yes urdu logo
  • خبریں
    • اہم ترین
    • بین الاقوامی خبریں
    • شوبز
    • مقامی خبریں
    • کاروبار
    • کھیل
  • تارکین وطن
  • شاعری
    • شاعر
      • عاکف غنی
  • ویڈیوز - Videos
    • Animals
    • Child
    • Fail - Shock
    • Fun & Performance
    • Music & Movies
    • News Events & Travel
    • Religious
    • Sports
    • Technology
  • اشتھارات
  • دلچسپ اور عجیب
    • اچھی بات
    • صحت و تندرستی
  • کالم
  • کرائم
Dark Mode
Skip to content
Breaking News
پولیس کا گھر پر چھاپہ، خاتون اور مرد شرمناک حالت میں گرفتار ، مگر خاتون دراصل کون نکلی اور قصہ کیا تھا ؟ شرمناک حقیقت سامنے آگئی
مدرسوں کے بچوں کو مولویوں کی زیادتی سے بچانے کا ایک ہی طریقہ۔۔۔۔ بشریٰ انصاری کا ایک متنازع بیان سامنے آگیا
شوبز نگری سے گرما گرم خبر : دو خوبصورت ترین اداکارائیں جسم فروشی اور اعلیٰ شخصیات کو خوبصورت لڑکیاں فراہم کرنے کے الزام میں گرفتار ۔۔۔ ایک خبر نے پورے ملک میں ہلچل مچا دی
یااللہ خیر ۔۔۔ بھارتی خفیہ ایجنسی ’’ را ‘‘ کا چیف جسٹس آف پاکستان کے خلاف خوفناک منصوبہ بے نقاب، حکومت حرکت میں آگئی، بڑا حکم جاری کر دیا
نمرتا کیس میں نیا موڑ۔۔۔۔ میڈیکل کی طالبہ کے اکاؤنٹ میں لاکھوں روپے کہاں سے آئے اور کہاں گئے؟ نئی کہانی سامنے آگئی
yes urdu logo
  • خبریں
    اہم ترین
    • دنیا کا سب سے بڑا طیارہ بردار بحری جہاز ‘یو ایس ایس جیرالڈ آر فورڈ’ ریکارڈ تعیناتی کے بعد وطن واپس لوٹ گیا
    • وائٹ ہاؤس پریس ڈنر میں فائرنگ، ٹرمپ اور میلانیا کو بحفاظت نکال لیا گیا،مشتبہ شوٹر کی شناخت 31 سالہ کول ٹامس ایلن کے طور پر ہوئی
    بین الاقوامی خبریں
    • دنیا کا سب سے بڑا طیارہ بردار بحری جہاز ‘یو ایس ایس جیرالڈ آر فورڈ’ ریکارڈ تعیناتی کے بعد وطن واپس لوٹ گیا
    • ایران بات چیت کیلئے تیار، امریکی صدر کا ایک بار پھر ڈیل کیلئے اصرار
    شوبز
    • From Eddie Murphy to Whoopi Goldberg: Top 10 Funniest 90s Actorsانیسویں دہائی کے دس عظیم مزاحیہ اداکار: جن کی ہنسی آج بھی تازہ ہے
    • بڑی عمر کی خواتین پسند ہیں،کہتا ہوں اپنی ماوں کو مجھ سے بچاو،بشری انصاری کے شوہر کےاس مزاح والے بیان پر سوشل میڈیا پر ہنگامہ 
    مقامی خبریں
    • نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی زیر صدارت خطے کی تازہ ترین صورتحال پر جائزہ اجلاس، ترجمان دفتر خارجہ 
    • عالمی بحران,وزیراعظم شہباز شریف کااعلان ,عوامی امنگوں کا ترجمان ….؟
    کاروبار
    • ماں کی ایجاد: ’سلیپی ہیٹ‘ نے بچوں کی نیند کا مسئلہ حل کر کے کاروبار میں کامیابی کی نئی داستان رقم کردی
    • حکومتی قرضہ 78.5 کھرب روپے تک پہنچ گیا، مالیاتی دباؤ میں اضافہ
    کھیل
    • بھارت اور افغانستان کے درمیان 2026 میں تاریخی ٹیسٹ اور ون ڈے سیریز کا اعلان
    • شیہان راجہ خالد محمود جنجوعہ امریکہ میں چوتھی بار ہال آف فیم ایوارڈ حاصل کرنے والے پہلے پاکستانی مارشل آرٹسٹ بن گئے
  • تارکین وطن
  • شاعری
    شاعر
    • کس کو ہے میں نے کھویا مجھ کو کیا ملا
    • best, tick tock, video, till, yet, for, Pak, Army, and, ISIپاک فوج پربنائی جانیوالی اب تک کی سب سے بہترین ٹک ٹاک، دلکش نغمے کے ساتھ
    • عاکف غنی
  • ویڈیوز - Videos
    Animals
    • Chairman Mao Zedong meets U.S. President Richard Nixonچیئرمین ماو زڈونگ نے امریکی صدر رچرڈ نکسن سے ملاقات کی
    • Grizzly Bearدیو قامت ریچھ اپنے بچوں کے ساتھ ، دلچسپ ویڈیو دیکھیں
    Child
    • My, 18 ,month, old, grandson, showing, off, his ,tricksاٹھارہ ماہ کا پوتا اپنے دادا کو اپنی چالیں دکھاتے ہوئے۔۔ حیران کن ویڈیو دیکھیں
    • بچے اور چڑیا جانور
    Fail - Shock
    • White, Trash, Prank Now, this, is, what, a, true, joke/prank, should, be!, Something, innocent, they, everyone, laughs, at, the, end!, Not, this, crap, where, people, are, throwing, spiders, on, people, or, putting, oil, on, the, floor, and, making, them, fall, and, get, hurt, or, sticking, your, butt, in, sleeping, people’s, faces., This, was, awesome, thanks, for, a, laugh!وائٹ ردی کی ٹوکری پرسکون ویڈیو دیکھیں یہاں کلک کریں
    • This, isn't, going, to, go, well. CLICK, HERE, TO, WATCH, VIDEO The, last, time, he, tried, to, do, it, and, flipped, so, many, times, at, the, end,, it, made, me, laugh, more, thanناممکن چیز کرنے کی کوشش کریں جب آپ اس کے اہل ہوں ورنہ ایسا بھی ہوسکتا ہے!
    Fun & Performance
    • ایک بچہ اپنے والد کے بارے میں کیا سوچتا ہے؟ باپ کے پسینے کا حق ادا نہیں ہوسکتا یہ سمجھنے میں اتنی دیر کیوں لگ جاتی ہے؟ جانیے اس ویڈیو میں
    • best, tick tock, video, till, yet, for, Pak, Army, and, ISIپاک فوج پربنائی جانیوالی اب تک کی سب سے بہترین ٹک ٹاک، دلکش نغمے کے ساتھ
    Music & Movies
    • پاکستان اوربھارتی پنجاب کے فنکاروں سے سجی چل میرا پت کی کینیڈا میں سکریننگ، بہترین مناظر
    • best, tick tock, video, till, yet, for, Pak, Army, and, ISIپاک فوج پربنائی جانیوالی اب تک کی سب سے بہترین ٹک ٹاک، دلکش نغمے کے ساتھ
    News Events & Travel
    • خامنہ ای کی واپسی؛امریکی حملے اور اس کے بعد کے واقعات پر مبنی ایرانی ویڈیو نے سوشل میڈیا پر تہلکہ مچا دیا آیت اللہ خامنہ ای کی اسرائیلی حملے میں شہادت کے بعد ان کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای نے سپریم لیڈر کا عہدہ سنبھالا ہے
    • میری زندگی کی سب سے بڑی غلطی،شادی نہ کرنے کے علاوہ سب سے بڑا پچھتاوا، شیخ رشید کا حیرت انگیز انکشاف
    Religious
    • Map, of, the, world, reshaping, DG, ISPR, Asif Ghafoor, condemned, effort, to, burn, Quran, in,Norway, and, support, the, young, man, who, tried, to,stop, the, bad, effortدنیا کا نقشہ تبدیل ہونے کا وقت ۔۔۔!!!نارروے میں قران پاک جلانے کے واقعہ کے حوالے سے پاک فوج کے فخر ’ میجر جنرل آصف غفور کا بڑا اعلان‘ ۔۔۔۔ امت مسلمہ میں جوش کی لہر دوڑ گئی
    • The time when an unbelieving general refused to see the face of the Holy Prophet (peace be upon him).وہ وقت جب ایک کافر جرنیل نے رسول پاک ﷺ کا چہرہ دیکھنے سے انکار کر دیا۔اسلامی تاریخ کا ایمان کو جھنجوڑ دینے والا واقعہ
    Sports
    • ورلڈ کپ 1992 کے یادگار لمحات٫دارالحکومت میں پروقار تقریب اور راولپنڈی میں کھلاڑیوں کا تاریخی استقبال. یادگار مناظر
    • Great news: Australia vs Pakistan after Sri Lanka - The Australian team was also announcedبڑی خوشخبری : سری لنکا کے بعد آسٹریلیا بمقابلہ پاکستان ۔۔۔ آسٹریلوی ٹیم کا اعلان بھی کر دیا گیا
    Technology
    • Great news for iPhone giantsآئی فون کے دیوانو ں کے لیے بڑی خوشخبری
    • سام سنگ کا فولڈ ایبل فون نئی تبدیلیوں کے ساتھ دوبارہ مارکیٹ میں آ گیا ۔۔۔ سکرین سے فولڈ ہونے والے اس فون میں کیا خصوصیات ہیں ؟ جانیے
  • اشتھارات
  • دلچسپ اور عجیب
    اچھی بات
    • Hazrat MUHAMMAS SAWعشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم
    • بالآخرقرآن پوری دنیا پر غالب آ گیا۔۔۔کروناوائرس خدشات، کل جمعے کے روز پوری دنیا میں دوران نماز سورۃ فاتحہ اور مختصر آیات پڑھنےکا فیصلہ کر لیا گیا
    صحت و تندرستی
    • اس موسم گرما آڑو کھانا نہ بھولیں
    • پیازکا ایسا استعمال جو جسم کے تمام فاسد مادوں کے اخراج اورچہرے کی تروتازگی (کلینزنگ) وخوبصورتی میں مدد کرے اور اعصاب کو سکون پہنچائے
  • کالم
  • کرائم
کالم

