نیا تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ دن میں مختصر سا قیلولہ نہ صرف تھکاوٹ دور کرتا ہے بلکہ دماغ کو نئی معلومات سیکھنے اور محفوظ کرنے کے لیے تیار بھی کرتا ہے۔
سوئس تحقیق نے فوائد ثابت کیے
سوئٹزرلینڈ کے یونیورسٹی میڈیکل سینٹر فرائبورگ اور یونیورسٹی آف جنیوا کے محققین کی ایک تازہ تحقیق کے مطابق، دن میں 45 منٹ کا قیلولہ دماغی سیناپسز (اعصابی خلیوں کے درمیان رابطے) کی مجموعی طاقت کو کم کرتا ہے، جو نیند کے بحالی اثرات کی واضح علامت ہے۔
دماغی کارکردگی میں واضح بہتری
تحقیق میں 20 نوجوانوں کو دو گروپوں میں تقسیم کیا گیا۔ ایک گروپ کو دوپہر میں 45 منٹ کے دو قیلولے کرائے گئے جبکہ دوسرے گروپ کو جاگتے رہنے دیا گیا۔ ٹرانس کرانیل میگنیٹک سٹیمولیشن اور ای ای جی ٹیسٹ سے معلوم ہوا کہ قیلولہ کرنے والوں کے دماغ نئی رابطے بنانے کے لیے زیادہ تیار تھے۔
ذہنی دباؤ اور کام کے بوجھ میں مفید
تحقیق کے مرکزی مصنف پروفیسر کائی اسپیگل ہالڈر کا کہنا ہے کہ “یہ مطالعہ ہمیں ذہنی بحالی کے لیے مختصر نیند کے اوقات کی اہمیت سمجھنے میں مدد کرتا ہے۔ ایک مختصر قیلولہ آپ کو واضح سوچنے اور اپنے کام پر توجہ مرکوز رکھنے میں مدد دے سکتا ہے۔”
پچھلی تحقیقات سے تصدیق
یہ پہلی تحقیق نہیں ہے جس میں قیلولے کے فوائد سامنے آئے ہیں۔ 2022 کی ایک میٹا تجزیہ میں ثابت ہوا تھا کہ 10 سے 20 منٹ کا قیلولہ توجہ اور معلومات پر کارروائی کی رفتار بہتر بناتا ہے۔ 2018 کی ایک تحقیق میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ طلباء کے لیے امتحان کی تیاری میں رٹہ لگانے کے بجائے قیلولہ کرنا زیادہ موثر ثابت ہوتا ہے۔
ماہرین کا مشورہ
محققین کا کہنا ہے کہ ذہنی یا جسمانی طور پر زیادہ محنت کرنے والے افراد کے لیے دن میں آرام کے اس وقفے کو نظرانداز نہیں کرنا چاہیے۔ قیلولہ دماغی صحت کو برقرار رکھنے اور کارکردگی بڑھانے کا ایک قدرتی ذریعہ ہے۔

