yes urdu logo
  • خبریں
    • اہم ترین
    • بین الاقوامی خبریں
    • شوبز
    • مقامی خبریں
    • کاروبار
    • کھیل
  • تارکین وطن
  • اردو ادب - شاعری
  • ویڈیوز - Videos
  • اشتھارات
  • دلچسپ اور عجیب
  • کالم
  • کرائم
Dark Mode
Skip to content
Breaking News
پولیس کا گھر پر چھاپہ، خاتون اور مرد شرمناک حالت میں گرفتار ، مگر خاتون دراصل کون نکلی اور قصہ کیا تھا ؟ شرمناک حقیقت سامنے آگئی
مدرسوں کے بچوں کو مولویوں کی زیادتی سے بچانے کا ایک ہی طریقہ۔۔۔۔ بشریٰ انصاری کا ایک متنازع بیان سامنے آگیا
شوبز نگری سے گرما گرم خبر : دو خوبصورت ترین اداکارائیں جسم فروشی اور اعلیٰ شخصیات کو خوبصورت لڑکیاں فراہم کرنے کے الزام میں گرفتار ۔۔۔ ایک خبر نے پورے ملک میں ہلچل مچا دی
یااللہ خیر ۔۔۔ بھارتی خفیہ ایجنسی ’’ را ‘‘ کا چیف جسٹس آف پاکستان کے خلاف خوفناک منصوبہ بے نقاب، حکومت حرکت میں آگئی، بڑا حکم جاری کر دیا
نمرتا کیس میں نیا موڑ۔۔۔۔ میڈیکل کی طالبہ کے اکاؤنٹ میں لاکھوں روپے کہاں سے آئے اور کہاں گئے؟ نئی کہانی سامنے آگئی
yes urdu logo
  • خبریں
    اہم ترین
    • برطانیہ میں سعودی سفارت خانے کی شہریوں کو لندن میں اجتماعات سے دور رہنے کی ہنگامی اپیل
    • شعلے کے گبر سنگھ کابیٹا دھریندر میں کس اہم کردار کیلئے کاسٹنگ ڈائریکٹر کی توجہ حاصل نہ کرسکا، امجد خان کی میراث گبر آج بھی برقرار
    بین الاقوامی خبریں
    • برطانیہ میں سعودی سفارت خانے کی شہریوں کو لندن میں اجتماعات سے دور رہنے کی ہنگامی اپیل
    • Putin to Visit China Days After Trump Tripٹرمپ کے دورے کے فوری بعد پوتن کا چین کا اہم دورہ، 19 مئی کو بیجنگ پہنچیں گے
    شوبز
    • شعلے کے گبر سنگھ کابیٹا دھریندر میں کس اہم کردار کیلئے کاسٹنگ ڈائریکٹر کی توجہ حاصل نہ کرسکا، امجد خان کی میراث گبر آج بھی برقرار
    • From Eddie Murphy to Whoopi Goldberg: Top 10 Funniest 90s Actorsانیسویں دہائی کے دس عظیم مزاحیہ اداکار: جن کی ہنسی آج بھی تازہ ہے
    مقامی خبریں
    • Pakistan Introduces New Civil Service Conduct Rules After 62 Years62 سال بعد سول سروس کے نئے ضابطہ اخلاق کا نفاذ، سرکاری ملازمین کے اثاثے عوامی ہوں گے
    • Sindh Lifts Market, Hotel Closing Time Curbsسندھ حکومت کا کاروباری برادری کو بڑا ریلیف، مارکیٹیں اور شادی ہال رات گئے تک کھلے رہیں گے
    کاروبار
    • ماں کی ایجاد: ’سلیپی ہیٹ‘ نے بچوں کی نیند کا مسئلہ حل کر کے کاروبار میں کامیابی کی نئی داستان رقم کردی
    • حکومتی قرضہ 78.5 کھرب روپے تک پہنچ گیا، مالیاتی دباؤ میں اضافہ
    کھیل
    • Litton Das Century Powers Bangladesh to 278لٹن داس کا شاندار سنچری، بنگلہ دیش کی پاکستان کے خلاف مضبوط واپسی
    • بھارت اور افغانستان کے درمیان 2026 میں تاریخی ٹیسٹ اور ون ڈے سیریز کا اعلان
  • تارکین وطن
  • اردو ادب - شاعری
  • ویڈیوز - Videos
  • اشتھارات
  • دلچسپ اور عجیب
  • کالم
  • کرائم
کالم

