yes urdu logo
  • خبریں
    • اہم ترین
    • بین الاقوامی خبریں
    • شوبز
    • مقامی خبریں
    • کاروبار
    • کھیل
  • تارکین وطن
  • اردو ادب - شاعری
  • ویڈیوز - Videos
  • اشتھارات
  • دلچسپ اور عجیب
  • کالم
  • کرائم
Dark Mode
Skip to content
Breaking News
پولیس کا گھر پر چھاپہ، خاتون اور مرد شرمناک حالت میں گرفتار ، مگر خاتون دراصل کون نکلی اور قصہ کیا تھا ؟ شرمناک حقیقت سامنے آگئی
مدرسوں کے بچوں کو مولویوں کی زیادتی سے بچانے کا ایک ہی طریقہ۔۔۔۔ بشریٰ انصاری کا ایک متنازع بیان سامنے آگیا
شوبز نگری سے گرما گرم خبر : دو خوبصورت ترین اداکارائیں جسم فروشی اور اعلیٰ شخصیات کو خوبصورت لڑکیاں فراہم کرنے کے الزام میں گرفتار ۔۔۔ ایک خبر نے پورے ملک میں ہلچل مچا دی
یااللہ خیر ۔۔۔ بھارتی خفیہ ایجنسی ’’ را ‘‘ کا چیف جسٹس آف پاکستان کے خلاف خوفناک منصوبہ بے نقاب، حکومت حرکت میں آگئی، بڑا حکم جاری کر دیا
نمرتا کیس میں نیا موڑ۔۔۔۔ میڈیکل کی طالبہ کے اکاؤنٹ میں لاکھوں روپے کہاں سے آئے اور کہاں گئے؟ نئی کہانی سامنے آگئی
yes urdu logo
  • خبریں
    اہم ترین
    • برطانیہ میں سعودی سفارت خانے کی شہریوں کو لندن میں اجتماعات سے دور رہنے کی ہنگامی اپیل
    • شعلے کے گبر سنگھ کابیٹا دھریندر میں کس اہم کردار کیلئے کاسٹنگ ڈائریکٹر کی توجہ حاصل نہ کرسکا، امجد خان کی میراث گبر آج بھی برقرار
    بین الاقوامی خبریں
    • برطانیہ میں سعودی سفارت خانے کی شہریوں کو لندن میں اجتماعات سے دور رہنے کی ہنگامی اپیل
    • Putin to Visit China Days After Trump Tripٹرمپ کے دورے کے فوری بعد پوتن کا چین کا اہم دورہ، 19 مئی کو بیجنگ پہنچیں گے
    شوبز
    • شعلے کے گبر سنگھ کابیٹا دھریندر میں کس اہم کردار کیلئے کاسٹنگ ڈائریکٹر کی توجہ حاصل نہ کرسکا، امجد خان کی میراث گبر آج بھی برقرار
    • From Eddie Murphy to Whoopi Goldberg: Top 10 Funniest 90s Actorsانیسویں دہائی کے دس عظیم مزاحیہ اداکار: جن کی ہنسی آج بھی تازہ ہے
    مقامی خبریں
    • Pakistan Introduces New Civil Service Conduct Rules After 62 Years62 سال بعد سول سروس کے نئے ضابطہ اخلاق کا نفاذ، سرکاری ملازمین کے اثاثے عوامی ہوں گے
    • Sindh Lifts Market, Hotel Closing Time Curbsسندھ حکومت کا کاروباری برادری کو بڑا ریلیف، مارکیٹیں اور شادی ہال رات گئے تک کھلے رہیں گے
    کاروبار
    • ماں کی ایجاد: ’سلیپی ہیٹ‘ نے بچوں کی نیند کا مسئلہ حل کر کے کاروبار میں کامیابی کی نئی داستان رقم کردی
    • حکومتی قرضہ 78.5 کھرب روپے تک پہنچ گیا، مالیاتی دباؤ میں اضافہ
    کھیل
    • Litton Das Century Powers Bangladesh to 278لٹن داس کا شاندار سنچری، بنگلہ دیش کی پاکستان کے خلاف مضبوط واپسی
    • بھارت اور افغانستان کے درمیان 2026 میں تاریخی ٹیسٹ اور ون ڈے سیریز کا اعلان
  • تارکین وطن
  • اردو ادب - شاعری
  • ویڈیوز - Videos
  • اشتھارات
  • دلچسپ اور عجیب
  • کالم
  • کرائم
کالم

