مظفرآباد: قاری فاروق احمد نے کہا ہے کہ پاکستان ہمیشہ مقبوضہ جموں و کشمیر اور آزاد جموں و کشمیر کے عوام کے ساتھ کھڑا رہا ہے اور آئندہ بھی ان کے سیاسی، سماجی اور انسانی حقوق کے تحفظ اور جدوجہد کی مکمل حمایت جاری رکھے گا۔
اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر کے عوام کے جائز مطالبات کو سنجیدگی سے سنا اور ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے حکومتِ آزاد کشمیر اور متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ وہ عوامی نمائندوں کے ساتھ مذاکرات کا راستہ اختیار کریں اور باہمی مشاورت کے ذریعے مسائل کے پائیدار حل کو یقینی بنائیں تاکہ عوام میں پائی جانے والی بے چینی اور اضطراب کا خاتمہ ہو سکے۔
قاری فاروق احمد نے کہا کہ بعض حلقوں کی جانب سے دیے جانے والے بیانات ایسے خدشات کو جنم دے رہے ہیں کہ وہ کشمیری عوام کے حقیقی مفادات کے بجائے کسی بیرونی ایجنڈے کی نمائندگی کر رہے ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ایسے تمام معاملات کی شفاف اور غیرجانبدارانہ تحقیقات کی جائیں اور اگر کوئی فرد یا گروہ قومی مفادات کے خلاف سرگرمیوں میں ملوث پایا جائے تو اس کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے۔
انہوں نے مزید کہا کہ کشمیر کا مقدمہ بنیادی طور پر کشمیری عوام کے حقوق، آزادی، وقار اور فلاح و بہبود کا مقدمہ ہے، لہٰذا تمام فریقین کو ذمہ داری، بردباری اور سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے عوامی مسائل کے حل پر توجہ دینی چاہیے۔
انہوں نے حکومتِ پاکستان اور حکومتِ آزاد کشمیر سے مطالبہ کیا کہ عوام کے جائز مطالبات کو ترجیحی بنیادوں پر پورا کیا جائے اور کشمیری عوام کے اعتماد کو مزید مستحکم بنانے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
قاری فاروق احمد نے اپنے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور کشمیری عوام کا رشتہ قربانیوں، بھائی چارے اور مشترکہ جدوجہد پر مبنی ہے، جو مستقبل میں مزید مضبوط اور مستحکم ہوگا۔



