بین الاقوامی مالیاتی اداروں کی رپورٹس کے مطابق سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، کویت اور قطر امریکہ کے ساتھ اپنے موجودہ معاہدوں اور مستقبل کی سرمایہ کاریوں میں کمی یا مکمل انخلا کے بارے میں بات چیت کر رہے ہیں۔ یہ ممکنہ قدم خطے میں جاری امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف مہم سے پیدا ہونے والے مالی دباؤ اور عدم استحکام کے ردعمل میں اٹھایا جا رہا ہے۔
معاشی دباؤ اور سرمایہ کاری کا جائزہ
فنانشل ٹائمز کی ایک رپورٹ میں ایک خلیجی اہلکار کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ تین بڑی خلیجی معیشتیں اپنے بجٹ اور معیشت پر پڑنے والے دباؤ کا مشترکہ جائزہ لے رہی ہیں۔ اہلکار کے مطابق، “متعدد خلیجی ممالک نے موجودہ معاہدوں میں فورس میجور شقوں کو لاگو کرنے کے امکان کا اندرونی جائزہ شروع کر دیا ہے، جبکہ موجودہ اور مستقبل کی سرمایہ کاری وابستگیوں کا بھی معائنہ کیا جا رہا ہے تاکہ موجودہ جنگ سے متوقع معاشی دباؤ میں کچھ کمی لائی جا سکے۔”
انہوں نے اس اقدام کو ایک احتیاطی تدبیر قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ان ممالک کے سامنے موجود بجٹ کی مشکلات کا نتیجہ ہے جو “توانائی سے آمدنی میں کمی، پیداوار میں سست روی یا ترسیل میں ناکامی، [اور] سیاحت اور ہوا بازی کے شعبوں کے علاوہ دفاعی اخراجات میں اضافے” کی وجہ سے ہیں۔
خطے میں بڑھتا ہوا عدم اطمینان
خلیجی رہنماؤں کی جانب سے یہ غور و فکر خطے میں امریکہ کی پالیسیوں کے بارے میں بڑھتے ہوئے عدم اطمینان کی عکاسی کرتا ہے۔ ایک ممتاز اماراتی تاجر خلف الحبتور نے سوشل میڈیا پر سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو خطاب کرتے ہوئے سوال اٹھایا: “براہ راست سوال: آپ کو کس نے اختیار دیا کہ آپ ہمارے خطے کو ایران کے خلاف جنگ میں گھسیٹیں؟ اور کن بنیادوں پر آپ نے یہ خطرناک فیصلہ کیا؟ کیا آپ نے گولی چلانے سے پہلے ضمنی نقصان کا حساب لگایا تھا؟”
انہوں نے نشاندہی کی کہ خلیجی ریاستوں سے توقع کی جا رہی تھی کہ وہ غزہ کی تعمیر نو کے ٹرمپ کے منصوبے کی بڑی فنڈر اور ان کے وسیع تر “بورڈ آف پیس” کی حامی ہوں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ عرب خلیجی ممالک نے “استحکام اور ترقی کی حمایت کی بنیاد پر اربوں ڈالر کا تعاون کیا”، اور سوال کیا: “آج ان ممالک کو یہ پوچھنے کا حق ہے: یہ رقم کہاں گئی؟ کیا ہم امن کی پہل کو فنڈ دے رہے ہیں یا ایک ایسی جنگ کو فنڈ دے رہے ہیں جو ہمیں خطرے میں ڈال رہی ہے؟”
طویل مدتی اثرات اور عالمی ردعمل
یہ تجزیہ کیا جا رہا ہے کہ اگر خلیجی ریاستیں امریکہ کے ساتھ اپنی سرمایہ کاری وابستگیوں میں نمایاں کمی کرتی ہیں تو اس کے عالمی مالیاتی منڈیوں اور بین الاقوامی تعلقات پر دور رس اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ یہ اقدام نہ صرف دو طرفہ معاہدوں بلکہ کھیلوں کی سرپرستی، کمپنیوں کے ساتھ معاہدے اور غیر ملکی ہولڈنگز کی فروخت کو بھی متاثر کر سکتا ہے۔
ماہرین کا خیال ہے کہ یہ صورتحال خطے میں طویل المدت اقتصادی حکمت عملیوں میں ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتی ہے، جہاں خلیجی ممالک اپنے مالی وسائل کو علاقائی استحکام اور ترقی کے مقاصد کے لیے مرکوز کرنے پر غور کر رہے ہیں۔ عالمی برادری کی جانب سے ان ممکنہ معاشی فیصلوں اور ان کے جغرافیائی سیاسی اثرات پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔

