counter easy hit

اگر پہاڑ نہ ہوتے تو کیا دنیا اب تک قائم ہوتی

لاہور(ویب ڈیسک)اللہ تعالیٰ کا حکم ہے کہ زمین میں سیر کرو اور دیکھو کہ جن قوموں نے اللہ تعالیٰ کی آیات کو جھٹلایا ان کا کیا حشر ہوا۔ اس حکم کے تحت سابقہ امتوں کا ایک راہب بھی زمین کی سیاحت کرتا تھا مگر پہاڑوں پر چڑھنے اترنے اور سنگلاخ وادیوں سے گزرنے میں اسے بڑی تکلیف ہوتی ۔ ایک دن نہ جانے اس کے دل میں کیا خیال آیا کہ تخلیق خداوندی پر اعتراض کر دیا کہ بار الہ اگر تو نے پہاڑ نہ بنائے ہوتے تو ہم کتنے آرام سے سفر کرتے اور آج جن پریشانیوں سے دو چار ہوتے ہیں ان سے محفوظ رہتے ۔ پہاڑ بنا کر تو تو نے ہمیں مشکل میں پھنسا دیا ہے۔اتنا کہنا تھا کہ اس کے علاقے کے نبی کو وحی ہوئی کہ آپ اس راہب سے کہہ دیں کہ تو نے چونکہ میری تخلیق پر اعتراض کیا ہے اور میری تخلیق پر اعتراض ، اللہ کے دوستوں کا نہیں دشمنوں کا کام ہے اس لئے میں نے تیرا نام دوستوں کے دفتر سے کاٹ کر دشمنوں اور جہنمیوں کے دفتر میں درج کر دیا ہے۔ نبی نے جب یہ پیغام اس راہب کو پہنچایا تو وہ سجدے میں گر کر تسبیح و تہلیل کرنے لگا۔ نبی کو سخت تعجب ہوا کہ یہ موقع تو سجدہ شکر بجا لانے کا نہیں ہے یہ وقت تو غمزدہ ہونے اور پشیمان ہونے کا ہے اور یہ اللہ کا بندہ غمزہ ہونے کے بجائے سجدہ شکر ادا کر رہا ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ کے اس پاک نبی نے درویش سے اس کا سبب دریافت کیا۔ درویش نےعرض کیا اللہ کے نبی ! آپ کا خیال بالکل درست ہے کہ مجھے غمگین ہونا چاہیئے تھا مگرمیں سجدہ شکر اس بات پر ادا نہیں کر رہا کہ میرا نام دوستوں کے دفتر سے کاٹ کر دشمنوں اور جہنمیوں کے دفتر میں لکھ دیا گیا میں نے تو یہ سجدہ شکر اس بات پر ادا کیا ہے کہ چاہے کسی بھی دفتر میں میرا نام لکھا گیا کم از کم میرے رب کے دفتر میں میرا نام تو لکھا گیا ہے ۔ یہی اعزاز میرے لئے کیا کم ہے کہ میرے رب نے مجھے یاد رکھا ہے؟ اب آپ میرے رب سے اتنی التجا کر دیں کہ جہنم میں ڈالتے وقت میرے جسم کو اتنا بڑا کر دے کہ سارا جہنم صرف میرے وجود سے بھر جائے اور دوسرے اس میں داخل ہی نہ کئے جائیں۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی آئی کہ درویش کو کہہ دیں کہ انسانیت کے ساتھ اس محبت کی وجہ سے اس کا ہر قصور معاف کیا جاتا ہے کہ انسانیت کی محبت سے بڑھ کر کوئی عبادت نہیں۔

About MH Kazmi

Journalism is not something we are earning, it is the treasure that we have to save for our generations. Strong believer of constructive role of Journalism in future world. for comments and News yesurdu@gmail.com 03128594276

Connect

Follow on Twitter Connect on Facebook View all Posts Visit Website