کاپی کوی بارڈر سے براہ راست رپورٹ
ایران ترکی سرحد کے اہم چوکی کاپی کوی پر روزانہ سینکڑوں ایرانی شہری پہنچ رہے ہیں۔ کچھ تو چند دنوں کے لیے روزگار کی تلاش میں آتے ہیں، جبکہ بہت سے وہ لوگ ہیں جو ملک میں جاری مظالم سے بچنے کے لیے فرار ہو رہے ہیں۔ یہاں سے وہ وان شہر کے لیے منی بسوں میں سفر کرتے ہیں، جہاں سے ان کی زندگی کا نیا اور غیر یقینی سفر شروع ہوتا ہے۔
آنکھوں میں خوف، چہروں پر تھکن
ایک نوجوان، جس کا تعلق بحیرہ کیسپین کے کنارے واقع شہر رشت سے ہے، نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا: “میں ایران سے بھاگ رہا ہوں۔ میرے کندھے میں گولی لگی تھی۔ ہم ہسپتال نہیں جا سکتے تھے، کیونکہ وہ ہر زخمی کو گرفتار کر لیتے ہیں۔ میں نے خود دیکھا ہے کہ وہ لوگوں کو قتل کر رہے ہیں۔ سر میں گولی مارتے ہیں۔ انہوں نے سات سال کی ایک بچی کو بھی مار ڈالا۔”
انہوں نے مزید کہا، “ایران میں وہ سب کو مار رہے ہیں۔ اور جو زندہ ہیں، ان کی روحیں مر چکی ہیں۔ آپ سمجھ رہے ہیں؟ اندر سے وہ سب مردہ ہیں۔”
ڈاکٹروں کی گرفتاریاں: “یہ سراسر دیوانگی ہے”
ایک نوجوان خاتون ڈاکٹر، جو ایران اور ترکی کے درمیان آتی جاتی رہتی ہیں، نے بتایا: “وہ ڈاکٹروں کو گرفتار کر رہے ہیں! انہیں سزا دے رہے ہیں صرف اس وجہ سے کہ وہ لوگوں کی مدد کرتے ہیں۔ کون سا ملک ڈاکٹروں کو ان کے فرض کی انجام دہی پر سزا دیتا ہے؟ ہم نے مریضوں کو بچانے کی قسم کھائی ہے، لیکن ہسپتال میں بھی وہ انہیں نہیں بخشتے۔ اگر مریض دو دن سے زیادہ رہے، تو آ کر گرفتار کر لیتے ہیں۔ ہسپتال کے اندر ہی گولی مار دیتے ہیں۔ یہ سراسر دیوانگی ہے۔”
امریکی مدد کی امید
بہت سے مہاجرین امریکی مداخلت کی امید لگائے بیٹھے ہیں۔ تہران سے آنے والے ایک نوجوان نے کہا، “خامنہ ای نے ایران میں اتنا قتل کیا ہے۔ دو دن میں 40 ہزار لوگ مارے گئے اور 20 ہزار کی آنکھیں ضائع ہوئیں۔ ہمیں یہ آمریت پسند نہیں، ہمیں جمہوریت چاہیے۔” انہوں نے مزید کہا، “ہم ٹرمپ سے محبت کرتے ہیں۔ وہ ہماری مدد کریں گے۔ ہم ان کا انتظار کر رہے ہیں۔”
مستقبل کے بارے میں مختلف آرا
ارومیہ شہر کے رہنے والے احمد کا خیال ہے کہ تبدیلی یقینی ہے: “ہم میں سے اکثر کا خیال ہے کہ امریکہ، اسرائیل اور یورپی ممالک نے اسلامی جمہوریہ کو گرانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ ہمارا خیال ہے کہ یہ روایتی جنگ نہیں ہوگی، بلکہ سرجیکل ہوگی۔”
تاہم، ایک نوجوان خاتون، جنہوں نے اپنا نام ‘وائلٹ’ بتایا، کا کہنا تھا کہ ایرانی خود کچھ نہیں کر سکتے: “بیرونی امداد کے بغیر یہ ناممکن ہے۔ کیونکہ ان کے پاس ہتھیار ہیں اور عوام کے پاس کچھ نہیں۔ ہم انتظار کر رہے ہیں، امید کر رہے ہیں، لیکن مجھے اب یقین نہیں رہا کیونکہ کوئی ہماری مدد نہیں کر رہا۔”
انہوں نے اختتام پر ایک اہم پیغام دیا: “ایران کے لوگ کچھ نہیں کر سکتے۔ لیکن آپ، جو باہر رہتے ہیں، آپ ہماری آواز بن سکتے ہیں۔ ہمارا پیغام پہنچائیں۔”

