counter easy hit

ایک خون گرما دینے والی تحریر

A blood-stroke writing

لاہور (ویب ڈیسک) غازی ٹیپو سلطان کی زندگی بھی مینار نور ہے اور شہادت بھی ہر مومن کی تمنا اس فرزند اسلام نے ثابت کر دیا کہ مومن غیر اللہ کے سامنے سرنگوں نہیں ہوتا اس کا یقین تھا مسلمان غلام نہیں ہو سکتا ۔ اسلام کو غلاموں کے لئے آزادی حریت کا دائمی پیغام دیتا ہے جب غداروں نے نامور کالم نگار عزیز ظفر آزاد اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔قلعے کے دروازے کھول کر دشمنوں کو شہر پناہ میں داخل کر لیا تو حضرت ٹیپو نے ہتھیار ڈال کر ذلت کی زندگی پر لڑ کے شہید ہونے کو فوقیت دیتے ہوئے مردانہ وار جنگ کی اور جام شہادت نوش فرمایا ۔آپ کی بہادری اور منصوبہ ساز شخصیت کے باعث انگریز فوج پوری طرح خوفزدہ تھی ۔سلطان کو شہید جان کر ایک انگریز قریب گیا تو زندگی کے آخری سانس لیتے ٹیپو نے ایک ہی وار میں سر قلم کر دیا جس کے نتیجے میں کئی دن تک نعش کے قریب جانے کی جرات نہیں کی ۔ ایک انگریز جرنیل نے شہید کے جسد خاکی کو سلیوٹ کرتے ہوئے کہا کہ آج تک اتنا بہادر آدمی نہیں دیکھا۔ انگریز مائیں اپنے بچوں کو ٹیپو کا نام لیکر ڈرا کر سلاتی تھیں۔ اس عظیم جرنیل کی شوکت و حشمت کا یہ عالم تھا کہ شہادت کے ایک عرصہ بعد مزار پر ایک وائسرا ئے گیا تو فوری طور پر الٹے پائوں بوکھلاہٹ کی حالت میں باہر نکلا ۔ ساتھیوں کے پوچھنے پر بتایا کہ سلطان کومزار میں زندہ محسوس کیا اس کی ہیبت و جلال کے باعث اندر کھڑا نہ ہو سکا ۔حضرت ٹیپو سلطان عظیم سپہ سالار ، حلیم حکمران اور بلند پایہ عالم باعمل شخصیت کے مالک تھے ۔ ان کے گمان اور وجدان میں ایک اسلامی فلاحی ریاست کے قیام کا تصور تھا جس میں وہ بڑی حد تک کامیاب ہوئے ۔14اگست 1947ء کو قائم ہونیوالی دنیا کی سب سے بڑی اسلامی ریاست پاکستان بھی شہید ٹیپو سلطان کی مملکت خداداد کا تسلسل ہے ۔ آج نسل نو اپنے عظیم المرتبت مشاہیر کی زندگیوں کا بغور مطالعہ کرنا چاہیے۔ آج بھی ہماری صفوں میںمیر صادق کی تلاش میں گامزن ہیں تاکہ اعلیٰ عہدوں تک پہنچاسکیں ۔ہمیں پرچم کی حرمت اور صفوں کی تطہیر پر توجہ مرکوز کرنی ہے ۔ یاد رکھو سرنگا پٹم کا قلعہ کسی دشمن نے فتح نہیں کیا تھا میر صادق نے دروازے کھولے تھے لہذا تاریخ کے اس بھیانک کردار کا سدباب کرنے میں دیر نہیں کرنی چاہیے کہیں ایک بار پھر وہ اپنے جالوں اور چالوں میں کامیاب نہ ہو جائیں۔

About MH Kazmi

Journalism is not something we are earning, it is the treasure that we have to save for our generations. Strong believer of constructive role of Journalism in future world. for comments and News yesurdu@gmail.com 03128594276

Connect

Follow on Twitter Connect on Facebook View all Posts Visit Website