حملوں کا مقصد ‘نظام میں تبدیلی’ بتایا جا رہا ہے
امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ فضائی حملوں میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای شہید ہو گئے ہیں۔ دونوں ممالک کے حکام نے اس کارروائی کو ایران میں نظام تبدیل کرنے کی کوشش سے تعبیر کیا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایرانی سرکاری ٹی وی دونوں نے خامنہ ای کی شہادت کی تصدیق کی ہے۔
آپریشن ایپک فیوری اور رورنگ لائن
اسرائیلی فوج کے مطابق، وسیع پیمانے پر ہونے والے ان حملوں میں ایران کے متعدد اعلیٰ فوجی، انٹیلی جنس اور سیکیورٹی قائدین بھی شہید ہوئے ہیں۔ امریکہ نے اس آپریشن کو ‘آپریشن ایپک فیوری’ جبکہ اسرائیل نے ‘آپریشن رورنگ لائن’ کا نام دیا ہے۔ صدر ٹرمپ نے ایک پوسٹ میں کہا کہ “یہ ایرانی عوام کے لیے اپنا ملک واپس لینے کا سب سے بڑا موقع ہے۔”
شہید ہونے والے اعلیٰ قائدین کی فہرست
اسرائیلی دفاعی فورسز کے مطابق شہید ہونے والوں میں درج ذیل اہم شخصیات شامل ہیں:
- آیت اللہ علی خامنہ ای: ایران کے سپریم لیڈر، جنہوں نے 1989 سے ملک پر اپنی گرفت برقرار رکھی۔
- علی شمخانی: سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سیکرٹری اور دفاعی امور کے سینئر مشیر۔
- محمد شیرازی: سپریم لیڈر کے فوجی بیورو کے سربراہ، جو 1989 سے اس عہدے پر فائز تھے۔
- محمد پاک پور: ایرانی ریوولیوشنری گارڈ کورps کے کمانڈر، جن پر اسرائیل کو تباہ کرنے کی منصوبہ بندی کا الزام تھا۔
- عزیز ناصرزادہ: ایران کے وزیر دفاع اور طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل پروگرام کے ذمہ دار۔
- حسین جبل عاملیان: دفاعی تحقیق اور جدت کی تنظیم (SPND) کے سربراہ، جو جوہری و حیاتیاتی ہتھیاروں کے پروجیکٹس سے منسلک تھے۔
- رضا مظفری نیا: SPND کے سابق سربراہ، جوہری ہتھیاروں کی ترقی کے لیے کوششوں میں ملوث۔
- صالح اسدی: سینئر انٹیلی جنس افسر، جو ایران کی خارجہ پالیسی پر اثر انداز ہونے کے لیے جانے جاتے تھے۔
شہادتوں کی تعداد اور ایرانی ردعمل
ایران کے ہلال احمر کے مطابق، ملک بھر میں ہونے والے ان حملوں میں 201 افراد ہلاک اور 747 زخمی ہوئے ہیں۔ ایرانی حکام نے خامنہ ای کی شہادت کی تصدیق جبکہ دیگر اموات کی ابھی تصدیق نہیں کی ہے۔ یہ حملے گزشتہ سال اسرائیل اور ایران کے درمیان 12 روزہ جنگ کے بعد سب سے بڑی فوجی کارروائی سمجھی جا رہی ہے، جس میں ایران کے جوہری پروگرام کو بھی نشانہ بنایا گیا تھا۔
خامنہ ای کا سیاسی سفر
آیت اللہ علی خامنہ ای، جو 1939 میں مشہد میں پیدا ہوئے، 1979 کی اسلامی انقلاب میں اہم کردار ادا کرنے کے بعد 1989 میں سپریم لیڈر بنے۔ انہوں نے اپنے دور میں ایران کی خارجہ پالیسی پر سخت موقف اختیار کیا، خاص طور پر امریکہ کے ساتھ تنازعے میں۔ صدر ٹرمپ نے انہیں “تاریخ کے بدترین لوگوں میں سے ایک” قرار دیا تھا۔

