حالات کا خلاصہ
ایران کے سرکاری میڈیا نے تصدیق کی ہے کہ ملک کے طویل عرصے سے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ فضائی حملوں میں ہلاک ہو گئے ہیں۔ اس واقعے کے بعد خطے میں فوری طور پر تناؤ میں شدید اضافہ ہوا ہے۔
ایرانی ردعمل اور دھمکیاں
ایران نے اس حملے کے جواب میں اسرائیل اور خطے میں امریکی اڈوں پر میزائل اور ڈرون حملے شروع کر دیے ہیں۔ ایرانی ریوالیوشنری گارڈ نے “سخت، فیصلہ کن اور پچھتانے والی سزا” کا وعدہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ “اب تک کا سب سے شدید جارحانہ آپریشن” شروع کرے گا
- ایرانی کابینہ نے بھی کہا ہے کہ یہ “عظیم جرم کبھی بے جواب نہیں جائے گا”۔
- ایران نے صدر، چیف جسٹس اور گارڈین کونسل کے ایک رکن کو عبوری دور کی نگرانی کے لیے مقرر کیا ہے۔
- آیت اللہ خامنہ ای کی جانشینی کے لیے رہنما ماہرین کی اسمبلی جلد از جلد اجلاس کرے گی۔
بین الاقوامی ردعمل
اقوام متحدہ کے ترجمان اسٹیفن ڈوجارک نے کہا ہے کہ امریکہ، اسرائیل اور ایران تینوں نے بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کی ہے۔ انہوں نے فوری طور پر تناؤ کم کرنے اور سفارتی حل پر زور دیا۔
- آسٹریلیا اور کینیڈا نے امریکی کارروائی کی حمایت کی ہے۔
- جرمنی، فرانس اور برطانیہ نے حملوں کی مذمت کی ہے۔
- روس نے اسے “پہلے سے طے شدہ جارحانہ کارروائی” قرار دیا ہے۔
- چین نے فوجی کارروائی روکنے اور مذاکرات کی طرف واپس آنے کی اپیل کی ہے۔
متاثرین اور نقصانات
ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق حملوں میں سینکڑوں شہری ہلاک یا زخمی ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ سپریم لیڈر کے مشیر علی شمخانی اور ریوالیوشنری گارڈ کمانڈر محمد پاک پور بھی ہلاک ہو گئے ہیں۔
ایرانی جوابی حملوں میں عراق میں دو، متحدہ عرب امارات میں ایک اور اسرائیل میں ایک شخص کی ہلاکت کی اطلاعات ہیں۔
آسٹریلیا پر اثرات
تنازعے کے باعث سڈنی ایئرپورٹ پر مسافر پھنس گئے ہیں جنہیں مارڈی گرا کے موقع پر ہوٹلوں کی عدم دستیابی کا سامنا ہے۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ تیل کی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ ہے، خاص طور پر اگر ایران آبنائے ہرمز بند کر دے۔
ایرانی عوام کے ردعمل
کینبرا میں ایرانی نژاد آسٹریلویوں نے ایرانی سفارت خانے کے باہر جمع ہو کر جشن منایا اور “ریجم چینج” کے نعرے لگائے۔ میلبورن کے ہوزیر لین میں ایرانی فنکار نازنین نے کہا کہ وہ خامنہ ای کی موت پر “خوش اور پرامید” ہیں، لیکن ان کا کہنا ہے کہ “لڑائی ابھی ختم نہیں ہوئی”۔
مستقبل کے امکانات
ماہرین کا خیال ہے کہ ایرانی نظام اس صدمے سے نمٹ سکتا ہے۔ آسٹریلین نیشنل یونیورسٹی کے پروفیسر امین سیکل کا کہنا ہے کہ “یہ ایرانی نظام کے لیے ایک سنگین ضرب ہے، لیکن یہ ناقابل تسخیر نہیں ہے”۔
خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ سپریم سیکورٹی کونسل کے سربراہ علی لاریجانی عبوری قیادت میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں، جو خامنہ ای کے وفادار ساتھی رہے ہیں۔

