yes urdu logo
  • خبریں
    • اہم ترین
    • بین الاقوامی خبریں
    • شوبز
    • مقامی خبریں
    • کاروبار
    • کھیل
  • تارکین وطن
  • شاعری
    • شاعر
      • عاکف غنی
  • ویڈیوز - Videos
    • Animals
    • Child
    • Fail - Shock
    • Fun & Performance
    • Music & Movies
    • News Events & Travel
    • Religious
    • Sports
    • Technology
  • اشتھارات
  • دلچسپ اور عجیب
    • اچھی بات
    • صحت و تندرستی
  • کالم
  • کرائم
Dark Mode
Skip to content
Breaking News
پولیس کا گھر پر چھاپہ، خاتون اور مرد شرمناک حالت میں گرفتار ، مگر خاتون دراصل کون نکلی اور قصہ کیا تھا ؟ شرمناک حقیقت سامنے آگئی
مدرسوں کے بچوں کو مولویوں کی زیادتی سے بچانے کا ایک ہی طریقہ۔۔۔۔ بشریٰ انصاری کا ایک متنازع بیان سامنے آگیا
شوبز نگری سے گرما گرم خبر : دو خوبصورت ترین اداکارائیں جسم فروشی اور اعلیٰ شخصیات کو خوبصورت لڑکیاں فراہم کرنے کے الزام میں گرفتار ۔۔۔ ایک خبر نے پورے ملک میں ہلچل مچا دی
یااللہ خیر ۔۔۔ بھارتی خفیہ ایجنسی ’’ را ‘‘ کا چیف جسٹس آف پاکستان کے خلاف خوفناک منصوبہ بے نقاب، حکومت حرکت میں آگئی، بڑا حکم جاری کر دیا
نمرتا کیس میں نیا موڑ۔۔۔۔ میڈیکل کی طالبہ کے اکاؤنٹ میں لاکھوں روپے کہاں سے آئے اور کہاں گئے؟ نئی کہانی سامنے آگئی
yes urdu logo
  • خبریں
    اہم ترین
    • دنیا کا سب سے بڑا طیارہ بردار بحری جہاز ‘یو ایس ایس جیرالڈ آر فورڈ’ ریکارڈ تعیناتی کے بعد وطن واپس لوٹ گیا
    • وائٹ ہاؤس پریس ڈنر میں فائرنگ، ٹرمپ اور میلانیا کو بحفاظت نکال لیا گیا،مشتبہ شوٹر کی شناخت 31 سالہ کول ٹامس ایلن کے طور پر ہوئی
    بین الاقوامی خبریں
    • دنیا کا سب سے بڑا طیارہ بردار بحری جہاز ‘یو ایس ایس جیرالڈ آر فورڈ’ ریکارڈ تعیناتی کے بعد وطن واپس لوٹ گیا
    • ایران بات چیت کیلئے تیار، امریکی صدر کا ایک بار پھر ڈیل کیلئے اصرار
    شوبز
    • From Eddie Murphy to Whoopi Goldberg: Top 10 Funniest 90s Actorsانیسویں دہائی کے دس عظیم مزاحیہ اداکار: جن کی ہنسی آج بھی تازہ ہے
    • بڑی عمر کی خواتین پسند ہیں،کہتا ہوں اپنی ماوں کو مجھ سے بچاو،بشری انصاری کے شوہر کےاس مزاح والے بیان پر سوشل میڈیا پر ہنگامہ 
    مقامی خبریں
    • نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی زیر صدارت خطے کی تازہ ترین صورتحال پر جائزہ اجلاس، ترجمان دفتر خارجہ 
    • عالمی بحران,وزیراعظم شہباز شریف کااعلان ,عوامی امنگوں کا ترجمان ….؟
    کاروبار
    • ماں کی ایجاد: ’سلیپی ہیٹ‘ نے بچوں کی نیند کا مسئلہ حل کر کے کاروبار میں کامیابی کی نئی داستان رقم کردی
    • حکومتی قرضہ 78.5 کھرب روپے تک پہنچ گیا، مالیاتی دباؤ میں اضافہ
    کھیل
    • بھارت اور افغانستان کے درمیان 2026 میں تاریخی ٹیسٹ اور ون ڈے سیریز کا اعلان
    • شیہان راجہ خالد محمود جنجوعہ امریکہ میں چوتھی بار ہال آف فیم ایوارڈ حاصل کرنے والے پہلے پاکستانی مارشل آرٹسٹ بن گئے
  • تارکین وطن
  • شاعری
    شاعر
    • کس کو ہے میں نے کھویا مجھ کو کیا ملا
    • best, tick tock, video, till, yet, for, Pak, Army, and, ISIپاک فوج پربنائی جانیوالی اب تک کی سب سے بہترین ٹک ٹاک، دلکش نغمے کے ساتھ
    • عاکف غنی
  • ویڈیوز - Videos
    Animals
    • Chairman Mao Zedong meets U.S. President Richard Nixonچیئرمین ماو زڈونگ نے امریکی صدر رچرڈ نکسن سے ملاقات کی
    • Grizzly Bearدیو قامت ریچھ اپنے بچوں کے ساتھ ، دلچسپ ویڈیو دیکھیں
    Child
    • My, 18 ,month, old, grandson, showing, off, his ,tricksاٹھارہ ماہ کا پوتا اپنے دادا کو اپنی چالیں دکھاتے ہوئے۔۔ حیران کن ویڈیو دیکھیں
    • بچے اور چڑیا جانور
    Fail - Shock
    • White, Trash, Prank Now, this, is, what, a, true, joke/prank, should, be!, Something, innocent, they, everyone, laughs, at, the, end!, Not, this, crap, where, people, are, throwing, spiders, on, people, or, putting, oil, on, the, floor, and, making, them, fall, and, get, hurt, or, sticking, your, butt, in, sleeping, people’s, faces., This, was, awesome, thanks, for, a, laugh!وائٹ ردی کی ٹوکری پرسکون ویڈیو دیکھیں یہاں کلک کریں
    • This, isn't, going, to, go, well. CLICK, HERE, TO, WATCH, VIDEO The, last, time, he, tried, to, do, it, and, flipped, so, many, times, at, the, end,, it, made, me, laugh, more, thanناممکن چیز کرنے کی کوشش کریں جب آپ اس کے اہل ہوں ورنہ ایسا بھی ہوسکتا ہے!
    Fun & Performance
    • ایک بچہ اپنے والد کے بارے میں کیا سوچتا ہے؟ باپ کے پسینے کا حق ادا نہیں ہوسکتا یہ سمجھنے میں اتنی دیر کیوں لگ جاتی ہے؟ جانیے اس ویڈیو میں
    • best, tick tock, video, till, yet, for, Pak, Army, and, ISIپاک فوج پربنائی جانیوالی اب تک کی سب سے بہترین ٹک ٹاک، دلکش نغمے کے ساتھ
    Music & Movies
    • پاکستان اوربھارتی پنجاب کے فنکاروں سے سجی چل میرا پت کی کینیڈا میں سکریننگ، بہترین مناظر
    • best, tick tock, video, till, yet, for, Pak, Army, and, ISIپاک فوج پربنائی جانیوالی اب تک کی سب سے بہترین ٹک ٹاک، دلکش نغمے کے ساتھ
    News Events & Travel
    • خامنہ ای کی واپسی؛امریکی حملے اور اس کے بعد کے واقعات پر مبنی ایرانی ویڈیو نے سوشل میڈیا پر تہلکہ مچا دیا آیت اللہ خامنہ ای کی اسرائیلی حملے میں شہادت کے بعد ان کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای نے سپریم لیڈر کا عہدہ سنبھالا ہے
    • میری زندگی کی سب سے بڑی غلطی،شادی نہ کرنے کے علاوہ سب سے بڑا پچھتاوا، شیخ رشید کا حیرت انگیز انکشاف
    Religious
    • Map, of, the, world, reshaping, DG, ISPR, Asif Ghafoor, condemned, effort, to, burn, Quran, in,Norway, and, support, the, young, man, who, tried, to,stop, the, bad, effortدنیا کا نقشہ تبدیل ہونے کا وقت ۔۔۔!!!نارروے میں قران پاک جلانے کے واقعہ کے حوالے سے پاک فوج کے فخر ’ میجر جنرل آصف غفور کا بڑا اعلان‘ ۔۔۔۔ امت مسلمہ میں جوش کی لہر دوڑ گئی
    • The time when an unbelieving general refused to see the face of the Holy Prophet (peace be upon him).وہ وقت جب ایک کافر جرنیل نے رسول پاک ﷺ کا چہرہ دیکھنے سے انکار کر دیا۔اسلامی تاریخ کا ایمان کو جھنجوڑ دینے والا واقعہ
    Sports
    • ورلڈ کپ 1992 کے یادگار لمحات٫دارالحکومت میں پروقار تقریب اور راولپنڈی میں کھلاڑیوں کا تاریخی استقبال. یادگار مناظر
    • Great news: Australia vs Pakistan after Sri Lanka - The Australian team was also announcedبڑی خوشخبری : سری لنکا کے بعد آسٹریلیا بمقابلہ پاکستان ۔۔۔ آسٹریلوی ٹیم کا اعلان بھی کر دیا گیا
    Technology
    • Great news for iPhone giantsآئی فون کے دیوانو ں کے لیے بڑی خوشخبری
    • سام سنگ کا فولڈ ایبل فون نئی تبدیلیوں کے ساتھ دوبارہ مارکیٹ میں آ گیا ۔۔۔ سکرین سے فولڈ ہونے والے اس فون میں کیا خصوصیات ہیں ؟ جانیے
  • اشتھارات
  • دلچسپ اور عجیب
    اچھی بات
    • Hazrat MUHAMMAS SAWعشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم
    • بالآخرقرآن پوری دنیا پر غالب آ گیا۔۔۔کروناوائرس خدشات، کل جمعے کے روز پوری دنیا میں دوران نماز سورۃ فاتحہ اور مختصر آیات پڑھنےکا فیصلہ کر لیا گیا
    صحت و تندرستی
    • اس موسم گرما آڑو کھانا نہ بھولیں
    • پیازکا ایسا استعمال جو جسم کے تمام فاسد مادوں کے اخراج اورچہرے کی تروتازگی (کلینزنگ) وخوبصورتی میں مدد کرے اور اعصاب کو سکون پہنچائے
  • کالم
  • کرائم
کالم

