counter easy hit

بریکنگ نیوز : مفتی تقی عثمانی پر قاتلانہ حملہ، ایک اور نامور عالم دین کی حملے میں شہادت کی خبر آ گئی

کراچی (ویب ڈیسک) مفتی تقی عثمانی پر قاتلانہ حملے میں زخمی ہونے والے مفتی عامر شہاب دم توڑ گئے۔جناح ہسپتال کی ترجمان ڈاکٹر سیمی جمالی نے بتایا کہ مفتی تقی عثمانی پر قاتلانہ حملے میں زخمی ہونے والے مفتی عامر شہاب دم توڑ گئے ہیں۔ وہ حملے کے بعد سے جناح ہسپتال میں زیر علاج تھے، انہیں جسم کے بالائی حصے میں گولیاں لگی تھیں۔ خیال رہے کہ 22 مارچ کو دارالعلوم کراچی کے شیخ الحدیث جسٹس (ر) مفتی تقی عثمانی پر قاتلانہ حملہ ہوا تھا جس کے نتیجے میں 2 افراد موقع پر ہی جاں بحق ہوگئے تھے۔ مفتی شہاب عامر کی شہادت کے بعد اس حملے کے شہدا کی تعداد تین ہوگئی ہے۔مفتی تقی عثمان تقریباً 13 دن موت و حیات کی کشمکش میں رہے اور آج زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئے۔ اس حملے میں مفتی تقی عثمانی ، ان کے صاحبزادے اور پوتے محفوظ رہے تھے۔دوسری جانب آئی جی سندھ پولیس ڈاکٹر کلیم امام نے کہا ہے کہ مفتی تقی عثمانی پر حملے کی تحقیقات جاری ہیں اور اس حوالے سے کچھ کڑیاں ملی ہیں۔کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مفتی تقی عثمانی پر حملے کے واقعے کی تحقیقات کررہے ہیں، کچھ کڑیاں ملی ہے جو فی الحال میڈیا سے شیئر نہیں کرسکتے، بہت جلد ملزمان قانون کی گرفت میں ہوں گے۔دریں اثناء ذرائع کیمطابق مفتی تقی عثمانی پر قاتلانہ حملے میں 6 دہشت گرد شامل تھے، ان میں شامل موٹرسائیکل سوار 2 دہشتگردوں نے مفتی تقی عثمانی کا دارالعلوم کورنگی سے تعاقب کیا، ان ہی دہشتگردوں نے نیپا فلائی اوور کے اوپر ان کی گاڑی پر فائرنگ بھی کی۔فلائی اوور اترتے ہی دیگر دو دہشتگردوں نے گاڑیوں پر فائرنگ کی، دہشتگردوں کی جانب سے واردات میں دو ہتھیار استعمال کیے گئے۔تحقیقاتی ذرائع نے بتایا کہ مفتی تقی عثمانی پر قاتلانہ حملے کی واردات میں 6 دہشت گرد شامل تھے۔مفتی تقی عثمانی پر دو بار تین اطراف سے قاتلانہ حملہ کیا گیا تھا۔