yes urdu logo
  • خبریں
    • اہم ترین
    • بین الاقوامی خبریں
    • شوبز
    • مقامی خبریں
    • کاروبار
    • کھیل
  • تارکین وطن
  • اردو ادب - شاعری
  • ویڈیوز - Videos
  • اشتھارات
  • دلچسپ اور عجیب
  • کالم
Dark Mode
Skip to content
yes urdu logo
  • خبریں
    اہم ترین
    • جنوبی کوریا کی جانب سے کوریا جنگ کے باضابطہ خاتمے کے لیے شمالی کوریا کو براہ راست مذاکرات کی پیشکشجنوبی کوریا کی جانب سے کوریا جنگ کے باضابطہ خاتمے کے لیے شمالی کوریا کو براہ راست مذاکرات کی پیشکش
    • اسلام ماخچیف کی شاندار گراپلنگ نے ایان گیری کو ہرا کر یو ایف سی میں مسلسل 17 فتوحات کا نیا ریکارڈ قائم کر دیااسلام ماخچیف کی شاندار گراپلنگ نے ایان گیری کو ہرا کر یو ایف سی میں مسلسل 17 فتوحات کا نیا ریکارڈ قائم کر دیا
    بین الاقوامی خبریں
    • جنوبی کوریا کی جانب سے کوریا جنگ کے باضابطہ خاتمے کے لیے شمالی کوریا کو براہ راست مذاکرات کی پیشکشجنوبی کوریا کی جانب سے کوریا جنگ کے باضابطہ خاتمے کے لیے شمالی کوریا کو براہ راست مذاکرات کی پیشکش
    • اسلام ماخچیف کی شاندار گراپلنگ نے ایان گیری کو ہرا کر یو ایف سی میں مسلسل 17 فتوحات کا نیا ریکارڈ قائم کر دیااسلام ماخچیف کی شاندار گراپلنگ نے ایان گیری کو ہرا کر یو ایف سی میں مسلسل 17 فتوحات کا نیا ریکارڈ قائم کر دیا
    شوبز
    • زوٹوپیا 3 کا باضابطہ اعلان: ڈزنی کی سب سے کامیاب اینیمیٹڈ فرنچائز کی واپسیزوٹوپیا 3 کا باضابطہ اعلان: ڈزنی کی سب سے کامیاب اینیمیٹڈ فرنچائز کی واپسی
    • شعلے کے گبر سنگھ کابیٹا دھریندر میں کس اہم کردار کیلئے کاسٹنگ ڈائریکٹر کی توجہ حاصل نہ کرسکا، امجد خان کی میراث گبر آج بھی برقرار
    مقامی خبریں
    • ایم کیو ایم پاکستان کی نئے صوبوں کے قیام کی مہم تیز، سندھ کو سب سے مضبوط کیس قرارایم کیو ایم پاکستان کی نئے صوبوں کے قیام کی مہم تیز، سندھ کو سب سے مضبوط کیس قرار
    • آزاد کشمیر: ضلع باغ کی دو نشستوں پر 23 پولنگ اسٹیشنز میں دوبارہ ووٹنگ جاری، سیکیورٹی سختآزاد کشمیر: ضلع باغ کی دو نشستوں پر 23 پولنگ اسٹیشنز میں دوبارہ ووٹنگ جاری، سیکیورٹی سخت
    کاروبار
    • ایزی جیٹ فرانس کی ہڑتال: 15 اگست کے ویک اینڈ پر تقریباً 100 پروازیں منسوخ، مسافروں میں شدید بے چینیایزی جیٹ فرانس کی ہڑتال: 15 اگست کے ویک اینڈ پر تقریباً 100 پروازیں منسوخ، مسافروں میں شدید بے چینی
    • ماں کی ایجاد: ’سلیپی ہیٹ‘ نے بچوں کی نیند کا مسئلہ حل کر کے کاروبار میں کامیابی کی نئی داستان رقم کردی
    کھیل
    • Litton Das Century Powers Bangladesh to 278لٹن داس کا شاندار سنچری، بنگلہ دیش کی پاکستان کے خلاف مضبوط واپسی
    • بھارت اور افغانستان کے درمیان 2026 میں تاریخی ٹیسٹ اور ون ڈے سیریز کا اعلان
  • تارکین وطن
  • اردو ادب - شاعری
  • ویڈیوز - Videos
  • اشتھارات
  • دلچسپ اور عجیب
  • کالم
کالم

پاکستان کی فلم نگری کا سلطان !