حضرت ابو ایوب خالد بن زید انصاری حصہ پنجم

Yes 2 Webmaster September 7, 2015 1 min read
Abu Ayyub Ansari
Share this:
Abu Ayyub Ansari
Abu Ayyub Ansari

تحریر : ڈاکٹر سید علی عباس شاہ
قُسْطَنْطَنِیَةْ؛ یونانی لفظ Constantinus Augustus، قُسْطَنْطِیْنِ آگَسْٹا سے مشتق ہے ۔قسطنطین ِاعظم !الاریائی تھریشئن خانوادے کے چشم وچراغ،قسطنطین ِآگسٹا ٢٧ فروری ٢٧٢ تا ٢٢مئی ٣٣٧ئ، یونان ِقدیم کے بادشاہ اور کیتھولک عیسائیت میںApostleکادرجہ رکھتے ہیں جو یونان پہ ٣٠٦تا٣٣٧ء فرمانروا رہے ۔آگسٹایعنی واجب التعظیم اورقُسْطَنْطِیْن بمعنی شہ زوروثابت قدم ، انگریزی کالفظ Constant،جہد ِ مسلسل،استقلال اسی سے مشتق ہے جو لاطینی سے فرانسیسی اور پھر انگریزی میں شامل ہوا۔٣٣٠ء میںبحیرہ باسفورس کے کنارے بازَنْطِیَمْ Byzantiumنامی یونانی آبادی کو Nova Roma روم ِنوقرار دیاجسے رومی ایوان ِبالا نے ١١مئی ٣٣٠ء میںKonstantinoupolis ، قُسْطَنْطَنِیَةْسے موسوم کیا جو ١١٢٣سال تک عیسائیت کا مرکز،بازنطینی سلطنت کا دارِحکومت اورقیصران ِ روم کا پایہ تخت رہا۔ ١٤٥٣ء میں نام تبدیل کر کے اسلامبول ، مَدِیْنَةُالْسْلاَم قراردیاگیاجو١٩٢٢ء ،٤٧٠سال تک سلطنت ِعثمانیہ کے جاہ وتمکنت کا مظہر رہا۔٢٨مارچ ١٩٣٠ء کواسلام بول ،استنبول (وسط ِشہر میں بدل دیا گیا۔حکیم الامت کے نزدیک؛ چاک کردی ترک ِناداں نے خلافت کی قبا،سادگی مسلم کی دیکھ اوروں کی عیاری بھی دیکھ ۔قسطنطنیہ کو Vasileousa Polis، مَلِیْکَةُ الْبِلاَدْ شہروں کی ملکہ کہا جاتا ہے ۔ علامہ محمد اقبال کہتے ہیں؛

