واشنگٹن: امریکہ کی قومی انٹیلی جنس ڈائریکٹر ٹلس گیبارڈ نے سینیٹ کی انٹیلی جنس کمیٹی کے سامنے اپنے بیان میں متنبہ کیا ہے کہ پاکستان کی طویل رینج بیلسٹک میزائل ترقی میں ایسے میزائل بھی شامل ہو سکتے ہیں جو امریکہ کو نشانہ بنا سکیں۔
2035 تک میزائل کی تعداد میں پانچ گنا اضافے کا خدشہ
ٹلس گیبارڈ کے مطابق، امریکی انٹیلی جنس کمیونٹی کا اندازہ ہے کہ امریکہ کے خلاف میزائل کی موجودہ تعداد 3,000 سے بڑھ کر 2035 تک 16,000 سے تجاوز کر جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ روس، چین، شمالی کوریا، ایران اور پاکستان جوہری اور روایتی وار ہیڈز سے لیس نئے اور جدید میزائل ڈیلیوری سسٹمز پر تحقیق اور ترقی میں مصروف ہیں جو امریکی سرزمین کو اپنی رینج میں لے آتے ہیں۔
امریکی جوہری رکاوٹ کے باوجود بڑھتا ہوا خطرہ
انٹیلی جنس چیف نے تسلیم کیا کہ امریکہ کا محفوظ جوہری رکاوٹی نظام اسٹریٹجک خطرات کے خلاف حفاظت کو یقینی بناتا ہے۔ تاہم، انہوں نے زور دیا کہ مذکورہ ممالک کی جانب سے ہتھیاروں کی دوڑ میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے، جس سے عالمی استحکام پر سوالیہ نشان لگ رہا ہے۔
سینیٹ میں پیش کی گئی تفصیلات
ٹلس گیبارڈ نے بدھ کے روز سینیٹرز کے سامنے اپنے بیان میں کہا، “ہماری انٹیلی جنس کمیونٹی کا اندازہ ہے کہ ملک دشمن ممالک کے پاس موجودہ 3,000 میزائلوں کی تعداد 2035 تک اجتماعی طور پر 16,000 سے تجاوز کر جائے گی۔” ان کی یہ وضاحت موجودہ جغرافیائی سیاسی کشیدگی کے پس منظر میں کی گئی ہے۔
یہ انکشافات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب عالمی سطح پر ہتھیاروں کی دوڑ اور علاقائی تنازعات میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ ماہرین کے مطابق، ان اطلاعات سے بین الاقوامی تعلقات پر نئے سوالات کھڑے ہو سکتے ہیں۔


