خودکشی کبیرہ گناہ ہے خودکشی اللہ کی نافرمانی اور اللہ کی رحمت سے مایوسی کا نام ہے، رسول اللہ محمد صلى الله عليه وسلم نے خودکشی کرنے والوں کی نماز جنازہ نہیں پڑھائی البتہ عام مسلمانوں کو پڑھنے کا حکم ہے۔حضرت ثابت بن ضحاك رضى اللہ تعالى عنہ بيان كرتے ہيں كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:‘جس نے دنيا ميں اپنے آپ كو كسى چيز سے قتل كيا اسے قيامت كے روز اسى كا عذاب ديا جائيگا’۔حضرت ابو ہريرہ رضى اللہ تعالى عنہ بيان كرتے ہيں كہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:‘جس نے اپنے آپ كو پہاڑ سے گرا كر قتل كيا تو وہ جہنم كى آگ ميں ہميشہ كے ليے گرتا رہے گا، اور جس نے زہر پی كر خود كو قتل كيا تو جہنم كى آگ ميں زہر ہاتھ ميں پكڑ كر اسے ہميشہ پيتا رہے گا، اور جس نے كسى لوہے كے ہتھيار كے ساتھ اپنے آپ كو قتل كيا تو وہ ہتھيار اس كے ہاتھ ميں ہو گا اور ہميشہ وہ اسے جہنم كى آگ ميں اپنے پيٹ ميں مارتا رہے گا ’۔جندب بن عبد اللہ رضى اللہ تعالیٰ عنہہ بيان كرتے ہيں كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:‘تم سے پہلے لوگوں ميں ايك شخص زخمى تھا جب وہ تکلیف برداشت نہ كر سكا تو اس نے چھرى ليكر اپنا ہاتھ كاٹ ليا اور خون بہنے كى وجہ سے مر گيا، تو اللہ تعالى نے فرمايا: ميرے بندے نے اپنى جان كے ساتھ جلدى كى ہے، ميں نے اس پر جنت حرام كر دى’۔جابر بن سمرہ رضى اللہ تعالى عنہ بيان كرتے ہيں كہ: ‘رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے پاس ايك شخص لايا گيا جس نے اپنے آپ كو تير كے ساتھ قتل كر ليا تھا، تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے اس كى نماز جنازہ ادا نہيں فرمائى’۔نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے بطور سزا اور لوگوں كو اس طرح كے كام سے منع كرتے ہوئے خود تو نماز جنازہ ادا نہيں فرمائى، تاہم صحابہ كرام كو اس كى نماز جنازہ ادا كرنے كا حكم ديا تھا۔مؤمن و مسلم کا آخری حق ہے کہ اس کا جنازہ پڑھا جائے اور اسے مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کیا جائے۔ لہذا انکا جنازہ پڑھنا درست ہے۔البتہ خود کشی کرنے والے نے چونکہ کبیرہ گناہ کیا ہے لہذا اس کے جنازہ میں مقتدر اہل علم وتقوىٰ لوگ شامل نہ ہوں، تا کہ گناہ سے نفرت پیدا ہو۔
Journalism is not something we are earning, it is the treasure that we have to save for our generations.
Strong believer of constructive role of Journalism in future world.for comments and News
yesurdu@gmail.com
03128594276