Yes 2 Webmaster January 8, 2015January 8, 2015 1 min read
Sultan Rahi
Share this:
Sultan Rahi
Sultan Rahi

تحریر : اختر سردار چودھری
ایکشن فلموں کے سلطان کا اصل نام سلطان محمد تھا اور وہ سلطان راہی کے نام سے مشہور ہوئے۔1938 کو ہندوستان کے شہر سہارن پور( اتر پردیس ) میں پیدا ہوئے ۔پاکستان ہجرت کر کے آئے پہلے کراچی پھر راوالپنڈی میں رہے ۔پھر لاہور شفٹ ہوگئے ۔سلطان راہی کا تعلق آرائیں فیملی سے تھا ۔سلطان راہی نے کل 804 فلموں میں کام کیا جن میں سے 100 سے زائد اردو اور باقی پنجابی ۔500 فلموں میں بطور ہیرو کے اداکاری کی ۔اورکم و بیش 100 میں بطور ولن کام کیا ۔جب ان کو قتل کیا گیا ان کی عمر 58 سال تھی اور تقریبا 54 فلمیں زیر تکمیل تھیں۔سلطان راہی نے 50کی دہائی یعنی 1956 میں ایک بہت ہی معمولی کردار سے اپنے فلمی سفر کا آاغاز کیا ۔جہاں بہت سی ناکامیوں نے ان کا استقبال کیا ۔انہوں نے اس دور میں اسٹیج ڈراموں میں بھی کام کیا ۔دو وہائیوں تک مسلسل محنت کرتے رہے اور وہ 70 کی دہائی میں اپنی شناخت بنانے میں کامیاب ہوئے ۔وہ ولن اور ہیرو دونوں روپ میں مشہور ہوئے لیکن بطور ہیرو انہیں زیادہ پسند کیا گیا ۔ان کی جوڑی مصطفے قریشی اور انجمن کے ساتھ بہت مقبول ہوئی ۔پہلے چھوٹے چھوٹے کردار کرتے رہے جیسے ،فلم چاچاجی اورخون کا رشتہ وغیرہ اور پھر فلم بدلہ میں ولن کا کردار کیا ۔1970 میں رنگیلا کی اردو کی مشہور فلم رنگیلا میں بھی ولن کا کردار ادا کیا ۔اس کردار میں ان کو بہت پسند کیا گیا اس کے بعد 1971 میںفلم بابل میں اداکاری کے جوہر دکھائے ۔یہ فلم باکس آفس پر سپر ہٹ ہوئی ۔اور پھر ان کی محنت اور قسمت رنگ لے آئی ۔ ان کو فلم بشیرا میں کاسٹ کر لیا گیا جو کہ 1972 میں ریلیز ہوئی اور اس فلم بشیرا نے پورے ملک میں دھوم مچا دی جن میں ان کے کردار کو آج بھی سراہا جاتا ہے ۔پھر احمد ندیم قاسمی کے ناول گنڈاسہ پر بننے والی فلم وحشی جٹ نے ملک میں دھوم مچائی تو سلطان راہی صف اول کے اداکار بن گئے اب ان کا نام فلم کی کامیابی کی ضمانت سمجھا جانے لگا ۔1972فلم بشیرا ۔اور 1975 وحشی جٹ نے ان کی زندگی کا راستہ متعین کر دیا۔

