ہم سب سوتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ایک عام شخص اپنی زندگی کے تقریباً 26 سال نیند میں گزارتا ہے۔ لیکن کیا آپ نے کبھی اس بات پر غور کیا ہے کہ آپ سوتے کیسے ہیں؟ آپ کی پسندیدہ سونے کی پوزیشن نہ صرف آپ کی صحت پر اثر انداز ہوتی ہے بلکہ ماہرین کے مطابق یہ آپ کی شخصیت کا بھی آئینہ دار ہوتی ہے۔
سونے کے انداز اور شخصیت کا تعلق
سلیپ اسسمنٹ اینڈ ایڈوائزری سروس کے ڈائریکٹر پروفیسر کرس اڈزیکوسکی کی ایک تازہ تحقیق میں اس دلچسپ تعلق کو اجاگر کیا گیا ہے۔ یہ تحقیق بی بی سی کے توسط سے شائع ہوئی ہے جس میں سب سے عام سونے کی پوزیشنز اور ان کا انسان کی شخصی خصوصیات سے تعلق پر روشنی ڈالی گئی ہے۔
آپ کس قسم کے سونے والے ہیں؟
پروفیسر اڈزیکوسکی کی تحقیق کے مطابق سونے کے بنیادی انداز درج ذیل ہیں اور ہر ایک کا تعلق مخصوص شخصیتی خصوصیات سے ہے:
- جنین کی طرح سونا (فوٹس پوزیشن): یہ سب سے عام پوزیشن ہے جس میں لوگ اپنے گھٹنوں کو سینے کی طرف موڑ کر سوتے ہیں۔ تحقیق کے مطابق ایسے افراد جذباتی طور پر حساس ہوتے ہیں اور ابتدا میں شرمیلے دکھائی دیتے ہیں لیکن جلد ہی آرام دہ ہو جاتے ہیں۔
- لاگ پوزیشن: اس میں سونے والا شخص ایک طرف لیٹتا ہے اور اس کے دونوں بازو اور ٹانگیں سیدھی ہوتی ہیں۔ یہ لوگ معاشرتی طور پر کھلے، پراعتماد اور دوسروں پر بھروسہ کرنے والے ہوتے ہیں۔
- خواہش مند پوزیشن: اس میں فرد ایک طرف لیٹتا ہے اور دونوں بازو آگے کی طرف پھیلے ہوتے ہیں۔ ایسے افراد کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ کھلے ذہن کے مالک ہوتے ہیں لیکن فیصلہ کرنے میں وقت لگاتے ہیں۔
- فوجی کی طرح سونا: پیٹھ کے بل سیدھا لیٹنا اور بازو جسم کے ساتھ سیدھے رکھنا۔ یہ پوزیشن سیدھے سادے، پرہیزگار اور اونچے معیارات رکھنے والے افراد سے منسوب ہے۔
- ستارہ سمندر پوزیشن: پیٹھ کے بل لیٹ کر بازو اوپر سر کے پاس رکھنا۔ تحقیق کے مطابق ایسے سونے والے اچھے سننے والے اور مددگار دوست بنتے ہیں اور مرکز توجہ بننے سے گریز کرتے ہیں۔
- آزاد خیال پوزیشن: پیٹ کے بل سونا اور سر ایک طرف موڑ کر تکیے کو بانہوں میں لینا۔ یہ لوگ بے باک، رکھ رکھاؤ والے اور تنقید برداشت نہ کرنے والے ہوتے ہیں۔
صحت پر اثرات
ماہرین کا کہنا ہے کہ سونے کی پوزیشن کا تعلق نہ صرف شخصیت سے ہے بلکہ یہ صحت پر بھی گہرے اثرات مرتب کرتی ہے۔ مثال کے طور پر پیٹ کے بل سونے سے کمر درد اور گردن میں تکلیف ہو سکتی ہے جبکہ کروٹ پر سونا نظام ہاضمہ کے لیے بہتر مانا جاتا ہے۔
پروفیسر اڈزیکوسکی کی یہ تحقیق ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ ہماری روزمرہ کی عادات، حتیٰ کہ ہماری نیند بھی، ہمارے بارے میں کتنا کچھ بتا سکتی ہے۔ اگلی بار جب آپ سوئیں، غور کریں کہ آپ کا جسم کیا کہہ رہا ہے۔