ہماری منزل سری نگر ہے، جن مساجد کو بھارتی فوج نے بند کیا انشااللہ وہاں پاکستانی وکشمیری مل کر شکرانے کے نوافل ادا کرینگے، شاہ محمود قریشی

MH Kazmi July 31, 2020August 3, 2020 1 min read
Share this:

اسلام آباد(یس اردو نیوز) ہماری منزل سری نگر ہے اور 5 اگست سے کشمیر ہائی وے کا نام سری نگر ہائے وے کردیا جائے گا۔ یہی شاہراہ ہمیں انشااللہ سری نگر تک لے کر جائے گی۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ سری نگر کی جس مسجد پر تالے لگائے ہیں وہ دن دور نہیں کہ اس مسجد میں پاکستانی اور کشمیری مل کر شکرانے کے نوافل ادا کریں گے۔5 اگست کو بھارتی کی طرف سے کشمیر کی علیحدہ حیثیت کو ختم کرکے کشمیریوں کے استحصال کرنے کو اجاگر کرنے کے لیے رواں برس 5 اگست کو یومِ استحصال منانے کا اعلان کیا ہے۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اسلام آباد میں وزیر اطلاعات شبلی فراز اور معاون خصوصی برائے قومی سلامتی معید یوسف کے ساتھ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانی قوم، کشمیریوں کے ساتھ کھڑی ہے اور کھڑی رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ کشمیریوں کی تاریخ وہ خود مجھ سے بہتر جانتے ہیں، جن کا لہو اس جدوجہد میں شامل ہو ان سے بہتر کون جان سکتا ہے؟ ‘5 اگست 2019 کشمیریوں کی اس جدوجہد کا ایک نیا موڑ ہے’ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ 5 اگست 2019 کشمیریوں کی اس جدوجہد کا ایک نیا موڑ ہے، اس روز ایک نئے باب کا اضافہ ہوا ہے۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ بھارت نے کشمیریوں کا تشخص مٹایا، انتظامیہ نے بزور بازو ان کا جھنڈا چھینا، ان کی شناخت ختم کی،

 

SRI NAGAR, MOSQUE, SEALED, BY, INDIAN, FORCES, WILL, BE, OPENED, FOR, PAKISTANIS, AND, KASHMIRIS, SOON, FOR, THANKS TO ALLAH, PRAYER, SAYS, SHAH MEHMOOD QURESHI

 

