک سکھ کی پناہ میں آئے اور پھراسی سکھ کے غلام بننے سے بچے اور آخر کا رٹرین کے ذریعے لاہور پہنچے جہاں انہیں انار کلی میں مشہور جوتوںکی دکان چائولہ بوٹ ہائوس کے مالک نیک دل شخصیت شیخ افتخار الدین نے اپنی تحویل میں لے لیا ۔جس کے کچھ عرصہ بعد یہ اپنے والدین سے مل گئے۔

یہ کہانی صرف ایک متین الرحمن کی نہیں بلکہ 1947ء میں جو پاکستان آئے ان کی ہے۔میرے ایک دوست کی والدہ نے بتایا تھا کہ ان کا خاندان ہجرت کرکے جب پاکستان پہنچاتو15افراد کے خاندان میں سے صرف 2لوگ زندہ تھے قیام پاکستان کے وقت جو ظلم وستم مسلمانوں پر ہوا آج بھی وہ لوگ محسوس کرکے آہیں بھرتے ہیں ۔جن کے سامنے مائوں بہنوں کی عصمتوں کاجنازہ نکلا ،مائوں کے سامنے بچوں کو انیوں پرپرویاگیا ،بیویوں کے سامنے سہاگ کاٹے گئے اور بیٹوں کے سامنے باپ کا سرتن سے جداکیاگیا۔یہ سب کس لئے تھا اتنی قربانیاں ،آگ وخون کا دریا ،زمین و جائیداد کی قربانی ،اپنی جائے پیدائش کی قربا نی کس لئے تھی ؟کیا یہ صرف ایک ملک کے لئے تھا ؟نہیں یہ قربانیاں اور عصمتوں کی قربانیاںدین اسلام کے لئے تھیں ۔ اگست 1947ء سے لے کر اگست2016ء تک کا سفر ماضی بن چکا لیکن پاکستانی قوم کو اپنے ماضی کو یادرکھتے ہوئے اپنی آنے والی نسلوں کامستقبل اسلام کے مطابق محفوظ اورروشن بناناہے ۔بھارت وکشمیر میں آج بھی مسلمانوں کا ہندوئوں نے جینا حرام کیا ہواہے ۔ کشمیر میں عیدالفطر کے بعد سے لے کر اب تک مسلسل ظلم وستم ،پیلٹ گن کا استعمال اور مسلسل کرفیوسے قحط کی کیفیت پیداہوچکی ہے۔

کشمیریوں کو پیلٹ گن کے ذریعے ہمیشہ کے اندھا بنایاجارہا ہے ۔ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت کشمیری مسلمانوں کی نسل کشی کی جارہی ہے ۔آئے دن بھارت میں مسلمانوں پرظلم وستم کی داستانیں رقم ہوتی ہیں۔اقوام متحدہ ،امریکہ ،یورپ اور انسانی حقوق کے ادارے خاموش تماشائی ہیں ۔پاکستان بن گیا اور ہم ہندوکے ظلم وجبر سے محفوظ ہوگئے تو کیا ہمارا فرض پورا ہوگیا ؟کشمیر و بھارت میں رہنے والے مسلمانوں کے زخموں کا مداواکون کرے گا ؟ جن کوآج بھی مسلمان اور پاکستان کے طعنے دیئے جاتے ہیں ۔ان مسلمانوں کے دکھوں کا مداوا کرنا ہمارا مذہبی واخلاقی فرض ہے ۔بھارتی مسلمانوں کے حقوق کی حفاظت کے لئے عالمی اداروں کواپنا کرداراداکرنا ہو گا ۔اگست کے مہینے میں آئیے اس متعلق سوچیں اور کچھ عملی اقدامات کی طرف توجہ دیں۔

Muhammad Atiq ur Rehman

تحریر : محمد عتیق الرحمن
03005098643/03216563157

Share this:

F A Farooqi

3,490 Articles
View All Posts
Passport
Previous Post پاکستانی شہریت ترک کرنے میں اضافہ
Next Post طاہرہ چشتی ایک فرض شناس آفیسر تعلیم
Tahirah chishti With D C O Layyah

Related Posts

لیبرڈے ;مشرقِ وسطیٰ بحران سے متاثرہ مزدوروں کے لیے حکومتی اقدامات..؟

April 30, 2026

مستقبل کی معیشت اسلام آباد مذاکرات کے تناظر میں

April 26, 2026

وائٹ ہاؤس پریس ڈنر میں فائرنگ، ٹرمپ اور میلانیا کو بحفاظت نکال لیا گیا،مشتبہ شوٹر کی شناخت 31 سالہ کول ٹامس ایلن کے طور پر ہوئی

April 26, 2026

ایران بات چیت کیلئے تیار، امریکی صدر کا ایک بار پھر ڈیل کیلئے اصرار

April 25, 2026
© 2026 Yes Urdu. All rights reserved.
  • خبریں
  • تارکین وطن
  • شاعری
  • ویڈیوز – Videos
  • اشتھارات
  • دلچسپ اور عجیب
  • کالم
  • کرائم

We use cookies to ensure you get the best experience on our website.

We use cookies to ensure you get the best experience on our website.