سپیس پروگرام 2047 میزائل ٹیکنالوجی ;پاکستان امریکا کے لیے خطرہ قرار
واشنگٹن، اسلام آباد (اصغر علی مبارک، مانیٹرنگ رپورٹ)امریکہ کو فکر ہے کہ پاکستان اپنا مقامی سپیس لانچ وہیکل نہ بنا لے‘ اور پاکستان پہلے سے 2047 سپیس پروگرام کا وژن رکھتا ہے۔ نیوکلئیر ڈیٹیرنس کے لیے سپیس پروگرام میں صلاحیتیں حاصل کرنا بہت اہم ہیں جو آپ کو ہدف کو درست نشانہ بنانے اور دفاعی نگرانی وغیرہ کے قابل بناتا ہے امریکہ کو خدشہ ہے کہ پاکستان فوجی اور سویلین مقاصد کے لیے اپنا سپیس وہیکل لانچ کر سکتا ہے جس سے اس کے پاس انٹرکونٹینٹل بیلسٹک میزائل فائر کرنے کی صلاحیت آ جائے گی۔ پاکستان کی تیزی سے ترقی کرتی ہوئی میزائل صلاحیتیں مستقبل میں امریکی سرزمین کو اپنی رینج میں لے سکتی ہیں۔امریکی دارالحکومت واشنگٹن میں قومی سلامتی کے حوالے سے سینیٹ کی انٹیلی جنس کمیٹی کی ایک اہم ترین بریفنگ کے دوران سنسنی خیز انکشافات سامنے آئے ہیں جہاں پاکستان، روس، چین، شمالی کوریا اور ایران کو امریکا کے لیے بڑا خطرہ قرار دیا گیا ہے۔
امریکی سینیٹ کو دی گئی امریکی انٹیلی جنس اداروں کے سربراہان بریفنگ کے دوران نیشنل انٹیلیجنس کی ڈائریکٹر تِلسی گبارڈ نے پاکستان کو اُن ممالک میں شامل کیا ہے جو امریکہ کے لیے نمایاں سکیورٹی خطرات پیدا کر سکتے ہیں۔بدھ18 مارچ 2026 کو امریکی سینیٹ کی انٹیلیجنس کمیٹی کے سامنے ‘سالانہ تھریٹ اسیسمنٹ’ رپورٹ پیش کرتے ہوئے تِلسی گبارڈ نے خبردار کیا کہ پاکستان کی تیزی سے ترقی کرتی ہوئی میزائل صلاحیتیں مستقبل میں امریکی سرزمین کو اپنی رینج میں لے سکتی ہیں۔ا تلسی گبارڈ کا کہنا تھا کہ ’روس، چین، شمالی کوریا، ایران اور پاکستان ایٹمی اور روایتی پے لوڈز کے ساتھ جدید، روایتی یا نئے قسم کے میزائل نظاموں میں خاصی تحقیق اور ترقی کر رہے ہیں، جو ہمارے ملک (امریکہ) کو (ان میزائلوں کی) رینج میں لے آتا ہے۔‘ ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان کی طویل فاصلے تک مار کرنے والی بیلسٹک میزائل ٹیکنالوجی مستقبل میں ایسے بین البراعظمی میزائل سسٹم تک ترقی پا سکتی ہے، جس کی رینج امریکہ تک بھی ہو سکتی ہے۔ تھریٹ اسیسمنٹ رپورٹ میں جن ممالک کی نشاندہی کی گئی ہے وہ غالباً امریکہ کے جدید میزائل دفاعی منصوبوں کو سمجھنے کی کوشش کریں گے تاکہ وہ اپنی میزائل ٹیکنالوجی کی ترقی کی سمت کا تعین کر سکیں اور دفاعی حکمتِ عملی اور ڈیٹرنس کے حوالے سے واشنگٹن کے ارادوں کا اندازہ لگانے کے قابل بن سکیں۔’ یاد رہے کہ امریکہ کی جانب سے پاکستان کے بیلسٹک میزائل پروگرام کے حوالے سے تشویش کا اظہار پہلی مرتبہ نہیں کیا گیا ہے۔ ستمبر 2024 میں اُس وقت کی امریکی انتظامیہ کے ایک سینئیر حکومتی اہلکار نے باضابطہ طور پر دعویٰ کیا تھا کہ پاکستان نے ایک ایسی ’کارآمد میزائل ٹیکنالوجی‘ تیار کر لی ہے جو اسے امریکہ کو بھی نشانہ بنانے کے قابل بنائے گی۔‘ امریکی تھنک ٹینک ’کارنیگی انڈاؤمنٹ‘ کے زیرِاہتمام منعقد ہونے والی ایک تقریب میں خطاب کرتے ہوئے اُس وقت کے امریکی صدر جو بائیڈن کے قومی سلامتی کے نائب مشیر جان فائنر کا کہنا تھا کہ پاکستان نے لانگ رینج میزائل سسٹم اور ایسے دیگر ہتھیار بنا لیے ہیں جو ’اسے بڑی راکٹ موٹرز کے (ذریعے) تجربات کرنے کی صلاحیت دیتے ہیں۔‘ان کا کہنا ہے کہ ’اگر یہ سلسلہ جاری رہتا ہے تو پاکستان کے پاس جنوبی ایشیا سے باہر بھی اپنے اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت آ جائے گی، اس میں امریکہ بھی شامل ہے اور اس چیز سے پاکستان کے ارادوں پر حقیقی سوالات اُٹھتے ہیں۔