29 مئی آسیہ اور نیلوفر کی بے بسی کا دن

F A Farooqi May 30, 2016 1 min read
Asiya and Neelofer
Share this:
Asiya and Neelofer
Asiya and Neelofer

تحریر : سعد سالار
یہ بات لاریب ہے کہ پچھلے ساٹھ سالوں میں جموں کشمیر کی تاریخ کا ہر باب ظلم و ستم، خوف و دہشت، قتل و غارتگری، انسانیت کی پامالی، آہوں اور چیخوں کی کربناک صداؤں، دلخراش و دلسوز واقعاتوں اور بھیانک و جگرسوز مناظروں سے بھرا پڑا ہے۔ ان ساٹھ سالوں میں کہی بے گناہوں کو جرمِ بے گناہی میں پیوندِ خاک بنایا گیا تو کہی بے کسوں کو دارورسن کی گود میں بٹھایا گیا، کہی اسکولی بیگ اُٹھائے بچے کی زندگی کا چراغ گُل کردیا گیا تو کہی اپنے حقوق کی بازیابی کے لئے آواز اُٹھانے والے کو پسِ دیوار زندان خانے کے حوالے کر دیا گیا، کہی بستیوں کا تاراج کیا گیا تو کہی بستیوں میں بسنے والوں کا قافیہ حیات تنگ کیا گیا، کہی ابنِ آدم کو مشقِ ستم بنایا گیا تو کہی بنتِ حوا کی ناموس چھیتڑوں کی طرح ہوا میں اُڑائی گئی، کہی دن کی روشنی میں سرزمینِ کشمیر خونِ آدم سے لالہ زار ہوئی تو کہی رات کی تاریکی میں عزت و عصمت کا جنازہ نکالا گیا، کہی بوڑھے باپ نے اپنے بیٹے کی جوان لاش کو اپنے کپکپاتے کندھوں پہ اُٹھایا تو کہی ماں نے اپنے کلیجے کے ٹکڑے کو لحد میں اترتے دیکھا، کہی لاپتہ بھائی کا راستہ تکتے تکتے بہن کی آنکھیں پتھرا گئی تو کہی بھائی نے بہن کی آہوں اور چیخوں کو ہوا میں تحلیل ہوتے دیکھا، کہی کشمیر کی گود میں بسنے والوں کی حالت زار پر کشمیر کو سینہ کوبی کرتے دیکھا گیا تو کہی خونِ ناحق سے رنگین ہوکر جہلم کو ماتم کرتے ہوئے دیکھا گیا۔

