شاہی خاندان سے تعلق رکھنے والے میریس بورگ ہوئیبی پر تشدد اور منشیات کے الزامات
اوسلو: ناروے کی ولی عہد شہزادی میٹی-ماریٹ کے بیٹے میریس بورگ ہوئیبی کا مقدمہ منگل کو اوسلو کی عدالت میں شروع ہوا جہاں انہوں نے ریپ کے تمام الزامات سے انکار کر دیا۔ 29 سالہ میریس پر 2018 سے نومبر 2024 کے درمیان 38 الزامات عائد ہیں جن میں گھریلو تشدد، منشیات کی اسمگلنگ اور جان سے مارنے کی دھمکیاں شامل ہیں۔
چار ہفتوں کی ریمانڈ میں بھیجے گئے
مقدمے کی ابتدا سے ایک روز قبل میریس کو چاقو سے دھمکیاں دینے اور پابندی آرڈر کی خلاف ورزی کے نئے الزامات میں گرفتار کر لیا گیا۔ اوسلو کے جج نے انہیں چار ہفتوں کی ریمانڈ میں بھیجتے ہوئے “سزا کے خطرے” کو وجہ بتایا۔ اب وہ اپنی جیل سے ہی عدالت میں پیش ہوں گے۔
شاہی خاندان کا غیر سرکاری رکن
میریس ولی عہد شہزادہ ہاکون سے شادی سے قبل میٹی-ماریٹ کے پہلے رشتے سے ہیں اور وہ شاہی خاندان کے سرکاری رکن نہیں ہیں۔ شہزادہ ہاکون نے واضح کیا ہے کہ “انہیں ناروے کے عام شہریوں کی طرح حقوق اور ذمہ داریاں حاصل ہیں”۔ پراسیکیوٹر نے یقین دلایا ہے کہ خاندانی تعلقات کی بنیاد پر نہ تو رعایت دی جائے گی اور نہ ہی سخت رویہ اپنایا جائے گا۔
ناروے کی مساواتی تصویر پر سوالیہ نشان
یہ مقدمہ ناروے کی معاشرتی تصویر کو چیلنج کر رہا ہے جسے صنفی مساوات کے حوالے سے مثالی سمجھا جاتا ہے۔ جرمن اخبار ڈیر ٹیجس پیگل کے مطابق یہ واقعہ ناروے کی بیرونی تصویر اور اندرونی حقیقت کے درمیان فرق کو ظاہر کرتا ہے۔ 2025 سے ناروے میں جنسی رضامندی کے نئے قوانین نافذ ہیں جہاں واضح رضامندی کے بغیر جنسی عمل کو ریپ قرار دیا جا سکتا ہے۔
ایپسٹائن کنکشن اور شاہی خاندان کی مشکلات
یہ مقدمہ ایسے وقت میں شروع ہوا ہے جب شہزادی میٹی-ماریٹ خود جیفری ایپسٹائن کے اسکینڈل میں ملوث پائی گئی ہیں۔ شاہی خاندان کے بیان کے مطابق انہوں نے 2013 میں ایپسٹائن کے فلوریڈا گھر میں قیام کیا تھا جس پر انہوں نے افسوس کا اظہار کیا ہے۔
سزا کی ممکنہ مدت
مقدمے کی سماعت 19 مارچ تک جاری رہے گی۔ اگر میریس پر سنگین ترین الزامات ثابت ہو گئے تو انہیں 16 سال قید کی سزا ہو سکتی ہے۔ تحقیقات کے مطابق ان پر جنسی حملوں کے متعدد واقعات میں ملوث ہونے کے الزامات ہیں جہاں خواتین اپنا دفاع کرنے کے قابل نہیں تھیں۔

