امریکی مبصر اور پوڈکاسٹر ٹکر کارلسن نے ایک متنازع دعویٰ کیا ہے کہ سعودی عرب اور قطر نے اسرائیلی خفیہ ایجنٹس کو گرفتار کر لیا ہے جو خلیجی ممالک میں بم دھماکوں کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔ یہ الزام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ حملوں کے بعد خطے میں کشیدگی انتہائی حد تک پہنچ چکی ہے۔
کارلسن کے متنازع بیانات
ٹکر کارلسن، جو اپنے حق میں جارحانہ موقف کے لیے جانے جاتے ہیں، نے اپنے پروگرام میں یہ معلومات پیش کیں۔ ان کا کہنا تھا کہ خلیجی حکام نے اسرائیلی موساد کے ایجنٹس کو ان کی سازش کے منصوبوں پر عملدرآمد سے پہلے ہی پکڑ لیا۔ تاہم، انہوں نے اپنے دعوے کی تصدیق کے لیے کوئی سرکاری دستاویز یا ذرائع پیش نہیں کیے۔
خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی
یہ واقعہ اس وقت پیش آیا ہے جب خطے کی صورتحال انتہائی نازک ہو چکی ہے:
- ایران نے حال ہی میں ہرمز کے آبنائے کو بند کر دیا ہے اور جہازوں کو گزرنے کی صورت میں حملے کی انتباہ جاری کیا ہے۔
- قطر نے ایرانی حملوں کے بعد ایل این جی کی پیداوار عارضی طور پر معطل کر دی ہے۔
- ترک ایئر لائنز نے ایران، عراق، شام، لبنان اور اردن کی پروازیں معطل کر دی ہیں۔
- متعدد ممالک اپنے شہریوں کو واپس لانے کے لیے فوری اقدامات کر رہے ہیں۔
بین الاقوامی ردعمل
دنیا بھر کی حکومتوں نے خطے میں تشدد بڑھنے پر تشویش کا اظہار کیا ہے:
- ترکی کے صدر ایردوان نے ایران میں شہریوں کی ہلاکتوں پر افسوس کا اظہار کیا ہے اور لڑائی روکنے کی اپیل کی ہے۔
- چین نے ایران کے خود دفاع کے حق کی حمایت کی ہے اور پرسکون رہنے کی گزارش کی ہے۔
- برطانیہ نے واضح کیا ہے کہ وہ مشرق وسطیٰ میں ‘عراق طرز کی جنگ’ میں شامل نہیں ہوگا۔
بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (IAEA) نے ایران کے جوہری تنصیبات پر حملوں کی کوئی علامت نہیں دیکھی ہے، جبکہ امریکی محکمہ دفاع نے واضح کیا ہے کہ ایران پر حملے کا مقصد حکومت کی تبدیلی نہیں ہے۔
آگے کیا ہوگا؟
خطے میں صورتحال روز بروز سنگین ہوتی جا رہی ہے۔ کارلسن کے دعوے، اگرچہ غیر مصدقہ، اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ خفیہ جنگ کی اطلاعات کس طرح کشیدگی کو اور بڑھا سکتی ہیں۔ عالمی برادری کے سامنے سب سے بڑا چیلنج اس بحران کو مزید پھیلنے سے روکنا اور سفارتی حل تلاش کرنا ہے۔