غرض کشمیری قوم نے اس عرصے میں ان گنت اور لاانتہا ظلم کے نہ تھمنے والے دور کا مشاہدہ کیا اور حق یہ ہے کہ کشمیری قوم کو دبانے کے لئے جبر کے نت نئے ہتھکنڈے اپنائے گئے لیکن یہ کشمیری قوم ہی تھی جس نے بُنیان المرصوص بن کر بادِ مخالف کو راستہ بدلنے پر مجبور کیا۔ تاریخِ کشمیر گواہ ہے کہ غلامی کی طویل اور سیاہ رات کا سینہ چاک کرنے کے لئے قوم کو بے انتہاقربانیاں دینی پڑرہی ہے جن کا تصور کر کے ہی رونگٹھے کھڑے ہوجاتے ہیں۔ جب کشمیری قوم کے پیدایشی حق پر شب خون مارا گیا اور پوری قوم کے جذباتوں، ارمانوں، امنگوں اور خواہشوں کو جبر کے خنجر سے ضرب دے کر ذبح کیا گیا تو کوئی نہیں جانتا تھا کہ اب کشمیر کے اُفق پر ظلم کی ایسی آندھی چلے گی جس سے روحِ کشمیر کانپ اٹھے گی اور یہاں کے دشت و جبل، بحروبراور عرش و فرش ایسے دلخراش مناظر کے چشم دید گواہ بن جائینگے جن مناظر کا کسی مہذب دنیا نے تصور نہ کیا ہوگا۔ یوں تو کشمیر ی قوم نے اپنی مبنی بر حق جدوجہد کو منزل مقصود سے درکنار کرنے کے لئے ایسی قربانیاںدیں جو صرف زندہ قومیں دے سکتی ہیں ، یہاں ماں کی گود سے بیٹے کو چھین کر کسی چوراہے پر قتل کر کے پھینک دیا گیا مگر ماں نے اُف تک نہ کی، یہاں آشیانوں کو راکھ میں تبدیل کیا گیا مگر لوگوں نے آہ تک نہ کی، یہاں لاکھوں جوانوں کو زمین کا پیوند بنا دیا گیا مگر کبھی کسی نے آنسوؤں کو نہ بہنے دے کر قوم کے حوصلوں کو شرمندہ نہ کیامگر اس بد نصیب قوم کی تاریخ میں کچھ ایسے سانحات رقم کئے گئے جن کی وجہ سے پوری قوم خون کے آنسو روپڑی۔ کشمیر کی وہ کون سی آنکھ ہے جس نے ان دلسوز واقعاتوں پہ آنسوؤں کے بدلے خون نہ بہایا ہو۔ کشمیری تاریخ کے ان سانحات میں ایک ایساسانحہ جس نے قوم کو ایسا گھاؤ دیا جس کا درد تقریبََا بیس سال گذرجانے کے بعد بھی کشمیر کے بچے ، بوڑھے، جوان ، مائیں اور بہنیں اپنے سینے میں محسوس کرتے ہیں۔

