کلف لگے کڑھائی والے کرتے،میک اپ اور خوشبووں کے ہلے ۔قیدی اسے جیل میں یوں بن سنور کررہتے دیکھتے تو تکتے ہی رہتے۔ جیل میں بھی مہارانیوں جیسا ٹھاٹھ باٹھ ۔ یہ کسی فلم کا سین نہیں اور مہارانی کے کردار میں کوئی اداکارہ نہیں۔ بلکہ یہ حقیقی منظر تھا اور جیتا جاگتا کردار۔ یہ کردار کسی باہر کی دنیا کا نہیں بلکہ پاکستان کی تاریخ کا ہے۔
نام تواقلیم اختر رانی تھا تاہم پہنچان تب بنی جب اقلیم اختر ہٹا اور ساتھ جنرل لگا۔۔۔ یعنی جنرل رانی۔۔۔
جنرل رانی کے پاس بھٹو اور جنرل یحیی کی رقص و سرور مخافل کی ریکاڈنگ کون لے گیا؟ بھٹو کی تصاویر اور کیسٹ کے بدلے جنرل رانی کو کیا ملا؟ پاکستان کی سیاسی تاریخ کا اک ایسا راز جو سب جاننا چاہتے ہیں۔ کئی دہائیوں بعد یہ راز افشاں ہوا ہے۔
یہ راز کچھ تو دفن ہے کوٹ لکھپت جیل لاہور کی دیوارں میں اور کچھ افراد کے سینوں میں۔
کہانی اس وقت شروع ہوتی ہے جب اقلیم رانی العروف جنرل رانی وہاں قید تھیں۔جنرل رانی جیل میں بھی بن ٹھن کر رہتی تھیں۔ کلف لگے کڑھائی والے کرتے، میک اپ اور خوشبوؤں کے ہلے۔
جماعت اسلامی کے سینئر رہنما ڈاکٹر فرید احمد پراچہ اپنی خود نوشت ” عمر رواں ” کے باب ” پس دیوار زنداں ” میں جنرل رانی سے ہوئیں اپنی ملاقاتوں کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ
دنیا بھر کے موضوعات تھے بالخصوص حالات حاضرہ، بھٹو شاہی کے آمرانہ اقدامات، کبھی دینی موضوعات اور کبھی یحییٰ خان کے رنگین قصے۔
دورِ طالب علمی سے لے کر اب تک کم وبیش 14 مرتبہ پس دیوارِ زنداں جا چکا ہوں جن معروف جیلوں میں سنتِ یوسفی ادا ہوئی ان میں لاہور کیمپ جیل، کوٹ لکھپت جیل، راولپنڈی کی ڈسٹرکٹ جیل (اڈیالہ بعد میں تعمیر ہوئی) ڈسٹرکٹ جیل سرگودھا، شاہ پور جیل، سکھر جیل، سملی ڈیم سب جیل وغیرہ شامل ہیں۔ جیلوں کا کم وبیش ماحول ایک جیسا ہی ہوتا ہے۔ لیکن پھر بھی ہر جیل کی کوئی نہ کوئی انفرادیت بھی ہے۔
دورِ طالب علمی میں ہمیں کوٹ لکھپت جیل سب سے اچھی لگتی تھی چونکہ نئی نئی تھی۔ اس لیے کھلا کھلا ماحول، صاف ستھری، پھولوں کی کیاریاں، درخت وغیرہ اور سب سے بڑھ کر حمید اصغر سپرنٹنڈنٹ۔ جیل کے قیدی انہیں پستول بھی کہتے تھے۔ شاید یہ ان کے ڈسپلن اور سخت گیری کی وجہ سے تھا لیکن اصلاً وہ نرم دل بھی تھے اور قیدیوں کے حق میں کئی لحاظ سے بہتر بھی۔ ہم سیاسی قیدی تھے پھر یونیورسٹیوں کے طالب علم، اس لیے ان کا ہمارے ساتھ رویہ دوستانہ اور بے تکلفانہ تھا۔ عموماً ہر روز گیارہ بجے جب وہ اپنے روزمرہ کے کاموں سے فارغ ہوتے تو ہمیں (مجھے عبدالشکور مسعود کھوکھر وغیرہ) اپنے دفتر بلا لیتے۔ ان کے گھر سے بنی ہوئی چائے پہنچ جاتی۔ پھول دار ٹی کوزی سے ڈھکی، خوبصورت چائے دانی میں گھر کے خالص دودھ سے بنی بہترین چائے۔
