خصوصی طبی ٹیم تشکیل دینے اور بیٹوں سے رابطے کی سہولت فراہم کرنے کا حکم
اسلام آباد: سپریم کورٹ نے جمعرات کے روز پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان کو ماہر امراض چشم ڈاکٹرز تک رسائی فراہم کرنے اور 16 فروری سے قبل طبی ٹیم کے ذریعے باقاعدہ آنکھوں کے معائنے کا حکم دیا ہے۔
عدالت نے یہ بھی حکم دیا ہے کہ عمران خان کو ان کے بیٹوں قاسم خان اور سلیمان خان کے ساتھ ٹیلی فون گفتگو کی سہولت فراہم کی جائے۔ یہ ترقی اس وقت سامنے آئی ہے جب پی ٹی آئی کے وکیل سلمان صفدر نے عدالت عظمیٰ میں اڈیالہ جیل کے دورے اور سابق وزیراعظم سے ملاقات کے حوالے سے سات صفحاتی رپورٹ پیش کی تھی۔
عدالتی کارروائی اور اہم مشاہدات
چیف جسٹس آف پاکستان یحییٰ آفریدی اور جسٹس شاہد بلال حسن پر مشتمل دو رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔ چیف جسٹس نے سماعت کے دوران کہا کہ صحت کا معاملہ سب سے اہم ہے اور اس میں عدالتی مداخلت ضروری ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ عدالت پی ٹی آئی بانی کی صحت کے معاملے پر حکومتی موقف جاننا چاہتی ہے۔
عدالت نے آنکھوں کے معائنے کے لیے ڈاکٹرز کی ٹیم تشکیل دینے کی ہدایت کی۔ عدالت میں پڑھی گئی رپورٹ کے مطابق، پی ٹی آئی بانی نے انہیں فراہم کی جانے والی طبی سہولیات کو “ناکافی” قرار دیا اور خصوصی طور پر ماہر امراض چشم ڈاکٹرز تک رسائی کی درخواست کی۔
حکومتی موقف اور عدالتی ہدایات
ایٹرنی جنرل منصور عثمان اعوان نے عدالت کو بتایا کہ حکومت ماہر امراض چشم ڈاکٹرز تک رسائی فراہم کرنے کے لیے تیار ہے اور ان کا کہنا تھا کہ قیدیوں کو صحت کی سہولیات فراہم کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر کوئی قیدی مطمئن نہیں ہے تو ریاست ضروری اقدامات کرے گی۔
چیف جسٹس آفریدی نے کہا کہ پی ٹی آئی بانی فی الحال ریاستی تحویل میں ہیں اور انہیں دیگر تمام قیدیوں کے مساوی بنیادوں پر طبی سہولیات فراہم کی جانی چاہئیں۔ انہوں نے وضاحت کی کہ عدالت ایسی سہولیات فراہم کرنے کا حکم نہیں دے گی جو دیگر قیدیوں کے مقابلے میں نمایاں یا ترجیحی ہوں اور اس بات پر زور دیا کہ سب کے ساتھ یکساں سلوک ہونا چاہیے۔
چیف جسٹس نے یہ بھی کہا کہ پی ٹی آئی بانی کے بیٹوں کے ساتھ ٹیلی فون کالز کی سہولت بھی ایک اہم معاملہ ہے اور کہا کہ عدالت اس سلسلے میں حکومت پر اعتماد کر رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ٹرائل کورٹ پہلے ہی اپنا حکم دے چکی ہے اور متعلقہ اپیلز ہائی کورٹ میں زیر التوا ہیں۔