ریاست جموں و کشمیر کو 3 ٹکڑوں میں تقسیم کرنے کی کوشش کی لیکن کشمیریوں نے اسے ذہنی طور پر قبول نہیں کیا چاہے وہ ہندو پنڈت ہوں، چاہے لداخ میں رہنے والا بدھ مت یا وادی میں رہنے والا مسلمان ہے کسی نے ذہنی طور پر اسے تسلیم کیا ہے اور نہ ہی قبول کیا ہے اور ان کی جدوجہد جاری ہے۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ عمران خان نے اقوام متحدہ کے 74ویں اجلاس میں کشمیریوں کا مقدمہ پیش کرکے ثابت کیا کہ وہ کشمیریوں کے سفیر ہیں، وزیراعظم نے اس فورم پر کشمیریوں کی آواز بلند کی جہاں کچھ عرصہ پہلے اس لفظ کا استعمال ممنوع ہوگیا تھا اور یہ پاکستان کی حکومتوں کی پالیسی کا حصہ بن گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی ترجمان نے اپنے انٹرویو میں کہا تھا کہ ہمیں ہدایات تھیں کہ ہاتھ ہلکا رکھنا ہے۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ انسانی حقوق کونسل جینیوا نے کس طرح انسانی حقوق کے پہلو کو اجاگر کیا، اسی طرح اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے کانٹیکٹ گروپ کے 3 اجلاس ہوئے اور تیسرا اجلاس حال ہی میں ہوا تھا، جس میں سعودی عرب، ترکی اور آذربائیجان کے وزیر خارجہ نے جس انداز میں ہمارے مؤقف کی تائید کی اس پر میں ان کا شکر گزار ہوں۔ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ آئی پی یو میں اس مسئلے کو اجاگر کیا گیا اور اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ امریکی کانگریس میں 3 سماعتیں ہوئی ہیں جس میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو اجاگر کیا گیا ہے، پاکستان کی تاریخ میں کبھی ایسا نہیں ہوا۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ متنازع علاقہ ہے، جسے ہم نہیں سلامتی کونسل کی قراردادیں متنازع کہتی ہیں جسے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی سرکار نے ضم کرنے کی کوشش کی ہے، جسے کشمیریوں اور پاکستان نے مسترد کیا۔ شاہ محمود قریشی نےکہا کہ اس کے بعد بھارت نے ری آرگنائزیشن ایکٹ نافذ اور اس کے ساتھ ڈومیسائل قوانین بھی شامل کیے جس کا مقصد بھارت کی واحد مسلم اکثریتی ریاست کو اقلیت میں تبدیل کرنے کے ارادے کھل کر سامنے آگئے۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ دنیا جانتی ہے چاہے وہ برملا اظہار کرے یا کمرشل مفادات کے طور پر خاموشی اختیار کرے دنیا کا سب سے زیادہ معجزاتی زون مقبوضہ کشمیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا جانتی ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں مواصلاتی بلیک آؤٹ آج بھی جاری ہے، دنیا جانتی ہے جو بنیادی حقوق آج بھی معطل ہیں اور کشمیری اپنے بنیادی حقوق سے محروم ہیں۔ وزیرخارجہ نے کہا کہ کووڈ-19 آنے کے بعد دنیا جانتی ہے کہ لاک ڈاؤن کی تکالیف کیا ہوتی ہیں، معاشی، انسانی اور نفسیاتی تکالیف کیا ہوتی ہیں اور آج دنیا کو احساس کرنا ہوگا کہ ہم تو 4 سے 5 مہینوں میں بیزار ہوگئے ہیں اور کشمیری ایک سال سے طویل لاک ڈاؤن میں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ 5 اگست 2019 سے لے کر 5 اگست 2020 جو آنے والا ہے، امریکا، برطانیہ، کینیڈا اور یورپ جو انسانی حقوق کے علمبردار ہیں تو ان سے میرا سوال ہے کہ ایک سال تک طویل لاک ڈاؤن برداشت کرنا پڑجائے تو آپ پر کیا بیتے گی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت پاکستان نے وزیراعظم عمران خان کی ہدایات کے مطابق اقدامات کیے، ہماری کوشش تھی کہ اس مسئلے کو اجاگر کیا جائے اور اس مسئلے کو عالمی سطح پر اٹھانے میں پاکستان کو کافی حد تک کامیابی ملی۔ وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ اس کامیابی میں مقامی میڈیا کا کردار کمال کا تھا لیکن بیچ میں اس سے توجہ ہٹانے کی چالیں چلی گئی اور اندرونی سیاست نے غلبہ پالیا لیکن اس مسئلے اور اس کی سچائی سے کوئی انکار نہیں کرتا اور آپ نے اپنے قلم کے ذریعے جو کردار ادا کیا تاریخ اسے یاد رکھے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ یورپی پارلیمنٹ نے اس مسئلے کو جس شد و مد سے اٹھایا گیا آپ کے سامنے ہیں، ہاؤس آف کامنز میں بھی اس مسئلے کو اٹھایا گیا۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ میں سمجھتا ہوں کہ اس ایک سال کے عرصے میں کشمیر کے مسئلے پر وزیراعظم عمران خان نے 120 بیانات دیے، ان کے انٹرویوز، عالمی قیادت سے بات چیت، خطوط یہ کوئی معمولی بات نہیں اور اس پر لوگوں نے ردعمل دیا۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب میں ترک صدر رجب طیب اردوان نے جو الفاظ ادا کیے، اس مسئلے اور پاکستان سے ترک قوم کی وابستگی کو جوڑا وہ تاریخ اور ہمارے ریکارڈ کا حصہ بن چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں، ہیومن رائٹس واچ، ایمنسٹی انٹرنیشنل کی جانب سے اس ایک سال میں بھارت کی غاصبانہ پالیسیوں پر کھل کر جتنی تنقید کی گئی پہلے کبھی نہیں کی گئی اور مقامی میڈیا کا مطالعہ دیکھ لیں کہ شمال مشرق سے لے کر مقبوضہ کشمیر تک بھارت میں آگ سلگ رہی ہے۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل پاکستان آئے تھے اور ان کے مؤقف نے ان قراردادوں کا تجدید عہد کیا تھا۔ بات کو جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میں نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل اور سلامتی کونسل کی صدر کو اس حوالے سے خطوط لکھے جو آن ریکارڈ ہیں کہ ہم کل شاید نہ ہوں لیکن پاکستان کے وزیر خارجہ کا مؤقف تاریخ کا حصہ بن رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم ماضی میں پاکستان کی وزارت خارجہ اور وزیر خارجہ کے مؤقف کا حوالہ دیتے ہیں اور یہ خطوط ہماری منزل کے حصول میں کردار ادا کریں گے۔ شاہ محمود قریشی نے کہا یہ مسئلہ 55 برس بعد سلامتی کونسل میں 3 مرتبہ اٹھایا گیا، جو مسئلہ گرد کے نیچے دب گیا تھا اسے اجاگر کیا گیا۔