خطہ ء قسطنطنیہ یعنی قیصر کا دیار مہدیٔ امت کی سطوت کا نشان پائیدا صورت ِخاک ِحرم یہ سرزمیں بھی پاک ہے آستان ِمسند آرائے شہ ِلولاک ہے نکہت ِگل کی طرح پاکیزہ ہے اس کی ہوا تربت ِایوب ِانصاری سے آتی ہے صدا اے مسلماں !ملت ِاسلام کا دل ہے یہ شہر سینکڑوںصدیوں کی کشت وخوں کا حاصل ہے یہ شہر ٤٩ھ میں ایک لشکر قسطنطنیہ فتح کرنے کے لیے بھیجا گیا اور ابو ایوب انصاری اس لشکر میں شامل ہو کر تشریف لائے۔اسّی سال سے زائد عمر مبارک اور انتہائی ضعیف العمری کے باوجود مدینہ منورہ سے شام اور ساحل ِشام سے عازم ِقسطنطنیہ ہوئے رومی فرمانروا قسطنطین ِچہارم کو اس لشکر کشی کا حال معلوم ہواتو اس نے بھی مدافعت کی تیاری کی اور چند ہی دنوں میں ہزارہا مسلح مسیحی جنگجو لیس ہو کر اس کے جھنڈے تلے جمع ہو گئے۔حضرت ابو ایوب انصاری دیگر مجاہدین کے ہمراہ ایک بحری بیڑے زُہْرَةُ الْرّوْم میں بحر روم سے گزر کر آبنائے باسفورس میں داخل ہوئے اور قسطنطنیہ کے سامنے موزوں مقام پہ لنگر انداز ہو گئے۔

پھر کفرمقابل ہے آیا
رومیوں نے مسلمانوں کو دم لینے کی بہت کم مہلت دی اور ان کا لشکر جرار قسطنطنیہ سے نکل کر مسلمانوں پہ حملہ آور ہوا۔مسلمان بھی لڑائی کے لیے پوری طرح تیارہو گئے تھے۔ انہوں نے نہایت استقلال و ہمت سے رومیوں کے حملے کو روکا ۔گھمسان کا رن پڑا۔مسلمانوں کے جوش کا یہ عالم تھا کہ وہ دشمنوں کی صفوں میں گھس گئے ۔ایک مجاہد عبد العزیز بن زرارة تنہا رومی صفیں الٹتے دور تک چلے گئے ۔ مسلمان انہیں دیکھ کر پکارنے لگے کہ آپ فرمان ِایزدی کی خلاف ورزی کر رہے ہیں، وَلاَ تُلْقُواْ بِأَیْدِیْکُمْ ِلَی الْتَّھْلُکَةِ أَلْبَقَرَةْ:١٩٥، خود کواپنے ہاتھوںہلاکت میں نہ ڈالو۔ اس موقع پر حضرت ابو ایوب انصاری آگے بڑھے اور اسلامی لشکر سے مخاطب ہوئے ؛”مسلمانو!تم نے اس آیت کا یہ مطلب سمجھا ہے ؟حالانکہ اس کے حقیقی معنی اس کے برعکس ہیں ۔زمانہ امن میں انصار نے ارادہ کیا تھا کہ جہاد میں مصروف رہنے کی وجہ سے ان کے کاروبار اور تجارت کو جو نقصان پہنچا ہے اس کی تلافی کریں۔اس پر یہ آیت ِکریمہ نازل ہوئی کہ جہاد میں نقصان اور ہلاکت نہیںبلکہ جہاد سے کنارہ کشی کرنا اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالنے کے مترادف ہے۔ ”

سنن ابی دائود میں اسلم ابو عمرانسے جو اس واقعہ کے عینی شاہد ہیں یہ روایت مروی ہے؛”اسلم ابو عمران کہتے ہیں کہ ہم جہاد کے لیے مدینہ منورہ سے قسطنطنیہ روانہ ہوئے ۔عبدالرحمٰن بن خالد بن ولید ہمارے سالار تھے۔رومیوں کی پشت فصیل ِقسطنطنیہ سے متصل تھی ۔ہمارے ایک آدمی نے تنہا دشمن پرحملہ کیا ۔لوگوں نے اسے روکااور کہا یہ شخص اپنی جان کو ہلاکت میں ڈالتا ہے ۔حضرت ابو ایوب نے فرمایا کہ آیت وَلاَ تُلْقُوْا بِأَیْدِیْکُمْ لَی الْتَّھْلُکَةِ ط ہم گروہ ِانصار کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ جب اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب نبی کونصرت عطا فرمائی اور اسلام کو غلبہ عطا کیا تو ہمارے دل میں خیال پیدا ہوا کہ اب ہم اپنے مال کی حفاظت میں رہیں۔حق تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی کہ خدا کی راہ میں خرچ کرو اور اپنے ہاتھوں خود کو ہلاکت میں نہ ڈالو،تو ہلاکت میں ہاتھ ڈالنے کا مطلب یہ ہے کہ مال کی حفاظت کریں اور جہاد چھوڑ دیں۔ حضرت ابو ایوب ہمیشہ راہ حق میں جہاد کرتے رہے یہاں تک کہ انہوں نے وفات پائی اور قسطنطنیہ میں دفن ہوئے۔’ ‘