ستمبر 2024 میں امریکہ کے قومی سلامتی کے نائب مشیر کا بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا تھا جب چند روز قبل ہی بائیڈن انتظامیہ نے پاکستان کے جوہری ہتھیاروں سے لیس طویل فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائل پروگرام سے مبینہ طور پر منسلک چار اداروں پر پابندیاں عائد کی ہیں۔
جن اداروں پر پابندیاں عائد کی گئی تھیں اُن میں بیلسٹک میزائل پروگرام کی نگرانی کرنے والا سرکاری ادارہ نیشنل ڈویلپمنٹ کمپلیکس (این ڈی سی) بھی شامل تھا۔
قومی سلامتی کے نائب مشیر جان فائنر کا مزید کہنا تھا کہ ’ہمارے لیے یہ مشکل ہو گا کہ ہم پاکستان کے اقدامات کو امریکہ کے لیے خطرے کی حیثیت سے نہ دیکھیں۔ مجھ سمیت ہماری انتظامیہ کے سینیئر رہنماؤں نے متعدد مرتبہ ان خدشات کا اظہار پاکستان کے سینیئر حکام کے سامنے کیا ہے۔‘
امریکہ کو یہ تشویش کیوں ہے کہ پاکستان ایسے میزائل تیار کر رہا ہے جو امریکہ میں اہداف کو نشانہ بنا سکیں گے؟ کیا پاکستان واقعی ایسے میزائل بنا سکتا ہے جو امریکہ تک پہنچ جائیں؟پاکستان کے بیلسٹک میزائل پروگرام سے متعلقہ اداروں اور سپلائزر پر امریکی پابندیوں کا سلسلہ ختم ہونے میں نہیں آ رہا ہےاور 2024 میں تیں مرتبہ بیلسٹک میزائلوں کی تیاری کی معاونت کے الزام میں مزید چار اداروں پر پابندیاں عائد کی گئی تھیں۔ امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا تھا کہ یہ پابندیاں نیشنل ڈویلپمنٹ کمپلیکس (این ڈی سی) سمیت تین فرموں پر عائد کی جا رہی ہیں جو بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کی تیاری اور ان کے لیے آلات کی ترسیل میں ملوث ہیں۔ جن چار اداروں پر پابندیاں عائد کی گئی تھیں ان میں نیشنل ڈیویلپمنٹ کمپلیکس (این ڈی سی) کے علاوہ اختر اینڈ سنز پرائیویٹ لمیٹڈ، فیلیئٹس انٹرنیشنل اور راک سائیڈ انٹرپرائز شامل ہیں۔ بیان کے مطابق ’ان میں سے اسلام آباد میں واقع نیشنل ڈیویلپمنٹ کمپلیکس (این ڈی سی) نے پاکستان کے طویل فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائل پروگرام کی تیاری کے لیے مختلف آلات حاصل کیے ہیں جن میں خاص قسم کے وہیکل چیسیز شامل ہیں جو میزائل لانچنگ کے معاون آلات اور ٹیسٹنگ کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ امریکہ کا الزام تھا کہ این ڈی سی شاہین سیریز کے میزائلوں سمیت پاکستان کے دیگر بیلسٹک میزائیلوں کی تیاری میں ملوث ہے۔بیان کے مطابق کراچی میں واقع اختر اینڈ سنز پرائیویٹ لمیٹڈ نے این ڈی سی کے لیے پاکستان کے طویل فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائل پروگرام کے لیے مختلف آلات فراہم کیے ہیں۔