Protest
Protest

سانحہ ”کنن پوشہ پورہ” جس میں عزت کی رداؤں اور عصمت کی قباؤں کو بے رحم ہاتھوں نے رات بھر تار تار کیا ،کشمیری قوم کی اُن عزت مآب ماؤں اور بہنوں کی جگرسوز داستان ہے جن کا سب کچھ اپنے گھر کے اندر ہی لُٹ گیا اور جن کی حالت پر رات کے تارے تادمِ سحر تک اشک باری کرتے رہے۔سانحہ کنن پوشہ پورہ کو انجام دینے والے شیطان صفت ابھی آزادی کے ساتھ گھوم کر کشمیریوں کے زخم پر نمک چھڑنے کا کام کر ہی رہے تھے اور انصاف کا قاضی ابھی فتویٰ دینے کے لئے شواہد اور ثبوت ہی اکٹھا کر رہا تھا کہ اس قوم پر ایک اور زخم لگایا گیا جس نے کنن پوشہ پورہ کی یاد تازہ کردی۔ ٢٩ مئی ٢٠٠٩ء کو شوپیان کی آسیہ اور نیلوفر اپنے باغ میں گئے تاکہ کھانے کے لئے سبزی لائیں اور سبزی تو نہیں آسکی لیکن وہاں سے اُن دونوں کی لاشیں آئی جن کو دیکھ کر آسمان بھی پھٹ پڑا اور زمین بھی سہم کر رہ گئی۔٢٩ مئی کی وہ شام جب شوپیان میں سورج تھک ہار کر اہرہ بل کے اونچے پہاڑوں کے پیچھے سستانے کی تیاری کر رہاتھا ،شام کا اندھیرا دن کی روشنی کو نگلنے کی کوشش کر رہا تھااور پرندے اپنے اپنے گھونسلوں کی جانب لوٹنے کا سوچ رہے تھے مگر آسیہ اور نیلوفر گھر سے تو نکل گئیں لیکن انھوں نے وآپس مڑنے کا سوچا ہی نہیں ، سوچتے بھی کیسے ،کیونکہ وہ ایک ایسی دنیا میں پہنچ چکی تھیں جہاں سے جانے والے وآپس نہیں لوٹتے۔دن کی روشنی میں گھر سے باغ کی طرف نکلنے والی آسیہ اور نیلوفر جب اُس وقت بھی وآپس نہیں لوٹیں جب اندھیرا روشنی پہ حاوی ہو چکا تھا تو ظاہر ہے کہ گھر والے بہت پریشان ہو گئے۔

اُنھوں نے رات بھر ڈھونڈا لیکن اُن کا نام و نشان کہی نہ ملا ، صبح جب ٣٠ مئی کی سحر طلوع ہوئی اور لوگ تلاش کرتے کرتے نالہ رمبی آرہ تک پہنچے تو وہ یہ دیکھ کر ششدر رہ گئے کہ آسیہ اور نیلوفر پتھروں کے ننگے بستر پر تشدد و اجتماعی عصمت دری کی لحاف اوڑھ کر سو چکی تھیں ، لوگ چیخنے لگے یااللہ یہ کیا ہوا؟ یہ کیا ماجرا ہے؟کس بد خصلت و شیطان صفت ہاتھوں نے یہ ظالمانہ فعل انجام دیا ؟ اہل خانہ زاروقطار رو رہے تھے اور ٹھنڈے جسموں کو پکار رہے تھے کہ خدارا ہمارے سوالوں کا جواب دو، کس نے آپ کے معصوم جسموں کو جنسی تشدد کر کے چھلنی کر دیا؟ لیکن جواب کون دیتا کیونکہ آسیہ اور نیلوفر کی زبانیں خاموش ہو چکی تھیں۔ اپنی حالت بیان کرنے کے لئے اُن کے پاس کچھ رہا ہی نہیں تھا البتہ رمبی آرہ کی فضاسوگوار تھی ، وہاں کے پتھر مرثیہ خواں تھے، وہاں کے درخت خود کو ہلا ہلا کر لوگوں کے سامنے ظلم کی داستان بیان کرنے کی کوشش کر رہے تھے مگر کاش قدرت اُنھیں زبان عطا کردیتی تو وہ بیان کردیتے کہ کس طرح سے آسیہ و نیلوفر کی فلک شگاف چیخوں نے رمبی آرہ کے اردگرد کے درودیوار ہلادئیے، کس طرح درندہ صفت حیوانوں نے اپنی درندگی کا اظہار کرتے ہوئے معصوموں کی کھلتی جوانیوں پر ترس نہ کھایاکیونکہ اس کی گود میں ظلم کا ایسا ننگا ناچ کھیلا گیا جو چشمِ فلک نے آج تک نہ دیکھا تھا۔ الغرض شوپیان سانحہ نے بھی کشمیری قوم کو ایسا زخم دیا جس کے درد نے پورے کشمیر کو بے قرار کر دیا، سارا کشمیر دہل اٹھا، کشمیر کی سڑکیں ویران ہوگئی،بازار سنسان ہو گئے ہر ایک آسیہ و نیلوفر کے قاتلوں کو سزا دینے کی مانگ کر رہا تھا پھر اُس وقت کی حکومت نے عوام کے آگے سرنڈر کرتے ہوئے تحقیقات کا حکم دیا۔