اس کے بعد باقی زندگی وہ ہاتھ میں گنڈاسہ پکڑے دشمنوں سے لڑتے رہے 1976 میں فلم طوفان ریلیز ہوئی تو اس نے طوفان اٹھا دیا ،اس فلم کی خاص بات اس کا انگریزی فلموں جیسا ٹریٹمنٹ تھا اس فلم میں ان کا کردار ذرا مختلف تھا اس لیے بہت پسند کیا گیا ۔اسی سال مصطفی قریشی کے ساتھ سلطان راہی کی فلم لائسنس نے بھی تہلکہ مچا دیا ۔مصطفی قریشی حقیقی معنوں میں اس فلم میں مشہور ہوئے اور ان کی سلطان راہی کے ساتھ جوڑی بنی اس کے بعد۔ 1978 میں مولا جٹ نے اتنی کامیابی حاصل کی جس کی مثال دینا مشکل ہے ۔مولاجٹ تے نوری نت نے ملک گیر شہرت حاصل کی یہ آج تک لافانی کردار سمجھے جاتے ہیں ۔مصطفی قریشی کی جگہ ہمایوںقریشی آئے آسیہ کی جگہ انجمن نے پر کی مگر سلطان اپنی جگہ پر قائم رہے ۔انجمن نے جب فلموں کو خیر باد کیا تو اس کی جگہ صائمہ نے لے لی صائمہ سلطان راہی کی آخری ہیروئین تھی ۔آسیہ،صائمہ،گوری،نیلی،بابرہ شریف،انجمن ،ممتاز،عالیہ وغیرہ نے سلطان راہی کے ساتھ بطور ہیروئین کام کیا ۔سلطان راہی کو یہ بھی اعزاز حاصل ہے کہ ان کی ایک ہی دن 12 اگست 1981کو پانچ فلمیں ،شیر خان ،ظلم دا بدلہ،اتھراپتر،چن وریام اور سالا صاحب ریلیز ہوئی تھیںجنہوں نے کامیابی کے ریکارڈ قائم کر دئیے۔

سلطان راہی اردو فلموں کے لیے ان فٹ نہیں تھے جیسا کہ ان کے لیے عام طور پر کہا جاتا ہے انہوں نے بہت سی اردو فلموں میں کام کیا جن میں سے درج ذیل بہت مشہور ہوئی مثلا ان داتا،راستے کا پتھر،دل لگی،آگ،وغیرہ اردو فلموں میں انہوں نے منفرد کردار ادا کئے ۔ایک اردو فلم جاسوس میں ممتاز کے مقابل ہیرو آئے اور رومانٹک کردار ادا کیا ۔اصل میں ان پر ایک مخصوص چھاپ لگا کر ایک جیسی فلمیں بنائی گئیں ۔ جس میں ان کا قصور نہیں ہے ۔ یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ ان کی صلاحیتوں کو استعمال نہ کیا گیا ۔جس کردار میں وہ ایک بار لوگوں کو پسند آئے پھر وہی کردار ان کو دے دیا گیا ۔ان کی بہت سی فلمیں بھی ایک جیسی ہیں جن کی کہانیاں بھی ایک جیسی ہیں ۔صرف نام یا گانے مختلف ہیں ۔یہ خامی اب شان کی فلموں میں بھی ہے ۔فلموں میں ہی کیا سیاست میں بھی ایسا ہی ہے ۔فلموں میں بدمعاشی تو ان کا ایک کردار تھا ،جو کہ اس معاشرے میں انصاف نہ ملنے کی وجہ سے اسے پسند کیا گیا فلموں میں سلطان راہی اپنا انصاف لینے کے لیے قانون کو اپنے ہاتھ میں لے لیا کرتے ۔ان کے گنڈاسے سے عدلیہ ،پولیس،بدمعاش ،جاگیر دار ،سرمایہ دار نہ بچ سکتے تھے ۔بعض فلموں میں وہ خود کو آخر میں قانون کے حوالے کر دیتے تھے ۔بعض میں وہ بھی دشمنوں کو موت کے گھاٹ اتارتے ہوئے وہ خود بھی قتل ہو جاتے ۔ لیکن اصل زندگی میں وہ بطور انسان ایک خدا ترس ،نیک ،درویش صفت ،انسان تھے ۔پوری زندگی زمین پر سوئے ،کھانے میں جو بھی ملتا کھا لیتے ۔انہوں نے انتہائی غربت سے زندگی کی ابتدا کی اور تنگی کے بعد آسانی بھی دیکھی ۔انہوں نے بہت سے حج کئے ،اپنے گھر میں ایک مسجد بنائی ایک مسجد سٹوڈیو کے اندر بھی تعمیر کروائی وہ غریبوں کی مدد کو فرض سمجھتے تھے ایک بار انہوں نے کہا کہ وہ جانتے ہیں کہ غربت کس بلا کا نام ہے ۔اس لیے غریبوں کی مدد کو اپنا فرض سمجھتے ہیں۔