محفل میں حقیقت کا رنگ بھرنے کے لیے حمید اصغر زنانہ جیل سے جنرل رانی یعنی اقلیم اختر رانی کو بلا لیتے۔ وہ جیل میں بھی بن ٹھن کر رہتی تھیں۔ کلف لگے کڑھائی والے کرتے، میک اپ اور خوشبوؤں کے ہلے۔
شاید حمید اصغر ہماری اور جنرل رانی کی گفتگو سے کوئی راز نکلوانا چاہتے تھے۔ شاید ہماری اس گفتگو کی ریکارڈنگ بھی ہوتی ہو۔۔۔۔۔۔ اور شاید کچھ بھی نہ ہو۔ لیکن ہمیں بھی جنرل رانی سے بہت کچھ دریافت کرنا تھا۔ یحییٰ خان کی رنگین مزاجی، محفل ناؤ ونوش، سانحہ مشرقی پاکستان میں یحییٰ کا کردار وغیرہ۔ یہ دلچسپ گفتگو رہتی۔
ہم نے پوچھا کہ آپ کے یحییٰ خان سے تعلقات کیونکر بنے۔ اس نے بتایا کہ چھمب جوڑیاں سیکٹر میں جنگ کے دوران جب یحییٰ خان زخمی ہوئے تو یہ آرام کے لیے کم وبیش ایک ماہ ہمارے گھر رہے یہ اس وقت میجر تھے۔ یحییٰ خان کی میرے ماموں (جو بھی یحییٰ کے ہم رینک اور دوست تھے) سے بے تکلفی تھی۔ گجرات میں ہمارے گھر میں یحییٰ خان کے اس قیام کے دوران میری یحییٰ خان سے دوستی بن گئی اور یہ تعلق صرف دوستی کا تھا۔ اس سے بڑھ کر نہ تھا۔ یحییٰ خان نے اس دوستی کا ہمیشہ احترام کیا لیکن خلقت شہر کو کہنے کو کئی افسانے مل گئے۔
اس وقت جنرل رانی کی عمر چالیس سال سے متجاوز تھی اس نے بتایا کہ اس کے والد راجہ مظفر حسین ڈسٹرکٹ فارسٹ آفیسر تھے اور اس کے خاوند غلام رضا پولیس سروس میں ہیں۔ پہلے ایس ایچ او اور اب ڈی ایس پی ہیں اپنے خاوند کی سروس کی وجہ سے (اور شاید خاوند پر بھی محیط و مسلط ہونے کی وجہ سے) تھانیدارنی کہلاتی رہی ہیں اور اب جنرل یحییٰ سے تعلق کی وجہ سے جنرل رانی کہلاتی ہیں۔ وہ بتانے لگیں کہ یحییٰ سے میری دوستی کی وجہ سے لوگ اپنے کاموں کے سلسلے میں مجھ سے رابطہ کرتے ہیں اور میری کوشش سے لوگوں کے کام بھی ہو جاتے ہیں ہم نے میڈم نور جہاں سے اس کے اور میڈم کے یحییٰ سے تعلق کے بارے میں پوچھا تو اس نے بتایا کہ میں میڈم کی قدر کرتی ہوں اور یحییٰ انہیں پسند کرتا ہے۔ کس حد تک؟
اس کا جواب اس نے معنی خیز اور تبسم آمیز خاموشی سے دیا (میڈم بھی فوت ہو چکی ہیں اور اقلیم اختر رانی بھی جولائی 2002ء میں رب کے پاس چلی گئی ہیں۔ اس لیے اس موضوع پر ہماری خاموشی ہی بہتر ہے۔)
