ملک کی سمت کا فیصلہ
ڈھاکہ: بنگلہ دیش میں جمعرات کے روز پہلے قومی انتخابات کا آغاز ہو گیا ہے جو 2024 کے مہلک انقلاب کے بعد منعقد ہو رہے ہیں جس میں شیخ حسینہ کی حکومت کا تختہ الٹ دیا گیا تھا۔ ملک بھر میں پولنگ اسٹیشنوں پر ووٹروں کی قطاریں لگی ہوئی ہیں اور انتخابات میں سخت مقابلے کی توقعات ہیں۔
اہم امیدوار اور چیلنجز
وزیراعظم کے امیدوار طارق رحمان، جن کی عمر 60 سال ہے، کو اعتماد ہے کہ ان کی بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) دوبارہ اقتدار حاصل کر سکتی ہے۔ تاہم انہیں ملک کی سب سے بڑی اسلامسٹ جماعت جماعت اسلامی سے سخت چیلنج درپیش ہے۔
جماعت اسلامی کے سربراہ شفیق الرحمن، 67، نے منظم بنیادی سطح پر مہم چلائی ہے۔ اگر وہ کامیاب ہوتے ہیں تو یہ سابق سیاسی قیدی آئینی طور پر سیکولر بنگلہ دیش کی پہلی اسلامسٹ قیادت والی حکومت تشکیل دے سکتے ہیں۔
رائے عامہ اور سیاسی منظر نامہ
رائے عامہ کے جائزوں میں واضح فرق ہے، تاہم زیادہ تر بی این پی کو برتری دکھا رہے ہیں جبکہ کچھ رپورٹس میں انتہائی قریب کی دوڑ بتائی جا رہی ہے۔
عبوری رہنما محمد یونس، جو 17 کروڑ آبادی والے ملک میں انتخابات کے بعد عہدہ چھوڑ دیں گے، نے ووٹ سے قبل کہا کہ “اس دن کی اہمیت بہت دور رس ہے۔ یہ ملک کی مستقبل کی سمت، اس کی جمہوریت کی نوعیت، اس کی پائیداری اور اگلی نسل کی تقدیر کا تعین کرے گا۔”
جمہوری اصلاحات اور ریفرنڈم
85 سالہ نوبل انعام یافتہ رہنما جنوبی ایشیائی ملک کی قیادت اگست 2024 میں شیخ حسینہ کے 15 سالہ دور کے خاتمے کے بعد سے کر رہے ہیں۔ ان کی انتظامیہ نے حسینہ کی عوامی لیگ کو انتخابات میں حصہ لینے سے روک رکھا ہے۔
یونس نے ایک وسیع جمہوری اصلاحی چارٹر کی بھی حمایت کی ہے جس کا مقصد ان کے الفاظ میں “مکمل طور پر ٹوٹی ہوئی” حکومتی نظام میں تبدیلی اور یک جماعتی حکمرانی کی واپسی کو روکنا ہے۔
- وزیراعظم کی مدت کی حد بندی
- پارلیمنٹ کے ایوان بالا کا قیام
- صدارتی اختیارات میں اضافہ
- عدالتی آزادی کو مضبوط بنانا
12 کروڑ 70 لاکھ ووٹر ریفرنڈم میں بھی ان تجاویز کی توثیق کے لیے ووٹ دیں گے۔
انتخابی عمل اور سلامتی
ووٹر براہ راست 300 ارکان پارلیمنٹ منتخب کریں گے، جبکہ مزید 50 خواتین ارکان جماعتی فہرستوں سے چنی جائیں گی۔ انتخابات کے لیے 3 لاکھ سے زائد سیکورٹی اہلکاروں کو تعینات کیا گیا ہے۔ پولنگ صبح ساڑھے سات بجے شروع ہوئی اور شام ساڑھے چار بجے بند ہو گی، جس کے بعد ہاتھوں سے گنتی کا عمل شروع ہو گا۔
تجزیہ کاروں کی رائے
انٹرنیشنل کرائسس گروپ کے تجزیہ کار تھامس کین نے کہا کہ “بنگلہ دیش کے لیے اب اہم امتحان یہ ہو گا کہ انتخابات منصفانہ اور غیر جانبدارانہ طور پر منعقد ہوں، اور تمام جماعتیں نتیجہ قبول کریں۔ اگر ایسا ہوتا ہے، تو یہ اب تک کی مضبوط ترین دلیل ہو گی کہ بنگلہ دیش واقعی جمہوری تجدید کے دور میں داخل ہو چکا ہے۔”
معاشی اور خارجہ چیلنجز
اگلی حکومت کو دنیا کے دوسرے بڑے گارمنٹ ایکسپورٹر میں تباہ حال معیشت کے ساتھ ساتھ ہمسایہ ملک بھارت کے ساتھ نازک تعلقات کا بھی سامنا ہو گا۔
بی این پی کے طارق رحمان، جن کے مرحوم والدین دونوں ملک کی قیادت کر چکے ہیں، نے کہا کہ اگر منتخب ہوئے تو ان کی اولین ترجیح سیکورٹی اور استحکام بحال کرنا ہو گی۔ تاہم انہوں نے متنبہ کیا کہ آگے چیلنجز بہت زیادہ ہیں۔
آخری اپیل
اپنے ووٹ سے قبل قوم کے نام آخری خطاب میں یونس نے شہریوں سے 2024 کے انقلاب کی “قربانی” کو عزت دینے اور “ذاتی اور جماعتی” ایجنڈوں سے بالاتر ہو کر “قومی مفاد” کو ترجیح دینے کی اپیل کی۔
انہوں نے کہا کہ “کامیابی جمہوریت کا حصہ ہے؛ شکست بھی ایک ناگزیر حصہ ہے۔ براہ کرم ایک نئے، منصفانہ اور جامع بنگلہ دیش کی تعمیر کے لیے خود کو وقف کریں۔”