‘بھارت کشمیریوں کو دبا سکتا ہے، مٹا نہیں سکتا’ وزیر خارجہ نے کہا کہ اس ایک سال میں دنیا کے مختلف ممالک کے دارالحکومتوں میں موجود ہمارے مشنز، بیرون ملک مقیم کشمیری اور پاکستانیوں نے سڑکوں، چوراہوں پر کھڑے ہو کر مقبوضہ کشمیر کو اجاگر کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ میں پہلے بھی وزیر خارجہ رہا ہوں لیکن اس مرتبہ مسئلہ کشمیر جس شد و مد سے اٹھایا گیا اس کی مثال نہیں ملتی، وزیراعظم اور دفتر خارجہ واضح ہیں کہ اس مسئلے پر کیسے آگے بڑھنا ہے۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ 5 اگست 2020 کو ہم نے پاکستانیوں اور کشمیریوں نے مل کر مقبوضہ کشمیر کے عوام کو ایک پیغام دینا ہے، جن کے عزم اور جذبے کو بھارت نے جبر، چھاپوں، شہادتوں کے بعد ان کی میتیں والدین کو نہ دے کر توڑنے کی کوشش کی ہے وہ نہیں توڑ پائے اور نہ توڑ پائیں گے۔ وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ بھارت کشمیریوں کو دبا سکتا ہے، مٹا نہیں سکتا، یہ نقوش مٹنے والے نہیں، اس دھرتی، اس وادی میں اتنا لہو جاچکا ہے، ناحق لہو بہہ چکا ہے وہ بولے گا، خون بولتا ہے اور وہ خون بولے گا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت لائن آف کنٹرول(ایل او سی) پر بمباری کرتا رہے نہ کشمیری جھکے گا،نہ افواج پاکستان، ہم بین الاقوامی صحافیوں کو ایل او سی پر لے کر جارہے ہیں کہ انہیں دکھائیں کہ بھارت کیا کررہا ہے۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ اپنے نانا کے لاشے پر بیٹھے اس معصوم بچے کی تصویر سے زیادہ اس ظلم کی عکاسی کوئی نہیں کرسکتا۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ اس واقعے کو تاریخ کا حصہ بنانے کے لیے 5 اگست کو اس نقشے پر اسٹیپم جاری کرنے کا فیصلہ کیا ہے، اس کے ساتھ ہی وزیراعظم عمران خان 5 اگست کو آزاد کشمیر کی پارلیمنٹ میں تاریخی خطاب کریں گے جس میں یکجہتی اور مقبوضہ کشمیر کے کشمیریوں کے لیے پیغام ہے۔انہوں نے کہا کہ ہرصوبے می یکجہتی واکس ہوں گی اور سینئر قائدین، وزیر اعلیٰ اس کی قیادت کریں گے جبکہ پورے پاکستان میں ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی جائے کہ خاموشی کا شور کا پیغام بہت زبردست ہوتا ہے۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ سفارتی رسائی کو بڑھاتے ہوئے مقامی اور بین الاقوامی میڈیا کو انٹرویوز دیے جائیں گے اور عالمی قیادت کو خطوط لکھے جائیں گے اور اس ایک سال کے زمینی حقائق بتائے جائیں گے۔ وزیر خارجہ نےکہا کہ بین الاقوامی اخبارات میں آرٹیکلز شائع کروائے جارہے ہیں اور 5 اگست کے حوالے سے سوشل میڈیا پر کشمیریوں پر ظلم کی داستان اجاگر کرنے سے متعلق مہم چلائی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے تمام مشنز کو کشمیر کے معاملے پر فعال ہونے کی ہدایت کی ہے، صرف تقریب منعقد نہیں ہوگی بلکہ مقامی میڈیا میں اس حوالے سے ان کی شمولیت ہونی چاہیے اور اس میں کوئی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی، کون سا سفارتخانہ کیا کررہا ہے براہ راست مجھے بتایا جائے گا۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ تصاویری نمائش منعقد کی جائے گی، کینیڈا میں کار ریلی اور دیگر ممالک میں کووڈ-19 کو مدنظر رکھتے ہوئے احتجاجی مظاہرے کیے جائیں گے۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ میرے کشمیری بھائیوں اور بہنوں آپ تنہا نہیں، آپ کو تنہائی کی طرف دھکیلا ضرور کیا گیا ہے، راستے بند کیے گئے حتیٰ کہ بھارت کی سول سوسائٹی کو نہیں جانے دیا جاتا تو ہمیں احساس ہے کہ کتنی مشکلات ہیں لیکن یہ واضح پیغام جائے گا کہ آپ تنہا نہیں ہے، ہر پاکستانی گھرانہ، بچہ، بزرگ، مزدور 5 اگست کو اپنے گھر کی بیٹھک میں کشمیریوں کو پکارے گا کہ مسئلہ کشمیر کیا ہے اور کشمیر کو قائداعظم کیوں شہ رگ کہتے تھے۔ پوری قوم 5 اگست کو اظہارِ یکجہتی میں بھرپور حصہ لے، انہوں نے کہا کہ میں مقبوضہ کشمیر کی قیادت کو سلام پیش کرتا ہوں، وہ آج پابند سلاسل ہیں آج ان کا سانس لینا مشکل ہے اور وہ تشدد برداشت کررہے ہیں، سید علی گیلانی کی عمر اور ان پر ہونے والے جبر کو دیکھیں تو اندازہ ہوگا کہ وہ کس قسم کی قربانیاں دے رہے ہیں۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ میں بحیثیت وزیر خارجہ پاکستان، کشمیریوں کو پیغام دینا چاہتا ہوں کہ اس جدوجہد کے اصل حقدار قیادت کریں ہم ساتھ دینے کو تیار ہیں، کشمیری چہرہ آگے ہو میں ٖفخر سے ان کے پیچھے چلنے کو تیار ہوں لیکن جب تک کشمیری قیادت پابند سلاسل ہے، مواصلاتی بلیک آؤٹ ہے میں وعدہ کرتا ہوں کہ کشمیریوں کی ترجمانی کریں گے، ان کی آواز اٹھائیں گے اور مایوس نہیں کریں گے۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ اسی چیز کو سامنے رکھتے ہوئے ہم نے 5 اگست کے لیے ایک ایکشن پلان مرتب کیا ہے جس کے لیے قومی سلامتی ڈویژن اور وزارت اطلاعات کا شکر گزار ہوں جنہوں نے وزارت خارجہ کی رہنمائی کی ہے۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ اس سال 5 اگست کو پوری پاکستانی قوم اور دنیا میں جہاں جہاں کشمیری بسے ہیں یومِ استحصال منائے گی، کشمیریوں کے ساتھ استحصال کو اجاگر کیا جائے اور ان کے ساتھ تجدید عہد کریں گے۔

