یورپی رہنماؤں کی خاموشی پر سوالیہ نشان
امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حالیہ فوجی حملوں کے بعد یورپی رہنما زیادہ تر مذاکرات کی اپیل اور ایران کی مذمت تک محدود رہے ہیں۔ یہ رویہ اس وقت سامنے آیا ہے جبکہ حملے اقوام متحدہ کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔ یورپی ممالک کے پاس بین الاقوامی قانون کی پاسداری کا مضبوط ریکارڈ ہے، لیکن اس معاملے میں واضح موقف اختیار نہ کرنا بین الاقوامی نظام کے استحکام کے لیے سنگین خطرہ ہے۔
اقوام متحدہ کے چارٹر کی صریح خلاف ورزی
بین الاقوامی قانون کے ماہرین کے مطابق، یہ حملے اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 2 کی واضح خلاف ورزی ہیں، جو کہتی ہے کہ کسی بھی ملک پر صرف اجتماعی خود دفاع یا سلامتی کونسل کی اجازت سے ہی فوجی کارروائی کی جا سکتی ہے۔ ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات جاری تھے اور عمان کی ثالثی میں ایران نے افزودہ یورینیم کے ذخائر ترک کرنے، آئی اے ای اے کی جامع جانچ پڑتال قبول کرنے اور جوہری ہتھیار نہ بنانے کے عہ کی تجدید کی آمادگی ظاہر کی تھی۔
حملوں کے جواز غیر قانونی
امریکی صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر حملوں کو ایرانی عوام کو “نامقبول حکومت” کو گرانے کا موقع قرار دیا ہے، جبکہ پہلے انہوں نے اسے مذاکرات میں رعایت حاصل کرنے کی حکمت عملی بتایا تھا۔ بین الاقوامی قانون کے تحت یہ دونوں جواز کسی ملک پر حملے کی قانونی بنیاد فراہم نہیں کرتے۔ امریکہ اور اسرائیل کی حالیہ کارروائیاں ظاہر کرتی ہیں کہ ان حکومتوں کو اپنے اقدامات کی غیر قانونییت سے کوئی سروکار نہیں۔
حملے کے خطرناک نتائج
- بین الاقوامی نظام کو عدم استحکام: ایران کے جوابی حملوں سے خطے کے دیگر ممالک متاثر ہوئے ہیں اور ہرمز آبنائے کی جزوی بندش سے عالمی معیشت کو خطرہ ہے۔
- غیر جارحیت کے اصول کی خلاف ورزی: اگر یورپی رہنما ایران پر حملے کی مذمت نہیں کریں گے تو یوکرین کے خلاف روسی جارحیت کے موقع پر ان کا اخلاقی مؤقف کمزور پڑ جائے گا۔
- عام شہریوں کی ہلاکتیں: ایران سے موصولہ اطلاعات کے مطابق ایک اسکول پر بمباری میں 85 سے زائد افراد، زیادہ تر بچے، ہلاک ہوئے ہیں۔ جنگ کے پھیلنے سے اموات میں اضافہ ہوگا۔
- ایرانی ردعمل میں شدت: حملے ایران کی خارجہ پالیسی کو مزید جارحانہ بنا سکتے ہیں، جس کا نظریہ یہ ہے کہ حملے کی صورت میں کوئی اس کی مدد نہیں کرے گا۔
یورپی رہنماؤں کے لیے واضح راستہ
ایرانی حکومت کے مظالم اور احتجاجی تحریک پر کریک ڈاؤن کے باوجود، فوجی حملہ اس مسئلے کا حل نہیں ہے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ جمہوریت بزور طاقت نہیں لائی جا سکتی۔ یورپی رہنماؤں کے لیے واحد قانونی، اخلاقی اور حکمت عملی طور پر درست راستہ یہ ہے کہ وہ امریکی اور اسرائیلی حملوں کی واضح مخالفت کریں اور اقوام متحدہ کے چارٹر میں طے شدہ طاقت کے استعمال کی حدود کے احترام پر زور دیں۔ بین الاقوامی قانون کا احترام ہی طویل المدتی استحکام کی ضمانت ہے۔