مجاہدین ِاسلام نے بہت جلد رومیوں کے دانت کھٹے کر دیے۔وہ پسپا ہو کر شہر میں جا گھسے اور فصیل ِشہر کے دروازے بند کر لیے ۔ مسلمانوں نے شہر کا محاصرہ کر لیا اور اس کی تسخیر کے لیے مناسب موقع کی تلاش میں رہنے لگے۔٦٧٤تا٦٧٨ء طویل محاصرہ کے باوجود فتح کے آثار نظر نہ آئے تو محاصرہ اٹھا لیا گیا۔نَلْقِْالْأحِبَّةْ مُحَمَّداً وَصَحْبِہ ضعیفی اور شدت ِحالات کے باعث ابو ایوب انصاری کی صحت متغیرہوئی اور آپ خود کو ابدی سفر کے لیے آمادہ کیے وصیت فرمانے لگے؛”جب میں مر جائوں تو مسلمانوں کو میرا سلام پہنچا دینا اور انہیں بتلا دینا کہ جوشخص اس حالت میں انتقال کر جائے کہ رب ِواحدکے سوا کسی کو شریک نہ جانتا تھا ،اللہ تعالیٰ اسے جنت نصیب فرمائے گا اور میرا جنازہ دشمن کی سرزمین میں جہاں تک تم لے جا سکو ،لے جا کر دفن کر نا۔”

٥١ھ ،٦٧٢ء میںمرسل ِاعظمۖ کے جلیل القدر صحابی ، حق کے سرفروش مجاہددنیائے فانی سے بارگاہ ِرسالت ۖمیں حاضر ہوئے۔ لشکر اسلام پر آپ کی وفات سے رنج والم اورپژمردگی چھا گئی ۔مجاہدین ِحق ہتھیار سجائے آپ کے جسد اطہر کو قسطنطنیہ کی دیوار کے عین نیچے لے گئے جہاںاسلام کے بطل ِجلیل کو مکمل فوجی اعزاز اور احترام و اکرام کے ساتھ سپرد ِلحد کر دیا گیا۔حضرت ابو ایوب انصاری کی قبر اطہر مرکزفیوض ِربانی ومنبع ِانوار صمدانی ہے۔ اہل ِروم قحط کے زمانہ میں آپ کے مزار پہ حاضر ہو کر آپ کے توسل سے بارش کی دعاکرتے تھے ۔اللہ تعالیٰ میزبان ِرسول کے نام کی لاج رکھ لیتا اور ان کی مرادیں پوری کر دیتا تھا۔

یانبی آپ کا نقش ِپا چاہئے
سرکار ِدوعالم ۖ کے پائے اقدس کے نیچے پتھر موم ہو جایا کرتے تھے اور ان پر آپ کے نقش ِپا ثبت ہو جاتے۔ایسا ہی سنگ پارہ ،حضرت ابو ایوب انصاری نے بھی اپنے سینے سے لگائے رکھا اور اس پر بوسے دے دے کر نقش ِپائے مصطفٰی چومتے رہتے؛ گرمیسر نشود بوسہ زنی پایت را، ہر کجا پائی نہی بوسہ زنم جایت را۔ یہ سنگ پارہ وصیت کے مطابق آپ کے کفن میں آپ کے سینے پر رکھ دیا گیا اور فتح ِقسطنطنیہ کے بعد نکال کر روضہء اقدس کی زینت بنا اور دوسری حصہ ٹوپ کاپی میوزیم میں منبع انوارات ہے؛ دل عقید ت کے سجدوں کو بے تاب ہے یا نبی آپ کا نقش ِپا چاہئے
فتح ِقسطنطنیہ الم ةغُلِبَتِ الْرُّوْمُ ةفِ أَدْنَی الْأرْضِ وَھُم مِّنْم بَعْدِ غَلَبِھِمْ سَیَغْلِبُوْنَ ة فِْ بِضْعِ سِنِیْنَقلے لِلّٰہِ الْأمْرُ مِنْ قَبْلُ وَمِنْم بَعْدُج وَیَوْمَئِذٍ یَفْرَحُ الْمُؤمِنُوْنَ ة بِنَصْرِاللّٰہِج یَنْصُرُ مَنْ یَّشَآئُصلے وَھُوَالْعَزِیْزُ الْرَّحِیْمُ ة سُوْرَةْ الْرّوْم ١تا٥

قسطنطنیہ کی فتح اسلام کی تاریخ کا عظیم واقعہ ہے۔٨٠٣ھ میں انگورہ کے میدان پر تیمور لنگ کے ہاتھوں سلطان بایزید یلدرم کی شکست سے دنیا نے سمجھ لیا کہ ترک ہمیشہ کے لیے ختم ہو گئے لیکن اسی سلطان یلدرم ( کوندتی بجلی)کے پڑپوتے سلطان محمد ثانی نے ٨٥٧ھ مطابق١٤٥٣ء میں رومیوں کے عظیم الشان تاریخی پایہ تخت قسطنطنیہ سے صلیب اتار کر اسلام کا پرچم لہرا دیا اور تاریخ ِعالم میںفاتح کا منفردخطاب حاصل کیا جو صرف آپ سے مخصوص ہے۔فتح ِقسطنطنیہ کا خیال قرن ِاول ہی سے مسلمانوں کے دل میں جاگزین تھا ۔ اگرچہ ان کی فتوحات نے ایک دنیا کو گھیرے میں لے لیا تھا لیکن کاتب ِتقدیر نے اس عظیم سعادت کوسلطان محمد فاتح کی ضرب ِشمشیر اور عزم راسخ کے لیے قلمبند کر رکھا تھا۔یہ یکتائے زمانہ مجاہد، خاندان ِعثمانیہ کے ساتویں تاجدار تھے۔اپنے والد سلطان مراد ثانی کی وفات کے بعد ٨٥٥ھ میں اکیس سال کی عمر میں تخت نشیںہوئے۔تخت نشین ہونے کے بعد سب سے پہلے ایشیائی امرا کی سرکشی کا خاتمہ کیا اور طربزون اور قرة مان کی ریاستوں کو سلطنت ِعثمانیہ کے حلقہ اطاعت میں داخل کر لیا۔

