لاہور کے علاقے کہنا میں ایک پانچ سالہ بچے کی لاش ملی جس کے بعد پولیس کی تحقیقات نے ایک ایسا ہولناک انکشاف کیا ہے جس نے معاشرے کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ معلوم ہوا کہ بچے کے اپنے باپ اعظم اور چچا ندیم نے اسے اپنے کاروباری حریفوں کو پھنسانے کے لیے قتل کیا تھا۔ یہ واقعہ 16 فروری کو پیش آیا جب بچہ لاپتہ ہوا اور اگلے دن اس کی لاش برآمد ہوئی۔
لاش کی برآمد اور پولیس کی تحقیقات
کہنا پولیس اسٹیشن کے قریب ایک نابالغ بچے کی لاش ملی جس کی گردن سے خون رس رہا تھا۔ پولیس نے فوری طور پر لاش کو ہسپتال منتقل کر کے پوسٹ مارٹم کے لیے بھیج دیا۔ ساتھ ہی، بچے کے گھر والوں کو تلاش کرنے کے لیے سوشل میڈیا اور واٹس ایپ گروپس پر پیغامات گردش کرائے گئے۔
تھوڑی دیر بعد چوہنگ پولیس کو اطلاع ملی کہ ایک شخص اعظم کا پانچ سالہ بیٹا اعزاز گذشتہ روز سے لاپتہ ہے۔ ایس ایچ او چوہنگ عظیم انور کے مطابق، پولیس نے اعظم کو لاش کی تصویر بھیجی جس پر اس نے فوری طور پر اپنے بیٹے کی لاش ہونے کی تصدیق کر دی۔
سی سی ٹی وی فوٹیج اور پولیس کو شک
تصدیق کے بعد پولیس نے چوہنگ سے کہنا تک کے راستے میں نصب 100 سے زائد سی سی ٹی وی کیمروں کا فوٹیج جمع کیا۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ میں انکشاف ہوا کہ بچہ کو لاش ملنے سے تقریباً 12 گھنٹے پہلے تیز دھار آلے سے قتل کیا گیا تھا۔ تاہم، تحقیقات کے دوران باپ کا رویہ مشتبہ ہو گیا۔
- پولیس سے بات کرنے کے فوری بعد اعظم کا فون بند ہو گیا۔
- گھر پر ملاقات کے دوران بیوی نے بتایا کہ وہ بچے کی تلاش میں گیا ہوا ہے۔
- باپ نے اپنے بیٹے کی لاش کی اطلاع ملنے پر پولیس اسٹیشن آنے سے گریز کیا۔
- بچہ 16 فروری کو لاپتہ ہوا تھا لیکن پولیس کو 17 فروری صبح 11:30 بجے اطلاع دی گئی۔
سی سی ٹی وی سے پردہ فاش
سی سی ٹی وی فوٹیج میں دیکھا گیا کہ لاش ملنے سے ایک دن پہلے بچہ اپنے باپ اور چچا کے ساتھ تھا۔ جب اعظم اور ندیم پولیس کے سامنے پیش ہوئے تو ان کے پاس کوئی قابل اعتماد وضاحت نہ تھی۔ مقامی ڈیٹا اور ویڈیو ثبوتوں کے سامنے آنے کے بعد دونوں نے جرم کا اعتراف کر لیا۔
25 کروڑ روپے کا تنازعہ اور شیطانی منصوبہ
پولیس ریکارڈ کے مطابق، اعظم حجرہ شاہ مقیم کے ایک کاروباری گروپ کے ساتھ 25 کروڑ روپے کے تنازعے میں ملوث تھا۔ منصوبہ یہ تھا کہ بیٹے کو قتل کر کے اغوا کیس درج کروایا جائے اور پھر کاروباری حریفوں پر اغوا اور قتل کا الزام لگا دیا جائے۔ ایس ایچ او عظیم انور کے مطابق، “اعظم اور ندیم کا خیال تھا کہ وہ اس سانحے کو اپنے حریفوں کے خلاف استعمال کر سکیں گے۔”
پولیس نے دونوں ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے اور عدالت میں پیش کر دیا ہے۔ یہ واقعہ معاشرے میں خاندانی اقدار کے انحطاط اور دولت کے حصول کی خاطر انسانی جانوں کی قربانی کی ایک المناک داستان ہے۔