Kashmiris
Kashmiris

سانحہ شوپیان کی نام نہاد تحقیقات مکمل کر کے سی بی آئی نے حقیقت سے بعید رپورٹ عدالت عالیہ میں پیش کر کے گویا آسیہ و نیلوفر کے لواحقین کی بالخصوص اور کشمیری عوام کی بالعموم نمک پاشی کی۔حالانکہ گذشتہ سالوں کے دوران کشمیریوں پر کیا کچھ نہیں گذری ہے، کس کس نوعیت کے المیات پیش نہیں آئے مگر جہاں تک شوپیان سانحہ کا تعلق ہے یہ بہت ہی المناک اور خون کے آنسو رلادینے والا واقعہ ہے۔گو دو معصوم خواتین کی عصمت دری اور قتل کا یہ واقعہ دل دہلانے والا تو تھا ہی لیکن بعدازاں اس کی نام نہاد تحقیقات سے جو پُراسرار باتیں سامنے آئیں یا جس طرح سے اس سانحہ کے مجرمین کو بچانے کے لئے تحقیقاتی عمل کو پُرپیچ موڑ دئے گئے اُس نے اس واقعہ کو اس طرح کے دیگرواقعات سے جداگانہ اور زیادہ افسوسناک بنا دیا ہے۔ سی بی آئی نے جس انداز سے اس واقعہ کو ہمیشہ کے لئے دفن کرنے کی کوشش کی وہ افسوسناک ہی نہیں بلکہ مذموم بھی ہے۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ اس سانحہ کے پیش آنے کے ساتھ ہی مجرموں کے جکڑ لئے جانے کے سامان کئے جاتے مگر ایسا نہیں کیا گیا بلکہ ایک ہاتھ پہ تحقیقات کا اعلان کیا گیا اور دوسری طرف مجرموں کی پردہ پوشی کرنے کا مذموم عمل بھی شروع کیا گیا۔ دماغ پر معمولی زور دئے جانے پر ہی یہ بات واشگاف ہو جاتی ہے کہ سانحہ شوپیان کو روزِ اول سے ہی دبائے جانے کی کوشش کی گئی بلکہ تھانہ شوپیان میں اس سانحہ سے متعلق کئی دنوں تک محض ایک معمولی شکایت درج رہی۔ اس کے بعد سابقہ وزیراعلیٰ کا وہ حق سے بعید بیان جو اُنہوں نے سانحہ کے پیش آنے کے بعد ہی دیا کہ دونوں کی موت قدرتی طور ایک نالے میں ڈوبنے سے ہوئی، یہ الگ بات ہے کہ بعد ازاں عوامی موڑ کو بہت خراب ہوتے دیکھ کر عمر عبداللہ نے معافی مانگی اور یہ تاثر دیا کہ انہیں انتظامیہ نے غلط اطلاع فراہم کی تھی گو عمر عبداللہ نے معافی طلب کی مگرکیا غلط اطلاع فراہم کرنے والے کسی آفسر کے خلاف کوئی کاروائی بھی کی گئی کسی کو نہیں معلوم حالانکہ اس بات کو خارج از امکان قرار نہیں دیا جاسکتا ہے کہ غلاط اطلاع فراہم کرنے والے افسران نے کسی سازش کے تحت ہی وزیراعلیٰ کو غلط اطلاع فراہم کی تھی ، اگر اس غلطی کو سنجیدگی سے لے کر اس کی وجوہات تلاش کی گئی ہوتیں تو ممکن ہے کہ مجرمین کو چھپنے کا یوں موقع نہ ملا ہوتا۔

