واشنگٹن — جسٹس ڈپارٹمنٹ کے حال ہی میں جاری ہونے والے ریکارڈز سے انکشاف ہوا ہے کہ جیفری ایپسٹین کے قریبی ساتھی اور ماڈل اسکاؤٹ، ژاں لوک برونل، 2016 میں ایپسٹین کے خلاف گواہی دینے کے لیے تیار تھے۔ تاہم، ایپسٹین کو اس کی اطلاع ملنے پر ایک وکیل کے ذریعے 30 لاکھ ڈالر کا معاہدہ کروایا گیا، جس کے بعد برونل خاموش ہو گئے اور ایپسٹین مزید تین سال تک آزاد گھومتا رہا۔
فائلز میں درج پراسیکیوٹر کے نوٹس
وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق، فروری 2016 میں برونل ایپسٹین کے متاثرین کے وکلاء کے ساتھ تعاون کر رہے تھے۔ ایک وفاقی پراسیکیوٹر کے نوٹس میں درج ہے: “ایپسٹین کے دوستوں میں سے ایک، ژاں لوک برونل، لڑکیوں کو لانے میں مدد کرتا تھا۔ وہ تعاون کرنا چاہتا ہے۔ برونل کو مقدمے کا خوف ہے۔”
ایپسٹین کا خوفناک ای میل اور وکیل سے رابطہ
الگ دستاویزات سے پتہ چلتا ہے کہ مئی 2016 میں ایپسٹین کو برونل کی ممکنہ حرکت کا پتہ چلا۔ اس نے سابق اوباما وائٹ ہاؤس کونسل کیتھرین روملر کو غلطیوں سے بھرا ایک ای میل بھیجا، جس میں لکھا: “اس نے کہا کہ بوئیز نے ژاں لوک کو مکمل استثنیٰ دلوا دیا ہے اور اسے اگلے منگل کو یو ایس اٹارنی کے پاس لے جا رہا ہے… اس نے 30 لاکھ ڈالر مانگے تاکہ ژاں لوک اندر نہ جائے۔”
روملر نے جواب میں ایپسٹین سے فون پر بات کرنے کو کہا۔ اگلے دن اس نے ایپسٹین کو لکھا: “اب جاگی ہوں۔ 20 منٹ میں پو سے بات کروں گی۔” یہ پو ایپسٹین کے واشنگٹن کے وکیل گریگوری پو تھے۔
خاموشی کی قیمت: 50 سے زائد لڑکیوں کا استحصال
وکیل ڈیوڈ بوئیز، جنہوں نے ایپسٹین کے متاثرین کی طرف سے مقدمات دائر کیے، کا کہنا ہے کہ “اس معاملے نے ہمیں کئی سال پیچھے دھکیل دیا۔ ہمارے مقدمات سے ہمیں پتہ چلا کہ اس کے بعد 50 سے زیادہ لڑکیوں کی سمگلنگ کی گئی۔”
برونل کا انجام اور روملر کا استعفیٰ
ایپسٹین کا یہ قریبی ساتھی، برونل، فرانس میں نابالغوں کے ریپ کے الزام میں 2020 میں گرفتار ہوا۔ تاہم، 2022 میں اس کا جیل کے سیل میں مردہ حالت میں پائے جانے کے بعد مقدمہ شروع ہونے سے پہلے ہی اس کی موث واقع ہو گئی۔ دوسری طرف، وکیل کیتھرین روملر، جو ایپسٹین کے ساتھ اس کے 2008 کے سزا یافتہ ہونے کے بعد بھی قریبی تعلقات رکھتی تھیں، نے گزشتہ ہفتے گولڈمین سیکس سے استعفیٰ دے دیا۔
یہ نئی معلومات اس وقت سامنے آئی ہیں جب ایپسٹین فائلز کی شفافیت ایکٹ کے تحت جاری کیے گئے ہزاروں صفحات عالمی سطح پر طاقتور افراد کے لیے مسلسل مشکلات کا باعث بن رہے ہیں۔

