اگر آپ عصر حاضر میں بھی بیٹیوں کےلئے محدود رنگوں اور محدود کھلونوں کا انتخاب کر رہے ہیں تو آپ ان کی ذہنی نشوونماپروان چڑھنے کے دوران رکاوٹ پیدا کررہے ہیں۔ اگر ایسا ہے تو اب آپ کو اپنی سوچ میں تبدیلی لے آنی چاہیے کیونکہ اب بیٹیاں نہ صرف گاڑیاں چلارہیں بلکہ بیرون ملک سفارت کاری کے فرائض بھی انجام دے رہی ہیں۔ بیہوریل ماہر سریا جازف اس بات پر یقین رکھتی ہیں کہ بچےکی تربیت کا عمل اس کی پیدائش کے اگلے 24گھنٹےبعد ہی شروع ہوجاتا ہے۔ آپ بچے سے کیا کہتے ہیں اور اس کے ساتھ کیسا رویہ رکھتے ہیں، یہ تمام چیزیں بچے کو بچپن ہی سے ذہنی طور پر با اختیار بنانے اور اس کی نشوونما اسی انداز میں پروان چڑھانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے ۔ایک بچی بااختیار تب ہی ہوسکتی ہےجب اس کے اردگرد کے ماحول میں اس کی ذہنی تربیت صنفی امتیاز سے بالاتر ہو کر کی جائے۔ والدین کو چاہیے کہ بچپن ہی سے بچیوں کی مہارتوں اورصلاحیتوں پر اعتماد کرتے ہوئے انھیں آگے بڑھنے کی جانب مائل کریں تاکہ وہ ظاہری اور باطنی دونوں طرح کا اعتماد حاصل کرسکیں۔ آپ نے یہ کردار کیسے نبھانا ہے، اس حوالے سے ماہرین کے مندرجہ ذیل مشورے کارآمد ثابت ہوسکتے ہیں۔
خوبصورتی سے آگے سوچیں

