صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار کے روز کہا ہے کہ اگر ضرورت پڑی تو امریکہ ایران پر فوجی کارروائی “چار سے پانچ ہفتے” تک جاری رکھ سکتا ہے۔ انہوں نے اصرار کیا کہ اسرائیل اور امریکہ کے لیے جنگ کی اس شدت کو برقرار رکھنا “مشکل نہیں ہوگا”، حالانکہ انہوں نے مزید امریکی جانی نقصان کے امکان سے بھی خبردار کیا۔
حکومت کی منتقلی کے حوالے سے مبہم بیانات
نیو یارک ٹائمز کے ساتھ ایک مختصر ٹیلی فونک انٹرویو میں ٹرمپ نے اقتدار کی منتقلی کے حوالے سے کئی متضاد بیانات دیے۔ انہوں نے وینزویلا جیسے منظر نامے کا حوالہ دیا جہاں صرف اعلیٰ قیادت کو ہٹایا گیا تھا اور باقی حکومتی ڈھانچہ برقرار رہا تھا۔ تاہم، ایران کا معاملہ وینزویلا سے کہیں زیادہ پیچیدہ اور خطرناک سمجھا جا رہا ہے۔
فوجی ذخائر اور جنگ کی طوالت
ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ پینٹاگون کے پاس فوجی کارروائی جاری رکھنے کے لیے کافی فوجی دستے، میزائل اور بم موجود ہیں۔ ان کا کہنا تھا، “ہمارے پاس دنیا بھر کے مختلف ممالک میں ذخیرہ شدہ گولہ بارود کی زبردست مقدار موجود ہے۔” تاہم، انہوں نے پینٹاگون کی اس تشویش کا ذکر نہیں کیا کہ یہ تنازعہ فوجی ذخائر کو مزید کم کر سکتا ہے۔
ایرانی قیادت کے بارے میں غیر واضح موقف
انٹرویو کے دوران ٹرمپ نے کہا کہ ان کے پاس ایران کی قیادت کے لیے “تین بہت اچھے انتخاب” ہیں، لیکن انہوں نے نام ظاہر کرنے سے انکار کر دیا۔ انہوں نے ایران میں اقتدار کی منتقلی کے حوالے سے مختلف، اکثر متضاد، منظر نامے پیش کیے۔ ایک موقع پر انہوں نے کہا کہ انہیں امید ہے کہ ایران کی فوجی قیادت عوام کے سامنے ہتھیار ڈال دے گی۔
وینزویلا ماڈل کی نقل تیاری
ٹرمپ نے بار بار وینزویلا کے تجربے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا، “ہم نے وینزویلا میں جو کیا، میرے خیال میں وہ بہترین منظر نامہ ہے۔” ان کے مشیروں نے انہیں متنبہ کیا ہے کہ ثقافت اور تاریخ کے فرق کی وجہ سے وینزویلا کی حکمت عملی ایران پر لاگو کرنا تقریباً ناممکن ہے۔
جانی نقصان اور مستقبل کی پیش گوئیاں
ٹرمپ نے تسلیم کیا کہ ان کی انتظامیہ پینٹاگون کی پیش گوئیوں کی بنیاد پر مزید جانی نقصان کی توقع کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا، “ہم جانی نقصان کی توقع کر رہے ہیں۔” تاہم، انہوںے اعتماد کا اظہار کیا کہ ایران آخرکار امریکہ اور اسرائیل کی مرضی کے آگے جھک جائے گا۔
انٹرویو کے اختتام پر ٹرمپ نے اشارہ دیا کہ اگر ایران کی نئی قیادت عملی شراکت دار ثابت ہوئی تو وہ ایران پر عائد پابندیاں اٹھانے کے لیے تیار ہیں۔ تاہم، انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ اگر ایرانی عوام موجودہ حکومت کو تبدیل کرنے کی کوشش کریں تو امریکہ ان کی کس طرح حفاظت کرے گا۔

