سلہٹ انٹرنیشنل کرکٹ اسٹیڈیم میں کھیلے جا رہے دوسرے ٹیسٹ میچ کے پہلے روز وکٹ کیپر بیٹر لٹن داس نے شاندار سنچری سکور کرتے ہوئے بنگلہ دیش کو پاکستان کے خلاف ایک مسابقتی مجموعے تک پہنچا دیا۔ میزبان ٹیم محض 116 رنز پر 6 وکٹیں گنوا کر مشکلات میں گھری ہوئی تھی، لیکن داس کی ذہین بلے بازی نے ٹیم کو 278 رنز پر آل آؤٹ ہونے میں مدد دی۔
لٹن داس کی جارحانہ سنچری
دائیں ہاتھ کے بلے باز لٹن داس نے 159 گیندوں کا سامنا کرتے ہوئے 126 رنز کی یادگار اننگز کھیلی، جس میں 16 چوکے اور 2 چھکے شامل تھے۔ انہوں نے نچلے آرڈر کے بلے بازوں کے ساتھ مل کر اہم شراکتیں قائم کیں اور ٹیم کو ایک قابلِ احترام پوزیشن میں لا کھڑا کیا۔
پاکستانی بولرز کی عمدہ کارکردگی
پاکستان کی جانب سے خرم شہزاد نے شاندار باؤلنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے 17 اوورز میں 81 رنز دے کر 4 وکٹیں حاصل کیں۔ محمد عباس نے 3، حسن علی نے 2 اور اسپنر ساجد خان نے 1 وکٹ لی۔ ان کی کوششوں نے بنگلہ دیش کو دوپہر کے کھانے کے فوراً بعد 116/6 کے بحرانی سکور پر لا کھڑا کیا تھا۔
بنگلہ دیش کی بیٹنگ لائن کی جدوجہد
بنگلہ دیش کی اننگز کا آغاز انتہائی مایوس کن رہا۔ تجربہ کار سیمر محمد عباس نے اننگز کی دوسری ہی گیند پر محمود الحسن جوئے کو آؤٹ کر کے میزبان ٹیم کو ابتدائی دھچکا پہنچایا۔ کپتان نجم الحسن شانتو (29)، مشفق الرحیم (23) اور مہدی حسن میراز (4) دوسرے سیشن میں صرف 36 گیندوں کے وقفے میں پویلین لوٹ گئے، جس سے ٹیم کی مشکلات میں مزید اضافہ ہوا۔
نچلے آرڈر کی اہم شراکتیں
لٹن داس نے تنہا محاذ سنبھالتے ہوئے پہلے تیج الاسلام (16) کے ساتھ ساتویں وکٹ کے لیے 52 رنز کی ناقابلِ شکست شراکت قائم کی۔ بعد ازاں انہوں نے شریف الاسلام (12 ناٹ آؤٹ) کے ساتھ بھی 60 سے زائد رنز کی اہم پارٹنرشپ کرتے ہوئے ٹیم کے مجموعی اسکور کو 278 تک پہنچایا۔
چائے کے وقفے تک بنگلہ دیش کا اسکور 168/6 تھا، جس کے بعد لٹن داس اور تیج الاسلام نے ذمہ دارانہ بلے بازی کا مظاہرہ جاری رکھا۔ میزبان ٹیم نے اپنی اننگز کا آغاز 26 اوورز میں 101/3 کے ساتھ کیا تھا، لیکن درمیانی آرڈر کی ناکامی نے پوری ٹیم کو دباؤ میں ڈال دیا تھا۔