عام طور پر کہا جاتا ہے کہ سلطان راہی کا نام ورلڈ ریکارڈ گینزبک میں نام ہے ۔لیکن میری تحقیق کے مطابق سلطان راہی دنیا کی سب سے زیادہ فلمیں بنانے والے ایک ہی ہیرو کے طور پر دوسرے نمبر پر ہیں کیونکہ ان کی 804 فلمیں ہیں جب فوت ہوئے تو 54 فلمیں زیر تکمیل تھیں اگر ان کی تکمیل ہو جاتی تو وہ دنیا کے سب سے زیادہ فلموں میں کام کرنے والے ورلڈ ریکارڈگینزبک داکار کے طور پر میں درج ہو جاتے فعل حال سب سے زیادہ فلموں میں اداکار کے طور پر کام کرنے والے جنوبی ہندوستان کے ایک اداکار کا نا م ورلڈ ریکارڈگینزبک میں درج ہے انہوں نے 857 فلموں میں کام کیا ۔سلطان راہی پر ایک کتاب بھی لکھی گئی جس میں بے پناہ اغلاط موجود ہیں ۔یہاں تک کہ فلموں کی مکمل فہرست ،زندگی کے حالات تک درست طور پر اس میں درج نہیں ہیں ۔ضرورت اس کی ہے کہ سلطان راہی پر ایک کتاب لکھی جائے جس میں فلمی صنعت کے اس لافانی کردار کو خراج تحسین پیش کیا جائے ۔اور درست معلومات اس میں درج ہوں ۔ سلطان راہی کو یہ بھی اعزاز حاصل ہے کہ ان کو ڈیڑھ سو سے زائد فلمی ایوارڈ ملے اور وہ چار دہائیوں تک فلم انڈسٹری پر چھائے رہے۔ سلطان راہی اپنی ہر فلم میں 10سے 600 تک افراد کو موت کی نیند سلاتے رہے. فلم سٹارآسیہ کے ساتھ کی جوڑی بن گئی اور سلطان راہی غیرت کی علامت بن گئے ۔یعنی جاگیرداروں ،سرمایہ کاروں کے خلاف عوام میں جو نفرت پائی جاتی تھی اس کا استعارہ بن گئے۔

اس طرح ملک میں پسے ہوئے ،غریب ،مفلس عوام کی آواز بن گئے ۔ظالموں ،جابروں ،پولیس کے غنڈوں کو موت کی نیند سلاتے ہوئے جب ان کو عوام دیکھتی جو خود تو کچھ نہیں کر سکتی تھی لیکن ان کے دلوں میں بھی جاگیرداروں ،وڈیروں ،پولیس کے خلاف نفرت پائی جاتی تھی ۔سلطان راہی کو ان کی مٹی پلید کرتے ہوئے ان کے دل کی بھڑاس نکل جاتی تھی ۔ان کی نجی زندگی ،بچپن ،وغیرہ کے بارے میں زیادہ تر خاموشی پائی جاتی ہے۔ ایک بیٹا حیدرسلطان کسی حد تک مشہور ہوا۔ شائد ایک دو فلموں میں کام بھی کیا اور ٹی وی پر بھی اداکاری کی لیکن زیادہ شہرت حاصل نہ کر سکا ۔مصطفی قریشی نے ایک بار کہا تھا کہ ۔مجھے سلطان راہی محروم کی آج بھی شدت سے یاد آتی ہے ۔الیاس کشمیری کا سلطان راہی کی وفات پر کہنا تھا کہ آج فلم انڈسٹری یتیم ہو گئی ۔صائمہ نے کہا کہ مجھے اس مقام تک پہنچانے میں سلطان راہی نے بہت اہم کردار ادا کیا ۔سلطان راہی کو 9 جنوری 1996 میں پہلوانوں کے شہر گوجرانوالہ کے نزدیک نا معلوم افراد نے فائرنگ کر کے قتل کر دیا ۔وہ اسلام آباد سے لاہور آ رہے تھے ۔اب تک ان کے قاتلوں کا سراخ نہیں لگایا جا سکا ۔جب ان کو قتل کیا گیا ان کی عمر 58 سال تھی اور تقریبا 54 فلمیں زیر تکمیل تھیں۔قارئین کی دلچسپی کے لیے ان کی کامیاب فلموں کی نامکمل فہرست بالترتیب دی جارہی ہے۔