معاشرہ کا عجیب و مظلوم طبقہ، جس کا نہ کسی کو احساس اور نہ ادراک

F A Farooqi July 27, 2016 1 min read
Imam Masjed
Share this:
Society
Society

تحریر: محمد صدیق پرہار
دنیا کے تمام طبقات کے حقوق ہیں لیکن ایک طبقہ اس معاشرہ میں ایسا بھی ہے جس کے کوئی حقوق نہیں۔اس دنیا میں تمام شعبوں سے وابستہ مردوخواتین معاشرہ کاحصہ ہیں ان میں سے کچھ ایسے افرادبھی ہیں جواس معاشرے کاحصہ نہیں۔اس دارفانی میں رہنے والے تمام افرادکی ضروریات ہوتی ہیں لیکن ایسے لوگ بھی ہیں جن کی کوئی ضروریات نہیں۔اس ملک میں سیاستدانوں، تاجروں، صنعت کاروں، دکانداروں، پروفیسروں، ٹیچروں، مزدوروں،پٹواریوں ،وکیلوں، ڈاکٹروں، نرسوں، فنکاروں، گلوکاروں، ادیبوں، صحافیوں، سرکاری ملازموں، آڑھتیوں، کمیشن ایجنٹوں،ڈرائیوروں، کنڈیکٹروں، ٹرانسپورٹروں، درزیوں، مستریوں، خاکروبوں، چپڑاسیوں،مسافروں، عورتوں، بیویوں، شوہروں، سٹوڈنٹوں، لوہاروں، درکھانوں، نوابوں،امیروںاورمعاشرہ کے دیگرطبقات کے حقوق کیلئے معاشرہ میں کسی نہ کسی شکل میں آواز بلند کی جاتی ہے،ان کے حقوق کی آگاہی کیلئے سیمینارز، مذاکرے،احتجاج کیے جاتے ہیں۔ لیکن ایک طبقہ ایسا بھی ہے جس کے حقوق کیلئے کوئی، سیاستدان، کوئی سماجی تنظیم، کوئی شخصیت آواز بلند نہیں کرتی، ان کیلئے کبھی سیمینارز، مذاکرے نہیں ہوئے، کبھی احتجاج نہیں کیے گئے ۔معاشرہ کے تمام طبقات اپنے حقوق حاصل کرنے اورمطالبات منوانے کیلئے ہڑتالیں کرلیتے ہیں۔

وہ طبقہ جس کی ہم بات کررہے ہیں اس نے کبھی ہڑتال نہیں کی۔معاشرہ کے دیگرتمام طبقات کوریاست، سماج، رشتہ داروں کی طرف سے کچھ نہ کچھ مراعات حاصل ہیں۔ایک طبقہ ایسا بھی ہے جس کوکوئی مراعات حاصل نہیں ہیں۔یہی وہ طبقہ ہے جس کوسب سے زیادہ تنقیدکانشانہ بنایا جاتا ہے،یہی وہ طبقہ جس سے سرزدہونے والی غلطیوںکوبڑھاچڑھاکرپھیلایاجاتا ہے،دیگرتمام طبقات کام چھوڑہڑتال کرتے ہیں یہ طبقہ کام چھوڑہڑتال نہیںکرتا،معاشرہ کے دوسرے اکثرطبقات بھوک ہڑتالیںکرتے ہیں ،یہ طبقہ بھوک ہڑتال بھی نہیںکرتا ،لاکھوںروپے ماہانہ تنخواہ اورآمدنی والے اخراجات کی بھرمار، آمدنی کی کمی کاشکوہ کرتے ہوئے سنائی دیتے ہیں یہ طبقہ قلیل سے بھی قلیل آمدنی میں بھی کسی سے شکوہ کرتا ہواسنائی نہیںدیا۔معاشرہ کے دیگرتمام طبقات میںکام کرنے والوں سے جواب طلبی کے بھی اصول ہیں ان سے ہرشخص بازپرس نہیںکرسکتا،جس طبقہ کی ہم بات کررہے ہیں اس سے جس کاجی چاہتا ہے جواب طلبی کرلیتا ہے۔دنیاکے دیگرتمام طبقات کورہائش، خوراک کی ضرورت ہوتی ہے اس طبقہ کونہ خوراک کی ضرورت ہے اورنہ ہی رہائش کی۔معاشرہ کے دوسرے طبقات سے وابستہ افرادنے دوست احباب کی خوشی، غمی،دیگرتقریبات میں شرکت کرناہوتی ہے، اس طبقہ نے کسی تقریب میںشرکت کرنانہیںہوتی،دیگرطبقات کے لوگ جہاں چاہیں جب چاہیںجاسکتے ہیں یہ طبقہ کہیں بھی کبھی بھی نہیںجاسکتا۔معاشرہ کے دیگرتمام شعبوںمیںکام کرنے والے چھٹی کرتے ہیںتواپنی جگہ ایسا فردنہیںدے کرجاتے جوان کی جگہ ڈیوٹی دے اس کی جگہ ڈیوٹی کس سے لینی ہے اس کی جگہ ڈیوٹی کون دے گااس کافیصلہ اس شعبہ کے سربراہان کرتے ہیں ۔

اس طبقہ سے وابستہ افرادچھٹی کریں توانہیں ایسافرددے کرجاناپڑتا ہے جوان کی جگہ ڈیوٹی دے۔آپ سوچ رہے ہیں وہ کون ساطبقہ ہے جس کے کوئی حقوق نہیں، وہ کون ساطبقہ ہے جومعاشرہ کاحصہ نہیں۔اس معاشرہ کاوہ کون ساطبقہ ہے جس کی کوئی ضروریات نہیں۔ہم آپ کے صبراورسوچ کااورزیادہ امتحان نہیں لیناچاہتے بتاہی دیتے ہیں وہ طبقہ آئمة المساجدکا ہے۔معاشرہ کے دیگرتمام شعبوں سے وابستہ افرادچھ سے بارہ گھنٹے ڈیوٹی دیتے ہیں جبکہ امام مسجدچوبیس گھنٹے کاپابندہوتا ہے۔چارسوروپے کی روزانہ مزدوری کرنے والااورلاکھوں روپے ماہانہ تنخواہ اوردیگرمراعات لینے والے مزے کی نیند سورہے ہوتے ہیں امام مسجدنمازفجرکی اذان کی تیاری کررہا ہوتا ہے۔ہرشعبہ میںکام کرنے والے صرف وہی ڈیوٹی کرتے ہیں جس ڈیوٹی کیلئے وہ تعینات ہوئے ہوتے ہیں مجبوری کی صورت میںوہ دوسرے شخص کی جگہ کام کرتے ہیں وہ بھی چنددنوں کیلئے۔ امام مسجدایک دونہیں چھ افرادکی ڈیوٹی سرانجام دیتا ہے۔جبکہ معاوضہ اس کوایک ڈیوٹی کابھی نہیںملتا۔جس باقاعدگی اوروقت کی پابندی کے ساتھ امام مسجدسال ہاسال اپنی ڈیوٹی کرتا ہے معاشرہ کاکوئی بھی دوسرافرداسی باقاعدگی اوراسی پابندی سے دودن بھی یہ ڈیوٹی نہیںکرسکتا۔حضرت خواجہ محمدسلیمان تونسوی رحمة اللہ علیہ کے مدرسہ میں کم وبیش دوہزارطالب علم اکتساب علم کرتے تھے۔چنانچہ حضرت خواجہ تونسوی علیہ الرحمة نے ان کے قیام وطعام کابندوبست بھی کررکھاتھا۔ان طالب علموںکوکھانالنگرخانے سے ملتاتھا۔

