رشوت خوری اور بدبودار نظام ایک اور گھر کو برباد کر گیا۔۔ مظلوم دشمن دار سارا دن تھانے کچہری اور ججوں کی منتیں کرتا رہا اور شام کو روزے کی حالت میں دشمنوں کے ہاتھوں قتل ہو گیا ۔۔۔ شیخوپورہ میں 2 روز قبل کچہری کے باہر باپ بیٹے پر فائیر۔نگ، باپ قتل بیٹا آئی سی یو میں ۔۔۔۔ ساری کہانی سامنے آگئی شیخوپورہ تھانہ بی ڈویژن کی حدود محلہ رسول نگرشاہ کالونی روڈ پر دل دہلا دینے والا ق۔ت۔ل کا واقعہ پیش آیا، حاجی طارق کھوکھر کا بھائی چند ماہ قبل مخالفین کے ہاتھوں ق۔ت۔ل ہوا ، پولیس نے ملزمان گرفتار کرنے میں ٹال مٹول کیا ، پھر حاجی طارق نے خود ذاتی کوشش سے ملزمان کو ٹریس کیا اور پولیس نے ملزمان گرفتار کرنے کے ان سے 2 لاکھ روپے رشوت وصول کیے ، بعد میں حاجی طارق سی سی ڈی کے پاس گئے لیکن سی سی ڈی نے ان کا کیس لینے سے انکار کردیا ، ادھر حاجی طارق کے بھائی کا قا۔تل چند ماہ بعد ضمانت پر رہا ہو کر آگیا اور اس نے حاجی طارق کو براہ راست دھم۔کی دی کہ صلح کر لو کیس سے دستبردار ہو جاؤ ورنہ بھائی کی طرح مارے جاؤ گے ۔ حاجی طارق نے پولیس کو اس بات سے آگاہ کیا تو ایس ایچ او صاحب نے کہا ابھی کونسا لڑائی ہوئی ہے کچھ ہو گا تو دیکھ لیں گے ۔ دو روز قبل دونوں فریقین نے عدالت میں پیش ہونا تھا ، حاجی طارق خطرہ محسوس کررہے تھے انہوں نے جج صاحب سے درخواست کی کہ انکی جان کو خطرہ ہے فریقین کو ایک ہی بار نہ بلائیں علیحدہ علیحدہ بلا کر کیس کی سماعت کریں ، لیکن جج صاحب نے انہیں اکٹھے بلانے کا اپنا فیصلہ نہ بدلا ۔ جج صاحب نے 2بجے اکٹھے ہی فریقین کو گواہی اور بیانات کے لیے بلا لیا ، 2 بجے فریقین عدالت میں پیش ہوئے کاغذائی کارروائی اور خانہ پری ہوئی اور جونہی حاجی طارق اپنے بیٹے تابش کے ہمراہ کچہری سے نکل کر گھر روانہ ہوئے تو راستے میں ملزمان نے اندھا دھند فائیر۔نگ کردی جس سے حاجی طارق اور انکا بیٹا شدید زخمی ہو گئے افسوس کی بات یہ ہے کہ حاجی طارق کے گھر کی خواتین کچھ دیر میں موقع پر پہنچ گئیں لیکن پولیس نہ پہنچی ریسکیو والوں نے حاجی طارق اور انکے بیٹے کو ہسپتال منتقل کیا جہاں وہ روزے کی حالت میں جان بحق ہو گئے جبکہ انکے بیٹے کو لاہور ریفر کردیا گیا جہاں وہ آئی سی یو میں ہے ، پولیس ہسپتال بھی وقت پر نہ پہنچی تو حاجی طارق کی بیٹیاں اور بہنیں اپنے باپ کی لا۔ش سٹریچر سمیت لے کر شیخوپورہ بتی چوک آگئیں ، اور ملزمان گرفتار نہ ہونے تک دھرنے کا اعلان کیا تو انہیں نامعلوم نمبروں سے فون کالز آنا شروع ہو گئیں کہ دھرنا ختم کرکے لا۔ش گھر لے جاؤ ورنہ تمہیں بھی بتی چوک میں مار ڈالیں گے، اس دوران پولیس نے اس ایریا کی لائٹس بند کروا دیں تاکہ متاثرہ فیملی خوفزدہ ہو جائے ۔بہادر بیٹیاں ڈٹی رہیں آخر رات 2 بجے پولیس کے اعلیٰ حکام نے زحمت کی اور آکر ملزمان کی گرفتاری کا وعدہ کیا جس پر خواتین اپنے گھر کے سربراہ کی لا۔ش لے کر گھر چلی گئیں ، اب حاجی طارق کی تدفین ہو چکی ہے لیکن یہ سارا واقعہ گندے اور بوسیدہ نظام کی ساری بدبو آشکار کرگیا ہے اب بھی کسی کو محسوس نہ ہو تو الگ بات ہے۔۔۔
رشوت خوری اور بدبودار نظام، باہمت شہری مقتول بھائی کیلئے انصاف مانگنے کچہری آیا اور روزے کی حالت میں دشمنوں کے ہاتھوں قتل