اس کے بعد آپ کی تمام تر توجہ فتح ِقسطنطنیہ پر مبذول ہو گئی۔سلطان نے پہلے باسفورس کے یورپی ساحل پر ایک عالیشان قلعہ اناطولیہ تعمیر کرایا جو سلطان محمد اول کے ایشیائی ساحل پر قائم کردہ رومیلی حصار کے مقابل بنایا گیا۔یہ دونوں قلعے باسفورس کے پر شکوہ کنارے پر آج بھی موجود ہیں۔ قلعہ کی تعمیر کے بعد سلطان محمد نے قسطنطنیہ کے حصار کے لیے زور و شور سے سامان ِجنگ تیار کرانا شروع کیاہنگری کے ایک کاریگر سے متعدد دیوپیکر توپیں بنوائیں جن کے کھینچنے کے لیے ساٹھ ساٹھ بیلوں کی جوڑیاں لگتی تھیں۔ان میں سے ہر توپ بارہ من وزن کا سنگی گولہ ایک میل تک پھینک سکتی تھی۔سلطان کے حکم سے یہ توپ قلعہ کے برج پر لگائی گئی اور آتش فشانی کے بیشمار آلات بھی جمع کر لیے گئے۔سلطان نے قلعہ میں چار سو سپاہی صرف اس غرض سے متعین کر دیے کہ جو جہاز ادھر سے گزرے اس سے محصول وصول کریں۔اس طرح قسطنطنیہ کے محاصرے کا آغاز کر دیا گیا۔دوسرے سال سلطان ادرنہ سے خود نوے ہزار کا لشکر جرار لے کر روانہ ہوئے۔سمندر کی طرف سے قسطنطنیہ کا محاصرہ کرنے کے لیے سلطان نے امیر البحر بالطہ اوغلی سلیمان بک کی قیادت میں جنگی جہاز روانہ کیے۔

قیصر روم نے بھی مسلمانوں کے مقابلہ کے لیے زبر دست تیاریاں کیںاور اسلامی بیڑے کا راستہ روکنے کے لیے غلطہ سے استنبول تک سمندر میں بڑی مضبوط زنجیریں باندھ دیںاور اپنے جنگی جہاز انکی حفاظت کے لیے مقرر کر دیے ۔قیصر کی امداد کے لیے جنیوا کا جنگی بیڑابھی آن پہنچااور مسلمانوں کے لیے سمندر کی طرف سے قسطنطنیہ پر حملہ کرنے کی کوئی صورت نہ رہی۔اسلامی لشکر نے قسطنطنیہ سے چند میل کے فاصلے پر پڑائو ڈالا اور رات دن شہر کی تسخیر کے منصوبے بنانے میں مصروف ہو گیا ۔محیر العقول کارنامہ اس موقع پر سلطان نے ایک محیر العقول کا م کیاکہ عالم میں اس کی مثال نہیں ملتی۔سلطان کے حکم سے ترکوں نے باسفورس اور گولڈن ہارن کے درمیان سنگلاخ زمین پر چھ میل تک صنوبر کی لکڑی کے موٹے تختے بچھا دیے اور ان پر روغن و چربی مل کرایسا چکنا کیا کہ جو چیز ان تختوں پر رکھی جاتی پھسلتی تھی۔مجاہدین ِاسلام نے شب بھر میں ٨٠سریع الحرکت بیڑے اور کشتیاں اس راستہ پر چلا کر گولڈن ہارن میں قسطنطنیہ کی فصیل کے نیچے سمندر میں اتار دیے ۔اثنائے راہ میں جہاں کہیں انہیں بلندی پر چڑھانا ہوتا وہاں رولروں اور گراریوں سے کام لیا جاتا۔سلطان کی بری فوج نے بھی مناسب فاصلہ پر توپیں اور دوسرے آتش فشاں آلات نصب کردیے۔

ضرب ِحق
عام حملہ کے لیے ١٠جمادی الآخر٨٥٧ء کا دن مقرر ہوا۔نو اور دس جمادی الآخر کی درمیانی شب لشکر گاہ میں چراغاں رہااور مجاہدین ِاسلام، سلطان سمیت نہایت خشوع وخضوع سے دعا و عبادت میں مصروف رہے ۔صبح ہوتے ہی اسلامی فوج نہایت جوش و خروش سے شہر کی طرف بڑھی ۔سلطان نے قرآن ِکریم کی چند آیات تلاوت کیں جن میں جہاد کی فضیلت کا بیان تھا۔یہ آیات سن کر ہر مجاہد کے دل میں شوق ِشہادت کے شعلے بھڑکےاسلامی فوج کے پیچھے علما و مشائخ کا گروہ تھا جو مسلمانوں کی فتح و نصرت کی دعائیں مانگتے تھے۔ رومیوں نے نہایت پامردی اور اور جرأت سے مسلمانوں کا مقابلہ کیا لیکن ضرب ِحق کے سامنے ان کے قدم زیاد ہ دیر تک نہ ٹک سکے۔ادھر سلطانی توپوں کے گولوں سے فصیل شہر میں جگہ جگہ شگاف پڑ گئے اور مسلمان فوج نعرئہ تکبیر لگاتی شہر کے اندر داخل ہو گئی۔قیصر قسطنطین لڑتا ہو ا مارا گیا اور رومیوں نے ہتھیار پھینک کر اپنی شکست تسلیم کر لی۔ترپن دن کے پر صعوبت محاصرے کے بعد شہر فتح ہو گیا۔سلطان سجدئہ شکر میں گھوڑے کی زین پہ سر رکھے شہر میں داخل ہوئے اور اس عظیم الشان شہر پر پرچم ِاسلام لہرا دیا۔

سلطان نے رومیوں سے نہایت نرم سلوک کیا ۔انہیں ان کے دینی معاملات میں مکمل آزادی بخشی اور ایا صوفیہ کے کلیسا کے سوا تمام گرجے عیسائیوںکے پاس رہنے دیےایا صوفیہ کو خدائے واحد کی پرستش کا مقام بنا دیا جسے جدید جمہوریہ میں مصطفٰی کمال اتا ترک نے عجائب گھر میں تبدیل کر دیا۔قسطنطنیہ کی فتح نے دنیائے عیسائیت میں تہلکہ مچادیا اور تمام یورپ کو ششدر کر دیا ۔عالم اسلام میں جشن منایا گیا اور ہر طر ف سے ملوک و سلاطین اور علما و شعرا نے سلطان محمد فاتح کو مبارکباد کے پیغامات بھیجے۔اس فتح سے قبل مسلمان قسطنطنیہ پر آٹھ بارحملہ آور ہو چکے تھے۔پہلا حملہ ٤٩ھ میں ہوا جس میں حضرت ابو ایوب انصاری بھی شریک تھے دوسرا حملہ٩٨ھ میںسلیمان بن عبدالملک کے دور میں،تیسرا١٢١ھ ابن ہشام کے دور میں ، چوتھا١٦٥ھ مہدی عباسی کے دور میں،پانچواں ملک شاہ سلجوقی کے عہد میں، چھٹااور ساتواں شاہ یلدرم کے عہد میں ،آٹھواں٨٢٥ھ مراد ثانی کے عہد میںاور نواں اور آخری حملہ سلطان محمد فاتح کا تھا جس میں شہر فتح ہو گیا اور قسطنطنیہ ترک بادشاہوں کا پایہ تخت قرار پایا۔