Imam Masjed
Imam Masjed

لنگرخانے میں ضرورت ہرچیزہروقت موجودملتی تھی۔آپ رحمة اللہ علیہ نے اس سلسلہ میں حددرجہ احتیاط سے کام لیاہواتھا حجام، لوہار،موچی اورطبیب غرضیکہ سب کوباقا عدہ تنخواہ ملتی تھی۔ہماری معلومات کے مطابق موجودہ دورمیںکسی مسجدمدرسہ میںحجام، لوہار، موچی اورڈاکٹرتعینات نہیں ہیں۔ہم نے لکھا ہے کہ امام مسجدایک دونہیں چھ افرادکی ڈیوٹی اداکرتا ہے جبکہ اس کومعاوضہ ایک ڈیوٹی کابھی نہیں ملتا۔ہوسکتا ہے قارئین کیلئے یہ بات حیرت کی بات ہوکہ ایک شخص چھ افراد کی ڈیوٹی کیسے اداکرتا ہے۔ ہم آپ کی الجھن کوسمجھتے ہیں اورابھی حل کردیتے ہیں۔مساجدمیں ایک خطیب وامام مسجدہوتا ہے جونمازپنجگانہ، جمعہ وعیدین پڑھاتا ہے، ایک نائب امام ہوتا ہے جوامام مسجدکی غیرموجودگی میںامامت کرانے کاذمہ دارہوتا ہے، ایک موذن ہوتاہے جواذان دیتا ہے، ایک خزانچی ہوتا ہے جومسجد کاچندہ جمع کرتا ہے حسب ضرورت مسجدکے اخراجات بھی کرتا ہے اورامام مسجدکوتنخواہ بھی دیتا ہے۔ایک خادم ہوتا ہے جومسجدکی صفائی کرتا ہے، ضرورت ہوتوچھڑکائوکرتا ہے، صفیں بچھاتا اورلپیٹتاہے۔ایک متولی یامہتمم ہوتا ہے جومسجدکے تمام معاملات کی نگرانی کرتا ہے۔اب اس دورمیں ایک امام مسجدہی مسجدکے تمام معاملات کاذمہ دارہوتا ہے۔یہ امامت بھی کراتاہے، چندے بھی جمع کرتاہے، مسجدکی صفائی بھی کرتا ہے، مسجدکی لیٹرینیں بھی امام مسجدصاف کرتا ہے،دیگرشہروں میںہو سکتا ہے صورت حال بہترہوراقم الحروف کے شہرلیہ میں امام مسجدکی تنخواہیں پانچ ہزارتک ہیں، صرف گنتی کی چندمساجدہیں جہاں امام مسجدکی تنخواہ پانچ ہزارسے زیادہ ہے۔یہاںتوایک ہزار، دوہزار،تین ہزارروپے ماہانہ تنخواہ امام مسجدکودی جاتی ہے۔

جوبھی آتا ہے وہ امام مسجدکواپنازرخریدغلام سمجھتا ہے کوئی کہتا ہے کہ مسجدکی صفائی نہیں ہے، کوئی کہتا ہے فلش صاف نہیں ہیں، الغرض کوئی نہ کوئی فردجرم آئے روزامام مسجدپرعائدہوتی رہتی ہے۔ایسے امام مسجدبھی ہیں جومسجدکی بجلی کابل بھی اپنی جیب سے دیتے ہیں اب قارئین خوداندازہ لگائیں ایسے امام مسجدکوتنخواہ کتنی ملتی ہوگی۔جس مسجدکے نمازی اوروابستگان مسجدکی بجلی کابل بھی نہیں دے سکتے وہ امام مسجدکوتنخواہ کیادیتے ہوں گے۔لیہ شہرمیں کم وبیش تین سومساجدہیں ان میں ایک مسجدبھی ایسی نہیں ہے جس کے ساتھ امام مسجدکیلئے ایسی رہائش کاانتظام ہوجس میں وہ اپنے بیوی بچوں کوٹھہراسکے۔چندایک مساجدکے ساتھ امام مسجدکی رہائش کیلئے ایک کمرہ بناہواہے جس کوحجرہ کہتے ہیں ۔اکثرمساجدکے ساتھ یہ حجرہ بھی نہیں ہے۔امام مسجدآئے نمازپڑھاجائے وہ کہاں سوئے کہاں بیٹھے اس سے مساجدکی انتظامیہ کاکوئی واسطہ نہیںہوتا۔وہ کرائے کے مکان میں رہے، کسی مدرسہ میںرہائش اختیارکرے، کسی پارک میںجاکرسوجائے، کسی سڑک کوبچھونابنادے اس کے پیچھے نمازپڑھنے والوںکواس سے کوئی غرض نہیںہوتی ۔تنخواہ ہے تورہائش اورخوراک کاانتظام نہیں، رہائش ہے توتنخواہ اورخوراک کاانتظام نہیں، خوراک ہے تورہائش اورتنخواہ کابندوبست نہیں۔ صرف چندایک مساجد ہیں جہاں یہ سب سہولیات موجودہیں۔