اس کے علاوہ کراچی میں واقع فیلیئٹس انٹرنیشنل پر الزام تھا کہ اس نے بیلسٹک میزائل پرورگرام میں مدد کی غرض سے این ڈی سی اور دیگر اداروں کے لیے میزائل سازی میں مطلوب سامان کی خریداری میں سہولت کاری کی ہے۔ یاد رہے اس سے قبل امریکہ نے ایک چینی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ اور کئی کمپنیوں پر پابندیاں عائد کیں تھیں جن کے بارے میں ان کا دعویٰ تھا کہ وہ پاکستان کے بیلسٹک میزائل پروگرام کے لیے آلات اور ٹیکنالوجی کی فراہمی میں ملوث ہیں۔ اس کے علاوہ چین کی تین اور بیلاروس کی ایک کمپنی جبکہ اکتوبر 2023 میں پاکستان کو بیلسٹک میزائل پروگرام کے پرزہ جات اور سامان فراہم کرنے کے الزام میں چین کی تین مذید کمپنیوں پر اسی طرح کی پابندیاں عائد کی تھیں۔ اس کے علاوہ دسمبر 2021 میں امریکی انتظامیہ نے پاکستان کے جوہری اور میزائل پروگرام میں مبینہ طور پر مدد فراہم کرنے کے الزام میں 13 پاکستانی کمپنیوں پر پابندیاں عائد کی تھیں۔ تاہم پاکستان نے اس امریکی اقدام کو ’مایوس کن‘ قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ حالیہ امریکی پابندیوں کا مقصد خطے میں عسکری عدم توازن کو بڑھاوا دینا ہے۔پاکستان کے دفترِ خارجہ نے امریکہ کے اس اقدام کو بدقسمتی اور تعصب پر مبنی قرار دیا ہے۔ دفتر خارجہ سے جاری ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ پاکستان کی سٹریٹیجک صلاحیتوں کا مقصد ملک کی خود مختاری کا دفاع اور جنوبی ایشیا میں امن قائم رکھنا ہے۔ بیان میں کہا گیا تھا کہ حالیہ امریکی پابندیوں کا مقصد خطے میں فوجی عدم تعاون کو بڑھاوا دینا ہے جس سے امن اور سلامتی کی کوششوں کو نقصان پہنچے گا۔ دفترِ خارجہ کا کہنا تھا کہ نجی کاروباری اداروں پر اس طرح کی پابندیاں مایوس کن ہیں۔ دفترِ خارجہ کا کہنا تھا ماضی میں ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کے دعووں کے باوجود دوسرے ممالک کے لیے جدید فوجی ٹیکنالوجی کے حصول کے لیے درکار لائسنس کی شرط ختم کی گئی تھیں اورایسے دوہرے معیار اور امتیازی سلوک سے نا صرف عدم پھیلاؤ کے مقصد کو ٹھیس پہنچے گی بلکہ خطے اور عالمی امن و سلامتی کو بھی نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے۔پاکستان کا وہ میزائل پروگرام جس کا تذکرہ ستمبر 2024 میں امریکی خارجہ کے اعلامیے میں کیا گیا تھا اس میں میڈیم رینج یا درمیانی فاصلے تک مار کرنے والے بلیسٹک میزائل شاہین تھری (رینج 2750 کلومیٹر) اور ابابیل ( رینج 2200 کلومیٹر) شامل ہیں جو ملٹیپل ری انٹر وہیکل یا ایم آر وی کہلاتے ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ پاکستان کے میزائل ہتھیاروں میں یہ سب سے بہترین صلاحتیوں والے میزائل سسٹمز ہیں۔ پاکستان کی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق پاکستان نے 2017 میں ابابیل میزائل کا پہلا تجربہ کرنے کے بعد 18 اکتوبر 2023 کو بھی زمین سے زمین پر درمیانی فاصلے تک مار کرنے والے ابابیل میزائل کی ایک نئی قسم کا تجربہ کیا تھا یہ جنوبی ایشیا میں پہلا ایسا میزائل ہے جو 2200 کلومیٹر کے فاصلے تک متعدد وار ہیڈز یا جوہری ہتھیار لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے اور مختلف اہداف کو نشانہ بنا سکتا ہے۔ دفاعی ماہرین کا اندازہ ہے کہ ابابیل میزائل تین یا اس سے زائد نیوکلیئر وار ہیڈز یا جوہری ہتھیار لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے یہ ایم آر وی میزائل سسٹم ہے جو دشمن کے بیلسٹک میزائل ڈیفنس شیلڈ کو شکست دینے اور بے اثر کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ ابابیل میزائل میں موجود ہر وار ہیڈ ایک سے زیادہ اہداف کو نشانہ بنا سکتا ہے۔ تاہم ڈاکٹر منصور کے مطابق اہم نکتہ یہ ہے کہ ابابیل ایسے ہائی ویلیو اہداف، جو بیلسٹک میزائل ڈیفنس (بی ایم ڈی) شیلڈ سے محفوظ بنائے گئے ہوں، کے خلاف پہلی یا دوسری سٹرائیک کی بھی صلاحیت رکھتا ہےایم آر وی میزائل ٹیکنالوجی کی خاصیت یہ ہوتی ہے کہ اگر ہدف کے قریب پہنچنے پر ان کے خلاف مخالف سمت میں میزائل ڈیفنس شیلڈ یا بیلسٹک میزائل سسٹم موجود ہو تو وہ انھیں کنفیوژ کر سکتے ہیں۔ایم آئی آر ویز میزائل میں کئی وار ہیڈز ہوتے ہیں جو آزادانہ طور پر پروگرامڈ ہوتے ہیں اور آزادانہ طور پر ہی اپنے اپنے اہداف کی جانب جاتے ہیں اور ہر ایک کا فلائٹ پاتھ یعنی فضائی راستہ مختلف ہوتا ہے۔ انڈیا تقریباً ایک دہائی سے بھی زائد عرصے سے بلیسٹک میزائل سسٹم پر کام کر رہا ہے اور وہ ناصرف اس کے تجربات کرتے رہتے ہیں بلکہ عوامی سطح پر اس کے بارے میں بات بھی کرتے ہیں۔انڈیا نے پہلے ہی ایم آر وی اگنی فائیو کا ایک سے زائد وار ہیڈز کے ساتھ تجربہ کیا ہے۔ یہ انٹرکونٹینینٹل بیلسٹک میزائل ہے جس کی رینج کم از کم 5000-8000 کلومیٹر ہے رپورٹ کے مطابق 2025 میں ہونے والی کارروائیوں نے ایران کے ایٹمی پروگرام کو پیچھے دھکیل دیا ہے تاہم خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ موقع ملنے پر ایرانی حکومت دوبارہ اپنے میزائل اور ڈرون فورس کو کھڑا کرنے کی کوشش کرے گی۔امریکی سینیٹ کی اس سماعت کے دوران سی آئی اے کے ڈائریکٹر جان ریٹکلف نے قانون سازوں کو بتایا کہ اگر ایران کی فوجی سرگرمیوں کو نہ روکا جاتا تو وہ تین ہزار کلومیٹر تک مار کرنے والے میزائل تیار کرنے کی صلاحیت حاصل کر سکتا تھا، جس کا مطلب ہے کہ ایرانی میزائل یورپ کے کسی بھی حصے کو نشانہ بنا سکتے تھے۔ ریٹکلف کا مزید کہنا تھا کہ اگر ایران اپنی ٹیکنالوجی پر کام جاری رکھتا تو وہ براہ راست امریکہ کو دھمکانے کی پوزیشن میں بھی آ سکتا تھا۔ سماعت کے دوران جب ریپبلکن سینیٹر ٹام کاٹن نے یہ سوال پوچھا کہ کیا ایران اگلے چھ ماہ کے اندر امریکا تک پہنچنے والے میزائل بنا سکتا تھا، تو سی آئی اے کے ڈائریکٹر نے اس کا کوئی واضح وقت نہیں بتایا۔ انہوں نے سینیٹر کے خدشات کو درست تو قرار دیا لیکن یہ نہیں کہا کہ ایران کو ایسا کرنے میں کتنا عرصہ درکار ہوتا۔ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ امریکی انٹیلی جنس ادارے ایران کی صلاحیتوں پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہیں تاہم وہ کسی حتمی تاریخ پر بات کرنے سے گریز کر رہے ہیں۔