تربت ِایّوب انصاری سے آتی ہے صدا
فتح کی پہلی رات سلطان محل میں آرام فرما ہوئے تو خواب میں ایک نورانی ہستی نے آکر فتح کی مبارکباد دی اور اپنی تکلیف کا ذکر کیا۔دوسری رات پھر زیارت ہوئی اور تیسری رات شدت کے ساتھ حکم دیا کہ میں صحابی ٔ رسول ابو ایوب ہوں اور میں تکلیف میں ہوں۔آپ کے مزار پر انوار پرپہلا روضہ ٔ مبارک قیصر روم نے تعمیر کرایا تھا۔امتداد ِزمانہ کے باعث معلوم نہ تھا کہ آپ کاجسد مبارک کہاں مدفون ہے۔اس حکم کے بعد سلطان نے اپنے شیخ ِطریقت آقاشمس الدین محمد بن حمزةکو خواب سنا کر درخواست کی کہ تربت ِ میزبان ِرسول کی تلاش میں میری مدد فرمائیں۔شیخ نے فرمایا ،” میں نے فصیل کے باہر ایک جگہ نور دیکھا ہے جو زمین سے آسمان تک جارہا ہے یقینا یہی حضرت ابو ایوب انصاری کی لحد ہے۔” یہ فرما کر آپ مذکورہ مقام پر تشریف لے گئے اور وہاں کافی دیر بیٹھ کر مراقبہ کیا اور پھر سر اٹھا کر فرمایا؛”اللہ تعالیٰ نے مجھے حضرت ابو ایوب انصاری کی روح ِاقدس سے ملنے کی سعادت نصیب کی۔ انہوں نے مسلمانوں کو اس عظیم فتح پر مبارکباد دی ہے اور فرمایا ہے کہ حق تعالیٰ نے تمہاری سعی مشکور کی کہ تم نے میری قبر کے قریب سے کفر و شرک کی تمام نجاستیں دور کیں۔”شیخ نے پھر مراقبہ کیااور تھوڑی دیر بعد سر اٹھا کر فرمایا،”اس مقام کو کھودو۔یقین ہے کہ اسی جگہ حضرت ابو ایوب انصاری جلوہ فرما ہیں۔”

جسد ِجاوداں
سلطان کے حکم سے اسی وقت جگہ کو کھودا گیا ۔سطح ِزمین سے چند فٹ نیچے سنگ مرمر کا ایک کتبہ نکلا جس پر عبرانی زبان میں کچھ الفاظ کندہ تھے۔عبرانی زبان جاننے والوں نے یہ الفاظ پڑھے تو معلوم ہوا کہ یہی حضرت ابو ایوب انصاری کی قبر ہے۔یہ پتھر قبر سے باہر دیوار میں اب بھی لگا ہوا ہے۔نوجوان سلطان جو ابھی سن ِدنیا کی فقط تئیس بہاریں دیکھ پائے تھے اپنے آقا و مولا امام الانبیا کے اس عظیم المرتبت جامع ِفضائل صحابی کودیکھ کر فرط ِمسرت سے بے خود ہو گئے اور بے اختیار سجدئہ شکر میں گر پڑے۔ صحابی ٔ رسول کی قبر اطہر میں بحیرئہ باسفورس کا پانی آگیا تھا جو آپ کے معطر جسد ِاقدس کا طواف کر رہا تھا۔سلطان نے ایک کنواں کھدوا کر وہ پانی اس میں محفوظ کیا اور حضرت ابو ایوب انصاری کو اسی مقام پر نہایت تزک و احتشام سے دوبارہ سپردِ لحد کیا۔سلطان نے اس مقام پر ایک عظیم الشان گنبد تعمیر کرایااور اس کے قریب ایک جامع مسجد تعمیر کرنے کا حکم دیا ۔جب یہ مسجد تعمیر ہو گئی تو سلطان تمام عمائدین ِسلطنت کے ساتھ اس مسجد میں گیا اور نماز ادا کی۔نماز کے بعد شیخ شمس الدین نے سلطان کے ہاتھ میں تلوار دے کر انہیں دعائے خیر و برکت دی۔اس کے بعد صدیوں تک یہ رسم رہی کہ ترکی کا جو سلطان تخت نشین ہوتا وہ پہلے جامع ابو ایوب میں حاضر ہوتا اور شیخ شمس الدین کی عطا کردہ تلوار اپنی کمر پہ باندھتا۔اس کے بعد باضابطہ اس کی تخت نشینی کا اعلان کیا جاتا۔یہ ترک بادشاہوں کی رسم تاجپوشی تھی۔

شیخ آقا شمس الدین
شیخ آقاشمس الدین ،سلاطین ِعثمانیہ کے پیر طریقت اور سلطان محمد فاتح کے عہد کے سر آمد روزگار اولیا میں سے ہیں اور شمسیہ بیرامیہ سلسلہ طریقت کے بانی ہیں۔آپ کا اسم گرامی محمد بن حمزة تھا۔١٣٩٠ئ،٧٩٢ھ، دمشق میں پیدا ہوئے اور والد کے ہمراہ کمسنی ہی میں بلاد روم آئے۔اوائل ِحیات ہی میں کلام مجیدحفظ فرما لیا۔علوم متداولہ کی تکمیل کی اور معلم ہو گئے ۔آپ نے صرف،نحو، منطق، معانی، علم بلاغت، اصول فقہ،عقائد اور حکم کے ساتھ طب ،حساب اورحیاتیات کی بھی تعلیم حاصل کی ۔آپ عالم،استاد،حکیم اور ولی اللہ تھے۔آپ اپنے زمانہ میں استاد ِعلما تھے ۔فطرتا ً مائل بہ تصوف تھے۔

