پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر نے جمعرات کو ایک بیان میں تصدیق کی ہے کہ سابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اپنے گھر میں گر کر زخمی ہو گئے ہیں۔اگرچہ بیان میں یہ نہیں بتایا گیا کہ وہ کب گرے اور ان کے زخموں کی نوعیت کیا ہے البتہ سوشل میڈیا پر بدھ سے یہ خبریں زیر گردش تھیں کہ سابق آرمی چیف گرنے سے شدید زخمی ہوئے ہیں۔
آئی ایس پی آر کے بیان میں کہا گیا کہ ’وہ (سابق آرمی چیف) اس وقت سی ایم ایچ میں زیر علاج ہیں۔‘ بیان میں وضاحت نہیں کی گئی کہ وہ کس سی ایم ایچ میں زیر علاج ہیں تاہم خیال کیا جاتا ہے کہ سابق آرمی چیف کا علاج راولپنڈی میں پاکستان فوج کے ہسپتال میں ہو رہا ہے۔
اس سے قبل سوشل میڈیا پر قمر جاوید باجوہ کے ایک عزیز کا ویڈیو پیغام بھی زیر گردش ہے جس میں بتایا گیا جنرل (ریٹائرڈ) باجوہ کی حالت خطرے سے باہر ہے۔
تاہم ایک سیاسی جماعت کی طرف سے چلائی جانے والی ویب سائٹ میں واقعے پر تبصرہ کرتے ہوئے جنرل باجوہ کے بیت الخلاء میں گرنے کا اشارہ دیتے ہوئے ان کو شرمناک خطاب بھی دیدیا گیا
سابق آرمی چیف جنرل (ر) قمر جاوید باجوہ کے سالے
ویڈیو پیغام اور خاندانی ذرائع کے مطابق اہم تفصیلات درج ذیل ہیں:
حادثہ: جنرل (ر) قمر جاوید باجوہ 11 فروری 2026 کو اپنے گھر کے واش روم میں پھسل کر گر گئے تھے، جس کے باعث ان کے سر اور جسم کے دیگر حصوں پر چوٹیں آئیں۔
طبی صورتحال: انہیں فوری طور پر راولپنڈی کے کمبائنڈ ملٹری ہسپتال (CMH) منتقل کیا گیا جہاں وہ آئی سی یو (ICU) میں زیر علاج ہیں۔
تازہ ترین اپ ڈیٹ: ڈاکٹروں کے مطابق ان کی حالت اب پہلے سے بہتر اور مستحکم ہے۔ انہوں نے ہوش میں آنے کے بعد اپنے دونوں بیٹوں کو پہچان لیا ہے، تاہم وہ اب بھی ڈاکٹروں کی زیر نگرانی ہیں۔
اہل خانہ کا بیان: ان کے بیٹوں نے بھی ہسپتال پہنچ کر ان کی عیادت کی ہے اور خاندان کی جانب سے عوام سے ان کی جلد صحت یابی کے لیے دعاؤں کی اپیل کی گئی ہے۔
فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (ISPR) نے بھی اس حادثے اور ان کے زیر علاج ہونے کی تصدیق کر دی ہے۔

