اسلام آباد ( اصغر علی مبارک )پاکستانی قیادت, ملٹری ڈپلومیسی کی طر ح جنگی سفارت کاری میں بھی ایران امریکہ خلیجی جنگ میں ماہر نظر آ ئی ہے,
کوئی نہیں جانتا کہ کل کیا ہو گا,لیکن حقائق یہ بتاتے ہیں کہ پاکستان کی تیز رفتار کامیاب ڈپلومیسی کےاثرات کی وجہ سے ایران امریکہ خلیجی جنگ جلد ختم ہو جائے گی ,
وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر وہ عالمی رہنما ہیں جن کی صلاحیتوں کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیا گیا ہے۔
پاکستانی قیادت کو جنگی سفارت کاری میں زیادہ قابل سمجھا جاتا ہے،
وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی صلاحیتوں کا اعتراف گزشتہ سال مئی میں ہونے والی پاک بھارت جنگ میں ہوا، خلیجی جنگ سے پہلے، جب پاکستان نے بھارت پر اپنی فوجی برتری اور بالادستی ثابت کی تھی۔
پاکستان 2026 میں ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان موجودہ جنگ میں ایک اہم ثالث کے طور پر ابھرا ہے اور اس کی سفارت کاری جنگ کو ختم کرنے میں مدد دے رہی ہے۔ کے لیے بہت اہم سمجھا جاتا ہے،
پاکستان کی سفارتی کوششوں کے اہم نکات درج ذیل ہیں۔
میزبانی اور مذاکرات: پاکستان نے اسلام آباد میں براہ راست امن مذاکرات کی میزبانی کی پیشکش کی ہے جس کی سعودی عرب، ترکی اور مصر جیسے علاقائی ممالک نے بھی حمایت کی ہے۔
پیغام کی ترسیل: پاکستانی حکام واشنگٹن اور تہران کے درمیان “غیر سرکاری” پیغامات پہنچانے کا ایک چینل بن چکے ہیں تاکہ دونوں فریقین کو مذاکرات کی میز پر لایا جا سکے۔
عالمی حمایت: چین اور یورپی یونین نے کھل کر پاکستان کی مصالحتی مہم کی حمایت کی ہے جس سے پاکستان کا سفارتی وزن بڑھ گیا ہے۔
امریکی موقف: صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حالیہ بیانات میں اشارہ دیا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ اگلے 2 سے 3 ہفتوں میں ختم ہو سکتی ہے۔ تاہم ایران کا کہنا ہے کہ وہ طویل مدتی دفاع کے لیے بھی تیار ہے۔
آبنائے ہرمز کی بندش اور توانائی کے بڑھتے ہوئے بحران نے عالمی طاقتوں پر دباؤ بڑھا دیا ہے کہ وہ پاکستان کی ثالثی کے ذریعے جلد از جلد کسی تصفیے تک پہنچیں۔
اگرچہ پاکستان، مصر، ترکی اور سعودی عرب کے وزرائے خارجہ جنگ بندی کے لیے روڈ میپ تیار کرنے کے لیے اسلام آباد میں ملاقات کر چکے ہیں، لیکن پاکستان کی حالیہ سفارتی کوششوں نے ثابت کر دیا ہے کہ ملک کی قیادت ملٹری ڈپلومیسی (Military Diplomacy) کے ساتھ ساتھ جنگی سفارت کاری (War Diplomacy) میں بھی توازن پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
اس سلسلے میں چند اہم پہلو یہ ہیں:
تزویراتی توازن (Strategic Balance): پاکستان نے خود کو کسی ایک بلاک (امریکہ یا ایران) کا حصہ بننے کے بجائے ایک “پل” کے طور پر پیش کیا ہے۔ یہ مہارت فوجی سفارت کاری کا خاصہ ہے، جہاں دفاعی تعلقات کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
خلیجی ممالک کا اعتماد: پاکستان کی قیادت (سویلین اور ملٹری) نے سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک کے تحفظات کو دور کیا ہے اور انہیں باور کرایا ہے کہ کشیدگی کا خاتمہ پورے خطے کے مفاد میں ہے۔