اس زمانہ میں بلاد ِروم (ترکی )میں ایک خدا رسیدہ درویش حاجی بیرام متوفی١٤٣٠ ء ،٨٣٣ھ کے فضل وکمال کی بڑی شہرت تھی جوغوث ِزماںابو حامد حمید الدین آقاسرائی المعروف سومنچو بابا برسی (برسہ ترکی کاچوتھابڑا شہر، اناطولیہ کے مضافات میں واقع ہے اورترکی کے صوبے برسہ کامرکزہے۔عثمانی دور میں اسے خداوندگار ”عطیہ ء کردگار”کہا جاتا تھا جو سقوط کے بعد برسہ خضراکہلایا۔)متوفی ٨١٠ھ مطابق١٤١٢ء کے خلیفہ طریقت تھے۔ آقا شمس الدین کا دل کبھی ان کی جانب مائل نہ ہوتا تھا۔چنانچہ آپ باطنی فیوض کے لیے ایک دوسرے بزرگ شیخ زین الدین حافی کی خدمت میں پہنچے۔وہاں ایک رات خواب میں دیکھا کہ ان کے گلے میں زنجیر پڑی ہے جس کا دوسرا سرا حاجی بیرام کے ہاتھ میںہے اور وہ آپ کو رشد و ہدایت فرما رہے ہیں۔خواب سے بیدار ہو کر سیدھے حاجی صاحب کی خدمت میں انقرہ پہنچے ۔وہ اس وقت اپنے مریدوں کے ساتھ کھیتی کاٹ رہے تھے۔آقا بھی ان کے ساتھ شامل ہو گئے۔

اس سے فارغ ہوئے تو کھانا آیا ۔اس کا ایک حصہ کتوںکے آگے رکھ دیا گیا اور باقی حاجی صاحب اور ان کے ساتھی کھانے لگے۔انہوں نے آقاکی طرف نظر اٹھا کر دیکھا اور نہ ہی کھانے کی دعوت دی۔ آقا اٹھے اور کتوں کے ساتھ بیٹھ کر کھانے لگے۔حاجی بیرام نے یہ دیکھ کر فرمایا؛” نوجوان! ادھر آئو اور میرے ساتھ بیٹھو۔تم نے تومیرے دل کو موہ لیا ہے۔”اس طرح آپ حاجی بیرام کے حلقہ ارادت میں داخل ہو گئے اور تھوڑے ہی عرصے میں ان کی توجہ سے درجہ کمال کو پہنچ گئے۔آپ کے مرشد نے ہی آپ کو شمس الدین کا لقب عطا کیا۔آپ نہ صرف علوم شریعت و طریقت کے متبحر عالم تھے بلکہ ایک حاذق طبیب بھی تھے۔وزرا و امرا کی طبابت کرتے اور آپ کے تحریر کردہ نسخے سے مریض شفایاب ہو جاتے۔

سلطان فاتح کے والد،سلطان مراد ثانی حاجی بیرام ولی کے مرید تھے۔انہی کی ہدایت پر انہوں نے اپنے صاحبزادے محمد ثانی کو حاجی بیرام ولی کے خلیفہ اور زیب سجادہ شیخ شمس الدین کے دست ِاقدس پر بیعت کرایا۔سلطان محمد فاتح نے قسطنطنیہ پر چڑھائی کا ارادہ کیا تو آپ سے دعا کی درخواست کی ۔آپ نے انتہائی خشوع و خضوع سے دعا فرمائی۔ اس کے بعد جب سلطان قسطنطنیہ کی تسخیر کے لیے روانہ ہوا تو اس نے آقا شمس الدین کو بھی اپنے ہمراہ لے لیا۔سلطان کوئی بھی اقدام آپ کی ہدایت کے بغیر نہ اٹھاتا تھا۔آپ کی ہدایات اور روحانی طاقت سلطان کے شامل حال رہی۔آپ نے سلطان کو بتایا کہ حضرت ابو ایوب انصاری خود آپ کی افواج کی امداد فرما رہے ہیں اور ان کی روحانی طاقت آپ کے شامل ِحال ہے۔انہو ں نے سلطان کو شہر قسطنطنیہ کی فتح کا دن اور وقت بھی بتا دیا۔

شہر کے محاصرے کو کافی وقت گزر گیا اور فتح نہ ہوئی تو سلطان کا وزیر خوفزدہ و پریشان ہو گیا ۔اضطراب کی حالت میں آپ کے خیمہ کی طرف گیا۔لوگوں نے اسے روکا کہ شیخ نے تاکید فرمائی ہے کہ کسی کو ان کے خیمہ کے اندر نہ آنے دیںلیکن وزیر سراسمیگی کے عالم میںان کے خیمہ کے اندر جا گھسا۔کیا دیکھتا ہے کہ شیخ سجدہ میں ہیںاور سربرہنہ نہایت خشوع و خضوع سے دعا کر رہے ہیں۔چند لمحوں بعد آپ یکایک اٹھ کھڑے ہوئے ۔زوردار تکبیر کہہ کر فرمایا؛ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِْ فَتَحْنَا ھٰذِہِ الْمَدِیْنَةْ، حمد ہے اس اللہ کی جس نے ہمیں اس شہر کی فتح مرحمت فرمائی۔وزیر نے شیخ کی زبان سے یہ جملہ سنتے ہی شہر کی طرف پلٹ کر دیکھاتو اسلامی فوج شہر میں داخل ہو رہی تھی۔

تاریخ ِاسلام کے عظیم فاتح، سلطان محمد فاتح کہا کرتے تھے،”ہر کوئی مجھے دیکھ کر کانپ جاتا ہے مگر میں جب شیخ شمس الدین کو دیکھتا ہوں تو کانپ اٹھتا ہوں۔”فتح کے بعد سلطان نے آپ کی خدمت میں دو ہزار اشرفی پیش کی لیکن آپ نے قبول نہ کی۔آپ سلطان سے رخصت لے کر انقرة سے ١٥٠میل شمال مغرب میں واقع اناطولیہ ،گوئنوک تشریف لے گئے اور باقی تمام عمر وعظ و ہدایت اور درس و تدریس میں گزاردی۔آپ نے اپنے علمی و روحانی خزائن سپرد قرطاس فرماتے کئی کتب تصنیف فرمائیںجن میںرسالہ نوریة،رسالہ ذکراللہ ، رسالہ شرح ِاحوال حاجی بیرام ولی ،مقامات ِاولیا،نصیحت نامہ آقاشمس الدین،کتاب ألْطِّبْ،حل ِمشکلات،دین ِمتین،مقصد ِحیات معروف ہیں۔

