اسلام آباد(نیوز ڈیسک ) پاکستان اور آئی ایم ایف کے معاملات طے پاگئے، کل باقاعدہ اعلان کیا جائے گا، پاکستان کو کل 8 ارب ڈالرز کا قرضہ ملے گا آئی ایم ایف اور حکومت پاکستان کے مابین قرضے کا معاہدہ حتمی مرحلے میں داخل ہوگیا ہے جس کے تحت 700 ارب سے زائد کے نئے ٹیکسز لگائے جائیں گے اور خسارے میں چلنے والے اداروں کی نجکاری کی جائے گی۔ آئی ایم ایف اور پاکستان کے مابین 3 سالہ پروگرام طے کیا جائے گا جس کے تحت پاکستان کو 7 سے 8 ارب ڈالر کا قرضہ فراہم کیا جائے گا۔اہدے کی شرائط کے مطابق حکومت پاکستان یکم جولائی سے 700 ارب روپے سے زائد کے اضافی ٹیکسز عائد کرے گی ۔ بجلی کی قیمتوں میں دو مراحل میں اضافہ کیا جائے گا اور پہلے مرحلے میں یکم جولائی سے بجلی کی قیمتیں بڑھائی جائیں گی جبکہ دوسرے مرحلے میں گیس کی قیمتوں میں بھی اضافہ کیا جائے گا۔معاہدے کے تحت پاکستان کا ترقیاتی بجٹ گزشتہ برس کی سطح پر منجمد کردیا جائے گا جبکہ خسارے میں چلنے والے اداروں کی نجکاری کی جائے گی ۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ کرنسی ایکسچینج ریٹ طے کرنے میں سٹیٹ بینک کو خود مختاری دی جائے گی جبکہ بجٹ خسارہ بھی کم کیا جائے گا۔تفصیلات کے مطابق میڈیا ذرائع کی جانب سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ آج پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان بیل آﺅٹ پیکج پر اتفاق طے پا گیا۔ وزیر اعظم عمران خان کو اس معاہدے کے نکات سے آگاہ کر دیا گیا۔27 اپریل کو آئی ایم ایف کا وفد پاکستان آیا تھا۔ پچھلے 12 دِنوں سے سٹاف لیول میٹنگز چل رہی تھیں۔ جس کے بعد اب ایک بیل آﺅٹ پیکج پر آئی ایم ایف اور پاکستان کا اتفاق ہو گیا ہے۔ اگرچہ اس معاہدے میں پاکستان نے آئی ایم ایف کی زیادہ تر شرائط تسلیم کی ہیں۔ ان میں چند ایسی تجاویز بھی تھیں جو حکومت پاکستان کی جانب سے آئی ایم ایف کو دی گئی تھیں اور آئی ایم ایف کو اس پر قائل بھی کر لیا گیا۔ذرائع کے مطابق پاکستان کو آئی ایم ایف سے بیل آوٹ پیکج کے تحت 6.6 ارب ڈالرز ملیں گے۔ معاہدے میں ڈسکاﺅنٹ ریٹس میں بھی کوئی بڑا اضافہ نہ کرنے پر اتفاق ہوا ہے۔ اس کے علاوہ نواز حکومت کی جانب سے گزشتہ سال کے پیش کیے گئے بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کو جو ٹیکس ریلیف دیا گیا تھا، اسے بھی ختم کرنے پر اتفاق ہوا ہے۔ جو ٹیکس سلیبز ہیں وہ جنوری 2018ءکی شرح پر واپس چلے جائیں گے۔اس کے علاوہ آئی ایم ایف کی بڑی شرط تھی کہ اوگرا اور نیپرا کو مکمل طور پر بااختیار بنایا جائے۔ یہ شرط بھی حکومتِ پاکستان نے تسلیم کر لی ہے۔ جس کے باعث حکومت کو ساڑھے تین سو ارب روپے حکومت کو ٹیکس کی مد میں موصول ہوں گے۔ کل آئی ایم ایف اور حکومت پاکستان کے وفد کے درمیان جائزہ کمیٹی کا ایک اجلاس ہونا ہے۔ جس کے بعد اس معاہدے پر دستخط کا امکان ہے۔روپے کی قدر میں فوری کمی نہ کرنے پر اتفاق کیا گیا۔ شعبہ توانائی میں سبسڈیز ختم کرنے پر بھی دونوں فریقین متفق ہو گئے۔ آئی ایم ایف سے معاہدے میں تاخیر کے باعث آئندہ مالی سال کا بجٹ جو پہلے مئی میں پیش ہونا تھا، وہ اب جُون میں پیش کیاجائے گا۔ جس میں ٹیکسز کو بڑھانے کے حوالے سے نئی تجاویز زیر غور آئیں گی۔ماہرین کے مطابق پچھلے سال بجٹ کا خسارہ 6.6 فیصد تھا۔ جو آئندہ بجٹ میں 7.7 فیصد تک بڑھنے کا امکان ہے۔ اس کے لیے ضروری ہو گا کہ نئے بجٹ میں سے سبسڈیز ختم کی جائیں اور نئے ٹیکسز لگائے جائیں۔
Journalism is not something we are earning, it is the treasure that we have to save for our generations.
Strong believer of constructive role of Journalism in future world.for comments and News
yesurdu@gmail.com
03128594276