خامنہ ای کی ہلاکت کی سرکاری تصدیق
ایران کی ریاستی کنٹرول میڈیا نے تصدیق کی ہے کہ ملک کے طویل عرصے سے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ فضائی حملوں میں ہلاک ہو گئے ہیں۔ حملے میں خامنہ ای کی بیٹی اور پوتا بھی ہلاک ہوئے ہیں۔ ایرانی میڈیا کے مطابق، خامنہ ای اپنے دفتر میں تھے جب حملہ ہوا۔
ایران کی جوابی کارروائی اور شدید ردعمل
ایران نے فوری طور پر جوابی کارروائی کرتے ہوئے اسرائیل اور خطے میں امریکی اڈوں کی طرف میزائل اور ڈرون داغے ہیں۔ ایرانی انقلابی گارڈ کور نے “شدید، فیصلہ کن اور پچھتانے والی سزا” کا وعدہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ “اب تک کی سب سے شدید جارحانہ کارروائی” کا آغاز ہونے والا ہے۔ ایرانی کابینہ نے بھی اس “عظیم جرم” کو کبھی بے سزا نہ جانے دینے کی دھمکی دی ہے۔
انتقال اقتدار کا طریقہ کار
ایران نے صدر، عدلیہ کے سربراہ اور گارڈین کونسل کے ایک فقیہ کو آیت اللہ خامنہ ای کی وفات کے بعد منتقلی کے دور کی نگرانی کے لیے مقرر کیا ہے۔ اس دوران رہنمائی کے ماہرین کی اسمبلی آئین کے مطابق جلد از جلد خامنہ ای کے جانشین کی تقرری کا کام شروع کرے گی۔
بین الاقوامی ردعمل اور سفارتی بحران
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے ترجمان نے کہا ہے کہ امریکہ، اسرائیل اور ایران تینوں نے بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کی ہے۔ سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس بھی بلایا گیا۔ آسٹریلیا اور کینیڈا نے امریکی کارروائی کی حمایت کی ہے، جبکہ جرمنی، فرانس اور برطانیہ نے حملوں کی مذمت کی ہے۔ روس نے اسے “مسلح جارحیت” قرار دیا ہے اور چین نے فوری جنگ بندی اور مذاکرات کی واپسی کا مطالبہ کیا ہے۔
شہریوں پر اثرات اور عالمی ردعمل
ایران کا کہنا ہے کہ حملوں میں “سینکڑوں شہری” ہلاک یا زخمی ہوئے ہیں، جن میں ایک اسکول پر حملے میں 100 سے زیادہ بچے بھی شامل ہیں۔ ایرانی میڈیا کے مطابق سپریم لیڈر کے مشیر علی شمخانی اور انقلابی گارڈ کمانڈر محمد پاک پور بھی ہلاک ہوئے ہیں۔ دوسری طرف، آسٹریلیا سمیت دنیا بھر میں کئی ممالک میں ایرانی نژاد افراد نے خامنہ ای کی ہلاکت پر خوشی کا اظہار کیا اور حکومت کے خلاف نعرے لگائے۔
سفر میں خلل اور معاشی خدشات
تنازعے کے باعث ایران کا فضائی راستہ بند ہونے سے بین الاقوامی پروازیں متاثر ہوئی ہیں۔ سڈنی ایئرپورٹ پر مسافر پھنس گئے ہیں۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ صورتحال سے تیل کی قیمتوں میں اضافے کا خطرہ ہے، خاص طور پر اگر ایران آبنائے ہرمز کو بند کر دے۔
آئندہ کے امکانات
ماہرین کا خیال ہے کہ ایرانی حکومت خامنہ ای کی ہلاکت کے باوجود قائم رہ سکتی ہے، کیونکہ اس کے پاس جانشینی کا واضح آئینی طریقہ کار موجود ہے۔ تاہم، یہ دیکھنا باقی ہے کہ نیا سپریم لیڈر خامنہ ای کی پالیسیوں کو جاری رکھے گا یا امریکہ کے ساتھ تعلقات میں نرمی لائے گا۔ فی الحال، خطے میں کشیدگی انتہائی خطرناک سطح پر پہنچ چکی ہے۔