وزیر اطلاعات ان کے بعد گفتگو کرتے ہوئے وزیر اطلاعات شبلی فراز نے کہا کہ ہم ماضی میں کشمیریوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے رہے ہیں، پچھلے ادوار میں ہماری اس یکجہتی میں وہ ولولہ نہیں تھا جس کی وجہ سے بھارت نے وہ اقدام اٹھایا۔ وزیراعظم نے اقوم متحدہ میں اپنے خطاب سے اس جدوجہدِ آزادی میں جو نئی روح پھونکی ہے اور ہم نے اس حوالے سے یکجہتی کے لیے جو اقدامات اٹھائے ہیں تو میری درخواست ہے کہ 5 اگست کو اپنے گھروں پر کشمیری پرچم لہرائیں اور اس میں ہر پاکستانی اپنا ہر حصہ ڈالیں تاکہ بھارت کو یقین ہوجائے کہ اب بات ویسی نہیں رہی۔ شبلی فراز نے کہا کہ کشمیری عوام آزادی حاصل کرکے رہیں گے، ہماری حکومت اس عزم پر قائم ہے اور پوری قوم 5 اگست کو اس میں بھرپور حصہ لے۔

وزیر اطلاعات کے بعد گفتگو کرتے ہوئے معاون خصوصی برائے قومی سلامتی معید یوسف نے کہا کہ مسئلہ کشمیر سے متعلق مکمل سپورٹ پر میڈیا کے شکر گزار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 5 اگست کو کشمیریوں کے ساتھ ہونے والے استحصال کو ایک برس ہونے پر یومِ استحصال منایا جائے گا، بھارت کی بربریت پہلے بھی جاری تھی لیکن اس دن بھارت نے غاصبانہ قبضے کے ساتھ ایک فوجی محاصرہ دوبارہ نافذ کیا۔ معید یوسف نے کہا کہ بھارت، تمام بین الاقوامی کی خلاف ورزی کرتا ہے، اقوام متحدہ کی قراردادوں کو نہیں مانتا اور اب تو شملہ معاہدہ پر بھی عمل نہیں کرتا تو اس لیے اس علاقے کا مخصوص نام جو ہمیں استعمال کرنا چاہیے وہ انڈین اللیگلی آکیوپائیڈ جموں اینڈ کشمیر(آئی آئی او جے کے) تاکہ پاکستان کا مؤقف بین الاقوامی میڈیا میں واضح ہو کہ بھارت اپنے غاصبانہ قبضے کو بڑھاتا چلا جارہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ 5 اگست کو یہ بات واضح ہونی چاہیے کہ پاکستان نے کبھی کشمیر کو نہیں بھلایا اور ہم جہاں کھڑے تھے اس سے بہت آگے بڑھ گئے ہیں۔ معاون خصوصی نے کہا کہ بھارت نے بین الاقوامی قوانین کی دھجیاں اڑادی ہیں اور مودی سرکار جس راستے پر چل پڑی ہے اس کا ایک ہی نتیجہ ہے کہ کشمیری اپنا خود ارادیت استعمال کرتے ہوئے وہ فیصلہ کریں گے جو ہم سب کو معلوم ہے ہمیں صرف اس وقت کا انتظار ہے۔ معید یوسف نے کہا کہ 5 اگست کو صبح 10 بجے پورے پاکستان میں سائرنز بجائے جائیں گے ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی جائے گی اور اسی وقت اسلام آباد میں صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی ایک یکجہتی مارچ کی قیادت کریں گے جس کے بعد وہ ایک پریس کانفرنس کریں گے، اسی وقت تمام صوبائی دارالحکومتوں میں بھی مارچ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ مظفرآباد میں یکجہتی مارچ کی قیادت صدر و وزیراعظم آزاد کشمیر کریں گے اور وزیراعظم عمران خان بھی اس میں شرکت کریں گے۔