امام مسجدکوایک فیصدبھی تحفظ حاصل نہیں جب چاہیںمسجدسے چھٹی کرادیں۔اس کے حق میںبولنے والابھی کوئی نہیںہوتا ۔جس طرح بے توقیرکرکے امام مسجدکومسجدسے نکالاجاتا ہے کسی اورشعبہ میںکام کرنے والوںکواس طرح بے توقیرکرکے نکالاجاتا تووہ شعبہ اب تک ویران ہو چکا ہوتا۔ امام مسجدکے ساتھ معاشرہ کس طرح کابرتائوکرتا ہے اس کااندازہ اس بات سے لگالیجیے۔ہم ایک مدرسہ میں گئے مدرس سے ملاقات میں امام مسجدوں کے مسائل پر بات ہوئی تواس مدرس نے بتایا کہ ہماراایک طالب علم شہرکی ایک مسجدمیں امامت کراتاتھا ،ایک دن اس کوکسی نمازی نے کہا کہ ہم نے صبح کی سیرکوجانا ہوتا ہے اس لیے دعامختصرکرایاکریں۔دوسرے دن فجرکی نمازکے بعداس نے دعامختصر مانگی ۔ اس پرایک اورنمازی بول پڑا۔ حافظ صاحب کیابات ہے دعاجلدی ختم کردی آج جلدی تھک گئے ہوکیا؟اب کوئی کہتا ہے دعامختصرمانگوکوئی کہتا ہے دعامختصرکیوںمانگی۔اب امام مسجداپنی مرضی سے دعابھی نہیںکراسکتا۔دعاکرانے کیلئے بھی اس کونمازیوںکے مشوروںپرعمل کرناپڑتاہے، صرف دعاہی نہیں وہ نمازوں کے اوقات بھی اپنی مرضی سے مقررنہیں کرسکتا۔وہ نمازکاجوبھی وقت مقرر کرے کوئی نہ کوئی اعتراض توضرورآجاتا ہے کہ یہ نمازکاکون ساوقت ہے۔تمام سرکاری ملازمین کی ہفتہ وارچھٹیوں کے علاوہ سال بھرکی استحقاقیہ اوراتفاقیہ چھٹیاں بھی ہوتی ہیں۔ پرائیویٹ ملازمین کوبھی ہفتہ میں ایک چھٹی ہوتی ہے۔ بہت کم ایسے آئمة المساجدہیںجن کوہفتہ بعدچھٹی ملتی ہے ۔ ایسے امام مسجدبھی ہیںجن کوہفتہ میں توکیامہینہ میں بھی ایک چھٹی نہیںملتی۔