1971 میں دل اور دنیا ،خان چاچا۔1972 میںسلطان ، بشیرا، بنارسی ٹھک۔1973 میں زرق خان،مغلز کشمیری، دل لگی۔1974 میںالٹی میٹم، راستے کا پتھر، دادا، سدھا رستہ ۔1975 وحشی جٹ،شریف بدمعاش ۔طوفان ۔1976 میں جگا گجر ،لاہوری بادشاہ۔1977 میںقانون ،جیرا سائیں 1978 میں مولاجٹ، رنگا ڈاکو، جٹ سورما۔1979 میں وحشی گجر، گوگا شیر۔1980 میں بہرام ڈاکو، بائیکاٹ، ہٹلر ،انوکھا داج،شیر میدان دا،ملے گا ظلم دا بدلہ،جی دار،جٹ ان لندن ۔1981 میںشیر خان ،ظلم دا بدلہ،اتھراپتر وریام ،چن وریام ، سالا صاحب ،دو بگھا زمین۔1982 میں رستم،راکا، لاوارث،دارا بلوچ۔1983 میں رستم خان ،مراد خان ،شان ،بگھی شیر،کالیا ،شعلے ۔1984 میں قاتل حسینہ، جابر خان، قسمت۔1985 میں عجب خان ،جگا۔1986 میں قیدی ،اللہ رکھا ،قیمت۔1987 میں دلاری ،ناچے ناگن، مولابخش، بادل ، مفرور۔ 1988 میں روٹی ،حکومت، حسینہ 420۔1989میں کالکا، بلاول، سلطانہ، ڈکیٹ، رنگیلے جاسوس، مجرم ،خدا بخش۔ 1990 میں کالے چور، شیر دل۔1991 میں چراغ بالی، بدمعاش ٹھگ، قاتل قیدی۔ 1992 میں ماجھو۔ 1994 بالاپیرے دا۔1996 سخی بادشاہ۔ وغیرہ ان کے علاوہ بھی ان کی بہت سی فلمیں سپر ہٹ ہوئیں اس لیے میری فہرست کو مکمل نہ سمجھا جائے اس لیے میں نے نامکمل لکھا ہے۔ سلطان راہی تو اس جہان فانی سے کوچ کر گئے ۔لیکن فلم انڈسٹری میں انمٹ نقوش چھوڑ گئے۔

Muhammad Akhtar Sardar
Muhammad Akhtar Sardar

تحریر : اختر سردار چودھری

Share this:

Yes 2 Webmaster

6,502 Articles
View All Posts
Kurram Agency
Previous Post کرم ایجنسی میں سڑک کنارے نصب بارودی مواد پھٹنے سے 4 اہلکار شہید
Next Post رحمت دو عالم
Hazrat Muhammad PBUH

Related Posts

جنوبی کوریا کی جانب سے کوریا جنگ کے باضابطہ خاتمے کے لیے شمالی کوریا کو براہ راست مذاکرات کی پیشکش

جنوبی کوریا کی جانب سے کوریا جنگ کے باضابطہ خاتمے کے لیے شمالی کوریا کو براہ راست مذاکرات کی پیشکش

August 16, 2026
اسلام ماخچیف کی شاندار گراپلنگ نے ایان گیری کو ہرا کر یو ایف سی میں مسلسل 17 فتوحات کا نیا ریکارڈ قائم کر دیا

اسلام ماخچیف کی شاندار گراپلنگ نے ایان گیری کو ہرا کر یو ایف سی میں مسلسل 17 فتوحات کا نیا ریکارڈ قائم کر دیا

August 16, 2026
پاکستان ویمنز کرکٹ اسکواڈز کا اعلان: ویمنز ایشیا کپ اور ایشین گیمز کے لیے فاطمہ ثناء قیادت کریں گی

پاکستان ویمنز کرکٹ اسکواڈز کا اعلان: ویمنز ایشیا کپ اور ایشین گیمز کے لیے فاطمہ ثناء قیادت کریں گی

August 16, 2026
ایم کیو ایم پاکستان کی نئے صوبوں کے قیام کی مہم تیز، سندھ کو سب سے مضبوط کیس قرار

ایم کیو ایم پاکستان کی نئے صوبوں کے قیام کی مہم تیز، سندھ کو سب سے مضبوط کیس قرار

August 16, 2026




© 2026 Yes Urdu. All rights reserved.
  • خبریں
  • تارکین وطن
  • اردو ادب – شاعری
  • ویڈیوز – Videos
  • اشتھارات
  • دلچسپ اور عجیب
  • کالم

We use cookies to ensure you get the best experience on our website.

We use cookies to ensure you get the best experience on our website.