دوسری جانب ایک دلچسپ انکشاف یہ بھی سامنے آیا ہے کہ جنگ شروع ہونے کے چند روز بعد ٹرمپ انتظامیہ کے حکام نے بند کمرہ بریفنگ میں کانگریس کے عملے کو بتایا تھا کہ ان کے پاس ایسے کوئی ٹھوس شواہد موجود نہیں تھے کہ ایران امریکا پر کسی بڑے حملے کی فوری تیاری کر رہا تھا۔ اس دوران امریکی سینیٹ میں صدر ٹرمپ کی پالیسیوں پر بھی سوال اٹھائے گئے ہیں اور ارکان پارلیمنٹ نے اس جنگ کے معاشی اثرات اور امریکی ٹیکس گزاروں کے اربوں ڈالرز کے اخراجات پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
سینیٹ کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے تلسی گبارڈ نے کہا کہ امریکا کو اس وقت مختلف بیرونی ممالک کے ساتھ ساتھ شدت پسند نظریات سے بھی شدید خطرات کا سامنا ہے۔ رپورٹ میں واضح کیا ہے کہ انتہا پسند گروہ اب بھی متحرک ہیں اور شریعت کی بنیاد پر خلافت کے قیام کا نظریہ پھیلا کر لوگوں کو اپنے ساتھ ملا رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ مخصوص نظریہ مغربی طرز زندگی اور جمہوری اقدار کے لیے خطرہ ہے۔ حالیہ اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے بتایا کہ صرف 2025 کے دوران امریکا کے اندر تین بڑے دہشت گردانہ حملے ہوئے جن کے تانے بانے انتہا پسند تنظیموں سے ملتے ہیں۔ خاص طور پر ریاست مشی گن میں ہونے والے ایک حملے کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ اس واقعے میں ملوث شخص کا تعلق حزب اللہ کے ایک اہم رہنما سے پایا گیا ہے۔
پاکستان کے بارے میں انتباہ: رپورٹ میں خاص طور پر ذکر کیا گیا کہ پاکستان کا طویل فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائلوں کا پروگرام مستقبل میں بین البراعظمی بیلسٹک میزائلوں (ICBMs) کی شکل اختیار کر سکتا ہے، جو امریکہ تک پہنچنے کے قابل ہوں گے۔
خطرناک اضافہ: انٹیلی جنس حکام کے مطابق، امریکہ کو لاحق میزائلوں کے خطرات میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے، اور 2035 تک ایسے میزائلوں کی تعداد 3,000 سے بڑھ کر 16,000 تک پہنچ سکتی ہے۔ امریکی سینیٹ کی انٹیلیجنس کمیٹی کے سامنے ‘سالانہ تھریٹ اسیسمنٹ’ رپورٹ پیش کرتے ہوئے تِلسی گبارڈ نے خبردار کیا کہ تلسی گبارڈ کا کہنا تھا کہ ’روس، چین، شمالی کوریا، ایران اور پاکستان ایٹمی اور روایتی پے لوڈز کے ساتھ جدید، روایتی یا نئے قسم کے میزائل نظاموں میں خاصی تحقیق اور ترقی کر رہے ہیں، جو ہمارے ملک (امریکہ) کو (ان میزائلوں کی) رینج میں لے آتا ہے۔‘ ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان کی طویل فاصلے تک مار کرنے والی بیلسٹک میزائل ٹیکنالوجی مستقبل میں ایسے بین البراعظمی میزائل سسٹم تک ترقی پا سکتی ہے، جس کی رینج امریکہ تک بھی ہو سکتی ہے۔ تھریٹ اسیسمنٹ رپورٹ میں جن ممالک کی نشاندہی کی گئی ہے وہ غالباً امریکہ کے جدید میزائل دفاعی منصوبوں کو سمجھنے کی کوشش کریں گے تاکہ وہ اپنی میزائل ٹیکنالوجی کی ترقی کی سمت کا تعین کر سکیں اور دفاعی حکمتِ عملی اور ڈیٹرنس کے حوالے سے واشنگٹن کے ارادوں کا اندازہ لگانے کے قابل بن سکیں۔’ یاد رہے کہ امریکہ کی جانب سے پاکستان کے بیلسٹک میزائل پروگرام کے حوالے سے تشویش کا اظہار پہلی مرتبہ نہیں کیا گیا ہے۔ ستمبر 2024 میں اُس وقت کی امریکی انتظامیہ کے ایک سینئیر حکومتی اہلکار نے باضابطہ طور پر دعویٰ کیا تھا کہ پاکستان نے ایک ایسی ’کارآمد میزائل ٹیکنالوجی‘ تیار کر لی ہے جو اسے امریکہ کو بھی نشانہ بنانے کے قابل بنائے گی۔‘ امریکی تھنک ٹینک ’کارنیگی انڈاؤمنٹ‘ کے زیرِاہتمام منعقد ہونے والی ایک تقریب میں خطاب کرتے ہوئے اُس وقت کے امریکی صدر جو بائیڈن کے قومی سلامتی کے نائب مشیر جان فائنر کا کہنا تھا کہ پاکستان نے لانگ رینج میزائل سسٹم اور ایسے دیگر ہتھیار بنا لیے ہیں جو ’اسے بڑی راکٹ موٹرز کے (ذریعے) تجربات کرنے کی صلاحیت دیتے ہیں۔‘ان کا کہنا ہے کہ ’اگر یہ سلسلہ جاری رہتا ہے تو پاکستان کے پاس جنوبی ایشیا سے باہر بھی اپنے اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت آ جائے گی، اس میں امریکہ بھی شامل ہے اور اس چیز سے پاکستان کے ارادوں پر حقیقی سوالات اُٹھتے ہیں۔
ستمبر 2024 میں امریکہ کے قومی سلامتی کے نائب مشیر کا بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا تھا جب چند روز قبل ہی بائیڈن انتظامیہ نے پاکستان کے جوہری ہتھیاروں سے لیس طویل فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائل پروگرام سے مبینہ طور پر منسلک چار اداروں پر پابندیاں عائد کی ہیں۔
جن اداروں پر پابندیاں عائد کی گئی تھیں اُن میں بیلسٹک میزائل پروگرام کی نگرانی کرنے والا سرکاری ادارہ نیشنل ڈویلپمنٹ کمپلیکس (این ڈی سی) بھی شامل تھا۔
قومی سلامتی کے نائب مشیر جان فائنر کا مزید کہنا تھا کہ ’ہمارے لیے یہ مشکل ہو گا کہ ہم پاکستان کے اقدامات کو امریکہ کے لیے خطرے کی حیثیت سے نہ دیکھیں۔ مجھ سمیت ہماری انتظامیہ کے سینیئر رہنماؤں نے متعدد مرتبہ ان خدشات کا اظہار پاکستان کے سینیئر حکام کے سامنے کیا ہے۔‘
امریکہ کو یہ تشویش کیوں ہے کہ پاکستان ایسے میزائل تیار کر رہا ہے جو امریکہ میں اہداف کو نشانہ بنا سکیں گے؟ کیا پاکستان واقعی ایسے میزائل بنا سکتا ہے جو امریکہ تک پہنچ جائیں؟دفاعی امور کے ماہر سید محمد علی کے مطابق پاکستان پر امریکی حکام کا حالیہ الزام تکنیکی حقائق کے خلاف ہے۔ ان کے مطابق پہلی وجہ تکنیکی ہے، دوسرا تزویراتی یا سٹریٹیجیکل اور تیسری وجہ معاشی یا پولیٹیکل ہے پاکستان کے بیلسٹک میزائلوں میں جدت لانے کا مقصد انڈیا کے علاوہ کسی دور دراز کے ملک کو نشانہ بنانا نہیں بللکہ انڈیا کے تیزی سے ترقی پذیر میزائل ڈیفینس نظام کا سدباب کرنا یا ناکام بنانا ہے۔‘ اس کا مطلب یہ ہے کہ دشمن جتنا بھی جدید ڈیفینس سسٹم بنا لے، آپ کا بیلیسٹک یا کروز میزائل اسے ناکام بنانے کی صلاحیت رکھتا ہو اور اس کا رینج سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ وہ اسرائیل کے پانچ تہوں پر مشتمل ڈیفینس سسٹم کی مثال دیتے ہیں جس میں ایرو اور آئرن ڈوم سے لے کر ڈیوڈز سلنگ، انٹرسیپٹر اور اینٹی ائیر کرافٹ گنز بھی شامل ہیں ’اگر کوئی میزائل پانچ تہوں سے نکل کر اپنے ہدف کو نشانہ بنا کر اسے تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے تو اس کا ایم آئی آر ویز سے لیس ہونا ضروری ہوتا ہے جیسا کہ پاکستانی میزائل ابابیل ہے۔ ایم آئی آر ویز کا مطلب ایک ایسا میزائل ہے جو بیک وقت کئی وار ہیڈز لیجا سکتا ہے جو آزادانہ طور پر پروگرامڈ ہوتے ہیں اور ان وار ہیڈز کی تعداد تین سے آٹھ اور اس سے زیادہ بھی ہو سکتی ہے اور روس کے کیس میں 12 تک بھی ہے۔ یہ میزائل آزادانہ طور پر اپنے اپنے ہدف کی جانب جاتے ہیں اور ہر ایک کا ہدف کی جانب سفر کا راستہ بھی مختلف ہوتا ہے۔ اس کا مقصد یہی ہوتا ہے کہ آپ ایک میزائل کے ذریعے سے جب اسے لانچ کرتے ہیں اور جب اس کی ری انٹری وہیکل دوبارہ فضا میں داخل ہوتی ہیں تو وہ (ری انٹری وہیکل) مختلف سمتوں میں پھیل کر اپنے اپنے ہدف کو نشانہ بناتی ہیں۔مثال فائٹر طیاروں کی فارمیشن ہے جو ہدف پر پہنچنے سے پہلے، وہاں پہنچ کر، حملے کے دوران اور بعد میں مختلف ہوتی ہے۔ فائٹر طیارے کسی ٹارگٹ پر پہنچ کر سرفیس تو ائیر میزائل اور اینٹی ائیر کرافٹ گن سے بچنے کے لیے اس انداز میں ادھر ادھر پھیل جاتے ہیں کہ وہ سب دشمن کی فائرنگ کی زد میں آئے بغیر مختلف سمتوں سے ٹارگٹ کو نشانہ بنا سکیں۔ امریکہ کے پاس ایسا میزائل Minuteman III ہے اور انڈیا نے حال ہی میں اس ٹیکنالوجی میں جدت لانی شروع کی ہےپاکستان اگر اسی کو بہتر بنا رہا ہے تو اس کا مقصد انڈیا کے علاوہ کسی اور ملک کو ہدف بنانا نہیں مگر انڈیا کے سسٹم میں آنے والی جدت (چاہے وہ ایس 400 کے حوالے سے یا کسی اور سے) کو ناکام بنا کر ان کی ٹارگٹ تک پہنچنے کی صلاحیتوں کا سدباب ہے پاکستان کسی ایسی ٹیکنالوجی پر کام نہیں کر رہا جو پہلے سے انڈیا کے پاس نہیں ہے اور انڈیا نہ صرف آئی سی بی ایم (بین البراعظمی بیلسٹک میزائل) بنا رہا ہے بلکہ انھیں ٹیسٹ بھی کر چکا ہے جن کی رینج 5000 کلومیٹر سے زیادہ ہے جس کا مطلب ہے کہ ان کا ٹارگٹ پاکستان یا چین نہیں ہیں جبکہ دوسری جانب پاکستان نے اس رینج کے کسی میزائل کا آج تک تجربہ نہیں کیا۔پاکستان پر یہ الزام تکنیکی حقائق کے خلاف ہے۔
کینبرا نیشنل یونیورسٹی میں سٹریٹیجک اور ڈیفینس سٹڈیز کے استاد ڈاکٹر منصور احمد کہتے ہیں کہ ’جب تک ایک سسٹم (میزائل) ایک رینج پر ٹیسٹ نہیں ہو جاتا تب تک یہ نہیں کہا جا سکتا کہ اس ملک نے یہ صلاحیت حاصل کر لی اور پاکستان نے اب تک ایسا کوئی میزائل ٹیسٹ نہیں کیا جس کی رینج انڈیا سے باہر ہو۔
‘ انڈیا ایس ایس بی این (نیوکلیئرڈ پاورڈ بیلسٹک میزائل سب میرین) یا بیلسٹک میزائل فائر کرنے کی صلاحیت رکھنے والی آبدوزیں بھی بنا رہا ہے میزائلوں کی بحث میں زمین سے زمین پر مار کرنے والے میزائلوں کو تو بہت زیادہ اہمیت دی جاتی ہے مگر سمندر کی سطح کے نیچے یا جوہری آبدوزیں رکھنے والے صلاحیتوں کے حامل ممالک سے صرفِ نظر کیا جاتا ہے جن میں رینج کا چکر ہی نہیں ہوتا کیونکہ کسی بھی ملک کے قریب آبدوز لے جا کر وہاں سے یہ میزائل فائر کیے جا سکتے ہیں۔اس کی مثال انڈیا کی ’اریہنت‘ اور ’اریگاتھ‘ ایٹمی آبدوزیں ہیں جو اب انڈیا کے بحرے بیڑے کا حصہ ہیں۔