آپ کے تربیت یافتہ خلفائے طریقت شیخ محمد سعد اللہ ،شیخ محمد فضل اللہ،شیخ محمد نور اللہ ،شیخ محمد امر اللہ ،شیخ محمد نصر اللہ ،شیخ محمد نور الہدیٰ ،شیخ محمد حمید اللہ ،شیخ عبدالرحیم کریشری،شیخ مصلح الدین اسکلبی،شیخ ابراہیم تنویر الدینترکی کے اکابر علما و فضلا تھے۔آپ ٨٦٣ھ بمطابق١٤٥٩ء واصل بحق ہوئے۔سلطان محمد فاتح نے آپ کی تربت پر١٤٦٤ء کو مزار تعمیر کرایا۔

درگاہ حضرت ابو ایوب انصاری
قسطنطنیہ صدیوں سے اسلامی تہذیب و تمدن کا گہوارہ رہا ہے۔میزبان ِرسول کی ابدی آرام گاہ ہونے کی وجہ سے اس شہر کو شہرت ِعام اور بقائے دوام کا درجہ حاصل ہےقسطنطنیہ کا خوشنما اور عظیم الشان گھاٹ ،گولڈن ہارن یا شاخ زرّیںجس خلیج کے دہانے پر واقع ہے وہ بھی خلیج ِابو ایوب کہلاتی ہے۔قسطنطنیہ کے جس محلے میں حضرت ابو ایوب انصاری کا مزار ہے وہ گولڈن ہارن کے بائیں کنارے پر واقع ہے۔رفیع الشان درگاہ میں ہزاروں کبوتر ادھر ادھر اڑتے نظر آتے ہیں۔قبر کا تعویززمین کی سطح سے کم و بیش چھ فٹ اونچا ہے جس کے ارد گرد نہایت خوبصورت نقرئی ضریح ہوئی ہے۔مزار کی پوری عمارت اعلیٰ درجہ کی تزئین ،دید ہ زیب پھولوںاور دلفریب گل کاری سے منقش ہے۔تربت ِاقدس پر نہایت بیش قیمت اور نفیس چادر پڑی رہتی ہے اور چاروں طرف بیسیوں کتبے لٹکے ہوئے ہیں۔ان کتبوں کا خط اتنا پاکیزہ ہے کہ دیکھ کر آنکھوں میں نور اور دل میں سرور آتا ہے اورچابک دست ترک خوشنویس حضرا ت کی مہارت کی داد دینا پڑتی ہے۔

مزار مبارک پر ہر وقت زائرین کا ہجوم رہتا ہے ۔احاطہ مزار کے ایک گوشے میں کنوئیں سے لوگ تبرکا ًپانی لے جاتے ہیں۔مزار ِمبارک کے قریب ایک قبرستان ہے جو گورستان ِابو ایوب انصاری کے نام سے مشہور ہے۔اس گورستان میں دفن ہونا سعادت و اعزاز ہے اور ترکی کے کئی اکابرین ومشاہیر علما و مشائخ اور سلاطین اس میں دفن ہیں۔روضہ مبارک کے قریب ہی سلطان محمد فاتح کی تعمیر کردہ جامع مسجد آج بھی فتح ِقسطنطنیہ کی یاد دلا رہی ہے۔جامع ابو ایوب کی عمارت اور صحن بہت وسیع ہے۔نماز کے اوقات میں یہاں بہت رونق ہوتی ہے۔جمعہ کے دن تو کہیں تل دھرنے کی جگہ نہیں ہوتی۔

جامع کے ایک کمرے میںسبز چادر میں لپٹا پرچم ہے جو حضرت ابو ایوب انصاری لڑائیوں میںعلم بردار کی حیثیت سے اٹھاتے تھے۔سلاطین ِترکی کے دور میں مزار سے متصل ایک مدرسہ تھا جہاں دینی علوم سکھلائے جاتے تھے۔یہ مدرسہ بھی حضرت ابو ایوب انصاری کے اسم گرامی سے منسوب تھا۔تجدد پسندی کے اس دور میں بھی ترک آپ کے مزار مبارک اور جامع ابو ایوب کی بے حد تعظیم کرتے ہیں اور ترکی میں آپ ایوب سلطان Eyüp Sultan کے نام سے جانے جاتے ہیں۔

Dr Syed Ali Abbas Shah
Dr Syed Ali Abbas Shah

تحریر : ڈاکٹر سید علی عباس شاہ

Share this:

Yes 2 Webmaster

6,502 Articles
View All Posts
UAE Mushairah
Previous Post ایوان اقبال کے زیراہتمام مشاعرہ
Next Post میرے ملک کے مسیحا تجھے کیا ہوا؟
Doctor

Related Posts

دنیا کا سب سے بڑا طیارہ بردار بحری جہاز ‘یو ایس ایس جیرالڈ آر فورڈ’ ریکارڈ تعیناتی کے بعد وطن واپس لوٹ گیا

May 1, 2026

لیبرڈے ;مشرقِ وسطیٰ بحران سے متاثرہ مزدوروں کے لیے حکومتی اقدامات..؟

April 30, 2026

مستقبل کی معیشت اسلام آباد مذاکرات کے تناظر میں

April 26, 2026

وائٹ ہاؤس پریس ڈنر میں فائرنگ، ٹرمپ اور میلانیا کو بحفاظت نکال لیا گیا،مشتبہ شوٹر کی شناخت 31 سالہ کول ٹامس ایلن کے طور پر ہوئی

April 26, 2026
© 2026 Yes Urdu. All rights reserved.
  • خبریں
  • تارکین وطن
  • شاعری
  • ویڈیوز – Videos
  • اشتھارات
  • دلچسپ اور عجیب
  • کالم
  • کرائم

We use cookies to ensure you get the best experience on our website.

We use cookies to ensure you get the best experience on our website.