Namaz
Namaz

اگر کسی وجہ سے وہ کہیں چلاجائے اورصرف ایک نماز نہ پڑھاسکے تواس طرح جواب طلبی کی جاتی ہے جیسے وہ امام مسجدنہ ہوگھرکاملازم ہو۔ہمارے شہرکی ایک مسجدمیں ا مام مسجدنے ایک دن چھٹی کوتواس کی یہ کہہ کرچھٹی کرادی گئی کہ اس نے چھٹی کیوںکی۔امام مسجدکاچھٹی کرنا جرم بن گیا۔ایسے ادارے، کمپنیاں جہاں چھٹی نہیںہوتی وہاں چھٹی کے دن کام کرنے معاوضہ ڈبل دیاجاتا ہے۔جبکہ امام مسجدکوچھٹی بھی نہیں دی جاتی ، چھٹی دی بھی جائے توکہاجاتا ہے کہ بندہ دے کرجائوجوہمیںنمازپڑھائے۔امام مسجد کوجوتنخواہ دی جاتی ہے وہ آپ اس تحریرمیںپڑھ چکے ہیں۔دیگربھی کوئی مراعات حاصل نہیں ہے، جب ہرمسجدمیں تنخواہ، رہائش، خوراک کاانتظام نہیں ہے دیگرسہولیات کے بارے میںتوسوچابھی نہیں جاسکتا۔سرکاری وپرائیویٹ اداروں اور محکموںمیں رہائش کاانتظام بھی ہوتا ہے، رہائش کاالائونس بھی دیاجاتا ہے،امام مسجدکونہ رہائش کاالائونس دیاجاتا ہے اورمیڈیکل سمیت دیگرکوئی الائونس دیاجاتا ہے۔جوکپڑے لوگ پہننااپنی پرسنیلٹی کے خلاف تصورکرتے ہیں وہ امام مسجدکودے دیتے ہیں کہ وہ پہنے۔ بہت کم ایسے افرادہیں جوامام مسجدکونیایامعیاری سلاہوا سوٹ دیتے ہیں۔امام مسجدبیمارہوجائے توکوئی مقتدی نہیں کہتا کہ آئوآپ کاعلاج کرائیں۔وہ خود ڈاکٹرکے پاس جائے یاکسی رشتہ دار، شاگردکوبھیجے اوراپناعلاج کرائے توکرائے۔لیہ شہرمیں ایک مسجدایسی بھی ہے کہ امام مسجدکوکھانسی لگی ہوئی ہوتونمازی سیرپ لے آتے ہیں اورامام مسجدکودے دیتے ہیں۔ایسی مساجدبھی ہیں جہاںامام مسجدسے فلش کی صفائی کے بارے میںتوبازپرس کی جاتی ہے کبھی اس سے یہ نہیںپوچھاجاتا کہ اس نے کھانابھی کھایا ہے یانہیں۔

یہ کوئی نہیں کہتا کہ کسی چیزکی ضرورت تونہیں۔ گزشتہ کئی دہائیوں سے مطالبہ چلاآرہا ہے کہ مزدورکی تنخواہ ایک تولہ سوناکے برابرکی جائے جبکہ کسی بھی ادارے میں کام کرنے والے چپڑاسی اورخاکروب کی تنخواہ بھی امام مسجدکی تنخواہ سے کہیں زیادہ ہے۔اکثرگھرانوںمیں بچوںکی ٹیوشن فیس بھی امام مسجدکی تنخواہ سے زیادہ ہے،افسوس کی بات تویہ ہے کہ مسجدمکتب سکول میں قرآن پاک پڑھانے والے کودوسوپچاس روپے ماہانہ دیے جارہے ہیں۔اس سے زیادہ تودفتروں،دکانوںمیں روزانہ کی چائے پی جاتی ہے۔حقیقت تویہ ہے کہ امام مسجدوہ مظلوم طبقہ ہے جس کااحساس نہ ریاست کوہے اورنہ ہی معاشرہ کو۔معاشرہ کے تمام شعبوں سے وابستہ افراد کی فلاح وبہبوداورمعیارزندگی بہتربنانے کیلئے اقدامات کیے جاتے ہیں نئی نئی سکیمیںمتعارف کرائی جاتی ہیں امام مسجد کی فلاح وبہبوداورمعیارزندگی بہتربنانے کیلئے ریاست کی طرف سے نہ توکوئی اقدام اٹھایاگیا ہے اورنہ ہی کوئی سکیم متعار ف کرائی گئی ہے۔سرکاری ملازمتوںمیں مختلف شعبوںکے کوٹے مقرر ہیں امام مسجدکیلئے کوئی کوٹہ نہیں ہے۔یہاں تک کہ کرایوںمیںبھی رعایت نہیںدی جاتی۔پاکستان کے ایسے شہربھی بتائے جاتے ہیںجہاںامام مسجدکومعقول تنخواہ دی جاتی ہے اور رہائش کابھی معقول انتظام ہوتا ہے۔اکثرشہروںمیںایسانہیں ہے۔ریاست اس طبقہ کے بارے بھی سوچے۔آئمةالمساجدکے مسائل کی طرف بھی توجہ دے۔ آئین بنادیاجائے کہ ہرمسجدکے ساتھ امام مسجدکی رہائش کامعقو ل انتظام ہوناچاہیے جہاںوہ اپنے بیوی بچوںیاماںباپ کوٹھہراسکے۔جومساجدتعمیرہوچکی ہیں وہاں کے شہریوںکیلئے لازمی قراردیاجائے کہ وہ ایک سال میں امام مسجدکی رہائش کامعقول انتظام کریں۔

