ایران کے سیکورٹی سربراہ اور سابق سپریم لیڈر کے مشیر علی لاریجانی نے واضح طور پر کہا ہے کہ تہران واشنگٹن کے ساتھ مذاکرات نہیں کرے گا۔ یہ بیان انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں دیا، جس میں الجزیرہ کی ایک رپورٹ کی تردید کی گئی جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ایران نے امریکہ کے ساتھ بات چیت دوبارہ شروع کرنے کی کوششیں شروع کی ہیں۔
رپورٹس کی تردید اور سفارتی موقف
الجزیرہ نے وال اسٹریٹ جرنل کے حوالے سے یہ رپورٹ شائع کی تھی کہ ایران کی سپریم نیشنل سیکورٹی کونسل کے سیکرٹری نے واشنگٹن کے ساتھ مذاکرات کی بحالی کے نئے اقدامات شروع کیے ہیں۔ علی لاریجانی کے فوری ردعمل نے اس دعوے کو مسترد کر دیا، جو ایران کے امریکہ کے ساتھ موجودہ کشیدہ تعلقات کے حوالے سے ان کے سخت موقف کی عکاسی کرتا ہے۔
خطے میں حالیہ فوجی تصادم
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں فوجی کارروائیاں تیز ہو گئی ہیں۔ ایران کے وزیر خارجہ عباس آراغچی نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل اور سلامتی کونسل کے اراکین کو بھیجے گئے ایک خط میں گذشتہ ہفتے ہونے والے حملے کی سنگینی پر زور دیا، جس میں سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ انہوں نے اس حملے کو اسرائیلی-امریکی جارحیت کا حصہ قرار دیا۔
- امریکہ نے ایران بھر میں سینکڑوں اہداف پر حملے کیے ہیں۔
- ایرانی افواج نے جوابی کارروائی میں میزائل اور ڈرون داغے، جس کے نتیجے میں اسرائیل اور متحدہ عرب امارات میں جانی نقصان ہوا۔
- امریکی فوج نے اسلامی انقلابی گارڈ کور (آئی آر جی سی) کے ہیڈکوارٹرز کو تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
- اسرائیلی فوج نے تہران اور لبنان میں حزب اللہ کے خلاف وسیع پیمانے پر حملوں کی اطلاع دی ہے۔
بین الاقوامی ردعمل اور مستقبل کے امکانات
صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے ایران میں حکومت کے تختہ الٹنے کی اپیل جاری رکھی ہوئی ہے۔ حزب اللہ نے اسرائیل پر راکٹ اور ڈرون حملوں کا اعلان کرتے ہوئے انہیں آیت اللہ خامنہ ای کے خون کا بدلہ قرار دیا ہے۔ علی لاریجانی کا امریکہ سے مذاکرات سے انکار کا اعلان موجودہ کشیدگی کے ماحول میں دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں بہتری کے قریبی امکانات کو کم کرتا دکھائی دیتا ہے۔