Share this:

MH Kazmi

25,240 Articles

Journalism is not something we are earning, it is the treasure that we have to save for our generations. Strong believer of constructive role of Journalism in future world.for comments and News yesurdu@gmail.com 03128594276

View All Posts
PAKISTANI, HIGH, COMMISSIONER, IN, BRITISH, NAFEEZ ZAKRIA, TALKED, TO, DELEGATION
Previous Post پاکستان کورونا پرقابو پانے کے بعد دنیا کو حفاظتی سامان برآمد کررہا ہے، نفیس ذکریا
Next Post پاکستان کیساتھ تعلقات کو آگے لے کرجائینگے، بھارت بیمار ذہنیت اپنے پاس پاس رکھے، بنگلہ دیش کے وزیرخارجہ نے بھارت کو اوقات یاددلادی

Related Posts

برطانیہ میں سعودی سفارت خانے کی شہریوں کو لندن میں اجتماعات سے دور رہنے کی ہنگامی اپیل

May 17, 2026

شعلے کے گبر سنگھ کابیٹا دھریندر میں کس اہم کردار کیلئے کاسٹنگ ڈائریکٹر کی توجہ حاصل نہ کرسکا، امجد خان کی میراث گبر آج بھی برقرار

May 17, 2026
Putin to Visit China Days After Trump Trip

ٹرمپ کے دورے کے فوری بعد پوتن کا چین کا اہم دورہ، 19 مئی کو بیجنگ پہنچیں گے

May 16, 2026
Pakistan Introduces New Civil Service Conduct Rules After 62 Years

62 سال بعد سول سروس کے نئے ضابطہ اخلاق کا نفاذ، سرکاری ملازمین کے اثاثے عوامی ہوں گے

May 16, 2026
© 2026 Yes Urdu. All rights reserved.
  • خبریں
  • تارکین وطن
  • اردو ادب – شاعری
  • ویڈیوز – Videos
  • اشتھارات
  • دلچسپ اور عجیب
  • کالم
  • کرائم

We use cookies to ensure you get the best experience on our website.

We use cookies to ensure you get the best experience on our website.