بیک چینل مواصلات: پاکستانی قیادت نے بیک چینل کے ذریعے واشنگٹن اور تہران کے درمیان اہم پیغامات پہنچا کر غلط فہمیوں کو دور کرنے میں کردار ادا کیا ہے، جو جدید ترین جنگی سفارت کاری کی بہترین مثال ہے۔
علاقائی اتحاد کی قیادت: اسلام آباد میں حالیہ سربراہی اجلاس (پاکستان، ترکی، مصر اور سعودی عرب) نے یہ ظاہر کیا کہ پاکستان صرف اپنی سرحدوں تک محدود نہیں ہے بلکہ بڑے علاقائی بحرانوں کو حل کرنے کی سفارتی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔
ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ کامیاب سفارت کاری پاکستان کی بین الاقوامی ساکھ کو تقویت دے سکتی ہے اور ثالثی کے عمل میں اس کی قیادت کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے دیرپا علاقائی امن کی بنیاد رکھ سکتی ہے۔
دریں اثناء ایرانی شہریوں نے تہران میں پاکستانی پرچم اٹھائے ریلی میں شرکت کی اور پاکستان کے حق میں نعرے لگائے۔
پاکستان کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہوئے ریلی کے شرکاء نے دونوں ممالک کے درمیان برادرانہ تعلقات کو سراہتے ہوئے “شکریہ پاکستان” کے نعرے بھی لگائے۔ ایرانی شہریوں نے کہا کہ ایران پاکستانی عوام کی محبت کو کبھی فراموش نہیں کرے گا اور دونوں ممالک کی دوستی مزید مضبوط ہوگی۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے تہران میں ریلی میں شرکت کرتے ہوئے کہا کہ میں عوام کے حوصلے بلند کرنے کے لیے ریلیوں میں آتا ہوں۔ عوام کا جوش و خروش عروج پر ہے۔ میری شرکت سمندر میں ایک قطرہ کی طرح ہے۔
دوسری طرف ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے مشروط جنگ بندی پر رضا مندی ظاہر کردی ہے, ایرانی صدر نے کہا ہےکہ ایران کے پاس جنگ ختم کرنے کا ’ضروری ارادہ‘ موجود ہے، بشرطیکہ کچھ شرائط پوری کی جائیں، مطالبات پورے کرو، دوبارہ حملہ نہ کرنے کی ضمانت دو تو جنگ ختم کرنے کیلئے تیار ہیں۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان کا کہنا ہے کہ ایران امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ جنگ کا خاتمہ چاہتا ہے، لیکن اس کے لیے کچھ تقاضے پورے ہونا ضروری ہیں۔ خلیج فارس اور آبنائے ہرمز کی موجودہ صورتحال دشمنی کے اقدامات کا نتیجہ ہے , آبنائے ہرمز صرف امریکا اور ان کے اتحادیوں کے لیے بند ہے, جنگ میں کسی بھی بہانے سے بیرونی مداخلت کے سنگین نتائج ہوں گے مزید کہا کہ یورپی یونین کی امریکی اور صہیونی جرائم پر خاموشی افسوسناک ہے، کہا ہمارا خطے کے ممالک پر حملہ کرنے کا کوئی ارادہ نہیں تھا، خطے میں امریکی فوجی اڈے ہونے کی وجہ سے حملے کئے گئے,اسی طرح امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا بھی کہنا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری کشیدگی اپنے اختتام کے قریب ہے اور امریکا کسی بھی صورت میں اپنا مشن مکمل کر کے پیچھے ہٹ جائے گا چاہے ایران مذاکرات کی میز پر آئے یا نہ آئے, دعویٰ کیا کہ ایران کو اس حد تک نقصان پہنچایا جا چکا ہے کہ وہ 20 سال پیچھے جا چکا ہے اور اگر امریکا کو یقین ہوگیا کہ ایرانی ایٹمی خطرہ ختم ہوچکا ہے تو وہ بغیر کسی معاہدے کے بھی جنگ سے نکل جائے گا۔صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ ایران میں بڑی تبدیلیاں آچکی ہیں اور وہاں ایک کم شدت پسند گروپ سامنے آیا ہے جبکہ امریکا کا مقصد رجیم چینج نہیں بلکہ صرف ایٹمی خطرے کا خاتمہ تھا,عندیہ دیا کہ آئندہ 2 سے 3 ہفتوں میں جنگ مکمل طور پر ختم ہوسکتی ہے تاہم ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ اگر ڈیل ہوتی ہے تو ٹھیک ورنہ امریکا کو اس کی ضرورت نہیں کیونکہ ایران کو ڈیل کی زیادہ ضرورت ہے ہمیں نہیں, صدر ٹرمپ نے کہا کہ اگر ایران کے پاس ایٹم بم ہوتا تو وہ اب تک استعمال کرچکا ہوتا اس لیے امریکا نے بروقت کارروائی کی, آبنائے ہرمز کو محفوظ بنایا جا رہا ہے اور دنیا کے ممالک وہاں سے باآسانی تیل حاصل کر سکتے ہیں۔
امریکی وزیرخارجہ مارکو روبیو کا کہناہے کہ ہم دیکھ سکتےہیں کہ ایران جنگ اب اپنے اختتام کے قریب ہے، جنگ کا اختتام آج یا کل نہیں ہوگا لیکن اختتام یقینی ہے، امریکی وزیرخارجہ نے کسی مرحلے پر ایران کے ساتھ براہِ راست ملاقات کا امکان بھی ظاہر کردیا۔اس دوران مسیحیوں کے روحانی پیشوا پوپ لیو نے خطے کی کشیدہ صورتحال پرافسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہاہے کہ انہیں اُمید ہے کہ 5 اپریل کو ایسٹر سے پہلے ایران کی جنگ ختم ہو جائے گی۔ایران جنگ کے جلد خاتمے کی خبروں کے اثرات آنا شروع ہوگئے، عالمی منڈی میں برطانوی خام تیل 118 ڈالر سے کم ہو کر 104 ڈالر فی بیرل کی سطح پرآگیا، امریکی خام تیل کی قیمت 102 ڈالر فی بیرل پر مستحکم ہے۔امریکی اسٹاک مارکیٹوں میں بھی تیزی دیکھنے میں آئی، ڈاؤ انڈیکس میں ڈھائی فی صد، ایس اینڈ پی میں 2.91 اور نیسڈیک میں 3.83 فیصداضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ جنگ کے پھیلاؤ نے دنیا بھر میں توانائی بحران کے خدشات کو شدت دے دی ہے۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق برینٹ کروڈ کی قیمت 3.09 ڈالر اضافے کے ساتھ 115.66 ڈالر فی بیرل تک جا پہنچی ہے جبکہ ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ بھی 102.56 ڈالر فی بیرل تک بڑھ گیا۔ صرف ایک ماہ کے دوران برینٹ میں 59 فیصد کا غیر معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا جو خلیجی جنگ 1990 کے بعد سب سے بڑا اضافہ ہے۔ اس ہوشربا اضافے کی بڑی وجہ آبنائے ہرمز کی بندش ہے جہاں سے دنیا کی تقریباً پانچواں حصہ تیل اور گیس گزرتی ہے۔ جنگ کے باعث اب خطرہ صرف خلیج تک محدود نہیں رہا بلکہ بحیرہ احمر اور باب المندب جیسے اہم تجارتی راستے بھی خطرے کی زد میں آ گئے ہیں۔ صورتحال اس وقت مزید سنگین ہو گئی جب یمن کے حوثی باغیوں نے پہلی بار اسرائیل پر حملے کیے جس سے جنگ کا دائرہ وسیع ہو کر پورے مشرقِ وسطیٰ تک پھیل گیا۔ ان حملوں کے بعد عالمی شپنگ روٹس اور تیل کی ترسیل شدید خطرات سے دوچار ہو گئی ہے دوسری جانب سعودی عرب نے اپنی تیل برآمدات کا رخ تبدیل کرتے ہوئے ینبع پورٹ کے ذریعے یومیہ 46 لاکھ بیرل تیل کی ترسیل شروع کر دی ہے تاہم اگر یہ راستہ بھی متاثر ہوا تو سپلائی مزید بحران کا شکار ہو سکتی ہے۔ ادھر عمان کے سلالہ ٹرمینل کو بھی حملوں میں نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں جبکہ ایران نے واضح کیا ہے کہ اگر امریکہ نے زمینی حملہ کیا تو بھرپور جواب دیا جائے گا۔ جبکہ پاکستان کی جانب سے بھی سفارتی سرگرمیاں تیز کر دی گئی ہیں، جنگ کی آگ بجھانے کے لیے سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کے وزرائے خارجہ نے وزیر خارجہ اسحاق ڈار پاکستان میں ملاقات کی۔ چاروں وزرائے خارجہ نے خطے میں جنگ کے خاتمے اور ممکنہ امریکہ ایران مذاکرات کے لیے اقدامات پر بات چیت کی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر جنگ کا دائرہ مزید پھیلا تو تیل کی قیمتیں نئی بلند ترین سطح کو چھو سکتی ہیں، جس کے اثرات عالمی معیشت پر شدید انداز میں مرتب ہوں گے پاسداران انقلاب ایران نے سعودی عرب میں امریکی پائلٹوں اور لڑاکا طیاروں کے عملے پر بڑے حملے کا دعوی کیا ہے۔ بریگیڈئیرجنرل سید ماجد موسوی کا کہنا ہےکہ الخرج علاقے میں مقیم 200 امریکی پائلٹوں اور عملے کی رہائش گاہیں میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنائی گئی ہیں، اسی علاقے میں امریکا کا ایواکس طیارہ بھی تباہ کیا گیا تھا، حملے میں کئی دیگر امریکی طیاروں کو بھی نقصان پہنچا تھا۔ دوسری طرف پاسداران انقلاب کی بحریہ نے علاقے میں بحری جہازوں، فوجی میٹنگز، ریڈار اور ڈرونز ڈیفنس نظام پر بھی چار بڑے حملوں کا دعوی کیا ہے۔ متحدہ عرب امارات کے ساحلی علاقے میں امریکی مرینز کی میٹنگ کو ڈرونز سے ہدف بنایا گیاجوکہ فوجی اڈے سے باہر کی جارہی تھی۔ بحرین کے مناما ائرپورٹ کے قریب فوجی اڈے کے باہر موجود امریکی ففتھ فلیٹ کے ہاک اینٹی ڈرون نظام کو بھی ڈورنز سے تباہ کرنے کا دعوی کیا گیاہے۔کویت کے احمد الجبر امریکی فوجی اڈے میں دو ارلی وارننگ ریڈار نظام بھی ڈرونز ہی سے تباہ کیے گئے۔فوجی اڈے میں 2 ارلی وارننگ ریڈار نظام ڈرونز سے تباہ کرنے کا بھی دعویٰ کیا۔وعدہ صادق چہارم آپریشن کی 88 ویں لہر میں اسرائیل کا ایکسپریس ہاف اونگ کنٹینر جہاز میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا۔پاسداران انقلاب نے خبردار کیا ہےکہ اب امریکا کی اعلی ترین اٹھارہ ٹیک کمپنیوں کے خطے میں دفاتر نشانہ بنائے جائیں گے اس دوران جنگ کے پھیلاؤ نے دنیا بھر میں توانائی بحران کے خدشات کو شدت دے دی ہے۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق برینٹ کروڈ کی قیمت 3.09 ڈالر اضافے کے ساتھ 115.66 ڈالر فی بیرل تک جا پہنچی ہے جبکہ ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ بھی 102.56 ڈالر فی بیرل تک بڑھ گیا۔ صرف ایک ماہ کے دوران برینٹ میں 59 فیصد کا غیر معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا جو خلیجی جنگ 1990 کے بعد سب سے بڑا اضافہ ہے۔ اس ہوشربا اضافے کی بڑی وجہ آبنائے ہرمز کی بندش ہے جہاں سے دنیا کی تقریباً پانچواں حصہ تیل اور گیس گزرتی ہے۔ جنگ کے باعث اب خطرہ صرف خلیج تک محدود نہیں رہا بلکہ بحیرہ احمر اور باب المندب جیسے اہم تجارتی راستے بھی خطرے کی زد میں آ گئے ہیں۔ صورتحال اس وقت مزید سنگین ہو گئی جب یمن کے حوثی باغیوں نے پہلی بار اسرائیل پر حملے کیے جس سے جنگ کا دائرہ وسیع ہو کر پورے مشرقِ وسطیٰ تک پھیل گیا۔ ان حملوں کے بعد عالمی شپنگ روٹس اور تیل کی ترسیل شدید خطرات سے دوچار ہو گئی ہے دوسری جانب سعودی عرب نے اپنی تیل برآمدات کا رخ تبدیل کرتے ہوئے ینبع پورٹ کے ذریعے یومیہ 46 لاکھ بیرل تیل کی ترسیل شروع کر دی ہے تاہم اگر یہ راستہ بھی متاثر ہوا تو سپلائی مزید بحران کا شکار ہو سکتی ہے۔ ادھر عمان کے سلالہ ٹرمینل کو بھی حملوں میں نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں جبکہ ایران نے واضح کیا ہے کہ اگر امریکہ نے زمینی حملہ کیا تو بھرپور جواب دیا جائے گا۔ جبکہ پاکستان کی جانب سے بھی سفارتی سرگرمیاں تیز کر دی گئی ہیں،اسی طرح