ہرامام مسجدکی تنخواہ کم سے کم بیس ہزارروپے ماہانہ مقرر کرائی جائے۔متعلقہ ایم این اے اورایم پی اے کی ذمہ داری ہوکہ وہ امام مسجدکی تنخواہ کامحلہ سے انتظام کرائے۔ البتہ ایسے محلے جہاں کے لوگوںکی آمدنی کم ہے اوروہ امام مسجدکوبیس ہزارروپے نہپیں د ے سکتے تواس کاانتظام ریاست کرے۔امام مسجدکوہرماہ چارسے چھ چھٹیاںکرنے کابھی حق حاصل ہوناچاہیے۔امام مسجد کویوٹیلٹی بلزاورضروریات زندگی کی قیمتوںمیں بھی خصوصی رعایت ہونی چاہیے۔جن امام مسجدوںکی تنخواہ پانچ ہزارسے کم ہے ان کوتین،تین ہزار، اورجن امام مسجدکی تنخواہ پانچ ہزارسے آٹھ ہزارتک ہے ان کوایک ہزارروپے ماہانہ ریاست فراہم کرے۔آئمة المساجدکیلئے آسان شرائط پربلاسودقرضہ سکیم بھی شروع کی جائے تاکہ وہ اپناکاروبارکرسکیں۔ جومساجدسرکاری اداروں یاسرکاری زمینوںپرہیں متعلقہ محکمہ کے مقامی افسران کی ذمہ داری ہوکہ وہ امام مسجدکی معقول تنخواہ، معقول رہائش اورمعقول خوراک کاانتظام کریں۔ ہم اس تحریرمیں وزیراعظم نوازشریف اوروزیراعلیٰ شہبازشریف سے مطالبہ کرتے ہیں کہ خداراآئمة المساجدکے بارے بھی توجہ کریں۔مسندرسالت کے وارثوںکومزیدبے توقیرہونے سے بچالیں۔حضرت عمرفاروق رضی اللہ عنہ کی سنت پرعمل کرتے ہوئے اس مظلوم طبقہ کی دادرسی کریں۔یہ ریاست کے وفادارہیں ریاست ان کی مشکلات آسان کرے۔سچ تویہ ہے کہ امام مسجدمعاشرہ کاوہ عجیب اورمظلوم طبقہ ہے جس کانہ توکسی کو احساس ہے اورنہ ہی ادراک۔

Siddique Prihar
Siddique Prihar

تحریر: محمد صدیق پرہار
siddiqueprihar@gmail.com

Share this:

F A Farooqi

3,490 Articles
View All Posts
kashmir Protest
Previous Post کشمیر ہمارا ہے
Next Post باندی
Bride

Related Posts

پاکستان کشمیری عوام کے ساتھ کھڑا ہے، جائز مطالبات تسلیم کیے جائیں، مشکوک بیانیے کی تحقیقات ہونی چاہئیں: قاری فاروق احمد

June 11, 2026

برطانیہ میں سعودی سفارت خانے کی شہریوں کو لندن میں اجتماعات سے دور رہنے کی ہنگامی اپیل

May 17, 2026

شعلے کے گبر سنگھ کابیٹا دھریندر میں کس اہم کردار کیلئے کاسٹنگ ڈائریکٹر کی توجہ حاصل نہ کرسکا، امجد خان کی میراث گبر آج بھی برقرار

May 17, 2026
Putin to Visit China Days After Trump Trip

ٹرمپ کے دورے کے فوری بعد پوتن کا چین کا اہم دورہ، 19 مئی کو بیجنگ پہنچیں گے

May 16, 2026




© 2026 Yes Urdu. All rights reserved.
  • خبریں
  • تارکین وطن
  • اردو ادب – شاعری
  • ویڈیوز – Videos
  • اشتھارات
  • دلچسپ اور عجیب
  • کالم
  • کرائم

We use cookies to ensure you get the best experience on our website.

We use cookies to ensure you get the best experience on our website.