جان کمیشن کے ذریعے کی گئی تحقیقات میں بھی کئی خامیاں عیاں تھیںمگر ان کی جانب کوئی دھیان دئے بغیر سرکار نے عوام کی زبردست مزاحمت کے باوجود بھی خامیوں سے پُر اس تحقیقاتی رپورٹ کو تھوپنے کی کوششیں کی۔ پھر پولیس کی سپیشل انوسٹی گیشن کا نتیجہ بھی اسی طرح صفر کے برابر رہا اور مجرموں اور عدالت کے مابین فاصلہ بڑھتا ہی گیا۔ ضابطہ یہ تھا کہ اس سانحہ میں جو بھی لوگ شک کے دائرے میں تھے ان کے خلاف سخت کاروائی شروع کر کے جرم کی جڑوں تک پہنچنے کی کوشش کی جاتی مگر جان کمیشن سے لے کر سی بی آئی کی فرسودہ تحقیقات کی کاروائی کا جائزہ لینے پر ایسا لگتا ہے کہ جرم کی جڑوں کی جانب جانے کے بجائے تحقیقاتی ٹیموں کا سفر کسی اور ہی سمت تھا۔سی بی آئی نے جو مفصل رپورٹ پیش کی اس کا حقیقت کے ساتھ دور کا واسطہ بھی نہیں ہے، چنانچہ ایجنسی کا کہنا تھا کہ دونوں کی موت نالہ رمبی آرہ میں ڈوب مرنے سے ہوئی ہے جو کہ انتہائی مضحکہ خیز ہے حالانکہ جان کمیشن نے بھی اس بات کی گواہی دی کہ نالہ رمبی آرہ میں اتنا پانی نہیں ہے کہ جس سے ڈوب کر مرا جاسکتا ہے اور نہ ہی گذشتہ ایک دہائی کے دوران اس نالے میں کسی کے ڈوب مرنے کی کوئی تاریخ ہی ہے۔ بحث کے لئے اگر مان بھی لیا جائے کہ آسیہ و نیلوفر قدرتی طور اس نالے میں ڈوب گئیں تھیں لیکن ان کے جسموں پر لگے زخموں کا کسی کے پاس کوئی جواب ہے؟ آخر وہ زخمی کیسے ہوگئیں ؟ ان کے پوشیدہ اعضاء پر تشدد کے نشانات کیسے تھے؟ سی بی آئی کی 66 صفحات پر مشتمل رپورٹ کے حرف حرف پر بحث کی گنجائش موجود ہے اور اسے جھوٹ ثابت کیا جا سکتا ہے۔

حد یہ ہے کہ ایجنسیوں نے مجرموں کی نشاندہی کرنے کے بجائے خود سوگواروں کو ہی کٹہرے میں کھڑا کیا چاہے وہ انصاف کے متلاشی وکلاء ہوں، ڈاکٹر یا پھر واقعی کے عینی شاہدین، حالانکہ سی بی آئی ایک ایسا ادارہ ہے جس نے پُراسرار معاملوں کی تہہ تک جاکر کئی بار اپنی صلاحیتوں کا اعتراف کروایا ہے مگر بدنصیبی یہ ہے کہ کشمیر میں یہ ایجنسی ہمیشہ ہی دورُخی پالیسی اور مصلحتوں کا شکار ہوکر اپنی شبیہ بگاڑتی رہی ہے۔سانحہ کنن پوشہ پورہ ہو یا ہائی پروفائل جنسی سکینڈل سی بی آئی نے حقائق سے چشم پوشی کرکے کشمیر میں عوام مخالف اشتہار دیا حالانکہ جنسی سکینڈل کی تحقیقات کے دوران بدنامی کا داغ حاصل کر چکی اس ایجنسی کو سانحہ شوپیان نے اپنی ساخت بحال کرنے کا ایک نادر موقع فراہم کیا تھا مگر اس نے اس موقع کو گنوا دیا۔