جنرل رانی پورے دلائل اور واقعات و شواہد کی بناء پر بھٹو کو سانحہ مشرقی پاکستان کا سب سے بڑا کردار سمجھتی تھی۔ اس کے مطابق یحییٰ اور مجیب میں معاہدہ طے پا گیا تھا کہ یحییٰ آئندہ صدر ہوگا اور
مجیب الرحمن وزیر اعظم۔ بھٹو نے یحییٰ کے لیے لاڑکانہ اپنے ہاں زبردست دعوت کا اہتمام کیا۔ رانی بھی اس سفر میں ہمراہ تھی۔
یہاں بھٹو نے رقص و سرود اور ناؤ ونوش کا نہایت اعلیٰ انتظام کر رکھا تھا۔ کئی خوبصورت چہرے بلائے گئے تھے۔ گانے کا بہترین انتظام تھا، وہ رنگین رات ہی مشرقی پاکستان کا فیصلہ کر رہی تھی۔ بھٹو نے یحییٰ کے ذہن میں بٹھا دیا کہ مجیب اسے قتل کرا دے گا۔ اس لیے اس سے فاصلہ رکھیں اسی صورت یحییٰ بلاشکرت غیرے اصل اقتدار اور اختیارات کا مالک رہ سکتا ہے۔
جنرل رانی نے یہ بھی بتایا کہ میرے پاس بھٹو اور یحییٰ کی ملاقاتوں کی ایسی ریکارڈنگ ہے کہ جو تاریخ کے کٹہرے میں ثابت کر سکتی ہے کہ سقوطِ ڈھاکہ کا ذمہ دار نہ مجیب ہے نہ یحییٰ۔ وہ صرف بھٹو ہے۔
اگرچہ ہم اس سے بحث کرتے رہے کہ بھٹو سازش کا جو بھی جال بچھائے تب بھی یحییٰ اور مجیب بری الذمہ کیسے ہو سکتے ہیں۔ لیکن وہ یحییٰ خان کی شراب نوشی اور رنگین مزاجی کی تائید کرنے کے باوجود اسے سادہ دل معصوم اور بھولا بھالا ہی سمجھتی تھی۔ اس نے کہا کہ میرے پاس جو کیسٹ اور تصاویر ہیں بھٹو نے ان کے لیے ہی مجھے جیل میں ڈالا ہے۔
ہم نے اسے قائل کر لیا کہ وہ یہ کیسٹ ہمارے حوالہ کرے۔ ہم جامعہ پنجاب میں ایک بڑی کانفرنس منعقد کریں گے۔ جس میں اسے بلائیں گے اور اس میں وہ بے دھڑک سب انکشافات کر دے۔ طلبہ اس کا مکمل تحفظ کریں گے۔ اس نے کہا کہ پہلے مجھے جیل سے نکلوائیں پھر میں آپ سے مکمل تعاون کا وعدہ کرتی ہوں۔ ہم نے کہا کہ ہم اس کے لیے قانونی معاونت کا بندوبست کریں گے۔ اس نے ہمیں اپنی بیٹی کے فون نمبر بھی دیئے کہ آپ لوگ رہا ہونے کے بعد اس سے رابطہ کریں۔
ہماری رہائی کے بعد بھی جنرل رانی جیل میں رہی تاہم شاید مصطفےٰ کھر یا کسی اور کے ذریعہ اس کے بھٹو صاحب سے کچھ معاملات طے ہو گئے جس کے ساتھ ہی اس کی رہائی عمل میں آئی۔
جاری ہے۔۔۔۔
اب یہاں سے شروع ہوتا ہے ایک اور کردار۔۔۔ جو جنرل رانی کے وکیل تھے اور ان سے کیا راز و نیاز ہوا؟ اگلے بلاگ میں۔۔۔ تب تک اگر آپ کے ذہن میں کوئی سوال ہے تو نیچے کمنٹ باکس میں ضرور لکھیں۔ آپ کے پاس اس سے ہٹ کر معلومات ہے تو بھی شئیر کرکے قارئین کی رہنمائی کیجے
جیل میں بھی مہارانیوں جیسا ٹھاٹھ باٹھ، اور خوشبووں کے ہلے ۔قیدی اسے جیل میں یوں بن سنور کررہتے دیکھتے تو تکتے ہی رہتے

