کیا کابل کی قہوہ خانوں میں اب پاکستانیوں کی اپنے افغان دوستوں سے گپ شپ کے مناظر خواب ہوئے
کابل کے ایک روایتی قہوہ خانے میں دو دہائیوں کا ایک منظر آی ایس ائی کے سابق افسر میجر (ریٹائرڈ)عامر اور راقم الحروف
افغانستان اور پاکستان کے درمیان تجارتی راستوں کی بندش کے بعد افغانیوں کی بھارت سے بڑھتی ہوئی قربتیں,
گہری ہوتی دوستیاں اور تجارت کے لیے نئی راہیں اور راہداریوں کی تلاش
..’.لاپس لازولی” راہداری پہلی مرتبہ فعال افغانستان کے صوبے ہرات سے کنٹینرز کا قافلہ ترکی کے لیے روانہ
فاروق اقدس اسلام آباد
ذاتی معاملات اور اہم اجتماعی امور سے لے کر قومی فیصلوں تک ان کے غلط یا صحیح ہونے کا فیصلہ عام طور پر ان کے نتائج سے اخذ کیا جاتا ہے اسی نقطے اور موقف کی بنیاد پر اگر پاکستان اور افغانستان کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے موجودہ حکومتی فیصلوں اور اقدامات کا جائزہ لیا جائے تو ان کے نتائج کی روشنی میں فیصلوں کواطمینان بخش کسی صورت نہیں کہا جا سکتا کیونکہ انہی فیصلوں کا بھارت نے پاکستان کے خلاف خوب فائدہ اٹھایا اور اٹھا رہا ہے
کابل اور دہلی میں وفود کے تبادلوں اور مشترکہ اقدامات پاکستان کو ہر سطح پر نقصان پہنچانے کے لیے حکمت عملی کے ان اقدامات میں مکمل ہم اہنگی کے عزائم پائے جاتے ہیں اور اب اس حوالے سے تازہ ترین خبر یہ ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی کے باعث پہلی مرتبہ ” لاپس لازولی ” راہداری کے ذریعے ترکیہ کو تجارتی سامان کی سپلائی کا اغاز کر دیاگیاہے اس راہداری کا بنیادی مقصد افغانستان ترکمانستان آزر بائیجان جارجیا اور ترکیہ کو ایک دوسرے سے جوڑنا ہے افغانستان کے معتبر ذرائع اور طلوع نیوز کے مطابق پیر کو افغانستان کے صوبہ ہرات سے متعدد کنٹینرز روانہ ہوئے جو اس راہداری کو استعمال کرتے ہوئے ترکی پہنچیں گے یاد رہے کہ یہ معاہدہ افغانستان اذربائجان ترکمانستان جارجیا اور ترکیہ کے درمیان طے پایا تھا تاکہ وسطی ایشیائی ممالک کو براہ راست یورپ تک رسائی دی جا سکے یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ” لاپس لازولی” کے پہاڑوں میں پایا جانے والا قیمتی پتھر لاجرود بدخشاں کے پہاڑوں میں پایا جاتا ہے اور یہ نام اسی تاریخی راستے کو دیا گیا ہے اس راہداری کا ایک اہم مقصد یہ بھی ہے کہ افغانستان اور وسطی ایشیائی ریاستیں ہیں پاکستان اور ایران کا راستہ استعمال کیے بغیر یورپی منڈیوں تک پہنچ سکیں


