counter easy hit

شام امن مذاکرات پہلے کے مقابلے میں ‘زیادہ مثبت’: اپوزیشن

جنیوا میں شام امن مذاکرات 8 دن تک جاری رہے

جنیوا: اقوام متحدہ کی ثالثی میں ایک ہفتے سے زائد جاری رہنے والے شام امن مذاکرات جمعہ 3 مارچ کو اختتام پذیر ہوگئے، جسے مرکزی اپوزیشن گروپ نے گذشتہ مذاکرات کے مقابلے میں ‘زیادہ مثبت’ قرار دیا۔دوسری جانب اقوام متحدہ نے تمام فریقین پر زور دیتے ہوئے انہیں خبردار کیا ہے کہ 6 سال سے جاری اس تنازع کا سیاسی حل نکالا جائے۔

خیال رہے کہ فروری 2016 میں جرمنی کے شہر میونخ میں ہونے والے شام امن مذاکرات کے بعد روس اور امریکا سمیت 177 ممالک نے شام میں جنگ بندی پر اتفاق کیا تھا، جس کے بعد مختلف مراحل اور مختلف صورتوں میں یہ مذاکرات جاری رہے۔

جنگ بندی کے اعلان کے بعد شام میں دوبارہ جنگ کا آغاز ہوا، تاہم بعد ازاں روس اور ترکی کی ثالثی کے بعد شامی حکومت اور باغیوں کے درمیان دسمبر 2016 میں جنگ بندی پر دوبارہ اتفاق ہوگیا،اور دونوں جانب سے ایک دوسرے کے علاقے میں محصور لوگوں کو انخلاء کی اجازت دی گئی۔اسی سلسلے میں ہی جنوری 2017 میں قازقستان کے دارالحکومت آستانہ میں امن مذاکرات شروع ہوئے، جن میں باغیوں کے نمائندوں سمیت شامی حکومت، اقوام متحدہ اور روس سمیت ترکی کے عہدیدار بھی شامل ہوئے۔

یہ بھی پڑھیں: شام میں قیام امن کیلئے ‘آستانہ مذاکرات’ شروع

آستانہ مذاکرات سمیت دیگر مذاکرات میں بھی کوئی خاطر خواہ پیش رفت نہ ہونے کے بعد سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا میں فروری 2017 کے آخر میں امن مذاکرات شروع ہوئے جو 8 تک جاری رہنے کے بعد 3 مارچ کو کسی بڑی پیش رفت کے بغیر ختم ہوگئے۔غیر ملکی خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق مذاکرات کے اختتام پر اقوام متحدہ نے تمام فریقین کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ شام میں جاری 6 سالہ تنازع کا پر امن سیاسی حل نکالا جائے۔

اجلاس کے اختتام پر اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی برائے شام اسٹیفن ڈی مستورا نے بتایا کہ ‘8 دن تک جاری رہنے والے مذاکرات کے اختتام پر مجھے محسوس ہو رہا ہے کہ ہم صحیح راستے پر جا رہے ہیں، یہ مذاکرات آئندہ ماہ دوبارہ ہونے والے مذاکرات کے سلسلے میں مددگار ثابت ہوں گے’۔اسٹیفن ڈی مستورا نے بتایا کہ مذاکرات کے دوران شام میں شفاف اور غیر جانبدار انتخابات کرانے، مستحکم اور مضبوط حکومت کے قیام اورنئے آئین کے مسودے سمیت انسداد دہشت گردی کے خاتمے پر بھی بات کی گئی۔اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی نے امید ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ انہیں یقین ہے کہ تمام فریقین سیاسی استحکام کی طرف توجہ دیں گے، جسے نافذ کرنے کے لیے اقوام متحدہ کی ’قرارداد 2254’ کے تحت بات چیت کی جاسکتی ہے۔

مزید پڑھیں: شام میں جنگ بندی کا آغاز

انہوں نے مزید بتایا کہ اقوام متحدہ کے تحت امن عمل میں 2 دہشت گرد گروپ اسلامک اسٹیٹ (داعش) اور سابق النصرہ فرنٹ جو پہلے القاعدہ سے منسلک تھی، شامل نہیں ہیں۔ کہ پہلی بار سنجیدگی سے سیاسی تبدیلی اور استحکام سے متعلق بات کی گئی۔ہائی نگوشی ایٹنگ کمیٹی (این ایچ سی) کے سربراہ نصر الحریری نے بتایا، ‘ہم مذاکرات کا یہ دور کسی واضح نتائج کے بغیر ختم کر رہے ہیں، لیکن میں کہہ سکتا ہوں کہ اس مرتبہ نتائج زیادہ مثبت تھے’۔مذاکرات کے اختتام کے بعد شامی حکومت کے چیف مذاکرات کار بشرالجعفری صحافیوں سے بات کیے بغیر چلے گئے۔واضح رہے کہ شام امن مذاکرات کا نیا مرحلہ رواں ماہ 14 مارچ سے قازقستان کے دارالحکومت آستانہ میں دوبارہ شروع ہوگا، جب کہ روسی عہدیداروں کے مطابق جنیوا مذاکرات کا اگلا مرحلہ 20 مارچ کو منعقد ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں: امن مذاکرات سے قبل داعش کا بڑا حملہ

جنیوا مذاکرات سے پہلے آستانہ میں ہونے والے مذاکرات میں بھی فریقین کے درمیان کسی بڑی پیش رفت پراتفاق نہیں ہوسکا تھا۔آستانہ مذاکرات کے پہلے ہی سیشن کے بعد باغیوں نے دھمکی دے دی کہ اگر امن مذاکرات ناکام ہوئے تو وہ لڑائی جاری رکھیں گے۔خیال رہے کہ شام میں گزشتہ کئی برسوں سے خانہ جنگی میں اب تک لاکھوں لوگ ہلاک اور لاکھوں بے گھر ہوچکے ہیں۔

About MH Kazmi

Journalism is not something we are earning, it is the treasure that we have to save for our generations. Strong believer of constructive role of Journalism in future world. for comments and News yesurdu@gmail.com 03128594276

Connect

Follow on Twitter Connect on Facebook View all Posts Visit Website