Shopian Tragedy
Shopian Tragedy

آج جب سانحہ شوپیان کو سات سال مکمل ہوئے لیکن عصمتوں کے قاتل آج بھی کھلے عام اور آزاد گھوم کر کشمیریوں کے زخموں پر نمک پاشی کا کام کر رہے ہیںبلکہ اس معاملے کو سرد خانے میں ڈالا جا چکا ہے جو اہلِ خانہ کے ساتھ ساتھ پوری قوم کے جذباتوں کے ساتھ کھلواڑ ہے اور حقوق البشر کی پامالی ہے۔ پوری کشمیری قوم اس بات کی منتظر ہے کہ کب مظلوموں کی دادرسی کی جائے گی اور سماج کے لئے ناسور بنے ان بدخصلت انسانوں کو کب اپنے کرموں کی سزا ملے گی تاکہ قوم کی بیٹیاں ان ظالم پنجوں سے چھٹکارا پائیں جو وقت وقت پر بنتِ کشمیر کی حیا کی چادر کو داغدار کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ضرورت اس بات کی ہے کہ سانحہ شوپیان کا فیصلہ غیرجانبدارانہ اور منصفانہ ہو تاکہ آسیہ اور نیلوفر کی بے قرار روحوں کو قرار مل سکے۔ کشمیری قوم کا اس بات پر متزلزل بھروسہ ہے کہ تابندہ غنی کی طرح دیر سویر کنن پوشہ پورہ اورسانحہ شوپیان کو انجام دینے والے ملزم رسوا ہو کر اپنے کیفرِ کردار تک ضرور پہنچے گے کیونکہ مظلوموں کی آہیں اللہ تعالیٰ کے ہاں رائیگاں نہیں جاتی ہے کیونکہ انکے بیچ میں کوئی پردہ نہیں ہوتا ہے۔

تحریر : سعد سالار
SaadSalaar1@gmail.com
+92 323 7479127

Share this:

F A Farooqi

3,490 Articles
View All Posts
Previous Post شہر اور اس کے گردونواح میں ڈکیتی ، راہزنی اور چوری کی کئی وارداتیں ہوئیں
Next Post لیسکو کے عملہ کی عدم توجہی کی بناء پر کھمبوں سے نیچے آئی ہوئی بجلی کی تاروں سے چھو جانے کی بناء پر ٹرک کو آگ لگنے اور اس میں جل کر جانبحق

Related Posts

دنیا کا سب سے بڑا طیارہ بردار بحری جہاز ‘یو ایس ایس جیرالڈ آر فورڈ’ ریکارڈ تعیناتی کے بعد وطن واپس لوٹ گیا

May 1, 2026

لیبرڈے ;مشرقِ وسطیٰ بحران سے متاثرہ مزدوروں کے لیے حکومتی اقدامات..؟

April 30, 2026

مستقبل کی معیشت اسلام آباد مذاکرات کے تناظر میں

April 26, 2026

وائٹ ہاؤس پریس ڈنر میں فائرنگ، ٹرمپ اور میلانیا کو بحفاظت نکال لیا گیا،مشتبہ شوٹر کی شناخت 31 سالہ کول ٹامس ایلن کے طور پر ہوئی

April 26, 2026
© 2026 Yes Urdu. All rights reserved.
  • خبریں
  • تارکین وطن
  • شاعری
  • ویڈیوز – Videos
  • اشتھارات
  • دلچسپ اور عجیب
  • کالم
  • کرائم

We use cookies to ensure you get the best experience on our website.

We use cookies to ensure you get the best experience on our website.