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران کے خلاف پالیسیوں اور ممکنہ جنگی اقدامات پر عوامی حمایت میں نمایاں کمی دیکھی گئی ہے، جبکہ ان کی مجموعی مقبولیت بھی کم ہو کر 33 فیصد تک آ گئی ہے۔یونیورسٹی آف میساچوسٹس امہرسٹ کی جانب سے جاری کیے گئے ایک حالیہ سروے کے مطابق صرف 33 فیصد امریکی شہریوں نے ٹرمپ کی کارکردگی کو سراہا، جبکہ 62 فیصد افراد نے ان کی پالیسیوں پر عدم اطمینان کا اظہار کیا۔سروے میں خاص طور پر ایران کے حوالے سے ٹرمپ کی حکمت عملی پر سوالات اٹھائے گئے۔نتائج کے مطابق صرف 29 فیصد افراد نے ایران کے خلاف کارروائیوں کی حمایت کی، جبکہ 63 فیصد امریکی عوام نے اس پالیسی کو مسترد کر دیا یاد رہے پوری دنیا کی نظریں پاکستانی قیادت کی قیادت پر لگی ہوئی ہیں۔ وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی قیادت میں دفتر خارجہ پاکستان نے تاریخ کے نازک موڑ پر ایک فعال، متحرک اور قائدانہ کردار ادا کیا ہے۔ اس منظر نامے میں وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی جیسی شخصیات پرعزم رہنما بن کر سامنے آئی ہیں جو نہ صرف حالات کی نزاکت کو سمجھتے ہیں بلکہ اس سے نمٹنے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں۔
یہ حقیقت ہے کہ فوجی سفارت کاری صرف بیانات دینے یا رسمی ملاقاتیں کرنے تک محدود نہیں ہوتی بلکہ اس کے لیے مسلسل جدوجہد، فکری پختگی اور دن رات محنت کی ضرورت ہوتی ہے۔ وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اس اصول کو عملی جامہ پہنا کر غیر معمولی قیادت کا مظاہرہ کیا ہے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے دن رات کا سفر کر کے ثابت کیا ہے کہ وہ ایک کامیاب سفارت کار ہیں، پاکستان نے خلیجی بحران کے دوران جو حکمت عملی اختیار کی وہ توازن، غیر جانبداری اور خیر سگالی پر مبنی تھی۔ ایک طرف امریکہ، سعودی عرب اور خلیجی اتحادیوں کے ساتھ دیرینہ تعلقات اور دوسری طرف ایران کے ساتھ ہمسائیگی اور مذہبی اور ثقافتی تعلقات، دونوں کے درمیان توازن برقرار رکھنا ایک نازک کام تھا۔ لیکن اسحاق ڈار کی قیادت میں پاکستان نے نہ صرف دونوں فریقوں کے ساتھ روابط برقرار رکھے بلکہ خود کو ایک ممکنہ ثالث کے طور پر بھی قائم کیا۔ پاکستان پر ایران کا اعتماد اس سفارتی حکمت عملی کی ایک بڑی کامیابی کے طور پر سامنے آیا۔ خطے کی پیچیدہ سیاست میں جہاں شکوک و شبہات عام ہیں، ایک ملک کا دوسرے پر اعتماد کو بڑی سفارتی کامیابی سمجھا جاتا ہے۔ اسی سلسلے میں پاکستان میں وزرائے خارجہ کی ایک بڑی کانفرنس کامیابی کے ساتھ منعقد ہوئی۔ یہ کانفرنس محض ایک رسمی اجتماع نہیں تھا بلکہ اس نے ایک پلیٹ فارم کی شکل اختیار کر لی جہاں خطے کے اہم ممالک نے ایک دوسرے کے موقف کو براہ راست سنا اور مشترکہ حل تلاش کرنے کی کوشش کی۔پاکستان, اسلام آباد کی میزبانی نے ثابت کر دیا ہے کہ پاکستان نہ صرف ایک ذمہ دار ریاست ہے بلکہ ایک ایسا ملک بھی ہے جو بات چیت، افہام و تفہیم اور امن کو فروغ دینے کے لیے عملی اقدامات کرتا ہے۔ یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ پاکستان نے روایتی سفارت کاری سے ہٹ کر ایک متحرک ذمہ دار ریاست کا انداز اپنایا۔ یہ سب اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان اس بحران میں صرف تماشائی نہیں ہے بلکہ ایک فعال کردار ادا کرنے والا ملک ہے۔ پاکستان نے شروع سے لے کر موجودہ مرحلے تک ایک مستقل اور مربوط حکمت عملی جاری رکھی ہے۔ یہ تسلسل پاکستان کی پوزیشن مضبوط کرنے میں مددگار ثابت ہوا ۔ پاکستان کی میزبانی میں سفارتی سرگرمیوں نے نہ صرف ملک کا امیج بہتر کیا ہے بلکہ عالمی سطح پر اس کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا ہے۔ دنیا ایک غیر یقینی دور سے گزر رہی ہے اور علاقائی تنازعات عالمی امن کے لیے خطرہ بن رہے ہیں، ایسے میں ملک کی قیادت نے یہ پیغام دیا ہے کہ پاکستان نہ صرف ایک ذمہ دار ریاست ہے بلکہ ایک ایسا ملک بھی ہے جو امن، استحکام اور بات چیت کے فروغ کے لیے ہر ممکن کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔ اس وقت تیل، پٹرول اور ڈیزل سمیت توانائی کے بحران نے دنیا کی معیشتوں کو برے طریقے سے متاثر کیا ہے۔ ہم بھی ان متاثرین میں شامل ہیں۔ اس بحران کا براہ راست اثر جہاں ریاستی نظام پر پڑ رہا ہے وہیں عام افراد پر بھی بڑے معاشی بوجھ کی صورت میں سامنے آیا ہے۔ ایسے میں دنیا سمیت پاکستان کی پوری کوشش ہے کہ امریکا اور اسرائیل کی جنگی مہم کو کہیں نہ کہیں روکا جائے۔ جنگ کی ابتدا کیونکہ امریکا اور اسرائیل نے کی ہے اور جوابی وار کے طور پر ایران جنگ کر رہا ہے۔ اس لیے جنگ کے خاتمے میں پہل تو امریکا اور اسرائیل ہی کو کرنی ہے۔ اگرچہ ایران کہتا ہے کہ جنگ امریکا اور اسرائیل نے شروع کی ہے جب کہ جنگ کا خاتمہ ہم کریں گے۔ ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملوں سے پاکستان سمیت پوری دنیا پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔اس صورتحال کے باعث اگر یہ جنگ مزید طوالت اختیار کرتی ہے تو پاکستان کو ایک نئے معاشی بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ واضح رہے کہ خلیجی ممالک ہمارے لئے نہ صرف توانائی کی درآمد کا بنیادی ذریعہ ہیں بلکہ بیرون ملک مقیم لاکھوں پاکستانیوں کا روزگار بھی ان ممالک میں ہے۔جنگ کی وجہ سے آبنائے ہرمز کی بندش اور خلیجی ممالک پر حملوں کے باعث تیل کی عالمی سپلائی پہلے ہی متاثر ہے واضح رہے کہ خلیجی ممالک میں کام کرنے والے لاکھوں پاکستانیوں کی جانب سے بھجوائی جانے والی ترسیلات زر بھی پاکستان کیلئے زرمبادلہ کے حصول کا بڑا ذریعہ ہیں۔ اسٹیٹ بینک کے جاری کردہ اعدادو شمار کے مطابق پاکستان کو مالی سال 2025ءمیں تقریباً38.3بلین ڈالر کی ترسیلات موصول ہوئیں۔ان میں سب سے زیادہ 35.9 ارب ڈالر سعودی عرب سے موصول ہوئے مشرق وسطیٰ کے ممالک بالخصوص سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور قطر کے ساتھ پاکستان کے برادرانہ تعلقات تیل کے حصول اور ترسیلات زر سے کہیں بڑھ کر گہرے ہیں۔ یہ ممالک پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر کو مستحکم رکھنےکیلئے بھی فنڈز کے حصول کا اہم ذریعہ ہیں۔ اس وقت بھی سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی طرف سے فراہم کردہ اربوں ڈالر اسٹیٹ بینک آف پاکستان میں جمع ہیں جبکہ تیل کی ادائیگی کی موخر سہولت اس کے علاوہ ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ نومبر 2025ء میں سعودی عرب اور پاکستان کے مابین ہونے والے اسٹرٹیجک دفاعی معاہدے نے ان تعلقات کو مزید گہرا کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ ایسے میں پاکستان کا معاشی مستقبل مشرق وسطیٰ میں ہونے والی پیش رفت سے جڑا ہوا ہے۔ اس حوالے سے درپیش چیلنجز کا سامنا کرنے کیلئے پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت اپنا بھرپور کردار ادا کر رہی ہے لیکن تاحال یہ جنگ جلد ختم ہوتی نظر نہیں آ رہی۔ ایسے میں اگر پاکستان اپنی سفارتکاری کے ذریعے ایران اور خلیجی ممالک کے مابین کوئی فوری تصفیہ کروا سکتا ہے تو اس کیلئےضرور کوشش کی جانی چاہیے اس سلسلے میں پاکستان کا سعودی عرب کی قیادت میں مشرق وسطیٰ کے دیگر ممالک کی شمولیت سے ایک وسیع تر دفاعی معاہدے پر اتفاق بھی صورتحال میں بہتری لانے کا باعث بن سکتا ہے۔دوسری طرف اقوام متحدہ کے اسسٹنٹ سیکریٹری جنرل عبداللّٰہ درداری نے کہا ہےکہ ایران جنگ کے ایک مہینے میں عرب ممالک کو 186 ارب ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑا ہے، اور مشرقی بُحیرۂ روم کے خطے میں یہ نقصان تقریباً 30 ارب ڈالر تک ہو سکتا ہے جنگ بندی میں ہر دن کی تاخیر عالمی معیشت پر منفی اثرات مرتب کر رہی ہے، ایک ماہ کی جنگ کے نتیجے میں عرب خطے کی مجموعی قومی پیداوار میں تقریباً 6 فیصد کمی کا اندازہ ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان سفارتی طور پر سعودی عرب اور ایران کے درمیان یا دیگر خلیجی ممالک کے ساتھ پیدا ہونے والے تنازعات کو کم کرنے میں کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے۔ کیونکہ پاکستان پر جہاں سعودی عرب اعتماد کرتا ہے وہیں دیگر خلیجی ممالک سمیت ایران بھی پاکستان کو ایک دوست ملک کے طور پر دیکھتا ہے۔ پاکستان اس وقت سعودی عرب ایران اور خلیجی ممالک کے درمیان ایک درمیانی راستہ نکالنے کی کوشش کر رہا ہے۔ پاکستان کی سیاسی عسکری قیادت مسلسل سعودی عرب سے رابطے میں ہے اور کوشش کی جا رہی ہے ایران کو ان ممالک پر حملہ کرنے سے روکا جا سکے۔پاکستان نے دنیا میں امن و استحکام کیلئے کامیاب سیاسی اور ملٹری ڈپلومیسی کا لوہا منوالیاہے۔امریکی نمائندہ خصوصی برائے مشرق وسطیٰ اسٹیو وٹکوف نے امریکی کابینہ میں پاکستان کی کامیاب سفارت کاری کا اعتراف کرتے ہوئے اسٹیو وٹکوف نے کہا کہ امن معاہدے کے فریم ورک کیلئے 15 نکالتی ایکشن لسٹ پاکستان کے ذریعے ایران تک پہنچائی ہے۔ پاکستان ایران اور امریکا میں بطور ایک ثالث کے اہم کردار ادا کر رہا ہے، پاکستان کے ذریعے ایران کیساتھ مضبوط اور مثبت پیغامات اور مذاکرات سامنے آئے ہیں۔ عالمی ماہرین کے مطابق پاکستان اپنی مدبرانہ پالیسیوں اور بہترین حکمت عملی کے باعث پوری دنیا کو متاثر کرنے والی جنگ کو رکوا رہا ہے، امریکا ایران جنگ میں پاکستان کی جانب سے ثالثی کا کردار پاکستان کی اہمیت اور عالمی سطح پر بھر پور اعتماد کا عکاس ہے۔ پاکستان متوازن تعلقات اور کامیاب سیاسی و ملٹری ڈپلومیسی کے باعث اپنی عالمی ساکھ کو مزید مستحکم کر رہا ہے۔