یاد رہے امریکہ، برطانیہ، فرانس، روس اور چین کی پاس بھی ایٹمی اسلحے سے لیس آبدوزیں موجود ہیں یعنی یہ پانچ ممالک دنیا کے کسی بھی ملک پر جوہری حملہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ دو ایٹمی آبدوزوں کو اپنے بحری بیڑے میں شامل کرنے کے بعد انڈیا نے بھی یہ صلاحیت حاصل کر لی ہے یعنی وہ ان ممالک کی صف میں شامل ہو گیا ہے جو امریکہ سمیت دنیا کے کسی بھی ملک پر ایٹمی حملہ کی صلاحیت رکھتے ہیں صرف زمین کی سطح سے زمین تک مار کرنے والے میزائلوں پر بحث انتہائی اہم تزویراتی حقائق سے پہلو تہی ہے۔پاکستان امریکہ کو نشانہ بنانے کا سوچے، معاشی اور سیاسی حوالے سے یہ ممکن نہیں کیونکہ پاکستان کی سب سے بڑی برآمدی مارکیٹ (تقریباً چھ ارب ڈالر) امریکہ ہے اور وہاں مقیم پاکستانیوں کی بہت بڑی تعداد ملک میں رقوم بھیجتے ہیں اس کے علاوہ پاکستان اپنے معاشی مسائل کے حل (آئی ایم ایف) کے لیے امریکہ کے ساتھ خیر سگالی کے تعلقات برقرار رکھنا اپنی خارجہ پالیسی کے ساتھ ساتھ قومی سلامتی کا اہم ہدف سمجھتا ہےپاکستان کی دفاعی صلاحیتوں پر تنقید اور شکوک و شبہات کا اظہار کرنا اس بات کا ثبوت ہے واشنگٹن میں انڈین لابی فائدہ اٹھانا چاہتی ہے۔ مستقبل میں بھی ایسا ممکن نہیں ہے کہ پاکستان امریکہ پر حملہ کرنے کی صلاحیت حاصل کر لے ’کیونکہ پاکستان کا میزائل و ایٹامک پروگرام انڈیا کے لیے مخصوص ہے اور پاکستان کسی قسم کی ہتھیاروں کی دوڑ میں شامل نہیں ہےامریکی وزارتِ خارجہ کے بیان میں الزام عائد کیا گیا کہ ’آر آئی اے ایم بی نے شاہین تھری اور ابابیل میزائل سسٹمز اور ’ممکنہ طور پر اس سے بھی بڑے سسٹمز‘ کے لیے ڈائیامیٹر راکٹ موٹرز کے ٹیسٹ اور آلات کی خریداری کے سلسلے میں پاکستان کے ساتھ کام کیا ہے
اس کا مطلب یہ ہو سکتا ہے کہ اسی میزائل کی اگلی جنریشن پر کام ہو رہا ہے۔یقیناً اس سسٹم میں کوئی ایسی نئی ڈویلپمنٹ ہوئی ہے جس نے امریکی تشویش میں اضافہ کیا ہے کہ شاید پاکستان مزید صلاحیتیں حاصل کر رہا ہے اور مستقبل میں ان نیوکلئیر صلاحتیوں والے میزائلوں کے بہتر ورژن زیادہ بڑے وار ہیڈز لے جا سکتے ہیں اور ابابیل شاید تین سے زیادہ وار ہیڈز لے جانے کی صلاحیت حاصل کر لے۔ یاد رہے اپریل24 میں ان سسٹمز کے موبائل لانچرز پر پابندیاں لگائی گئی تھیں۔ امریکہ کی جانب سے جاری کردہ فیکٹ شیٹ میں کہا گیا تھا کہ بیلاروس میں قائم مِنسک وہیل ٹریکٹر پلانٹ نے پاکستان کو بیلسٹِک میزائل پروگرام کے لیے خصوصی گاڑیوں کے چیسس فراہم کیے ہیں۔
ابابیل کا پہلا ٹیسٹ جنوری 2017 میں ہوا تھا اور اس کے بعد ابابیل کا دوسرا تجربہ چھ سال بعد گذشتہ برس اکتوبر 2023 میں ہوا تھا۔ اور اس دوران این ڈی سی میں اس ٹیکنالوجی پر مسلسل کام ہوتا رہا شاہین تھری تو پہلے سے آپریشنل تھا لیکن ابابیل کے تجربے کے بعد جب اسے پریڈ میں دکھایا گیا تو اس کے بعد شاہین تھری اور ابابیل زیادہ نظروں میں آئے کیونکہ اس نمائش کا مطلب تھا کہ پاکستان اس مرحلے تک پہنچ چکا ہے جہاں اس پر ریسرچ اور ڈویلپمنٹ مکمل ہو چکی ہے اور ابابیل اب آپریشنل ہے یہ امریکی تشویش کی اصل وجہ ہے۔ امریکہ کو خدشہ ہے پاکستان اس کے زیادہ سے زیادہ صلاحتیوں والے ورژن پر کام کر رہا ہےامریکی تشویش کی ایک اور وجہ یہ ہے کہ ابابیل تھری سٹیج میزائل سسٹمز ہیں اور موبائل لانچر والا سسٹم ایک بہت اہم صلاحیت ہے کیونکہ کسی




