بچے کے اپنے والد نے مبینہ طور پر نام نہاد ‘کیم سیکس’ پارٹی میں رابطہ کرایا
فرانسیسی شہر لیل کے پراسیکیوشن آفس نے منگل کے روز دس مردوں کے خلاف پانچ سالہ بچے کی کیمیائی مادوں کے ذریعے جنسی زیادتی کے سنگین مقدمے میں کارروائی کا اعلان کیا ہے۔ یہ واقعہ ایک ایسی ‘کیم سیکس’ پارٹی میں پیش آیا جہاں نشہ آور مادوں کا استعمال کیا جاتا ہے۔
تفصیلات اور تحقیقاتی عمل
پراسیکیوشن آفس کے مطابق، یہ مقدمہ 15 فروری 2025 کو لیل میں ایک نام نہاد ‘کیم سیکس’ پارٹی کی اطلاعات کے بعد کھولا گیا۔ تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی کہ پانچ سالہ بچے کو اس کے اپنے والد نے متعدد مردوں سے ملوایا، جہاں بچے کے ساتھ ‘نشہ آور مادوں کے استعمال سے جنسی تشدد’ کیا گیا۔
22 فروری 2025 کو، لیل کے پراسیکیوشن آفس نے نومبر 2024 سے 14 فروری 2025 کے درمیان پیش آنے والے واقعات کی تفتیش کے لیے ایک مجسٹریٹ کو مقدمہ سونپ دیا۔ الزامات میں ‘زیادتی اور جنسی حملہ جس میں متاثرہ کی رضامندی کے بغیر اس کے فیصلہ سازی کی صلاحیت متاثر کرنے والے مادوں کا استعمال’ شامل ہے۔
ملزمان اور سزائیں
دس ملزمان، جن کی عمریں 29 سے 50 سال کے درمیان ہیں، پر مقدمہ چلایا جا رہا ہے۔ ان میں سے نو افراد کو عارضی حراست میں رکھا گیا ہے۔ اہم ملزمان میں سے ایک نے 21 جون 2025 کو حراست میں رہتے ہوئے خودکشی کر لی۔
- ملزمان پر ‘زیادتی اور جنسی حملہ جس میں تشدد یا وحشیانہ حرکات’ کا الزام ہے
- ساتھ ہی ’15 سال سے کم عمر بچے کو اس کی رضامندی کے بغیر ایسے مادے دینا جو اس کی فیصلہ سازی کی صلاحیت متاثر کرتے ہوں’ کا الزام بھی عائد ہے
- پراسیکیوشن آفس کے مطابق، تشدد یا وحشیانہ حرکات کے ساتھ زیادتی کے جرم میں عمر قید کی سزا کا امکان ہے
متاثرہ بچے کی حالت
پراسیکیوشن آفس نے تصدیق کی ہے کہ متاثرہ بچہ اب اس کی ماں کے پاس ہے، جو واقعات سے پہلے ہی بچے کے والد سے علیحدہ ہو چکی تھی۔ بچے کو خصوصی طبی اور نفسیاتی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ تحقیقاتی عمل نے واقعات کی حقیقت کی تصدیق کر دی ہے۔
یہ واقعہ فرانس میں بچوں کے خلاف جنسی جرائم کی سنگینی اور کیمیائی مادوں کے استعمال کے نئے خطرات کو اجاگر کرتا ہے۔ عدالتی کارروائی جاری ہے اور ملزمان کو ان کے جرائم کی پوری سزا دینے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔

