وسط مشرق میں کشیدگی کے درمیان، لائبیریا کے جھنڈے تلے سعودی عرب سے خام تیل لے جانے والا ایک ٹینکر بحفاظت ممبئی بندرگاہ پر لنگر انداز ہو گیا ہے۔ ‘شین لونگ’ نامی یہ سوئیز میکس ٹینکر تنازعات سے گھیرے ہرمز کے آبناؤں سے گزرنے والا اور ہندوستان پہنچنے والا پہلا بحری جہاز بن گیا ہے۔
خطرناک سفر اور ‘ڈارک’ ہونے کی حکمت عملی
بحری جہازوں پر مسلسل حملوں اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کے واقعات کے درمیان، یہ ٹینکر یکم مارچ کو سعودی بندرگاہ راس تنورہ سے روانہ ہوا۔ بحری ٹریکنگ ڈیٹا سے پتہ چلتا ہے کہ 8 مارچ کو ہرمز کے آبناؤں میں داخل ہوتے وقت جہاز کے خودکار شناختی نظام (اے آئی ایس) اور ٹرانسپونڈرز کے سگنل غائب ہو گئے تھے۔
یہ عمل، جسے عام طور پر “ڈارک ہو جانا” کہا جاتا ہے، بحری کمپنیاں خطرناک آبی گزرگاہوں میں جاسوسی یا نشانہ بننے سے بچنے کے لیے استعمال کرتی ہیں۔ خطرناک علاقہ پار کرنے کے بعد، جہاز اگلے دن بحری نگرانی سسٹمز پر دوبارہ نمودار ہوا اور اپنا سفر ہندوستان کی طرف جاری رکھا۔
جہاز کی تفصیلات اور ہندوستان کے لیے اہمیت
رپورٹس کے مطابق، ‘شین لونگ’ ٹینکر جواہر دیپ ٹرمینل پر کھڑا ہے اور اس پر 1,35,335 میٹرک ٹن خام تیل موجود ہے۔ جہاز میں 29 عملہ شامل تھا، جن میں ہندوستانی، پاکستانی اور فلپائنی شہری شامل تھے، اور کپتان سوکشانت سنگھ سندھو تھے۔
ٹینکر کی کامیاب آمد سے ہندوستان میں توانائی کی سپلائی میں خلل کے خدشات کو کسی حد تک کم کرنے کی توقع ہے۔ ہندوستان، جو ایشیا کی تیسری بڑی معیشت ہے، ہرمز کے آبناؤں پر بہت زیادہ انحصار کرتا ہے، کیونکہ اس کے خام تیل اور قدرتی گیس کے درآمدات کا نصف سے زیادہ حصہ اس تنگ بحری گزرگاہ سے گزرتا ہے۔
علاقائی کشیدگی اور عالمی اثرات
امریکی اور اسرائیلی حملوں کے جواب میں ایران کی طرف سے جاری کارروائیوں نے خطے میں کشیدگی کو انتہائی حد تک پہنچا دیا ہے، جس نے تیل کی قیمتوں کو 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر پہنچا دیا ہے۔ بحری جہازوں پر حملوں کے اس سلسلے میں ‘شین لونگ’ کا محتاط انداز میں خطرناک آبناؤں سے گزرنا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ تجارتی بحری جہازوں کو اپنی حفاظت کے لیے غیر معمولی اقدامات اٹھانے پڑ رہے ہیں۔
بین الاقوامی بحری قوانین بحفاظت سفر کے لیے اے آئی ایس سسٹم کو چالو رکھنے کی ضرورت پر زور دیتے ہیں، لیکن تنازعہ کے علاقوں میں ‘ڈارک’ ہونے جیسے اقدامات خطرے کی غیر معمولی صورت حال میں اٹھائے جاتے ہیں۔

